محمد بحیثیت زیارت و ملاقات کرنے والے

محمد مصطفیﷺ کی ملاقاتیں عظیم شرعی مقاصد پر مشتمل تھیں۔ تعلقات کی مضبوطی، محبت و مودت بڑھانا، رابطے مضبوط کرنا، عزیز و اقارب میں صلہ رحمی کو فروغ دینا آپ کی ملاقاتوں کا ایجنڈا تھا۔ چنانچہ  آپ ﷺ کی ملاقاتیں نصیحت و راہنمائی، دلجوئی وغم خواری اور لطف و کرم اور انس و محبت کے اظہار کی خاطر ہوتی تھیں۔

نبی ﷺکے ذکر جمیل سے مدینہ کی ہر گلی معطر ہوئی۔ ہر سخن آپ کی دلنشین باتوں سے پاکیزہ ہوا اور ہر گھر کو آپ کے خوبصورت و مؤثر قصوں سے سعادت نصیب ہوئی۔

آپ ﷺ نے عزیز و اقارب، دوست احباب، چھوٹے بڑے، مرد و خواتین، مومنین و منافقین اور مسلمین و مشرکین سب سے ملاقاتیں کیں۔ آپ کی ہر ملاقات شریعت کی باتوں، وعظ و نصیحت کے جملوں اور حکمت و دانائی کے کلمات پر مشتمل تھی۔ آپ ﷺ کا ہر قدم رحمٰن و رحیم پروردگار کے نور کی روشنی میں اٹھا اور آپ کی زبان سے نکلنے والے ہر کلمے نے اللہ تعالی کی سیدھی راہ دکھائی۔

عزیز و اقارب کی زیارتوں میں سے آپ کی مشہور ملاقاتیں سب سے قریبی اور محبوب و عزیز بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہیں۔ ایک روز نبیﷺ دو پہر کے وقت سخت گرمی اور شدت کی دھوپ میں گھر سے نکلے۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے چلے تو ان کے گھر کی طرف جانے والا راستہ آپ کے مبارک قدموں سے معطر ہو گیا۔ آپ ان کے گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ پھر بڑے سکون اور وقار سے آواز دی: ((أّثّمَّ لُكَعُ، أّثَمَّ لُكَعُ ’’کیا یہاں ننھا ہے؟ کیا یہاں ننھا ہے؟‘‘ آپ اپنے نواسے سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو آواز دے رہے تھے۔ آپ نے سیدنا علی اور فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کو آواز نہیں دی۔ آپ نے گھر میں موجود چھوٹے بچے کو مخاطب کیا۔ پھر سورج کی گرمی میں گھر کے صحن ہی میں اس کا انتظار کرنے بیٹھ گئے تا کہ اس کی ماں اسے نہلا دھلا کر تیار کر لے۔

غور کریں، کائنات کے سردار، امت کے قائد اور خاتم النبیین ایک چار سالہ معصوم بچے کا انتظار فرما رہے ہیں تا کہ اسے گلے لگائیں۔ اس سے مزاح کریں۔ کھیلیں اور شفقت و محبت کا بھر پور اظہار کریں۔ یہ سب کچھ آپ کی شفقت، محبت، رحمت اور صلہ رحمی کی واضح دلیل ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں دن کے کسی وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ باہر نکلا۔ آپ مجھ سے کچھ فرما رہے تھے نہ میں آپ سے کچھ عرض کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ بنو قینقاع کے بازار میں آگئے۔ پھر آپ واپس چل پڑے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لے آئے، پھر فرمایا: ’’کیا یہاں چھوٹو ہے؟ کیا یہاں ننھا ہے ؟‘‘ آپ کی مراد سید نا حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے تھی۔ ہم نے سمجھ لیا کہ ان کی والدہ انھیں روکے ہوئے ہیں کہ انھیں نہلا دیں اور ان کے گلے میں (خوشبو کے لیے ) لونگ وغیرہ کا کوئی ہار ڈال دیں۔ کچھ ہی دیر گزری کہ وہ بھاگتے ہوئے آئے یہاں تک کہ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے، اس سے بھی محبت فرما۔ ‘‘(صحیح مسلم ، فضائل الصحابة، حديث: 2421)

اسی طرح  آپ ﷺ سیدہ ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کی زیارت کا اہتمام فرماتے۔ یہ وہ خوش نصیب خاتون ہیں جنھوں نے رسول اکرم ﷺکی والدہ ماجدہ کی وفات کے بعد آپ کی پرورش کی اور بچپن میں آپ کی تربیت کی ذمہ داری نبھائی۔ یہ حبشہ کی رہنے والی لونڈی تھیں جنھیں بعد میں رسول اکرم  ﷺ نے آزاد کر دیا۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ ماں جیسا سلوک کرتے اور وہ بھی آپ کو بیٹوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔آپ ﷺ اتنی اہم ذمہ داریوں اور عظیم مصروفیات کے باوجود ان سے ملاقات کا ہمیشہ اہتمام کرتے تھے۔

ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا۔ آپﷺ ان سے ملنے گئے تو انھوں نے آپ کو مشروب پیش کیا جیسا کہ مائیں بیٹوں کو پیش کرتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ کا پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا یا آپ روزے کی حالت میں تھے۔ آپ نے نہایت نرمی سے معذرت کی تو وہ نبی اکرم ﷺکو ڈانٹنے لگیں جس طرح مائیں کرتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺخاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ یہ سارا منظر دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہﷺ ام سیدہ ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ انھوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا۔ وہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے اچانک آپ کے روزے کی حالت میں آپ ﷺ کو وہ مشروب پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے۔ (آپ نے پینے میں تر دو فرمایا) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں (جس طرح ایک ماں کرتی ہے)۔ (صحیح مسلم،

فضائل الصحابة حديث (2453)

کیا عظیم اخلاق ہے اس کریم نبی اور مہربان ملاقاتی کا جس نے اپنی آزاد کی ہوئی ’’آیا‘‘ کے ساتھ ماؤں جیسا سلوک کیا۔ اور یہ اس دور کی بات ہے جب لوگ ایسی آزاد کی ہوئی لونڈیوں کے ساتھ دیگر غلاموں کی طرح حقارت آمیز سلوک کرتے تھے۔ ان کی کوئی قدرو قیمت تھی نہ معاشرے میں کوئی مقام و مرتبہ تھا۔ اور آپ ﷺنے آخری وقت تک ان کا خیال رکھا اور ان سے ملاقات کرتے رہے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بھی باقاعدگی سے ان کی زیارت کرتے رہے۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہتے : آئیں سیدہ ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف چلیں، انھیں مل کر آئیں، جس طرح رسول اللہﷺ ان سے ملنے جاتے تھے۔ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حديث:2454)

صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو آپﷺ کی آمد کا انتظار رہتا۔ آپ اپنی سیرت کی مہک سے ان کے گھروں کو رونق بخشتے۔ وہ آپ کے پاکیزہ ذکر اور معطر سیرت سے دلی خوشی محسوس کرتے۔ اگر چہ نماز وغیرہ کے موقع پر آپ ﷺ ان کے ساتھ ہوتے مگر اس کے باوجود آپ صحابہ کے گھروں میں تشریف لے جاتے۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے سعادت والا اور ان کی عمر کا بابرکت ترین دن ہوتا۔

آپ ﷺ اپنے صحابی کی زیارت کرتے تو یہ زیارت اہل خانہ کے لیے تاریخی حیثیت اختیار کر لیتی اور ایسی خوبصورت یادیں چھوڑ جاتی جنھیں کبھی نہیں بھلا یا جا سکتا۔ ہم ان زیارتوں کے چند نمونے اور مظاہرے آپ کے سامنے رکھتے ہیں:

آپﷺ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت کو تشریف لے گئے اور ان کے گھر کے دروازے کے قریب کھڑے ہو گئے۔آپ ﷺ جس کے گھر جاتے، دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں بائیں ہو کر کھڑے ہوتے کیونکہ اس دور میں گھر عموماً کھلے ہوتے اور دروازوں پر پردوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔ آپ باہر کھڑے ہو کر سلام کرتے اور تین دفعہ اجازت مانگتے۔ اجازت نہ ملنے پر لوٹ جاتے جیسا کہ  آپ ﷺ کا فرمان ہے : ((اَلْاِسْتِئْذَانُ ثَلَاتٌ، فَإِنْ أَذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِع)) ’’اجازت تین دفعہ طلب کی جائے ، اگر تمھیں اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ لوٹ جاؤ۔‘‘ (صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 2153)

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ نکلے جبکہ آپ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں جاتا چاہتے تھے۔ آپ ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے سلام کہا تو اجازت نہ دی گئی۔ پھر آپ نے دوسری مرتبہ سلام کہا۔ پھر تیسری مرتبہ سلام کہا تو بھی اجازت نہ دی گئی۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہم پر جو واجب تھا، ہم نے پورا کر دیا۔‘‘  پھر آپ وہاں سے لوٹ آئے تو پیچھے سے سیدنا سعد رضی اللہ تعالی عنہ بھی پہنچ گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں نے آپ کا ہر سلام سنا اور آہستگی سے جواب بھی دیا لیکن میں چاہتا تھا کہ آپ مجھ پر اور میرے اہل خانہ پر کثرت سے سلامتی بھیجیں۔ (الأدب المفرد للبخاري، حديث: 1073)

نبی  ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت طلب کرنے کے آداب سکھائے۔ ان میں سے ایک ادب یہ ہے کہ اجازت طلب کرنے والا اپنا نام بتائے۔ صرف ”میں ہوں‘‘ کہنے پر اکتفا نہ کرے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں اس قرض کے متعلق حاضر ہوا جو میرے والد گرامی کے ذمے تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’کون ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: میں ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’میں ہوں، میں ہوں !‘‘ گویا آپ ﷺ نے یہ انداز نا پسند فرمایا۔ (صحیح البخاري، الاستئذان، حديث:6250)

اسی طرح سید نا ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺباغ میں تھے اور سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے آکر اجازت طلب کی تو سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کون ہے؟ انھوں نے کہا: ابوبکر۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ آئے اور انھوں نے اجازت مانگی تو ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: کون؟ انھوں نے جواب دیا: عمر۔ پھر اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اجازت مانگی۔ (صحیح البخاري، أخبار الأحاد، حديث: 7262)

اسی طرح آپﷺ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ ام سُلیم رضی اللہ تعالی عنہا، جو سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ہیں، کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خوبصورت ملاقات کی تفصیلات ہمیں بتائیں۔ اس ملاقات نے چھوٹے بڑے سب کے دلوں پر نہایت مثبت اثرات چھوڑے۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺہمارے گھر تشریف لاتے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی اور اس کی ایک چھوٹی سی پالتو چڑیا تھی۔ وہ چڑیا مرگئی۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میرے بھائی کو غمگین دیکھ کر پوچھا: ’’اسے کیا ہوا؟‘‘  انھوں نے کہا: اس کی چڑیا مرگئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے ابو عمیر ! تیری چڑیا نے کیا کیا؟‘’ (سنن أبي داود، الأدب، حديث: 4989)

 غور کریں کس طرح رسول اکرم ﷺاپنے بلند مقام و مرتبہ کو نظر انداز کر کے اس بچے کے قریب ہوئے۔ اس کے جذبات و احساسات کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس کی پریشانی کا سبب دریافت کیا۔ جب آپ کو بتایا گیا کہ اس کا پالتو پرندہ مر گیا ہے تو آپ ﷺکا نے اس کے ساتھ پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ابو عمیر! تیری چڑیا کو کیا ہوا ہے؟‘‘  یوں اس بچے کی ایک بڑی پریشانی کی گھڑی میں آپ نے اسے حوصلہ دیا اور یہ باور کرایا کہ میں تمھارے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ آپ نے اس بچے کے پاس بیٹھ کر اس کی وہ ساری گفتگو بڑی خاموشی سے سنی جو وہ اپنے پرندے کی موت کے حوالے سے بیان کر رہا تھا۔ آپ ﷺکا اس بچے کو وقت دینا اور اس کی غم خواری کرنا کسی دوائے شافی اور مرہم سے کم نہ تھا جس نے  یقینًا اس کے غم و پریشانی کو کسی حد تک ختم کر دیا۔

غورکریں کہ اس واقعے میں پوچھنے والے رب العالمین کے رسول اور خاتم المرسلین ﷺ ہیں اور پوچھ کس سے رہے ہیں ؟ ایک تین سالہ بچے ہے۔ اور پوچھ کس کے بارے میں رہے ہیں ؟! ایک پرندے کے بارے میں جس کے ساتھ وہ بچہ کھلتا تھا اور وہ مر گیا۔ اور آپ نے جس لطف و کرم، محبت و شفقت اور پیار سے پوچھا، اس کے کیا کہنے! یہاں سانسیں اس رحیم ملاقاتی اور کریم نبی ﷺکے اکرام و اجلال میں رک جاتی ہیں اور دل آپ کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں اور ارشاد باری  ﴿وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَلَمِيْنَ﴾

’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ کے معنی صحیح سمجھ میں آتے ہیں۔

ابن القاص شافعی نے مذکورہ حدیث کے ساتھ فوائد ذکر کیے ہیں اور حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ نے مزید دس فوائد کا اضافہ کر کے فتح الباری میں ستر فوائد ذکر کیے ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

٭امام اور حاکم کا رعایا سے ملاقات کرنا۔

٭ ان کے احوال کی خبر گیری کرنا۔

٭لوگوں سے ان کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرنا۔

٭مصیبت زدہ کو تسلی دینا، خواہ چھوٹا بچہ ہی ہو۔

٭عالم کا اپنے شاگردوں کے حالات سے آگاہ رہنا اور ان سے ملنے جاتا۔

٭لوگوں کے دل جیتنا۔

٭تمام لوگوں کو دلاسا دینا۔

آپ ﷺ کی ملاقاتیں عزیز و اقارب اور دوست احباب تک محدود نہیں تھیں بلکہ آپ ﷺامیر غریب، چھوٹے بڑے، خادم و نوکر اور مزدور ہر ایک کی دعوت قبول فرماتے۔ آپ ﷺتکبر کرتے نہ دعوت سے پیچھے رہتے۔ دعوت قبول کرتے اور نہایت لطف و کرم، محبت و شفقت اور تواضع و انکسار سے تشریف لے جاتے۔ آپﷺ فرماتے:

((لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَّقَبِلْتُ))

’’اگر مجھے (جانور کے ) پائے کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔‘‘(صحیح البخاري، النكاح، حديث: 5178)

ایک بڑھیا سیدہ ملیکہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ کے لیے کھانا بنایا تو آپ نے ان کی دعوت قبول فرمائی اور مہمان بن کر ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ یہ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کی دادی تھیں۔ انھوں نے نہایت سادہ سا کھانا پیش کیا۔ آپ کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ اور کوئی دوسرا لڑکا بھی تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ اللہ نے فرمایا:

’’کھڑے ہو جاؤ، میں تمھیں نماز پڑھاؤں۔‘‘

 سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک چٹائی اٹھائی جو کثرت استعمال کی وجہ سے سیاہ ہو گئی تھی۔ میں نے اسے پانی سے دھویا۔ پھر رسول اللہﷺ اس پر کھڑے ہو گئے۔ میں نے اور ایک چھوٹے بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔ اس طرح رسول اللہﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ فارغ ہو کر آپ واپس تشریف لے گئے۔ (صحیح البخاري، الصلاة، حديث: 380)

آپ ﷺنے اس سادہ کی دعوت قبول کرنے میں ذرا  تاخیر نہ فرمائی۔ بغیر ٹال مٹول کے اس بڑھیا کی نہ صرف دعوت فوراً قبول کی بلکہ اسے نہایت خوش کیا۔ اس کے گھر کو نماز کے ساتھ روشن کیا اور حاضرین کو نفل نماز با جماعت ادا کرنے کا طریقہ سکھایا۔ آپ نے صلاۃ الضحی (نماز چاشت) ادا فرمائی۔ سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ اور دوسرے بچے کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور سیدہ ملیکہ رضی اللہ تعالی عنہاکو ان دونوں بچوں کے پیچھے۔ عورت کے لیے یہی سنت طریقہ ہے کہ وہ مردوں سے پیچھے الگ کھڑی ہو۔ آپ ﷺ نے اس مبارک زیارت میں کئی ایک اعزازات کو جمع فرمایا۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کا فارس سے تعلق رکھنے والا ایک پڑوی شور با اچھا بناتا تھا۔ اس نے رسول اللہﷺ کے لیے شور با تیار کیا، پھر آکر آپ کو دعوت دی۔ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’’ان کو بھی دعوت ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔ مجھے بھی تمھاری دعوت قبول نہیں۔‘‘ وہ دوبارہ آپ کو بلانے آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کو بھی دعوت ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے پھر فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا۔ نبی ﷺ  نے فرمایا: ’’ان کو بھی؟‘‘ تیسری بار اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر پہنچ گئے۔ (صحیح مسلم، الأشربة، حديث : 2037)

آپ ﷺ ایک آزاد کردہ فارسی غلام کی دعوت قبول کرتے ہیں اور اس کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں۔ نہایت عجز و انکسار سے کھانا کھاتے ہیں، حالانکہ اس دور میں آزاد کیے ہوئے غلاموں سے لوگ نہایت حقارت آمیز سلوک کرتے تھے اور انھیں کمتر سمجھتے تھے۔ بیوی کے ساتھ آپ ﷺکے لطف و کرم کی یہ شاندار مثال ہے کہ آپ نے اس کے بغیر دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ شرط رکھی کہ میں یہ مزیدار کھانا تب کھاؤں گا جب میری بیوی عائشہ بھی ساتھ گی۔

ایک آزاد کردہ غلام درزی نبیٔ اکرم سلام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور اپنے ہاں تشریف لے چلنے کی درخواست کرتا ہے۔ آپ اس کی دعوت قبول کرتے ہیں اور مہمان بن کر اس کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں۔

سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ہمراہ آپ کے ایک درزی غلام کے پاس گیا۔ اس نے آپ ﷺ کی طرف ایک پیالہ بڑھایا جس میں ثرید تھا۔ پھر وہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا تو نبیﷺ اس میں سے کدو تلاش کرنے لگے۔ میں نے بھی کدو تلاش کر کے آپ کے سامنے رکھنا شروع کر دیے۔ اس کے بعد میں خود بھی کدو کو بہت پسند کرتا ہوں۔ (صحیح البخاري، الأطعمة، حديث:5420)

اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺغلاموں اور مزدوروں کے کتنے قریب تھے۔ وہ بھی اس بات سے آگاہ تھے کہ نبی اکرم ﷺان کی دعوت ضرور قبول فرمائیں گے، چنانچہ وہ بڑی آسانی سے آپ کے پاس آتے اور آپ نہایت لطف و کرم اور پوری محبت سے ان کی دعوت قبول کرتے۔ ان کے گھر مہمان بن کر تشریف لے جاتے۔ ان کا سادہ سا کھانا تناول فرماتے۔ آپ نے ان کے دلوں پر ایسے خوبصورت اثرات چھوڑے جنھیں زندگی بھر وہ یاد رکھتے۔

سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کو والد کے قرض کے معاملے میں جب قرض خواہ نے پریشان کیا تو انھوں نے رسول اکرم ﷺسے گھر تشریف لانے کی درخواست کی۔   آپ ﷺ نہ صرف ان کے گھر تشریف لے گئے بلکہ ان کی سفارش کی اور سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خیر و برکت اور غموں اور پریشانیوں سے نجات کی ڈھیروں دعائیں کیں۔

درود و سلام ہوں آپﷺ پر آپ جہاں بھی گئے اور جس مکان میں بھی ٹھہرے، خیر و برکت کا بے شمار نزول ہوا۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی تھا جو کھجوروں کی پیداوار تک مجھے قرض دیا کرتا تھا۔

بئر رومہ کے راستے میں سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی زمین تھی۔ ایک سال کھجور کے باغات پھل نہ لائے۔ جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: کھجوریں توڑنے کے موسم میں یہودی میرے پاس آیا جبکہ میں نے کھجوروں سے کچھ نہ توڑا تھا، چنانچہ میں نے اس سے دوسرے سال تک مہلت مانگی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ نبی ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے فرمایا : ’’چلو، یہودی سے جابر کے لیے مزید مہلت طلب کریں۔‘‘ وہ کھجوروں کے باغ میں میرے پاس تشریف لائے۔ نبیﷺ نے یہودی سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگا: ابوالقاسم! میں اسے مزید مہلت نہیں دوں گا۔ جب نبی ﷺ  نے یہ صورت حال دیکھی تو وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور باغ کا چکر لگایا۔ پھر یہودی کے پاس آکر اس سے بات چیت کی تو اس نے پھر انکار کر دیا۔ اس دوران میں میں اٹھا اور تھوڑی سی تازہ کھجور یں لاکر نبی ﷺ  کے آگے رکھ دیں۔ آپ ﷺ نے انھیں تناول فرمایا، اس کے بعد مجھ سے کہنے لگے : ”اے جابر! تمھاری جھونپڑی کہاں ہے؟‘‘ میں نے اس کی نشاندہی کی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’وہاں میرے لیے ایک بستر بچھا دو۔‘‘ میں نے وہاں ایک بستر لگا دیا۔ آپﷺ وہاں گئے اور محو استراحت ہوئے۔ جب بیدار ہوئے تو میں نے پھر مٹھی بھر کھجوریں آپ کو پیش کیں۔ آپ نے ان میں سے کچھ کھائیں۔ پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی لیکن اس نے پھر بھی انکار کیا۔ آپﷺ دوسری مرتبہ تازہ کھجوروں کے باغ میں کھڑے ہوئے، پھر فرمایا: ’’اے جابر! ان کو خوشوں سے الگ کر کے اپنا قرض ادا کرو۔ ‘‘چنانچہ آپﷺ میں کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجور یں توڑ لیں کہ ان سے میں نے قرض ادا کر دیا اور کچھ کھجوریں بچ گئیں۔ پھر میں وہاں سے روانہ ہوا اور نبی ﷺ  کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری دی تو آپ ﷺنے فرمایا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ (صحیح البخاري، الأطعمة، حديث : 5443)

آپﷺ بیماروں کی تیمارداری کا اہتمام کرتے اور قول و فعل سے اس کی ترغیب دیتے۔ آپ نے مریض کی عیادت کرنے والے کو عظیم اجر کی خوشخبری دی۔ ان خوشخبریوں میں سے آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے : ’’مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی تیمار داری کرتا ہے تو وہ واپسی تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔‘ (صحیح مسلم، البر و الصلاه حديث: 2568)

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ اور ان میں سے ایک مریض کی عیادت کرنا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حديث (1240)

اور آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا: ((أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِي)) بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی تیمارداری کرو اور قیدی کو رہائی دلاؤ۔‘‘ (صحیح البخاري، الأطعمة، حديث: 5373)

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

’’قیامت کے دن اللہ عز وجل فرمائے گا: آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا: میرے رب ! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے، مگر تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ مجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلة، حديث: 2569)

آپ ﷺ مسلم، غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر بیمار کی تیمار داری کرتے، جیسا کہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے۔ اور بیماری تو دین وملت کے فرق کے بغیر تمام انسانوں کو لاحق ہوتی ہے۔ آپ کے چچا سردار ابو طالب بیمار ہوئے تو آپ ان کی تیمار داری کے لیے بھی جاتے تھے، حالانکہ وہ مسلمان نہ تھے۔ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے اپنے چچا سے فرمایا: لا إله إلا الله کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہ بن جاؤں گا۔ انھوں نے جواب میں کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمھاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’آپ جسے چاہتے ہوں، اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے، راہ راست پر لے آتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، الإيمان، حديث : 25)

نبی ﷺ نے ایک یہودی بچے کی تیمارداری کی، حالانکہ وہ آپ کی رسالت کا منکر تھا۔ آپ کے دین پر ایمان نہ رکھتا تھا۔ لیکن نبی اکرمﷺ کی رحمت اس سے وسیع اور لطف و کرم اس سے بڑھ کر تھا۔آپ ﷺ نے ان ساری رکاوٹوں کو نظر انداز کیا اور اس کی بیماری کی اطلاع ملنے پر اس کے گھر پہنچ گئے۔ پھر اس مبارک زیارت کے یہ ظاہر ہوئے کہ اللہ تعالی نے اس بچے کو آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ سیدنا انس بن مالک  رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی ﷺکی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبیﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس کے سرہانے بیٹھ کر اس سے فرمایا: ’’تو مسلمان ہو جا۔‘‘ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: ابوالقاسم (ﷺ) کی بات مان لو، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ پھر نبی ﷺ  یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لے آئے:

((الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ))

’’اللہ کا شکر ہے جس نے اس لڑکے کو آگ سے بچا لیا۔‘‘ (صحيح البخاري، الجنائز، حديث: 1356)

آپﷺ کا مریضوں کی تیمار داری میں یہ طریقہ تھا کہ دور و نزدیک کا فرق کیے بغیر پیدل یا سواری پر جیسے بھی ممکن ہوتا، پہنچ جاتے۔ اس راہ میں آنے والی مشقت کی پروا نہ کرتے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ  اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ پیدل چل کر بنو سلمہ میں آئے اور میری تیماری داری کی۔ میں اس وقت بے ہوش تھا۔ آپ ﷺ کر نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا۔ پھر آپ نے وہ پانی مجھ پر چھڑک دیا تو مجھے ہوش آگیا۔ (صحیح البخاري، التفسير، حديث (4577)

نبی ﷺ مریضوں کے پاس جاتے تو انھیں خوشخبری دیتے۔ اطمینان دلاتے۔ ان کے لیے دعا کرتے۔ انھیں اجر و ثواب کی یقین دہانی کراتے اور ان کا غم کم کرنے کی کوشش کرتے ، جیسا کہ آپ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی تیمار داری کے موقع پر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ اے اللہ اسعد کو شفا دے۔‘‘ (صحیح مسلم، الوصية، حديث: 1628)

آپﷺ نے انھیں خوشخبری دی کہ اللہ تعالی انھیں لمبی عمر دے گا اور ان سے کئی لوگوں کو نفع پہنچے گا اور دوسرےکئی لوگوں کا نقصان ہوگا، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: ”امید ہے کہ تمھیں ابھی اور زندگی ملے گی یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کو تمھارے ذریعے سے نفع ملے گا اور دوسرے کئی لوگوں ، یعنی کافروں کو تمھارے ذریعے سے نقصان پہنچے گا۔‘‘(صحيح البخاري، مناقب الأنصار، حديث: 3936)

آپ ﷺنے ایک دیہاتی کی تیمارداری کی تو فرمایا:

((لَا بَأْسَ عَلَيْكَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ))

’’کوئی حرج نہیں۔ ان شاء اللہ یہ بیماری تمھارے لیے پاکیزگی کا باعث ہو گی۔‘‘ (صحیح البخاري، التوحيد، حديث: 7470)

  آپ ﷺ نے بخار میں مبتلا ایک بیمار کی تیمارداری کی تو اسے حوصلہ دیتے ہوئے خوشخبری دی اور اچھی فال لیتے ہوئے فرمایا:

((أَبْشِرْ، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلٰى عَبْدِي الْمُذْنِبِ لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ))

’’خوش ہو جا، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: بخار میری آگ ہے جو میں اپنے گناہ گار بندے پر مسلط کرتا ہوں تا کہ یہ آگ جہنم سے اس کا حصہ بن جائے اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔‘‘ (جامع الترمذي، أبواب الطب، حديث: 2088)

آپﷺ نے مریض کی عیادت کرنے والے ہر شخص کو یہ ترغیب دلائی کہ وہ مریض کو حوصلہ دلائے اور خیر، بھلائی اور خوشخبری کے کلمات کہے، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: ’’جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 919)

آپﷺ نے مریضوں اور مصیبت میں مبتلا افراد کو موت کی تمنا یا دعا کرنے سے منع کیا، خواہ مرض یا تکلیف و مصیبت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ اور ایسی صورت میں آپﷺ نے ایک عظیم دعا سکھائی، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

((لَا يَتَمَنَّيْنَ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّي))

’’اگر کوئی کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو یوں دعا کرے: اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو، مجھے زندہ رکھ اور جب میری وفات میرے لیے بہتر ہو تو مجھے فوت کرلے۔‘‘ (صحیح البخاري، المرضى، حديث:5671)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :

’’تم میں سے کوئی بھی موت کی خواہش نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہوگا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور اگر وہ تیرا ہے تو ممکن ہے کہ وہ تو بہ کر لے۔ ‘‘(صحیح البخاري، المرضى، حديث : 5673)

آپ ﷺ ہمیشہ پر امید رہتے تھے کہ اگر انسان کو مزید عمر لی تو وہ نیکی اور خیر اور بھلائی کے مزید کام کرے گا۔ نبیﷺ جب کسی مریض کی عیادت کرتے تو اس کے لیے شفا کی دعا کرتے ، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ جب کسی مریض کی عیادت کرتے تو یوں دعا دیتے:

((اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَاسَ وَاشْفِهِ، وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَّا يُغَادِرُ سَقَمًا))

’’اے اللہ، لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے۔ اسے شفا عطا فرما اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں۔ تو ایسی شفا دے کہ کسی قسم کی بیماری باقی نہ رہے۔‘‘ (صحيح البخاري، الطب، حديث:5743)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

’’جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی بیمار پری کے لیے جائے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور وہ سات دفعہ یہ کلمات پڑھے: ((أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَّشْفِيَكَ)) ’’ میں اللہ بلند شان والے، عرش عظیم کے مالک سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے۔ تو اسے صحت یابی اور عافیت مل جاتی ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، الطب، حديث: 2083)

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اکرم ﷺ سے جسم میں درد کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا :

’’جسم میں جس جگہ درد ہوتا ہے، تم وہاں اپنا ہاتھ رکھو اور تین بار بسم اللہ پڑھو اور سات بار یہ کہو: ((أَعُوذُ بِاللهِ وَ قُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأَحَاذِرُ)) ’’میں اس چیز کے شرسے جو میں (اپنے جسم میں) پاتا ہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے، اللہ تعالی اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم، السلام حدیث (2202)

جب آپ ﷺمریض کی عیادت کرتے تو اس کے لیے وہ عظیم دعا کرتے جو امید، برکت، اطمینان اور اچھی فال پر مشتمل ہوتی۔

اور آپﷺ بخار میں مبتلا شخص کو نصیحت فرماتے کہ اپنے جسم پر پانی ڈالو۔ آپ فرماتے:

((الْحُمّٰى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ))

’’بخار، جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے، لہٰذا  تم اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔‘‘ (صحيح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3263)

اگر مریض کی بیماری لمبی ہوتی تو آپ ﷺ اسے تسلی دینے اور شدت کم کرنے کے لیے بار بار اس کی عیادت کرتے اور اس سے ذرا نہ اکتاتے ، جیسا کہ آپ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کیا۔ آپ نے ان کی دیکھ بھال اور بار بار تیمار داری کے لیے ان کا خیمہ مسجد میں لگوا دیا تا کہ قریب سے ان کی تیمار داری کر سکیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ کی رگ میں تیر لگ گیا تو نبی  ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تا کہ نزدیک سے ان کی عیادت کر لیا کریں۔ (صحیح البخاري، الصلاة ، حديث: 463)

نبی ﷺ کی عظیم شفقت اور کمال رحمت ہے کہ آپ مریضوں کے علاج کے لیے طبیب بھیجتے اور علاج کی سہولیات مہیا فرماتے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے : رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا۔ اس نے ان کی زخمی رگ کی خراب ہو جانے والی جگہ کاٹی، پھر اس پر داغ لگایا تا کہ خون رک جائے۔ (صحیح مسلم، السلام، حدیث : 2207)

رسول اکرمﷺ نے ایک زخمی کی تیمارداری کی اور فرمایا: ’’بنو فلاں کے طبیب کو بلاؤ۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے بلایا تو وہ آگیا۔ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا دوا کام آتی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! زمین میں جو بیماری بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شفا پیدا کی ہے۔‘‘ (مسند أحمد، حدیث: 23156)

 آپ ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ قبروں کی زیارت کرتے اور اہل قبور کے لیے دعا کرتے اور فرماتے:

((اَلسَّلامُ عَلٰى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلْاحِقُونَ))

’’مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانوں میں رہنے والو! تم پر سلامتی ہو۔ ہم میں سے جو آگے چلے گئے اور جو پیچھے ہیں اللہ ان پر رحم فرمائے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم الجنائز، حدیث : 974)

آپ ﷺنے قبروں کی زیارت کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (( كُنتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُوْرُوْهَا))

’’میں تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث:977)

ترندی میں یہ اضافہ ہے: ((فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ)) ’’قبروں کی زیارت سے آخرت یاد آتی ہے۔‘‘

(جامع الترمذي، الجنائز، حديث:1054)

درود و سلام ہوں اس ہستی پر جسے اللہ تعالی نے زندہ اور فوت شدگان کے لیے رحمت بنایا۔آپ ﷺ نے زندوں کے لیے دعائیں کیں۔ انھیں شرف ملاقات بخشا۔ ان کے ساتھ تعاون کیا اور ان سے انس اور پیار کا برتاؤ کیا اور فوت شدگان کی زیارت کی تو ان کے لیے مغفرت و رحمت اور رب کی رضامندی کی دعائیں کیں۔ آپ ﷺ جس سے بھی ملے، اس پر نہایت اچھے اثرات قائم کیے۔ اسے اسلام کی دعوت دی یا سنت کی تعلیم دی یا اس کے ہاں نماز پڑھی یا اس کے لیے دعا کی یا اس کے ہاں کھانا کھا کر اپنایت کا احساس دلایا۔ اسے خوشی فراہم کی یا اسے دم کیا یا برکت کی دعا کی یا اس سے تعزیت و ہمدردی کی۔ آپ ﷺ کی ہر ملاقات اطاعت و عبادت تھی۔ جب آپ ﷺاپنے کسی صحابی کے گھر داخل ہوئے تو یہ ملاقات اس کے لیے تاریخی بن گئی اور وہ زندگی بھر اس پر فخر کرتا رہا اور ہر مجلس میں اس کا تذکرہ کرتا رہا۔

…………….