تحفظ حرمین شریفین

تحفظ حرمین شریفین

بقلم
*عمران محمدی*
عفا اللہ تعالیٰ عنہ

*====================*

یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔
الصف : 8

مکہ مکرمہ کی سمت ڈرون حملے کی کوشش والی خبر نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو حرمِ مکی کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا، تاہم یہ واقعہ اس اعتبار سے غیر معمولی حساسیت رکھتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مقدس ترین مقامات ہیں۔ حرمین شریفین کی سلامتی محض کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دینی جذبات اور قلبی وابستگی کا معاملہ ہے۔ اسی لیے حرمین شریفین کی طرف کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے کی خبر عالمِ اسلام میں فطری طور پر اضطراب اور شدید تشویش پیدا کرتی ہے، اور ان مقدس مقامات کی حفاظت و حرمت کے حوالے سے امت کے اجتماعی احساسِ ذمہ داری کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

1️⃣ *تحفظ حرمین شریفین اللہ تعالیٰ کے ہاں*

حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان مقدسات کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے

جس دیوے نوں تو آپے بالیں
او نہیں کسے توں بجھدا

(١) آپ اندازہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تقریبا پچاس مرتبہ مکہ مکرمہ کا تذکرہ کیا ہے
مکہ، بکہ، ام القریٰ، معاد، البلد الامین اور اس جیسے بہت سے نام اس شہر کے رکھے گئے ہیں

(٢)مزید یہ کہ روئے زمین پر بے شمار مساجد ہیں اور وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ صرف اسی کے لیے "بیت اللہ” (یعنی اپنا گھر) کا لفظ استعمال کیا ہے

(٣)اور کبھی تو اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی قسم تک اٹھا دی
فرمایا
لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ
نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں!
البلد : 1
وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ
اور تو اس شہر میں رہنے والا ہے۔
البلد : 2

اور فرمایا :
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
قسم ہے انجیر کی! اور زیتون کی!
التين : 1
وَطُورِ سِينِينَ
اور طور سینین کی!
التين : 2
وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ
اور اس امن والے شہر کی!
التين : 3

(٤)بیت اللہ تو پھر بیت اللہ، اس کی طرف جانے والے حاجیوں بلکہ جانوروں( جو چاہے ابھی سینکڑوں میل دور ہی کیوں نہ ہوں،) کی بھی رب تعالیٰ نے تعظیم کا حکم دے دیا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ لَا الۡہَدۡیَ وَ لَا الۡقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی اور نہ حرمت والے گھر کا قصد کرنے والوں کی
المائدہ : 2

اور اسے دلوں کا تقویٰ قرار دیا :
ذٰلِکَ وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ
یہ اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
الحج : 32

(٥) اللہ تعالیٰ کو یہ بھی گوارہ نہیں کہ مشرکین، کعبہ کے قریب بھی آ جائیں

جیسا کہ فرمایا :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ مشرک لوگ ناپاک ہیں، پس وہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں
التوبہ : 28

(٦) اللہ تعالیٰ نے اسے ام القریٰ قرار دے کر باقی ممالک کے مقابلے میں ماں کی طرح عزت شان اور تحفظ دیا*

فرمایا :
وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا
اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ تو بستیوں کے مرکزاور اس کے اردگرد لوگوں کو ڈرائے
الأنعام : 92

(٧) اور اسے امن کا گہوارہ بنایا
فرمایا :
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے
العنكبوت : 67

مزید فرمایا :
وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا
اور جو کوئی اس میں داخل ہوا امن والا ہوگیا
آل عمران : 97

(٨) کیسی شاندار حفاظت کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں شہروں میں طاعون اور دجال کو داخل نہیں ہونے دیں گے

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
(( لَیْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَیَطَؤُہُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃَ،لَیْسَ لَہُ مِنْ نِقَابِہَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ صَافِّیْنَ یَحْرُسُوْنَہَا)) 
صحیح البخاری:1881
’’ دجال ہر شہر میں جائے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے ، ان دونوں شہروں کے ہر دروازے پر فرشتے صفیں بنائے ہوئے ان کی نگرانی کر رہے ہونگے ۔ ‘‘

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
على أنقابِ المدينةِ ملائكةٌ ، لا يدخُلُها الطاعونُ ، ولا الدجالُ
(صحيح البخاري:7133)
مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں نہ تو طاعون اور نہ ہی دجال داخل ہو سکتا ہے

(٩) اللہ تعالیٰ مدینہ منورہ کے دشمنوں کو اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
(( مَنْ أَرَادَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ بِسُوْئٍ أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِیْ الْمَائِ))
مسلم 1386
’’ جو شخص اہلِ مدینہ کے بارے میں براارادہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے ۔ ‘‘

(١٠) اس کے دشمن کافر ابرہہ کو اللہ تعالیٰ نے پکڑا*

یہ ابرہہ، یمن کا ایک نصرانی حاکم تھا ۔ ابرہہ نے ایک بڑا گرجا بنا کر یہ چاہا کہ لوگ کعبہ کی طرح اس کی زیارت کے لیے آیا کریں۔ جب وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا تو وہ ایک بہت بڑا لشکر جس کے ساتھ ہاتھی بھی تھے، اپنے ہمراہ لے کر بیت اللہ کو ڈھانے کی نیت سے مکہ پہنچا۔ جب مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان اس وادی میں پہنچا جس کا نام بعد میں وادی محسر پڑا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گروہ در گروہ پرندے نمودار ہوئے، جن کے پنجوں اور چونچوں میں کنکر تھے، انھوں نے اس لشکر پر وہ کنکریاں پھینکیں جن سے ابرہہ اور اس کا لشکر ہلاک ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ
کیا تونے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کس طرح کیا۔
الفيل : 1
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ
کیا اس نے ان کی تدبیر کو بے کار نہیں کر دیا؟
الفيل : 2
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔
الفيل : 3
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ
جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔
الفيل : 4
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ
تو اس نے انھیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔
الفيل : 5

(١١) اللہ تعالیٰ کعبہ پر حملہ کرنے والے ایک لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا*

عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ يَغْزُوْ جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوْا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ]
[ بخاري : 2118 ]
’’ایک لشکر کعبہ سے جنگ کے لیے آئے گا، جب وہ بیداء (مکہ کے باہر کھلے میدان) میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔‘‘

(١٢) اللہ تعالیٰ کعبہ کو قیامت تک قائم دائم رکھے گا

جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوْجِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ ]
[ بخاري : ۱۵۹۳ ]
’’یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔‘‘

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

2️⃣ *تحفظ حرمین شریفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں*

یہ تو وہ مقدس جگہیں ہیں کہ جن کی حفاظت کے لیے میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس میدان میں اترا کرتے تھے

(١) دفاع مدینہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے پہرہ دیتے رہے*

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ : لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا ، ثُمَّ قَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ قَالَ إِنَّهُ لَبَحْرٌ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ پر ( ایک آواز سن کر ) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ڈرو مت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے۔
بخاری 2908

(٢) کعبہ کی طرف تھوکنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام بنانے سے منع کردیا
تو
کعبہ کی طرف میزائل پھینکنے والوں کی طرفداری کرنے والے سوچ لیں کہ روزمحشر نبی کا سامنا کس چہرے سے کریں گے

(٣) آپ نے حرم کی حدود میں کسی کا خون بہانا، حرم کے درختوں کو کاٹنا، شکار کو بھگانا وغیرہ سب ناجائز قرار دیا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
((لَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ،وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ،وَلَا یُلْتَقَطُ لُقْطَتُہُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَہَا،وَلَا یُخْتَلٰی خَلاَہَا))
اس کا کانٹا(تک) نہ کاٹا جائے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس میں گری ہوئی چیز کو صرف وہ شخص اٹھائے جو اس کا لوگوں میں اعلان کرے اور اس کا گھاس بھی نہ کاٹا جائے ۔ ‘‘
صحیح البخاری:1834،صحیح مسلم:1353

اور فرمایا :
(( لَا یُقْطَعُ عِضَاہَا وَلَا یُصَادُ صَیْدُہَا)) 
صحیح مسلم :1362
’’ بے شک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیااور میں مدینہ منورہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں اور اس کے حرم کی حدود سیاہ پتھروں والے دو میدانوں کے درمیان ہے ، لہٰذا اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی اس میں شکار کیا جائے ۔ ‘‘

بخاری کی ایک روایت میں ہے :
لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا
بخاری : 1867

(٤) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( مَنْ أَحْدَثَ فِیْہَا حَدَثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ،لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا ))
صحیح البخاری :1867، صحیح مسلم:1366
’’ جو آدمی اس میں ( یعنی مدینہ منورہ میں ) شرارت کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے روزاللہ تعالیٰ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ نفل ۔ (اس کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے نہ توبہ قبول کرے گا اور نہ فدیہ ۔)‘‘

(٥) میرے نبی نے مدینہ کو بچانے کے لیے بذات خود خندق کھودنے میں حصہ لیا اور اس دوران بے شمار پریشانیوں کو برداشت کیا حتی کہ پیٹ پر دو دو پتھر باندھنے پڑے

(٦) جب خبر ملی کہ قیصر روم مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے تو مدینہ کو محفوظ بنانے اور اس کے دشمن کو پرے دھکیلنے کی خاطر میرے نبی نے مشکل ترین رسک لیتے ہوئے دشمن کی طرف رخت سفر باندھا اور اسے اس کے گھر جا کر للکارا

*تحفظ حرمین شریفین اہل ایمان کے ہاں*

دنیا کے بت کدے میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم پاسباں ہیں اس کے وہ پاسباں ہمارا

*جب تک کعبہ قائم ہے تب تک لوگ قائم ہیں*

اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی ایسی شاندار حفاظت کی ہے کہ کوئی جابر و ظالم اسے گرا نہیں سکتا
اور اس کا وجود لوگوں کے زندہ رہنے کے لیے بہت ضروری ہے
اس کی دلیل یہ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ
اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت والا گھر ہے، لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے
(المائدہ آیت 97)

*مفسر قرآن عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں*

اس آیت میں الناس سے مراد اس دور کے اور اس سے پہلے اور پچھلے قیامت تک کے سب لوگ مراد ہیں کہ کعبہ کا وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے اور دنیا کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔

ہاں جب جب اللہ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ کارخانہ عالم ختم کردیا جائے تو اس وقت بیت اللہ کو اٹھا لیا جائے گا

*اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے دن سے ہی حرمین سے محبت ضروری ہے*

ثمامہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد کریں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے دن ہی بلکہ پہلے لمحے ہی کہنے لگے آج سے پہلے آپ کا شہر مدینہ مجھے سب سے برا لگتا تھا مگر آج آپ کا شہر مجھے سب شہروں سے پیارا اور محبوب ہے
بخاری : 4372
معلوم ہوا کہ اہل ایمان کی اولین محبتوں میں ایک محبت ان مقدس شہروں سے بھی ہے اور اگر کسی کو ان شہروں سے محبت نہیں ہے تو وہ اپنے ایمان کی فکر کرے

*مدینہ کی حرمت اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے :
لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا
اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ ".
بخاری : 1873
کہ مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے

*حالیہ کشیدگی*

یمن میں اس وقت حوثیوں کے نام پر امریکہ، اسرائیل، ایران اور حزبلہ سب اکٹھے ہو چکے ہیں
یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو بغور دیکھا جائے تو بہت سی ستم ظریفی نظر آتی ہے لیکن سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ یہ لوگ حرمین شریفین کو بھی نشانے پر رکھتے ہیں
اور یہ سلسلہ فقط آج سے نہیں بہت پہلے سے چلا آ رہا ہے
اکتوبر 2016 میں یمن سے آنے والا ایک بیلسٹک میزائل مکہ کے قریب روکا گیا۔
اس کے بعد 2017 میں پھر مکہ کی سمت میزائل داغے گئے جنہیں راستے میں ہی ناکارہ کردیا گیا
اور
اب ستمبر 2026 کی تازہ ترین کشیدگی میں ایک حوثی ڈرون کو مکہ کی سمت آتا ہوا روکا گیا ڈرون کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ طائف کے علاقے میں گرا، جس سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہونے کی سعودی رپورٹ سامنے آئی۔
اس کے علاوہ مدینہ منورہ کے قریب ایک میزائیل حملہ ہوا

*یمن میں ان کے مقاصد اور خطرناک عزائم کیا ہیں*

یمن کے اندر دیکھیں تو لاکھوں مسلمانوں کی شہادت اور اہل السنہ و اہل الحدیث کے مدارس و مساجد کی شہادت
شیخ مقبل رحمہ اللہ کا تاریخی مدرسہ، مسجد کی شہادت اور پندرہ ہزار طلباء و علماء کی بے دخلی
اور بحر أحمر کے ساحلی علاقوں پر قابض ہو کر امریکی، اسرائیلی اور برطانوی جہازوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے اسلامی ممالک بالخصوص سعودی جہازوں کو روکنے اور تباہ کرنے کی دھمکیاں دینا

حوثی تحریک کا اصل اور مخفی مقصد یمنی حکومت کو گرا کر یمن پر اپنا مکمل سیاسی و عسکری تسلط قائم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ غیر ملکی لا محدود مالی و عسکری امداد کے ذریعے خطے میں قدیم فارسی اثر و رسوخ اور تہذیب کو بحال کرنا۔

مزید یمن اور سعودی عرب کی سرحد پر ایک مذہبی و عسکری کٹڑ علاقہ تشکیل دینا، تاکہ وہاں سے دونوں ممالک کی سلامتی کو مسلسل خطرے میں ڈالا جا سکے۔
اور بالآخر ایرانی انقلاب کے ماڈل کو یمن میں نافذ کرنا اور اس فکر کو پورے خطے میں پھیلانا

*مسلمانوں کے متعلق ان کے عزائم*

​حسین بدر الدین حوثی کے بقول قرآنی اصطلاح "حزب اللہ” سے مراد صرف شیعہ ہیں اس کا دعویٰ ہے کہ اہل سُنّت کبھی غالب یا کامیاب نہیں ہو سکتے ۔
​اگر ہمیں خطے یا یمن میں مکمل اقتدار حاصل ہو گیا تو اہل سُنّت کو اپنا دشمنِ جان سمجھ کر ان سے شدید انتقام لیں گے۔
حوثی قیادت کا حتمی ہدف سعودی عرب پر حملہ کر کے مکہ اور مدینہ کو اہل سُنّت (ان کے بقول "وہابیوں”) کے کنٹرول سے نکالنا اور وہاں اپنا تسلط قائم کرنا ہے

*حوثیوں کی منافقت*

حوثیوں کے ظاہری نعرے اور اندرونی حقیقت دیکھیں
مرگ بر امریکہ (امریکہ کی موت)
​مرگ بر اسرائیل (اسرائیل کی موت)
​لعنت بر یہود (یہودیوں پر لعنت)
​الفتح/الغلبة للإسلام (اسلام کے لیے فتح/غلبہ)
یہ نعرے حوثیوں کی عوام کو بھڑکانے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں، جبکہ عملی طور پر ان کی تمام تر جنگ اور کارروائیاں اہل سُنّت مسلمانوں اور ان کی حکومتوں کے خلاف ہی رہی ہیں۔

*منافقت کی انتہاء*

حوثی جس اسرائیل سے دشمنی کا دعویٰ کرتے ہیں، اسی سے خریدا گیا اسلحہ اپنے ہی ملک کی سُنّی حکومت اور اہل سُنّت مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال کرتے ہیں (جس کا اقرار حوثی سرغنہ عبد الملک حوثی نے صنعاء کی عدالت میں بھی کیا)۔

یمن میں یہودی آبادی موجود ہونے کے باوجود حوثیوں نے ان کے خلاف کبھی ایک گولی بھی نہیں چلائی اور نہ ہی ان کے عبادت خانوں کو کوئی نقصان پہنچایا، جبکہ اس کے برعکس اہل سُنّت کی مساجد کو منہدم کیا اور ان پر ظالمانہ ٹیکس و خمس نافذ کیا۔

حوثیوں کا تمام تر "جہاد” اور عسکری قوت صرف اور صرف اہل سُنّت مسلمانوں، ان کے علماء اور سُنّی حکومتوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے

*تازہ ترین اندرونی کہانی کا انکشاف*

حالیہ کشیدگی کے دوران ہی عمان میں حوثیوں کے ایک اہم سربراہ عبدالسلام کی امریکہ بہادر سے ملاقات ہوئی ہے جس میں حوثیوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی امریکی یا اسرائیلی جہاز یا تنصیب پر حملہ نہیں کریں گے ہمارا ھدف فقط سعودی عرب ہے

*حوثیوں کے چند عقائد ملاحظہ فرمائیں*

چلتے چلتے حوثیوں کے چند اہم عقائد بھی دیکھتے جائیں تاکہ چہرے پہچاننے میں آسانی رہے اور کوئی شک باقی نہ رہے

حوثی قیادت صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کے متعلق سخت بدگمانی، طعن اور گستاخانہ زبان استعمال کرتی ہے۔
یہ حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا منصب چھینا۔
​ ان کے نزدیک سقیفہ بنی ساعدہ کی بیعت اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا انحراف تھا اور امت کے تمام زوال کا بنیادی سبب یہی بیعت ہے۔
​ یہ صحابہ کرام اور سلف صالحین کے منہج کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر امت کو تقسیم کرنے اور ظلم کا باعث بننے کا الزام لگاتے ہیں۔
​اور صحابہ کرام سے محبت رکھنے والے اور خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ماننے والے اہل سنت کو یہ "نواصب” اور گمراہ سمجھتے ہیں۔
​یہ صحابہ کرام بالخصوص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نیتوں اور کردار پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کرتے ہیں۔

*ہماری ذمہ داری*

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں :
وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ
اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔

آج ہمیں مکہ کے دفاع کے لیے پکارا گیا ہے
اس سے بڑی دین کے معاملے میں اور کیا پکار ہو سکتی ہے

*سعودی عرب ہمارا محسن ملک ہے اپنے محسن کی قدر اور مدد کریں*

اپنے محسنوں کو یاد رکھنا اور ان احسانات کی قدر کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کرنا اچھے خاندانی اور بہادر لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے

یقین کیجئے کہ ​سعودی عرب جیسا ملک پوری دنیا میں نہیں ہے، جتنا انسانیت اور اسلام پر سعودیوں نے خرچ کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی کوئی نہیں کرسکتا۔۔ فلسطین، سوڈان، لیبیا، یمن، لبنان، شام، غزہ، افغانستان، پاکستان اور افریقی ممالک میں جہاں جہاں ضرورت پڑی سعودیوں نے دل کھول کر خرچ کیا۔ ہر سال خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی احکامات پر لاکھوں مسلمانوں کو دنیا بھر سے فری حج وعمرہ کروایا جاتا ہے۔ کنگ سلمان ریلیف فنڈ کے ذریعے مستحقین کو اربوں ڈالرز کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ غزہ میں یومیہ 25,000 لوگوں میں کھانا بنا کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان، مصر، اور دیگر اسلامی ممالک کو اربوں ڈالرز کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے مکمل مالی سپورٹ سعودی عرب نے کر رکھی ہے۔۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو دنیا نے معاشی دھماکہ کرتے ہوئے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں تب سعودیءعرب ہی تھا کہ جس نے دو سال تک فری تیل دے کر ہمارے ملک کی معیشت کا پہیہ جام ہونے سے بچائے رکھا، امریکہ، پاکستان سے ایف سولہ طیاروں کی رقم بھی کھا گیا اور طیارے دینے سے بھی انکار کر دیا تب یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے اپنے پاس سے امریکہ کو منہ مانگی مزید رقم دے کر پاکستان کو ایف سولہ طیارے لے کر دییے تھے، 25 سے تیس لاکھ پاکستانی یہاں مزدوری کرتے ہیں جو ماہانہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں ، اس سب کے باوجود کچھ بد فطرت لوگ کہتے ہیں بتاؤ سعودی عرب نے کیا کیا ہے۔۔
​اللہ تعالی سعودی عرب کو ہمیشہ سلامت اور شاد و آباد رکھے۔

*میڈیا پر کیمپین چلائیں*

سوشل میڈیا پر موجود علماء، عوام اور پاکستانی نوجوانوں سے شکوہ ہے کہ جس لیول پر حوثیوں کے خلاف کمپین چلانی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوئی۔ یہ ہمارا ایمانی و ملی تقاضا ہے۔
لیکن افسوس کہ نہ تحریر میں کوئی تذکرہ ہے اور نہ ہی تقاریر و خطبات میں کبھی یہ چیزیں زیر گفتگو لائی جاتی ہیں

حق کے ہوتے ہوئے باطل سے ہراساں کیوں ہے
گردنِ کفر پہ چلتی ہوئی تلوار ہے تو

*​فکری، دعوتی اور علمی تحرک*

تاریخی حقائق کو علمی، عقلی اور جذباتی انداز میں پیش کر کے صحابہ کرام اور اہل بیت کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنا

​کتاب و سنت کی نشر و اشاعت کا بہت زیادہ اہتمام کیا جائے بالخصوص متاثرہ علاقوں میں کتاب و سنت کی دعوت، نشر و اشاعت اور صحیح عقائد کو عام کرنا تاکہ باطل عقائد کی ذہن سازی کا سدِ باب ہو سکے

*امید اور خوشخبری*

بظاہر تو امریکہ، اسرائیل، ایران اور حوثی اسلام کے خلاف، توحید کے خلاف، سعودی عرب اور حرمین شریفین کے خلاف لڑنے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں ، مال وسائل امریکہ اسرائیل خرچ کر رہے ہیں اور لڑائی کے لیے حوثی فرنٹ لائن پر ہیں لیکن انجام کے بارے میں اللہ تعالٰی نے اطلاع دی ہے سورة الأنفال میں ہے

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
بلا شک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے، پھر مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا

*مکہ دفاعی معاہدہ اور دشمن کی چیخیں*

یوں تو تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کی انڈیا، روس یا امریکہ سے کوئی جنگ ہو تو کبھی سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا
اور دوسری طرف سعودی عرب کی اسرائیل سے جنگ ہو یا کعبہ میں گھسے 1979 کے فسادیوں یا کسی اور دشمن سے کوئی جنگ ہو تو پاکستان بھی سعودی مدد سے کبھی پیچھے نہیں رہتا
لیکن
حالیہ مکہ معاہدے نے تو اس تعاون کو مزید تیز کردیا ہے اور اب تو الحمد للہ پاکستان باقاعدہ محافظ حرمین شریفین بن چکا ہے
مکی معاہدے کی وجہ سے ماحول میں جو چیخیں بلند ہو رہی ہیں یہ ایسے ہی نہیں ہورہیں اس کے پیچھے سخت چوٹیں ہیں جن کی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں

الحمد للہ پاک فوج کا جنگ لڑنے کا کئی دھائیوں کا تجربہ ہے اب تو ہماری فوج کی تیسری نسل جنگ میں پروان چڑھ رہی ہے دنیا کی سپر پاوروں کو ایسا ٹھوکا ہے کہ کسی کو زخم دکھانے کے قابل نہیں ہیں
تو
یہ حوثی بے چارے کیا شے ہیں
بڑے پرندے وہاں پہنچ چکے ہیں
ابابیلوں کی سنت دھرائی جا رہی ہے
حرمین کے بیٹے حرمین کا دفاع کر رہے ہیں
پاک فوج کے ترجمان کا تازہ بیان دنیا نے سنا ہے کہ ہم خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں پاک فوج کبھی شور نہیں ڈالتی بس ہمیں سب پتہ ہے کہ ہم نے کب کہاں کیا کرنا ہے بس اسی خاموشی کے پیچھے ہی ساری گیم ہے ان شاء اللہ، بتوفيق اللہ حوثی باغی اور اس کے ہینڈلرز چند دنوں کے مہمان ہیں اور پھر اس کے بعد یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گا

یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔
الصف : 8

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں