1
ماہِ صفر اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم مہینہ ہے جس کے بارے میں بعض معاشروں میں نحوست اور بدشگونی کے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسلام نے ایسے باطل خیالات کی نفی کی ہے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل، صحیح عقیدہ اور شریعت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی دی ہے۔ ماہِ صفر کو بھی دیگر مہینوں کی طرح اللہ کی طرف سے مقرر کردہ وقت سمجھنا چاہیے اور ہر معاملے میں خیر و برکت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو ماننا چاہیے۔
مزید پڑھیںماہ صفر برکت و نحوست کا اسلامی تصور
2
اسلام صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، چہرہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ گری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان اعمال سے منع فرمایا اور مصیبت کے وقت صبر، دعا اور استغفار کی تلقین فرمائی۔ مسلمان کو چاہیے کہ غم اور مصیبت کے مواقع پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ حقیقی کامیابی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور صبر و رضا میں ہے۔
مزید پڑھیںاسلام میں ماتم سینہ کوبی اور نوحہ گری کی ممانعت
3
بسنت برصغیر کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو روایات اور موسمی رسومات سے ملتی ہیں، بعد میں یہ ایک سماجی اور ثقافتی سرگرمی کی صورت اختیار کر گیا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ایسے تہواروں میں شرکت جائز نہیں جو غیر مسلم مذاہب سے مخصوص ہوں یا جن کی بنیاد مذہبی و غیر اسلامی عقائد پر ہو، کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی جداگانہ تہذیب اور دینی تشخص قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شریعت کی رو سے مسلمانوں کے لیے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی جیسے مقررہ تہوار مشروع ہیں، لہٰذا بسنت کو تاریخی اور شرعی تناظر میں ایک غیر اسلامی تہوار قرار دیا جاتا ہے جس سے احتراز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے
مزید پڑھیںبسنت ایک غیر اسلامی تہوار(تاریخی اور شریعی حیثیت کے تناظرمیں)
4
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں، جن کی ولادت حضرت مریم علیہا السلام سے بغیر باپ کے معجزانہ طور پر ہوئی۔ قرآنِ مجید میں آپ کو کلمۃُ اللہ اور روحٌ منہ کہا گیا ہے، اور آپ کی دعوت خالص توحید، عبادتِ الٰہی اور اعلیٰ اخلاق پر مبنی تھی۔ عیسائیت میں بعد ازاں تحریف کے نتیجے میں حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا یا خدا مان لیا گیا، جو اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح کرسمس کو حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے طور پر منانا نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی سنتِ نبویؐ سے، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام سکھاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ واحد کے لیے خاص قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا عیسی علیہ السلام کا تعارف، عیسائیت کی تعلیمات اور کرسمس کا رد
5
ایامِ فاطمیہ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر میں تاریخی اور مذہبی حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ان ایام کا تعلق حضرت فاطمہؓ کی وفات کے واقعات اور ان سے منسوب روایات سے جوڑا جاتا ہے، مگر ان کی تاریخی تعیین اور تفصیلات میں اہلِ علم کے درمیان واضح اختلاف موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض الزامات اور اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں۔ اہلِ تحقیق کے نزدیک درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے حساس موضوعات کو مستند تاریخی مصادر، غیر جانب دار تحقیق اور باوقار مکالمے کی روشنی میں دیکھا جائے۔ الزامات کی تردید اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب دلیل، عدل اور احترام کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ امت میں انتشار کے بجائے فہم، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔
مزید پڑھیںایام فاطمیہ کی حقیقت اور الزامات کی تردید
6
لوگوں کی کم علمی کی بناء پر ہمارے معاشرے میں شرک و بدعت زیادہ پھیل رہے ہیں۔ خصوصی طور پر رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے امور شروع ہو جاتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلاً : رجب کی پہلی شب جمعہ کو صلاۃ الرغائب پڑھی جاتی ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح 26 رجب اور ستائیسویں شب معراج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسراء اور معراج تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے مگر یہ کہ کیا معراج کا واقعہ 26 رجب کو پیش آیا؟ اس کی کوئی پکی روایت نہیں ہے۔ پھر اگلے دن روزہ رکھنے کا بھی شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔
مزید پڑھیںسنت کی پیروی اور بدعات کا رد
7
رد بدعت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ الحجرات : 1 اس آیت…
مزید پڑھیںرد بدعت
8
9
اسلام جسمانی اور ذہنی تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا اور اس کی ترغیب و فضیلت پر زور دیتا ہے۔ مگر جب جائز کھیل فرائض اور واجبات میں کوتاہی ، نماز اور وقت کے ضیاع کا باعث بنے ، جو الگانے اور سٹہ بازی کا سبب بنے ، فضول گفتگو اور یادا گوئی کا ذریعہ بنے اور اُسے نفسیاتی مسئلہ بنا…
مزید پڑھیںیہ امت خرافات میں کھو گئی
10