اس جمعہ کے لیے خطبہ
نوجوان نسل میں نشہ خوری اور ہماری ذمہ داری
نوجوان نسل میں نشہ خوری ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور کردار کو متاثر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو عقل کو زائل کرے اور انسان کو گناہ و تباہی کی طرف لے جائے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑیں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو نشہ خوری سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محبت، تربیت، نگرانی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
حالیہ خطبات
داتا صرف اللہ ہے
اسلامی عقیدے کے مطابق حقیقی عطا کرنے والا، رزق دینے والا اور حاجتیں پوری کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ بندہ اپنی تمام ضروریات اور حاجات میں اللہ ہی پر بھروسا کرے اور اسی سے دعا مانگے۔ انبیاء و صالحین کا احترام اپنی جگہ، لیکن عبادت، دعا اور غیبی مدد طلب کرنے میں اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک ماننا عقیدۂ توحید کا بنیادی تقاضا ہے۔
نئے ملک میں اسلامی تقاضے
نئے ملک میں منتقل ہونے کے بعد مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین، عقائد اور اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں کے جائز قوانین اور معاشرتی اصولوں کی پابندی کرے۔ معاملات میں دیانت، حسنِ اخلاق، وعدے کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ حالات اور معاشرے کی تبدیلی کے باوجود مسلمان کو اپنے دینی فرائض اور اخلاقی اقدار پر قائم رہنا چاہیے۔
محبت اطاعت اور بدعات
نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کی جائے اور آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں اختیار کیا جائے۔ محبت صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ فرمانِ رسول ﷺ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ اسی طرح دین میں ایسی نئی عبادات اور طریقوں سے بچنا ضروری ہے جن کی شریعت میں اصل موجود نہ ہو۔
(عہد نبوی کی خوشیاں ، ان میں عید میلاد کا ذکر نہیں)
عہدِ نبوی ﷺ میں مسلمانوں کو مختلف مواقع پر خوشی کا اظہار کرنے کے جائز طریقے ملتے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ اسلامی تہواروں کے طور پر نمایاں ہیں، جبکہ نکاح، کامیابی اور دیگر جائز مواقع پر بھی خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا۔ عہدِ نبوی کی خوشیوں کے بیان میں عید میلاد النبی ﷺ کو بطور سالانہ عید منانے کا ذکر نہیں ملتا، اس لیے اس موضوع کو سیرتِ رسول ﷺ اور عہدِ نبوی کے معمولات کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
قدیم و جدید جاہلیت اور طلوع رسالت
قدیم جاہلیت میں انسان توحید، عدل اور صحیح اخلاقی اقدار سے دور تھا، جبکہ جدید جاہلیت بھی مختلف شکلوں میں انسان کو روحانی اور اخلاقی انحطاط کی طرف لے جا سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید، علم، عدل اور ہدایت کی روشنی عطا کی۔ طلوعِ رسالت ﷺ دراصل انسانیت کی فلاح اور اصلاح کے ایک عظیم دور کا آغاز تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا کو توحید، عدل، اخلاق اور ہدایت کا روشن راستہ ملا۔ آپ ﷺ کی مبارک زندگی قیامت تک پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
اہم خطبات
اتحاد کی نعمت اور اس کی حفاظت کے اسباب
اتحاد، اتفاق اور اجتماع امت ، اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اور دین اسلام کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہے کہ اس میں باہمی محبت ، قوت، نظم وضبط اور غلبہ دین کی بقا ہے۔ اسی کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور دنیا تمام فتنوں سے محفوظ...
اسلامی اخوت اور اس کے عملی تقاضے
مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی تمام مومنوں کو بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الحجرات: 10) مومن تو بھائی ہی...
غزوہ احزاب کی روشنی میں مومن ومنافق کے رویے
دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا ، میدان سے پیچھے نہ ہٹنا، ہر قسم کی تیاری رکھنا، عسکری، سیاسی ، سائنسی ، جدید اسلحہ اور خارجہ حکمت عملی اور دفاعی پالیسی پر گہری نظر رکھنا ، ہمیشہ ایمان والوں کی خوبی رہی ہے، جب کہ منافقین کی علامت یہ ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر...
گھروں کو اجاڑنے والی تکالیف وبیماریاں اور علاج
مصیبت، بیماری، تکلیف، پریشانی ، غم وحزن اور دلی رنج والم زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں رہتی ہی ہیں، یہاں دنیا میں کوئی سکھی نہیں، کہ جو من چاہی زندگی بسر کر رہا، تکلیف کا عالم یہ ہے کہ کوئی محبوب کی جدائی میں غم زدہ ہے تو کوئی محبوب کا منتظر ہے،...