1
عقیدۂ توحید اسلام کی بنیاد ہے، جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد معبود مانا جائے اور ہر قسم کے شرک و باطل عقائد سے بچا جائے۔ توہم پرستی انسان کے ایمان کو کمزور کرتی ہے اور اسے غیر حقیقی خیالات اور غلط تصورات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، قرآن و سنت کی رہنمائی اختیار کرے اور بدشگونی، وہم اور غیر اسلامی عقائد سے دور رہے۔
مزید پڑھیںعقیدہ توحید اور توہم پرستی
2
3
نجات کا واحد معیار وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ حدیثِ مبارکہ «ما أنا عليه وأصحابي» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کامیابی اور فلاح صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہ کی پیروی میں ہے۔ جو شخص دین میں نئے عقائد و اعمال ایجاد کرنے کے بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا، وہی دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی اور نجات حاصل کرے گا
مزید پڑھیںنجات کا واحد معیار، ما أنا علیه وأصحابي
4
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور کاتبِ وحی تھے، جن کی شخصیت سے متعلق مختلف ادوار میں متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ان اعتراضات کا علمی محاکمہ کرتے وقت ضروری ہے کہ قرآن و سنت، مستند تاریخی روایات اور محدثین و ائمہ کے اقوال کو بنیاد بنایا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تاریخی واقعات کا جائزہ تعصب سے ہٹ کر، تحقیق اور اعتدال کے ساتھ لیا جائے، جبکہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ادب و احترام اور حسنِ ظن کو ملحوظ رکھا جائے، کیونکہ یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے۔
مزید پڑھیںسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کا علمی محاکمہ
5
6
اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔ حقیقی محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، اخلاق، تقویٰ، صبر، عدل اور دین پر استقامت کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام ہے۔ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے، ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، باہمی اتحاد و اخوت کو فروغ دیا جائے اور ہر قسم کی نفرت، تعصب اور غلو سے بچا جائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ بیت سے محبت امتِ مسلمہ کے درمیان محبت، اعتدال اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
مزید پڑھیںمحبتِ اہل بیت کی عملی صورتیں اور تقاضے
7
ابراہیمی معاہدہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر مختلف حلقوں میں متنوع آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض علماء اور مفکرین کا خیال ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام، امن اور تعاون کو فروغ دینا ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ دیگر ناقدین کے نزدیک اگر بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر عقائد کی بنیادی حدود کو دھندلا دیا جائے یا تمام مذاہب کو ایک ہی درجے پر پیش کیا جائے تو یہ اسلامی شناخت اور عقیدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر بحث کرتے وقت امن و احترام کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کی اعتقادی انفرادیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیںابراہیمی معاہدہ اور بین المذاھب ہم آہنگی کا دھوکہ
8
نوجوان نسل میں نشہ خوری ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف نوجوانوں کی صحت اور کردار کو متاثر کرتی ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو عقل کو زائل کرے اور انسان کو گناہ و تباہی کی طرف لے جائے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں دینی و اخلاقی تعلیمات سے جوڑیں اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو نشہ خوری سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو محبت، تربیت، نگرانی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
مزید پڑھیںنوجوان نسل میں نشہ خوری اور ہماری ذمہ داری
9
حضرت سیدنا ابراہیمؑ کی دعاؤں میں بے مثال حکمت، عاجزی اور جامعیت پائی جاتی ہے۔ آپؑ نے اپنی ذات کے ساتھ اپنی اولاد، آنے والی نسلوں اور پوری امت کے لیے خیر و بھلائی کی دعائیں مانگیں۔ قرآنِ مجید میں مذکور آپؑ کی دعائیں ایمان، رزق، امن، نیک اولاد، عبادت کی پابندی اور آخرت کی کامیابی جیسے اہم مضامین پر مشتمل ہیں۔ سیدنا ابراہیمؑ کی دعائیں انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا مانگے۔
مزید پڑھیںسیدنا ابراہیم کی دعاؤں میں حکمت وجامعیت
10
خطبہ بنیان مرصوص مسلمانوں کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی تعاون کا عظیم درس دیتا ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد رہنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ امت ہر قسم کے فتنوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکے۔ اس خطبے میں اخوت، اتفاق اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے مل جل کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ مسلمان اگر آپس کے اختلافات ختم کرکے محبت اور یکجہتی کو اپنالیں تو معاشرہ امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیںخطبہ بنیان مرصوص