محمدﷺ بحیثیت الوداع کہنے والے

محمد رسول اللہﷺ نے پیغام رسالت پوری طرح پہنچا دیا۔ امانت ادا کر دی۔ امت کی خیر خواہی کی اور اپنی ذمہ داری پوری کر دی تو عرفہ کے میدان میں حج اکبر کے روز رب العالمین کی طرف سے یہ اشارہ ملا کہ سب سے عظیم انسان، تمام مخلوق سے بڑھ کر عزت والے اور جلیل القدر رسول مل کلام بہت جلد اس زندگی کو الوداع کر کے اپنے مولا کے جوار رحمت میں جانے والے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنا یہ کلام نازل فرمایا :

﴿ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾

’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘ (المائدة 3:5)

اس آیت کے نزول کے بعد نبی ﷺ لوگوں سے گواہی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا ہے، چنانچہ آپﷺ فرماتے ہیں:

’’میں ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا، تو اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید۔ تم لوگوں سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، بتاؤ تم کیا کہو گے؟‘‘  انھوں نے جواب دیا: ہم گواہی دیں گے کہ بلاشبہ آپ نے (کما حقہ دین) پہنچا دیا، اللہ تعالی کی طرف سے سونپی گئی امانت ادا کر دی اور آپ نے امت کی ہر طرح سے خیر خواہی کی۔ اس پر آپ نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ آپ ﷺ کر اسے آسمان کی طرف بلند کرتے اور پھر اس کا رخ لوگوں کی طرف کرتے (اور فرماتے تھے: ’’اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔ اے اللہ کو گواہ رہنا۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ ایسا کیا۔ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218)

جب نبیٔ اکرم ﷺپوری طرح پیغام ابھی ساری انسانیت کو پہنچا چکے اور فريضہ تبليغ مکمل کر دیا تو آپ کے اس کائنات کو الوداع کہنے، دنیا چھوڑنے اور آپ کی پاکیزہ روح کے زمین سے رفیق اعلی کی طرف منتقل ہونے کا وقت قریب آگیا۔

وہ گھڑیاں قریب آگئیں جب انسانی تاریخ کا سب سے خوبصورت باب سمیٹا جا رہا تھا اور سب سے پاکیزہ روح کو اس زمین سے اٹھایا جا رہا تھا تا کہ اللہ تعالیٰ اپنی بات پوری کرے اور اس کا یہ حکم نافذ ہو:

 ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾

’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ بھی وفات پانے والے ہیں، اور وہ بھی  یقینًا مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر 30:39)

اور انسانیت پر اس کا یہ فیصلہ لاگو ہو : ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَا مِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخَلِدُوْنَ)

’’اور (اے نبی !) ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی، پھر اگر آپ فوت ہو جائیں تو کیا وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟‘‘ (الأنبياء 34:21)

آئیں اس مشکل لمحے اور تکلیف دہ گھڑی کا ذکر کریں۔ آپ کی جدائی کا لمحہ، وداع کی گھڑی، آخری دن اور جدائی کے منظر کو یاد کریں۔ کون سی جدائی؟ روئے زمین پر چلنے والے تمام انسانوں سے اکرم و افضل ہستی کی جدائی ختم الرسل، اتقیاء کے امام، اولیاء کے اسوہ اور انبیاء کے سردارﷺکی جدائی۔

اس منظر میں وہ ہستی وفات پاتی ہے جن سے دنیا روشن ہوئی۔ زمین جن کے ذریعے سے پاک کی گئی۔ جن کی رسالت سے عدل قائم ہوا۔ جن کی شریعت سے ظلم اور تاریکیوں کا خاتمہ ہوا۔ جن کی سنت سے علم پھیلا اور جہالت ختم ہوئی۔ رسول مصطفی اور نبی مجتبیٰﷺ وفات پاتے ہیں۔ کسی ماں نے آج تک ان سا نہیں جنا۔ فلک نے ان جیسا دیکھا نہ زمین پر اس کے قدم لگے۔ ان کی وفات پر رونا تو بنتا ہے، لہٰذا  جو آنکھ آنسو بہائے ، جو دل غم میں ڈوب جائے، جو نفس گھٹن کا شکار ہو اور جو عقل حیران و پریشان ہو، آپ اسے ملامت نہ کریں۔

ایک گروہ نے آپﷺ کی وفات کو دیکھا اور صبر کے ساتھ زندہ رہے۔ ثواب کی امید پر جیتے رہے۔ ہم چودہ سو سال بعد بھی آپ کی وفات کی خبر کے متحمل نہیں اور آپ کی جدائی کا تذکرہ ہمیں غمگین و پریشان کر دیتا ہے تو صحابہ کا کیا حال ہوگا جنھوں نے آپﷺ کو پہچانا ، آپ پر ایمان لائے، آپ کے قرب سے مانوس ہوئے اور آپ کی سیرت سے براہ راست روشنی پائی۔ آپ کے دیدار سے ان کے چہرے چمک اٹھتے تھے اور وہ آپ کے حسن اخلاق اور لطف و کرم سے ہر وقت فیض یاب ہوتے تھے، پھر اچانک سب کے امام، روشن چراغ اور پیغمبر کا ئنات ان کے سامنے وفات پا جاتے ہیں ؟؟ کیا ہولناک صدمہ تھا، کتنی مشکل گھڑی تھی اور کیا دل دہلا دینے والا منظر تھا!

اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر آپ کی آخری عمر میں یہ فرمان نازل کیا :

﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ۝۱

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ۝۲

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠۝﴾

’’(اے نبی!) جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے بخشش مانگیے۔ بلا شبہ وہ ہمیشہ سے بہت زیادہ تو بہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ (النصر 110: 1۔3)

مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کے لیے دلوں اور قلعوں کے دروازے کھل جائیں۔ وفود کی آمد شروع ہو جائے۔ لوگ آپ کے دین میں داخل ہو جائیں۔ دلوں کا رجحان آپ کی طرف ہو جائے۔ آپ کی دعوت پر لوگوں کو شرح صدر ہو جائے۔ آپ کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے جائیں۔ آپ کا دین مکمل ہو جائے اور زمین میں اسلام و سلامتی پھیل جائے تو جان لیں کہ زندگی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ کوچ کی گھڑیاں قریب آگئی ہیں۔ گنے چنے دن باقی ہیں اور رفیق اعلی سے ملاقات کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ آپ کا رب آپ کو پورا پورا اجر و ثواب عظیم انعام اور سب سے بڑا ایوارڈ دینا چاہتا ہے۔

جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح اور استغفار شروع کر دیا۔ آپ کو یقین ہو گیا کہ کوچ کی گھڑیاں قریب آگئی ہیں اور دنیا کو الوداع کہنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ رو پڑے۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں سے سب سے زیادہ اس سورت کا مقصود جانتے تھے۔ انھیں یقین ہو گیا کہ نبی ﷺ کی زندگی کا سورج غروب ہونے کے قریب ہے۔

پھر جمعرات کا دن آگیا اور آپ لوگوں کو کیا خبر کہ جمعرات کا دن کیا ہے؟! اس دن نبی اکرمﷺ کی بیماری شروع ہوئی۔ آپ کو سخت بخار آیا اور پینے سے شرابور ہو گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ آپ سے عرض کرتے ہیں: اللہ کے رسول! آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔‘‘  میں نے کہا: یہ اس لیے کہ آپ کو ثواب بھی دہرا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، یہی بات ہے۔‘‘ (صحيح البخاري، المرضى، حديث: 5648)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ مسجد میں تشریف فرما ہیں۔ ہاتھ میں کنکریاں لیے انھیں الٹ پلٹ کر رہے ہیں۔ آنسوؤں سے داڑھی مبارک تر ہے اور جمعرات کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: جمعرات کا دن! آہ  جمعرات کا دن کیسا حبیبت ناک تھا، پھر رو پڑے یہاں تک کہ آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئیں۔ اُن سے پوچھا گیا: ابن عباس جمعرات کا دن کیسا تھا؟ فرمایا: اس روز رسول اللہ ﷺ کی بیماری سنگین ہوگئی۔ (صحيح البخاري، الجزية، حديث (3168)

یا اللہ! باری تعالی کی مخلوق میں سب سے عظیم انسان جنھیں رب تعالٰی نے بڑی شان سے بنایا، پھر پوری کائنات کو ان کے ساتھ روشن کیا، وہ بھی اس طرح فوت ہو رہے ہیں، جیسے دوسرے لوگ فوت ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کو بھی لوگوں کی طرح دفن کیا جا رہا ہے؟ لیکن میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ تو ساری کائنات اور تمام انسانوں سے افضل واشرف ہیں۔

جب آپﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو وہی سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ جنھیں صحت و تندرستی کی حالت میں آپ بار بار فرماتے تھے: ((يا بلال ! أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ)) ’’اے بلال! ہمیں نماز کے ذریعے سے راحت پہنچاؤ‘‘  اور ان کی اذان سننے کا آپ کو انتظار رہتا تھا اور مسجد میں نماز ادا کرنے کی تڑپ رہتی تھی۔ اب انھی بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی کہی ہوئی اذان کا جواب دینے کے لیے مسجد جانے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺبیمار ہوئے اور آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ میرے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے۔ ازواج مطہرات نے (بخوشی) اجازت دے دی۔ آپ دو مردوں کے سہارے باہر تشریف لائے جبکہ آپ کے قدم زمین پر لکیر کھینچ رہے تھے۔ آپ سید نا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ اور ایک دوسرے شخص کے درمیان تھے۔ جب رسول اللہﷺ میرے گھر تشریف لائے تو آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’میرے اوپر سات مشکیزے بہاؤ جن کے تسمے نہ کھولے گئے ہوں ممکن ہے کہ میں لوگوں کو وصیت کروں۔ ‘‘چنانچہ ہم نے آپ کو ام المومنین سیدہ حفصہ کے ایک بڑے برتن میں بٹھا دیا۔ پھر ہم نے آپ پر سات مشکیزوں کا پانی بہانا شروع کیا حتی کہ آپ نے اپنے مبارک ہاتھ سے ہماری طرف اشارہ فرمایا کہ تم نے حکم کی تعمیل کر دی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: پھر آپ لوگوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نماز پڑھا کر خطبہ دیا۔ (صحيح البخاري، المغازي، حديث : 4442)

مسجد کے ساتھ آپ ﷺ کی محبت، شوق اور تعلق دیکھیں کہ بیماری کی اس شدت میں بھی آپ دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں تشریف لاتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ مرض وفات میں مبتلا ہوئے تو آپ کے پاس سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے۔ آپﷺ نے فرمایا: ” ابوبکر سے کہو، وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔‘‘ چنانچہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی تو نبیﷺ دو آدمیوں کے سہارے باہر تشریف لائے۔ گویا میں اس وقت بھی آپ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھٹتے جاتے تھے۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے بٹنے لگے مگر آپ ﷺ نے اشارے سے فرمایا کہ نماز پڑھاتے رہو،  تا ہم ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کچھ پیچھے ہٹ گئے اور نبیﷺ ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو آپ کی تکبیرات سناتے تھے۔ (صحيح البخاري، الأذان، حديث: 712)

پاک ہے وہ ذات جسے بتا حاصل ہے اور اس نے باقی سب کے لیے ختم ہونا لکھ دیا ہے:

﴿ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠۝﴾

’’اس کے چہرے کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ اس کی حاکمیت و فرمانروائی ہے اور تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘  (القصص 88:20)

اگر موت سے کوئی بچ سکتا تو  یقینًا اللہ تعالیٰ کے حبیب، خلیل اور نبی محمد بن عبد اللہﷺ بیچتے لیکن موت برحق ہے جو اللہ تعالی نے تمام مخلوقات پر لازم کر دی ہے۔ آپ ﷺکے اہل و عیال اور اصحاب آپ کے آس پاس کھڑے دیکھ رہے ہیں جبکہ آپ اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہے ہیں۔ وہ سب آپ کے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ آپ سے تکلیف اور موت روک سکتے ہیں۔ آج وہی صحابہ بے بس کھڑے ہیں جو جنگوں میں آپ کی خاطر اپنی جانیں پیش کر دیتے تھے، معرکوں میں سینہ تان کر آپ کے آگے کھڑے ہو جاتے تھے اور آپ کی طرف آنے والے تیر اپنے جسموں پر برداشت کرتے تھے لیکن یہ اللہ تعالی کا حکم ہے:

﴿ كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ۝ وَّ یَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ۝﴾

’’ہر ایک جو اس (زمین) پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور آپ کے رب کا چہرہ باقی رہے گا جو بڑی عظمت اور احترام والا ہے۔‘‘ (الرحمن 27:26:55)

نبی ﷺ نے اپنی امت کے لیے جو آخری دعا کی، وہ دعا سب سے نیک اور مبارک دل ہی سے نکل سکتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ((اَللّٰهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً)) ’’اے اللہ! میں ایک بشری ہوں، میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اسے کوڑے ماروں، تو ان تمام باتوں کو (قیامت کے دن ) اس کے لیے رحمت اور پاکیزگی بنا دے۔ ‘‘(صحيح مسلم، البر والصلة، حديث : 2601)

غور کریں کہ آپﷺ نے انھیں تعلیم دی۔ انھیں سعادت سے ہمکنار کیا۔ وحی کے ذریعے سے ان کے سینے کھولے۔ اللہ تعالی کے حکم سے انھیں ہدایت دی۔ راہ نجات دکھائی اور آپ ہی کے ذریعے سے انھوں نے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کی تو کن لوگوں کو محمدﷺ نے برا بھلا کہا ہوگا جبکہ آپ تو سب سے بڑھ کر پاک دامن بھی تھے؟!

اور آپ نے کس کو اذیت دی ہو گی ؟  یقینًا کسی کو نہیں۔ آپ تو سب لوگوں سے بڑھ کر رحم دل تھے۔ آپ ہی نے اللہ تعالی کے حکم سے ہمیں آگ سے بچایا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ دوزخ کی راہ سے ہٹا کر جنت کی راہ پر لگا یا حتی کہ رب العالمین نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی مدح فرمائی ارشاد باری تعالی ہے :

 ﴿وَانَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾ ’’اور  یقینًا آپ خُلُق عظیم پر فائز ہیں۔‘‘ (القلم4:68)

اور فرمایا: ﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ﴾

’’پھر (اے نبی!) آپ اللہ کی رحمت کے باعث ان کے لیے نرم ہو گئے۔‘‘ (آل عمران 159:3)

آپ ﷺ کے حکم کے بعد سید نا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ  لوگوں کو مسلسل نماز پڑھاتے رہے یہاں تک 12 ربیع الاول کی رات آگئی گئی۔ صحابہ کرام پر کیا گزری ہو گی اور انھیں کسی قدر ہولناک صدمہ پہنچا ہوگا جب رسول اکرم ﷺانھیں نماز پڑھانے کے لیے نہیں آئے ہوں گے ان کی نظروں میں وہ خوبصورت لمحات اور افضل گھڑیاں گھوم رہی ہوں گی جب آپ ﷺ ان کی امامت کراتے تھے۔ وہ آپ کے پیچھے صفیں بناتے تھے اور آپ اپنی خوبصورت اور میٹھی آواز میں فرماتے تھے: ((اِسْتَوُوْا)) ’’برابر ہو جاؤ۔‘‘ آپ کی تکبیر کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی ہو گی اور ان کے قلوب و اذہان میں اتر رہی ہو گی۔ وہ چشم تصور سے آپ کو رکوع و سجود کرتے دیکھ رہے ہوں گے جب وہ آپ کے ساتھ رکوع و سجود کرتے تھے۔ پھر فراق و جدائی اور الوداع کا دن آگیا، پیر کا دن، جس روز رسول معصوم اور نبی کریم ﷺدنیا سے کوچ فرما گئے۔ آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی اور آپ نے لوگوں اور زندگی کو الوداع کہہ دیا۔ چنانچہ پیر کے دن آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے کمرے کا مسجد کی جانب والا پردہ ہٹایا۔ جب آپ ﷺ کے صحابہ نے آپ کو دیکھا تو قریب تھا کہ نماز توڑ دیتے۔ آپ کے چہرے سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔ آپﷺ اس منفرد و معزز جماعت کو دیکھ کر خوشی سے مسکرائے جن کی آپ نے توحید اور خیر اور بھلائی پر تربیت کی تھی اور وہ باہم محبت سے بھائیوں کی طرح ایک امام کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ اس کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ کی بیماری کے دوران، جس میں آپ نے وفات پائی، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتی کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہ ﷺنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا۔ اس وقت آپ کھڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے۔ پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہ کی ﷺکے باہر آنے سے ہوئی تھی، مبہوت ہو کر رہ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے تاکہ صف میں مل جائیں۔ انھوں نے سمجھا کہ نبی ﷺ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا۔ اسی دن رسول اللهﷺ وفات پاگئے۔ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 419)

نبی ﷺ کے مرضِ وفات میں آپﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ سے ملنے آئیں۔ یہ وہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہیں جنہیں رسول اکرم ﷺ نے اپنے دل کا ٹکڑا قرار دیا۔ آپ کی اس بیماری سے پہلے وہ تشریف لاتیں تو رسول  اکرم رضی اللہ تعالی عنہ دروازے پر ان کا استقبال کرتے۔ ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے۔ پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ اور جب نبی اکرم ﷺان سے ملاقات کے لیے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں اور  آپ ﷺ کی پیشانی پر بوسہ دے کر آپ کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔ لیکن آج صورت حال بدل چکی تھی۔ آپ کی بیماری کی وجہ سے اٹھ نہ سکے۔ آپ انھیں دیکھ کر رو پڑے تو وہ بھی رونے لگیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ منظر بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا چلتی ہوئی تشریف لائیں گویا ان کی چال نبیﷺ کی چال جیسی تھی۔ نبی ﷺ  نے انھیں دیکھ کر فرمایا: ”میری بیٹی کا آنا مبارک ہو۔‘‘ پھر آپﷺ نے انھیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا۔ اس کے بعد ان سے کوئی راز کی بات فرمائی تو وہ رو پڑیں۔ میں نے ان سے پوچھا: تم کیوں روتی ہو؟ پھر آپﷺ نے ان سے کوئی راز کی بات کی تو وہ ہنس پڑیں۔ میں نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا جس میں خوشی، غم کے زیادہ قریب ہو، چنانچہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے آپ ﷺ کی گفتگو کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا راز ظاہر نہیں کر سکتی۔ جب نبیﷺ وفات پاگئے تو میں نے ان سے پھر پوچھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے پوشیدہ گفتگو یہ کی تھی: ’’سیدنا جبریل  علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، البتہ اس سال دو مرتبہ دور کیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق میری موت قریب آچکی ہے۔  اور  یقینًا تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات کرو گی۔ یہ سن کر میں رونے گئی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمھیں پسند نہیں کہ تم جنت کی عورتوں یا اہل ایمان عورتوں کی سردار ہو۔‘‘ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔ (صحیح البخاري، المناقب، حديث 6323،3624)

یہ نیک و پارسا خاتونِ جنت اپنے باپ کو تیز بخار میں دیکھتی ہیں۔ انھیں تکلیف دور کرنے کا اختیار ہے نہ فائدہ پہنچانے کا۔ وہ بس آنسو بہانے، جذبات کا اظہار کرنے اور اپنے والد سے شفقت و محبت ظاہر کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب نبیﷺ سخت بیمار ہوئے اور آپ پر غشی طاری ہوئی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے! آپ ﷺنے فرمایا: ’’اے فاطمہ! آج کے بعد تمھارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حديث: 4462)

اللہ تعالی کے عطا کردہ عظیم مقام و مرتبہ اور نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ ﷺ اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی تمنا کرتے تھے تا کہ آپ کو اپنے رب و مولا کا مزید قرب نصیب ہوں، چنانچہ آپ ﷺفرماتے:

((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُّ أَنِّي أَقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ))

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ا میری تو خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں۔ پھر شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں۔ پھر شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں۔ پھر شہید کر دیا جاؤں۔‘‘ (صحیح البخاري الجهاد والسير، حديث: 2797)

اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کے ساتھ شہادت بھی عطا کر دی۔ نبوت کا اعزاز اور شرف تو اللہ تعالی نے آپ ﷺکو عطا فرمایا اور جہاں تک شہادت کا تعلق ہے تو ایک یہودی عورت نے آپ کو زہر دیا اور ایک سال بعد آپ ﷺاس زہر کے اثر سے وفات پاگئے، جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺ اپنی اس بیماری میں فرمایا کرتے تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی : ’’اے عائشہ! اس کھانے کا درد میں برابر محسوس کر رہا ہوں جو میں نے غزوہ خیبر کے وقت کھایا تھا۔ اس وقت میں اس زہر کے سبب اپنی شہ رگ کٹتی ہوئی محسوس کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حديث: 4428)

آپ ﷺ کی اسی بیماری کے دوران میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ آپ کےپاس آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ شدت مرض کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کلام نہ کر سکے مگر عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ میں مسواک دیکھی تو اپنی نظروں سے طلب کا اظہار کیا۔ آپ ﷺ کو مسواک بہت پسند تھی اور آپ کے دانت ہمیشہ مسواک کرنے کی وجہ سے برف کی طرح سفید تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنی ذہانت اور سمجھداری سے بھانپ گئیں کہ آپ مسواک چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: عبد الرحمن ! یہ مسواک مجھے دو۔ انھوں نے وہ مسواک دی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسے اچھی طرح چبایا اور جھاڑ کر رسول اللہ ﷺ کو دے دی۔ آپﷺ نے وہ مسواک استعمال کی۔ وہ فرماتی ہیں: اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (صحیح البخاري، المغازي، حديث: 4450)

نبیﷺ نے مسواک اس لیے طلب کی کہ آپ بہت جلد اپنے رب کے حضور پیش ہونے والے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان مجھ پر یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے میری باری کے دن میرے گھر میں وفات پائی۔ وفات کے وقت آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔ اور اللہ تعالی نے آخری وقت میرا اور آپ کا لعاب دہن ملا دیا۔ (صحيح البخاري، المغازي، حديث: 4449)

دیکھیں، طاہر و مطہر ہستی مسواک کی کس قدر شدید خواہش مند ہے اور اپنے رب سے ملاقات کے لیے اس طرح تیاری کر رہی ہے جیسے نماز میں ہو۔

اسی دوران میں آپ ﷺ پر نزع کا عالم طاری ہو جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت آپ کے سامنے لکڑی یا چمڑے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں پانی تھا۔ آپ اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈالتے، پھر اس کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بلاشبہ موت بہت سی تکلیفوں پر مشتمل ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺنے اپنا دست مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا: ’’رفیق اعلیٰ کو پسند کرتا ہوں۔‘‘ یہاں تک کہ آپ ﷺکی روح قبض کر لی گئی اور آپ کا ہاتھ مبارک نیچے ڈھلک گیا۔ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6510)

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں سنا کرتی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ جب آپ کو ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کی آواز بھاری ہو گئی اور آپﷺ فرما رہے تھے: ” ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔‘‘  فرماتی ہیں: اس سے میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث : 2444)

گویا کہ جب آپ ﷺکو اختیار دیا گیا تو آپ نے اللہ تعالی کا قرب اور اپنے مولا کی طرف سفر کو پسند کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ((فِي الرَّفِيْقِ الْأَعْلٰى)) ’’ رفیق اعلیٰ کو پسند کرتا ہوں۔‘‘  یوں لگتا ہے کہ آپ کا دل دنیا سے بھر گیا تھا اور آپ مالک الملوک کے جوارِ رحمت اور رحمٰن و رحیم کی طرف سفر کے خواہش مند تھے۔ اس مبارک سفر کے کیا کہنے خوش خبری ہو آپ کے لیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کہ آپ اپنے خالق و بادشاہ کی طرف جا رہے ہیں جس نے آپ کو نبی و رسول بنا کر بھیجا اور جلد آپ اپنے ان نیک ساتھیوں سے ملنے والے ہیں جن کے متعلق رب العالمین نے فرمایا ہے:

﴿ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِیْقًاؕ۝﴾

’’وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، (یعنی) انبیاء، صدیقین، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھ، اور یہ لوگ اچھے رفیق ہوں گے۔‘‘ (النساء 69:4)

آپ ﷺصرف نبوت و رسالت کا ترکہ چھوڑ کر خالی ہاتھ اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ پیچھے نہ تو گھر اور محلات چھوڑتے ہیں نہ باغ با غیچے، نہ سونا چاندی اور نہ جمع شدہ خزانے۔ آپ نے اپنے پیچھے شریعت مطہرہ اور دائمی رسالت چھوڑی۔ مساجد و مینار چھوڑے جن میں اللہ تعالیٰ کے کلمات گونجتے ہیں۔ قرآن مجید چھوڑا جس میں اللہ تعالی کی وحی ہے اور مبارک سنت چھوڑ کر گئے۔ ان کے علاوہ ایک ہدایت یافتہ ربانی گروہ چھوڑا،  جنھوں نے اس دین کو پوری امانت سے لیا۔ کمال حکمت سے پھیلا یا اور پوری طاقت سے اسلام کی مدد و نصرت کی۔

آپ ﷺ نے اپنی موت سے ہمیں ایک عظیم پیغام دیا کہ یہ دنیا جتنی بھی خوبصورت اور مزین ہو جائے، ہر شخص اسے جلد چھوڑ کر چلا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے افضل، اعلیٰ اور باعزت ہستی اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ جو ہستی اللہ تعالیٰ کی توحید لا الہ الا الله کا پیغام لے کر آئی تھی، وہ بھی فوت ہو گئی۔  آپ ﷺ فوت ہوئے تا کہ مخلوق الٰہی کی سب سے عظیم ہستی کا سب سے عظیم صحیفہ بھی لپیٹ دیا جائے ، لہٰذا  اس زندگی سے دھوکا و قریب نہ کھاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے ہر مخلوق پر موت لکھ دی ہے۔

آپ ﷺ کی مبارک و پاکیزہ روح سیدہ عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا کے سامنے پرواز کر گئی تو وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر رونے لگیں۔ بہت جلد یہ خبر پورے مدینہ میں پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ طیبہ کی گلیاں مردوں، خواتین اور بچوں کی سسکیوں سے بھر گئیں۔ غم زدہ اصحاب آپ ﷺ کے گھر کے آس پاس جمع ہو گئے اور وہ اس ہولناک صدمے سے نڈھال تھے۔ نہایت بہادر و دلیر اور قوی اعصاب کے مالک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا : رسول اللہ ﷺفوت نہیں ہوئے ، بلکہ  آپ ﷺ کے رب نے آپ پر وہی کیفیت طاری کی ہے جو موسٰی علیہ السلام پر طاری کی تھی اور وہ چالیس را تیں اپنی قوم سے الگ تھلگ رہے تھے۔ اللہ کی قسم ! مجھے توقع ہے کہ رسول اللہﷺ منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹنے تک زندہ رہیں گے کیونکہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ آپﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ (مسند أحمد، حدیث: 13028)

شدت غم اور صدمے کی تاب نہ لاکر سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرمﷺ کی وفات کا انکار کر دیا۔

آپ ﷺ کی وفات کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر بجلی بن کر گری۔ مدینہ طیبہ تاریک ہو گیا اور اسے تاریک ہونا بھی چاہیے تھا کہ مصیبت اور صدمہ ہی بہت بڑا تھا۔

کریم رسول اور رحیم نبی ﷺ  وفات پاگئے۔ آپ کی پاکیزہ و مبارک روح جسم سے پرواز کر گئی۔  یقینًا آپ ﷺ کی وفات کی خبر نے زمان و مکان اور ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا۔ مسلمان شدید صدمے سے دوچار ہوئے۔ ان کا دکھ اور پریشانی بیان سے باہر ہے۔ ہر ایک اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا کہ واقعی اللہ کے رسول فوت ہو گئے؟ کیا نبی کریمﷺ اب اس دنیا میں نہیں رہے؟ کیا ہم زندگی میں اب آپ کا دیدار کبھی نہیں کر سکیں گے؟! کیا یہ سچ ہے کہ آپ ہمیں نہ تو اب نماز پڑھائیں گے نہ وعظ و نصیحت کریں گے اور نہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ قائم ہوگا ؟! کیا واقعی آپ زندگی کو خیر باد کہہ چکے اور دنیا کو چھوڑ گئے ہیں؟

نبی اکرم ﷺکے ساتھ والہانہ محبت، آپ کی اعلیٰ شان اور گہرے تعلق کی وجہ سے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ کی وفات کی خبر پر یقین نہ کیا اور بعض اوقات ہولناک خبر سن کر فوراً اس کی تصدیق کرنا واقعی مشکل ہوتا ہے۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر کئی لوگ حو اس کھو بیٹھے۔ کئی بے ہوش ہو گئے۔

بعض نے لمبی خاموشی اختیار کر لی اور کسی کے آنسو اس کے غم کی تعبیر کر رہے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو سمجھانے اور دلاسا دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے کیونکہ غم و مصیبت ہی بہت بڑی تھی کہ آقا دو جہاںﷺ وفات پا چکے تھے۔ پھر اللہ پاک نے ان پر سکینت نازل فرمائی۔ ان کے دلوں کو قرار آ گیا اور ان کی سوچ اور فکر کے زاویے درس درست ہو گئے۔

لوگ اسی آہ و بکا ، حزن و ملال اور پریشانی و تکلیف سے نڈھال تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ آگئے۔ وہ گھوڑے سے اترے اور سکون و وقار سے لوگوں کے ہجوم سے گزر کر آگے بڑھے۔ کسی سے کوئی بات نہ کی۔ آپ اپنی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر میں داخل ہوئے اور رسول اکرم ﷺ کی چار پائی کی طرف بڑھ گئے۔ آپ کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی پر بوسہ دیا تو صداقت و محبت سے لبریز آنسو آنکھوں سے جاری ہو گئے، پھر فرمایا: میرا باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں! آپ حیات و موت میں پاکیزہ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالی آپ کو کبھی دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا۔ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي ﷺ ، حديث: 3669)

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نہایت نرم دل اور بہت زیادہ رونے والے انسان تھے۔ ان کا آنسوؤں پر کنٹرول نہ تھا

مگر اس کے باوجود اللہ تعالی نے انھیں ثابت قدم رکھا اور اُن پر سکینت نازل فرمائی۔ گھر سے نکل کر مسجد گئے تو سید نا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی آواز آرہی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: قسمیں اٹھانے والے! رک جائیں! جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے بات شروع کی تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ خاموشی سے بیٹھ گئے اور تمام لوگوں کو بھی خاموش کرا دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: توجہ سے سنو! جو شخص محمد رسول اللہﷺ کی عبادت کرتا تھا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد کریمﷺ کی وفات ہو چکی۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ تعالی زندہ جاوید ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’بے شک آپ وفات پانے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر 30:39)  یہ سن کر لوگ زار و قطار رونے لگے۔ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي ﷺ ، حدیث : 3668)

صدیق ﷺکی عظمت، ثابت قدمی ، شجاعت، یقین کی پختگی اور نور بصیرت کے کیا کہنے!

جب سیدنا عمر نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی بات سنی تو زمین پر گر گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿ وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِكُمْ ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْـًٔا ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْنَ۝﴾

’’اور محمد (ﷺ) ایک رسول ہی تو ہیں۔  یقینًا ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو کیا تم (اسلام سے) اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں پر پھر جائے، وہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے گا۔ اور اللہ شکر ادا کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔‘‘ (آل عمران 144:3)

 سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم ! مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا کہ نبی ﷺکی وفات ہو گئی ہے۔ میں تو سکتے میں آگیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میری دونوں  ٹانگیں لڑکھڑانے لگی ہیں اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔ (صحيح البخاري، المغازي، حديث: 4454)

اب لوگوں کو رسول اکرم ﷺکی وفات کا یقین ہو گیا۔ وفات کے بعد چند معزز صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کے مردوں نے آپ ﷺ کو غسل دیا۔ ان میں سیدنا عباس، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ تعالی عنہم تھے۔ انھوں نے آپ کے پاکیزہ و طاہر جسم کو سنت پر عمل کرتے ہوئے دھو یا ورنہ وہ پہلے ہی سے بہت زیادہ پاک تھا۔ غسل دینے کا مقصد آپ ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنا تھا تاکہ لوگوں کے لیے مثال بن جائے۔ جسم کے جو اعضاء چھپانا فرض ہیں، اللہ تعالی نے آپ کے ان پاکیزہ اعضاء کو زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی دونوں حالتوں میں پردے میں رکھا۔ پھر انھوں نے آپﷺ کو کفن پہنایا جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کو سحول (یمن) سے لائے جانے والے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ (صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 941)

پھر لوگوں نے ٹولیوں کی صورت میں اور علیحدہ علیحدہ نماز جنازہ پڑھی۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ چھوٹے بڑے، شہری دیہاتی اور بزرگ اور بچے چالیس ہزار افراد آپ کے جنازے میں شریک ہوئے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے گھر میں آپ کی قبر مبارک کھودی گئی۔ اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہﷺ کی روح قبض کرلی گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں آپ کے دفن کے سلسلے میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسی بات سنی ہے جو میں بھولا نہیں ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا تھا:

((مَا قَبَضَ اللهُ تَعَالٰى نَبِيًّا ، إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُّدْفَنَ فِيْهِ))

’’اللہ تعالی نبی کو اسی جگہ فوت کرتا ہے جہاں وہ اس کے  دفن کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، أبواب الجنائز، حديث (1018)

چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ ﷺ کو کمرے میں آپ کے بستر کی جگہ دفن کر دیا جہاں سے آپ نے پوری دنیا میں نور ہدایت پھیلایا تھا۔

اس موقع پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہانے فرمایا: اے میرے ابا جان! جس نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی۔ اسے میرے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ اسے والد گرامی ! ہم سیدنا جبریل علیہ السلام کو آپ کے انتقال کی خبر دیتے ہیں۔ پھر جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اے انس تمھارے دل رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالنے کے لیے کیسے آمادہ ہوئے تھے؟ (صحيح البخاري، المغازي، حديث: 4462)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دکھ بھرے یہ الفاظ جو آنسوؤں اور سسکیوں سے تر تھے،  یقینًا ہر اس قصیدے اور تعزیتی بیان پر بھاری ہیں جو آپ کی جدائی کے غم میں کہا گیا ہے۔

محمد رسول اللہ لا ہم بھی دیگر انسانوں کی طرح فوت ہوئے اور اپنے مولا کے پاس چلے گئے تا کہ اللہ تعالی سے پورا پورا اجر و ثواب پائیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَؗ۝﴾

’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ بھی وفات پانے والے ہیں اور وہ بھی  یقینًا مرنے والے ہیں۔‘‘ (الزمر 30:39)

یعنی عنقریب آپ ﷺ وفات پا جائیں گے اور آپ کے دشمن بھی مر جائیں گے اور جو لوگ آپﷺ کو موت کا طعنہ دیتے ہیں، وہ بھی مریں گے لیکن آپ کا دنیا سے جانا اور ان کا مرنا برابر نہیں۔ آپ فردوس اعلیٰ میں مقام وسیلہ و فضیلہ پر فائز ہوں گے جبکہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔

کائنات کا سب سے بڑا دکھ اور غم محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات ہے۔ ہاں خلفاء، علماء، بادشاہ، قائدین، امراء، شہداء اور بڑے بڑے دانشور دنیا سے گئے لیکن ان سب کا دکھ محمد رسول اللہﷺ کی وفات کے غم کے ذرا برابر بھی نہیں۔ آپ ﷺ کی وفات ہر اس شخص کے لیے تسلی کا باعث ہے جس کا کوئی پیارا دنیا سے چلا جائے یا وہ مصیبت میں مبتلا ہو۔ آپ ﷺنے فرمایا:

((يَاأَيُّهَا النَّاسُ! أَيُّمَا أَحَدٍ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ أَصِيْبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَةٍ بِيْ، عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيْبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنْ أَحَدًا مِّنْ أُمَّتِي لَنْ يُّصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي))

’’اے لوگو! جس مومن کو کوئی مصیبت پہنچے، اسے چاہیے کہ وہ کسی دوسرے کی وفات کی وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کا غم ہلکا کرنے کے لیے میری وفات کی وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کو یاد کر لے کیونکہ میری امت کے کسی فرد کو میری وفات کی مصیبت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی۔‘‘ (سنن ابن ماجه، الجنائز، حدیث:1599)

لہٰذا جس پر کوئی مصیبت آئے، وہ رسول اکرمﷺ کی وفات کی مصیبت کو یاد کرلے تو اس کا غم ہلکا ہو جائے گا۔ اگر آپ کا بیٹا یا باپ یا آپ کی ماں یا آپ کا بھائی یا کوئی پیارا فوت ہو جائے تو یہ سوچ لیں کہ  یقینًا محمد ﷺ پر بھی موت آئی ہے۔

جان لیں کہ محمد رسول اللہﷺ کا دنیا سے جانا اہل ایمان کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ جب آپ فوت ہو گئے تو  یقینًا سب مرجائیں گے۔ آپ پر تو ساری دنیا قربان ہے۔ چھوٹے بڑے اور امیر و غریب سب مل کر آپ کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہو سکتے۔

جب کفر و شرک کا خاتمہ ہو گیا۔ بت پرستی مٹ گئی اور باطل پاش پاش ہو گیا تو محمد رسول اللہ ﷺاپنے مولا کی امانت ادا کر کے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی تکمیل کر کے اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے۔ وفات سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کو واضح فتح عطا کر دی۔ آپ کو ہر باطل پر غالب کیا۔ آپ نے اپنے اصحاب و انصار کو ایسے نماز پڑھتے دیکھ لیا جیسے آپ نماز پڑھتے تھے اور انھیں روزہ و حج کے فرائض بھی اپنی ہدایات کے مطابق ادا کرتے دیکھ لیا۔

محمد رسول اللہﷺ فوت ہوئے تا کہ ہر انسان جان لے کہ کسی بھی وقت اور جگہ اس کی موت آسکتی ہے اور وہ ہر وقت گھات لگائے اللہ تعالی کے حکم کی منتظر ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠۝﴾

’’کہہ دیجیے: بے شک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو،  یقینًا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے۔‘‘ (الجمعة 8:62)

ہاں محمد ﷺفوت ہو گئے! لیکن موت آپ کے جسم اطہر پر آئی جبکہ آپ کے اصول و مبادیات، دین و شریعت اور پیروکار قیامت تک باقی رہیں گے۔  آپ ﷺ جہاں بھی تھے ، مبارک تھے۔ آپ کی برکت دائمی ہے۔ آپ کی خیر اور بھلائی کا فیض جاری ہے اور قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔آپﷺ کا دین مٹا  نہ شریعت ختم ہوئی اور نہ آپ کی سنت میں بگاڑ آیا۔

ہاں محمدﷺ فوت ہو گئے لیکن آپ نے اللہ تعالی کا جو حکم اور پیغام دنیا میں پھیلا یا، وہ دائی اور قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔ آپ کے پیروکاروں نے اللہ رب العالمین کے لیے قیام اور رکوع و سجود سے زمین کو بھر دیا اور آپ کے اطاعت گزاروں نے دعوت ، عبادت اور اتباع سے کائنات کو روشن کر رکھا ہے۔

ہاں محمدﷺ وفات پاگئے لیکن آپ کی محبت ہمارے خون میں گردش کر رہی ہے اور ہمارے دل و جان اس سے سرشار ہیں۔ ہم آپ کو کبھی نہیں بھلا سکتے۔ آپ اپنی سنت مطہرہ، پاکیزہ سیرت اور ہمہ گیر تعلیمات کے ساتھ ہماری آنکھوں میں بستے ہیں۔

ہاں محمدﷺ فوت ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ زندہ ہے۔ اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالی کے سوا  زمین پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ اس وقت کا انتظار کریں اور ان لمحات کے لیے تیار رہیں جب ساری قوتیں کمزور پڑ جائیں گی اور مال دار بھی محتاج و فقیر ہوں گے۔

اے اللہ ! ہم تجھے گواہ بناتے ہیں کہ تیرے رسول محمدﷺ نے رسالت کا حق ادا کر دیا۔ امانت پہنچا دی۔ امت کی خیر خواہی کی۔ وفات تک اللہ تعالی کے لیے انتھک محنت کی اور ہمیں ایسے روشن راستے پر چھوڑا جس کی راتیں بھی دنوں کی طرح ہیں۔ اس راہ سے بد نصیب ہی بھٹکتا ہے۔

اے اللہ ! ہم تجھے گواہ بناتے ہیں کہ آپ ﷺنے خیر اور بھلائی کا ہر کام ہمیں بتا دیا اور شر اور برائی کے ہر کام سے ڈرایا۔

اے اللہ ! ہماری طرف سے اپنے نبی ﷺکو بہترین بدلہ عطا فرما جو تو کسی بھی نبی کو اس کی امت کی طرف سے اور کسی بھی رسول کو اس کی رسالت کے بدلے دیتا ہے۔ اے اللہ ! ہمیں آپ کے گروہ کے ساتھ اکٹھا کرنا اور جنت الفردوس میں جمع فرمانا۔ اے اللہ ! ہمیں آپ کے حوض کوثر کے جام پلانا جس کے بعد ہمیں کبھی پیاس نہ لگے۔ اے اللہ محمدﷺ کو مقام وسیلہ و فضیلہ اور بلند و عالی شان درجہ عطا فرما اور وہ مقام دے جس کا تونے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اے اللہ ! ہمیں بخش دے۔ ہم پر رحم فرما۔ اور ہمارا اچھا خاتمہ فرمانا۔ تو ہمیں اس حال میں موت دینا کہ تو ہم سے راضی ہو۔ اے اللہ ! ہمیں موت تک اسلام اور سنت پر کار بند رکھنا۔ اے اللہ ! خاتم النبین، سید المرسلین اور رسول رب العالمین ﷺ پر رحمت و سلامتی نازل فرما۔ قیامت تک آپ ﷺ پر اور آپ کی آل پر ڈھیروں درود و سلام ہوں۔

……………