اس جمعہ کے لیے خطبہ
نوجوان نسل میں نشہ خوری اور ہماری ذمہ داری
نوجوان نسل میں نشہ خوری ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور کردار کو متاثر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو عقل کو زائل کرے اور انسان کو گناہ و تباہی کی طرف لے جائے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑیں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو نشہ خوری سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محبت، تربیت، نگرانی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
حالیہ خطبات
اپنے گھروں کو پرسکون بنایئے!
اسلام انسان کو ایسا گھرانہ تشکیل دینے کی تعلیم دیتا ہے جو محبت، رحمت، احترام اور سکون کا گہوارہ ہو۔ گھروں کا حقیقی سکون اللہ تعالیٰ کی یاد، نماز، حسنِ اخلاق، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں پوشیدہ ہے۔ غصہ، جھگڑے، بدزبانی اور بے صبری گھریلو زندگی کے سکون کو تباہ کر دیتے ہیں، جبکہ صبر، درگزر، مشاورت اور دینی ماحول گھروں میں برکت اور اطمینان پیدا کرتے ہیں۔ اگر گھر کے افراد قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائیں تو ان کے گھر امن، محبت اور خوشیوں کا مرکز بن سکتے ہیں۔
تحمل اور بردباری کی تلقین، عجلت اور جلد بازی سے اجتناب
اسلام انسان کو تحمل، بردباری اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔ جلد بازی اور عجلت اکثر غلط فیصلوں، ندامت اور نقصان کا سبب بنتی ہے، جبکہ صبر اور تحمل انسان کو حکمت، دانائی اور کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ قرآن و سنت میں بارہا صبر، برداشت اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ مشکلات، اختلافات اور آزمائشوں میں صبر سے کام لے اور ہر معاملے میں اعتدال اور بردباری اختیار کرے، کیونکہ یہی صفات معاشرے میں امن، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہیں۔
دین صرف کتاب وسنت کا نام
اسلام کی بنیاد قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر ہے۔ مسلمان کی رہنمائی، عقائد، عبادات اور معاملات کا اصل ماخذ کتاب و سنت ہیں۔ نجات اور کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔
جہنم کی ہولناکیاں
جہنم کی ہولناکیاں قرآن و حدیث میں انسان کو نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ جہنم ایک ایسا مقام ہے جہاں نافرمان لوگ اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ وہاں کا عذاب انتہائی سخت، دردناک اور ناقابلِ تصور ہوگا۔ جہنم کا ذکر انسان کو گناہوں سے بچنے، اللہ کی اطاعت اختیار کرنے اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
جہنم میں اہل جہنم کی حالت زار
جہنم میں اہلِ جہنم کی حالت نہایت دردناک اور عبرت ناک ہوگی۔ قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جہنم عذاب کی ایسی جگہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔ وہاں حسرت، پشیمانی، پیاس، تکلیف اور اللہ کی ناراضی کا سامنا ہوگا۔ یہ تذکرہ انسان کو گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
نجات کا واحد معیار، ما أنا علیه وأصحابي
نجات کا واحد معیار وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ حدیثِ مبارکہ «ما أنا عليه وأصحابي» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی اور فلاح صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص دین میں نئے عقائد و اعمال ایجاد کرنے کے بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، وہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی اور نجات حاصل کرے گا
اہم خطبات
اتحاد کی نعمت اور اس کی حفاظت کے اسباب
اتحاد، اتفاق اور اجتماع امت ، اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور دین اسلام کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہے کہ اس میں باہمی محبت ، قوت، نظم وضبط اور غلبہ دین کی بقا ہے۔ اسی کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور دنیا تمام فتنوں سے محفوظ...
اسلامی اخوت اور اس کے عملی تقاضے
مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی تمام مومنوں کو بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الحجرات: 10) مومن تو بھائی ہی...
غزوہ احزاب کی روشنی میں مومن ومنافق کے رویے
دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا ، میدان سے پیچھے نہ ہٹنا، ہر قسم کی تیاری رکھنا، عسکری، سیاسی ، سائنسی ، جدید اسلحہ اور خارجہ حکمت عملی اور دفاعی پالیسی پر گہری نظر رکھنا ، ہمیشہ ایمان والوں کی خوبی رہی ہے، جب کہ منافقین کی علامت یہ ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر...
گھروں کو اجاڑنے والی تکالیف وبیماریاں اور علاج
مصیبت، بیماری، تکلیف، پریشانی ، غم وحزن اور دلی رنج والم زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں رہتی ہی ہیں، یہاں دنیا میں کوئی سکھی نہیں، کہ جو من چاہی زندگی بسر کر رہا، تکلیف کا عالم یہ ہے کہ کوئی محبوب کی جدائی میں غم زدہ ہے تو کوئی محبوب کا منتظر ہے،...