1
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں متنوع آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض علماء اور مفکرین کا خیال ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام، امن اور تعاون کو فروغ دینا ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ دیگر ناقدین کے نزدیک اگر بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر عقائد کی بنیادی حدود کو دھندلا دیا جائے یا تمام مذاہب کو ایک ہی درجے پر پیش کیا جائے تو یہ اسلامی شناخت اور عقیدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر بحث کرتے وقت امن و احترام کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کی اعتقادی انفرادیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیںابراہیمی معاہدہ اور بین المذاھب ہم آہنگی کا دھوکہ
2
مزید پڑھیںبین المذاہب مکالمہ میں تحمل و برداشت،مسائل اور حل
3
دو قومی نظریہ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی نظریہ پاکستان کا مطلب، وہ نظریہ جس کی بنیاد پر ھندوستان کی مسلم عوام باقی اقوام و ملل سے جدا ہوتی ہے وہ نظریہ جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان خط امتیاز ہے جو محمدی اور غیر محمدی، مومن اور کافر کی تمییز…
مزید پڑھیںدو قومی نظریہ