اس جمعہ کے لیے خطبہ
نوجوان نسل میں نشہ خوری اور ہماری ذمہ داری
نوجوان نسل میں نشہ خوری ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور کردار کو متاثر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو عقل کو زائل کرے اور انسان کو گناہ و تباہی کی طرف لے جائے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑیں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو نشہ خوری سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محبت، تربیت، نگرانی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
حالیہ خطبات
حرمت والے مہینے فضیلت،احکام اورضروری تنبیہ
اسلام میں چار مہینے حرمت والے مہینے قرار دیے گئے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے، جن میں نیک اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ ان مہینوں میں عبادت، توبہ، ذکرِ الٰہی، صدقہ و خیرات اور حقوق العباد کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مبارک مہینوں کا احترام کریں، ہر قسم کے ظلم، گناہ، بدعات، جھگڑوں اور نافرمانی سے اجتناب کریں، کیونکہ ان ایام میں برائی کا وبال بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ حرمت والے مہینے ہمیں تقویٰ، اصلاحِ نفس اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوارنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
محبتِ اہل بیت کی عملی صورتیں اور تقاضے
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔ حقیقی محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، اخلاق، تقویٰ، صبر، عدل اور دین پر استقامت کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام ہے۔ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے، ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، باہمی اتحاد و اخوت کو فروغ دیا جائے اور ہر قسم کی نفرت، تعصب اور غلو سے بچا جائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ بیت سے محبت امتِ مسلمہ کے درمیان محبت، اعتدال اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
شان صحابہ مقام صحابہ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کی وہ مقدس جماعت ہیں جنہیں Muhammad کی صحبت نصیب ہوئی اور جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت، اشاعت اور سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ان کے فضائل اور عظیم مقام کا ذکر موجود ہے۔ صحابۂ کرامؓ ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھے، اسی لیے امتِ مسلمہ کے لیے ان کی سیرت مشعلِ راہ اور ان سے محبت ایمان کا اہم تقاضا سمجھی جاتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے امتیازی اوصاف
(سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) اسلامی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت تھے جن کی سب سے نمایاں صفات عدل، تقویٰ، جرات، دور اندیشی اور عوامی خدمت تھیں۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ رعایا کے حالات سے باخبر رہتے، کمزوروں اور محتاجوں کی مدد کرتے اور حق و سچ کے معاملے میں کسی ملامت کی پروا نہ کرتے تھے۔ انہی امتیازی اوصاف کی بنا پر آپ کو "فاروق” کا لقب ملا، کیونکہ آپ حق اور باطل میں واضح فرق کرنے والے تھے۔
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاھب ہم آہنگی کا دھوکہ
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں متنوع آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض علماء اور مفکرین کا خیال ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام، امن اور تعاون کو فروغ دینا ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ دیگر ناقدین کے نزدیک اگر بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر عقائد کی بنیادی حدود کو دھندلا دیا جائے یا تمام مذاہب کو ایک ہی درجے پر پیش کیا جائے تو یہ اسلامی شناخت اور عقیدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر بحث کرتے وقت امن و احترام کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کی اعتقادی انفرادیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی امتیازی صفات
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ اپنی حیا، سخاوت، نرم دلی اور تقویٰ کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو "ذوالنورین” کا لقب عطا فرمایا کیونکہ آپؓ کو نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کا شرف حاصل ہوا۔ آپؓ نے اسلام کی خدمت کے لیے اپنا مال فراخ دلی سے خرچ کیا، مسلمانوں کی ضروریات پوری کیں اور قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کرکے امت پر عظیم احسان کیا۔ آپؓ کی زندگی اخلاص، صبر، عبادت اور اللہ و رسول ﷺ سے بے پناہ محبت کا روشن نمونہ ہے۔
اہم خطبات
ترقی کی ضمانت ایمان، اتحاد اور تنظیم
کسی بھی قوم ، معاشرے اور امت کے لیے ایمان، اتحاد اور تنظیم سازی، یہ تینوں اصول کامیابی کی کنجی، ترقی کے ضامن اور عروج کی بنیاد ہیں۔ یہ تین لفظ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں ایمان کے مقابلے کفرو شرک، اتحاد و اتفاق کے مقابلے میں تفرقہ بازی...
غزوہ احزاب کی روشنی میں مومن ومنافق کے رویے
دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا ، میدان سے پیچھے نہ ہٹنا، ہر قسم کی تیاری رکھنا، عسکری، سیاسی ، سائنسی ، جدید اسلحہ اور خارجہ حکمت عملی اور دفاعی پالیسی پر گہری نظر رکھنا ، ہمیشہ ایمان والوں کی خوبی رہی ہے، جب کہ منافقین کی علامت یہ ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر...
تکلف؛ایک معاشرتی بیماری(ممانعت،مفاسد،معاشرتی صورتیں اور بچاؤ کے طریقے)
تکلف ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جو انسان کو فطری سادگی سے دور کر کے بناوٹ، دکھاوے اور ریاکاری کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام میں تکلف سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ اخلاص کو متاثر کرتا اور معاشرے میں جھوٹے معیار قائم کرتا ہے۔ اس کے مفاسد میں فضول خرچی، حسد، احساسِ کمتری...
بڑھتی مہنگائی اور کفایت شعاری کی راہیں
بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ایسے حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ اسلام سادہ زندگی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے غیر ضروری اخراجات سے بچنا، گھریلو بجٹ بنانا اور آمدنی کے مطابق زندگی گزارنا بہترین حل ہے۔ موجودہ دور میں...
فرد کی اصلاح میں دینی تعلیم اور مدارس کا کردار
فرد کی اصلاح میں دینی تعلیم اور مدارس کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ ادارے انسان کو اخلاقیات، صبر، برداشت اور سچائی جیسے اوصاف سکھاتے ہیں۔ مدارس میں دی جانے والی تعلیم نہ صرف مذہبی علم فراہم کرتی ہے بلکہ کردار سازی اور روحانی تربیت کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے ذریعے فرد...
بری چال۔۔۔بُراانجام
بری چال ہمیشہ وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر اس کا انجام اکثر بُرا ہی ہوتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کرتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب نظر آتے ہیں لیکن سچ اور انصاف آخرکار سامنے آ ہی جاتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایمانداری اور نیک...