التبیان اسلامک سنٹر

التبیان اسلامک سنٹر

کل مطبوعہ خطبات: 222
اس اشاعتی ادارے کا تعارف جلد فراہم کر دیا جائے گا۔
1
اسلام میں حدود اللہ سے مراد وہ حدود اور احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں مقرر فرمائے ہیں۔ ان احکام کی پابندی اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے اہم ہے۔ حدود اللہ کا مقصد معاشرے میں جرائم کی روک تھام، حقوق کی حفاظت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ ان احکام سے متعلق معاملات میں شرعی اصولوں، ثبوت کے تقاضوں اور عدالتی طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ ان کا نفاذ ذاتی انتقام یا انفرادی اختیار کا معاملہ نہیں بلکہ بااختیار قانونی و عدالتی نظام کے تحت ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیںحدوداللہ کانفاذ کیوں ضروری ہے؟
2
  • Post category: 07. اجتماعی نظام > معاشرتی نظام > اصلاح معاشرہ
ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی، احتیاط سے ڈرائیونگ اور رفتار کو قابو میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں، سیٹ بیلٹ باندھیں اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ ضرور پہنیں۔ پیدل چلنے والے افراد سڑک عبور کرتے وقت زیبرا کراسنگ کا استعمال کریں اور دونوں جانب دیکھ کر راستہ پار کریں۔ تیز رفتاری، لاپرواہی اور دورانِ ڈرائیونگ نیند سے اجتناب کرکے قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہماری اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیںٹریفک حادثات سے بچاؤ کیسے؟
3
4
"ماحول ہی ایسا ہے” ایک عام بہانہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی ذمہ داری دوسروں یا معاشرے پر ڈال دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں اپنے کردار، اعمال اور فیصلوں کی ذمہ داری خود قبول کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اچھا ماحول انسان کی مدد ضرور کرتا ہے، لیکن نیکی اختیار کرنے کے لیے اپنے ارادے، تقویٰ اور اللہ سے تعلق کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
مزید پڑھیںماحول ہی ایسا ہے!
5
مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کے ابتدائی دور میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو شدید مخالفت، تکالیف اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ ﷺ اور صحابہؓ نے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کیا۔ یہ واقعات مسلمانوں کے لیے ایمان، صبر اور حق پر ثابت قدمی کا عظیم سبق ہیں۔
مزید پڑھیںمکہ مکرمہ میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام پر ہونے والے مظالم
6
7
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
نبی کریم ﷺ نے توحید، ایمان اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت انتہائی حکمت و صبر کے ساتھ پیش فرمائی، لیکن کفارِ مکہ نے اس دعوت کی مخالفت کرتے ہوئے آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو مختلف آزمائشوں اور سازشوں کا سامنا کروایا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ نے ثابت قدمی، صبر، حکمت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا مظاہرہ فرمایا، جو امت کے لیے دعوتِ دین اور مشکلات میں استقامت کا عظیم نمونہ ہے۔
مزید پڑھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور کفار کی سازشیں
8
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور ہدایت کا آغاز تھی۔ آپ ﷺ پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے توحید، رسالت، آخرت اور نیکی کی دعوت پیش فرمائی۔ بعثتِ نبوی کے واقعات ایمان، صبر، استقامت اور اللہ کی اطاعت کا بہترین درس دیتے ہیں۔
مزید پڑھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے احوال و واقعات
9
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑکپن اور جوانی پاکیزگی، سچائی، امانت و دیانت اور اعلیٰ اخلاق کا روشن نمونہ تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی بعثت سے پہلے بھی معاشرے میں صادق و امین کی حیثیت سے ممتاز مقام حاصل کیا۔ آپ ﷺ کی بے داغ زندگی ہر مسلمان کے لیے پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق اور سچائی اختیار کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔
مزید پڑھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاکیزہ لڑکپن اور بے داغ جوانی
10
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا کو توحید، عدل، اخلاق اور ہدایت کا روشن راستہ ملا۔ آپ ﷺ کی مبارک زندگی قیامت تک پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت