حیا ہے تو ایمان ہے
🔍 *اہم نکات* :
( حیا کا مفہوم ، اہمیت و ضرورت ، حیا کی اقسام ، بے حیائ کے اسباب ، خطرات و نقصانات ، مستند واقعات ، حیا پیدا کرنے کے عملی طریقے )
📝 *تمہید* :
حیا وہ پاکیزہ صفت ہے جس سے دل نرم ہوتا ہے، نگاہیں جھکتی ہیں، کردار سنورتا ہے اور معاشرہ امن و عزت کا گہوارہ بنتا ہے۔
اسلام نے حیا کو ایمان کا اہم جز قرار دیا ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»
"حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”
جبکہ بے حیائی دل کی سختی، گناہوں کی جرأت اور معاشرتی بگاڑ کی جڑ ہے۔ جہاں حیا مٹتی ہے وہاں اخلاق، امن اور پاکیزگی بھی ختم ہوجاتے ہیں۔
لہٰذا مسلمان کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنے گفتار، کردار، لباس، نگاہ اور معاملات میں حیا کو زندہ رکھے اور ہر اس راستے سے بچے جو بے حیائی کی طرف لے جائے۔
1️⃣ *حیا کا لغوی و شرعی مفہوم*
عربی لغت میں "حیاء” کے بنیادی معنی شرم، جھجک، خود کو روک لینا، اور کسی ناپسندیدہ کام سے بچ جانا کے ہیں ۔
حیا کی تعریف:
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
﴿ اَلْحَيَاءُ خُلُقٌ يَبْعَثُ عَلَى اجْتِنَابِ الْقَبَائِحِ، وَيَمْنَعُ مِنَ التَّقْصِيرِ فِي حَقِّ ذِي الْحَقِّ ﴾
حیا ایسی اندرونی کیفیت اور اخلاقی صفت کا نام ہے جو انسان کو برائی، بے شرمی اور غلط کاموں سے روکتی ہے، اور ہر صاحبِ حق کا حق ادا کرنے پر اُبھارتی ہے .
( شرح مسلم حدیث نمبر 35 )
2️⃣ *حیا کی اہمیت و ضرورت*
قرآن و حدیث اور انسانی تجربہ—تینوں اس بات پر گواہ ہیں کہ حیا ہی وہ صفت ہے جو معاشرے کو گندگی، بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ سے بچا کر پاکیزہ بناتی ہے۔
➊ – حیا ایمان کا حصّہ ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»
حیا ایمان کی ایک شاخ ہے
(صحیح بخاری 9 )
➋ – حیا ہمیشہ خیر کا ذریعہ ہے
آپ ﷺ نے فرمایا:
«اَلْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ»
حیا تو صرف خیر کو ہی لاتا ہے
(صحیح بخاری 6117 صحیح مسلم 37 )
➌ – حیا بے راہ روی سے بچانے والی ڈھال ہے
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»
جب تجھ میں حیا ہی نہ رہے تو جو مرضی کر
( صحیح بخاری 3483 )
➍ – حیا انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہے
«الْمُؤْمِنُ لَيْسَ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ»
مومن طعنہ دینے والا ، لعنت کرنے والا، بے حیا اور بدزبان نہیں ہوتا ہے
(سنن ترمذی 1977 صحیح )
مؤمن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بے ہودہ اور بدکلام نہیں ہوتا۔
➎ – حیا مرد و عورت دونوں کی زینت ہے
نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے حوالے سے فرمایا:
«تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ»
“فرشتے بھی ان سے حیا کرتے ہیں”
(صحیح مسلم 2401 )
➏ – حیا اسلام کی امتیازی صفت ہے
نبی مکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ»
‘‘ہر دین میں کوئی نہ کوئی امتیازی اور اخلاقی خوبی ہوتی ہے۔ اسلام کی امتیازی خوبی حیاء ہے’’۔
(سنن ابن ماجه 4181 حسن )
➐ – حیا معاشرے کو پاکیزہ بناتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۔۔ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں ، یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے ، مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں
(سورۃ النور 31-30)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ نگاہوں اور شرمگاہ کی حفاظت (یعنی حیا) معاشرے کی پاکیزگی، امن اور اخلاقی حفاظت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جہاں بے حیائی پھیلتی ہے، وہاں فساد بڑھتا ہے ۔
3️⃣ *حیا کی اقسام*
➊۔ اللہ تعالیٰ سے حیا
نبی معظم ﷺ نے فرمایا:
«اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الحَيَاءِ»
اللہ تعالی سے حیا کرو جیسا حیا کرنے کا حق ہے
صحابہؓ کرام نے عرض کیا: ہم تو الحمدللہ شرم رکھتے ہیں۔ فرمایا:
« لَيْسَ ذَاكَ وَلَكِنَّ الِاسْتِحْيَاءَ مِنْ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى وَالْبَطْنَ وَمَا حَوَى وَلْتَذْكُرْ الْمَوْتَ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ اسْتَحْيَا مِنْ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ…»
حیا کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیا کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے اردگرد کی حفاظت کرو ،اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ،اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑجانے کو یاد کیاکرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب وزینت کوترک کردے پس جس نے یہ سب پورا کیا توحقیقت میں ا سی نے اللہ تعالیٰ سے حیا کی جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے
(ترمذی 2458 حسن )
اللہ سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر اس چیز سے بچے جو اللہ کے غضب کا باعث بنے۔ اس کی نگاہ، زبان، دل اور بدن اللہ کے حضور جواب دہی کا احساس رکھے۔
➋۔رسول اللہ ﷺ سے حیا
اللہ رب العزت نے فرمایا :
"لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ”
تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور رسول کی مدد اور تعظیم کرو اور ان کی توقیر کرو۔
(الفتح: 9)
رسول اللہ ﷺ سے حیا یہ ہے کہ انسان آپ ﷺ کی سنت کے خلاف کام نہ کرے، اور زندگی میں وہ چیز اختیار کرے جو آپ ﷺ کو پسند ہے۔
➌۔لوگوں سے حیا
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»
لوگوں نےاگلے پیغمبروں کےکلام جوپائے ان میں یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں حیانہ ہو تو پھر جوجی چاہے کر .
(بخاری 3483)
لوگوں سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے کردار، گفتگو، لباس اور برتاؤ میں ایسا کچھ نہ کرے جو اخلاقی طور پر معیوب ہو اور لوگوں کے سامنے شرمندگی کا باعث بنے۔
➍-اپنے نفس سے حیا
وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰـكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ .
اور تم اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا .
( سورة فصلت 22)
نفس سے حیا یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی وہ کام نہ کرے جو وہ دوسروں کے سامنے کرنے سے شرماتا ہے۔
➎۔ اعمال (گفتار ، کردار ) میں حیا
﴿ وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾
میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات وہی کریں جو بہترین ہو۔
(سورۃ الاسراء: 53)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ فضول اور بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔
( سنن ترمذی 2317 )
4️⃣ *بے حیائی کے بنیادی اسباب*
① دینی علم کی کمی اور جہالت
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ﴾
"اللہ سے تو صرف اُس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔”
(فاطر: 28)
جب علم نہیں ہوتا تو انسان گناہ کو گناہ سمجھتا ہی نہیں، نتیجتاً بے حیائی بڑھتی ہے۔
② نفس کی پیروی اور خواہشات کا غلبہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً ﴾
"کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ،اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ؟”
(الجاثیہ: 23)
خواہشات کے پیچھے چلنے سے حیا ختم ہو کر بے حیائی جنم لیتی ہے۔
③ نگاہوں کی آوارگی
ارشاد نبوی ہے:
«فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ»
"آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے۔”
(بخاری 6243)
حرام چیزوں کو دیکھنا دل کو میلا کرتا ہے، اور بے حیائی کی طرف پہلا قدم یہی ہوتا ہے۔
④ برے دوست اور غلط ماحول
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے :
«مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً»
نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ( جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو ) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خو شبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے ( بھٹی کی آگ سے ) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک نا گوار بد بو دار دھواں پہنچے گا ۔
(بخاری، 5534)
گندی محفل انسان کے اخلاق، نظر اور دل کو آلودہ کر دیتی ہے۔غلط صحبت، بے حیائی اور بے پرواہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
⑤ فحش میڈیا، سوشل میڈیا اور گندی تفریحات
ارشاد ربانی ہے :
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾
“اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو بے مقصد (گمراہ کن) باتوں کا سامان خریدتے ہیں تاکہ بغیر کسی علم کے اللہ کے راستے سے لوگوں کو بھٹکا دیں، اور اسے مذاق بنا لیں۔ ایسے لوگوں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔”
(لقمان: 6)
کئی جلیل القدر مفسرین نے "لَهْوَ الْحَدِيثِ” کی تفسیر گانے، موسیقی، فحش اور بے ہودہ باتوں سے کی ہے:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ
فرمایا:
«والله الذي لا إله غيره إنه الغناء»
“قسم بخدا! اس سے مراد گانا ہے۔”
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
«لهو الحديث: الباطل والغناء»
“لہو الحدیث سے مراد باطل باتیں اور گانے ہیں
فحش ویب سائٹس، ڈرامے، میمز اور ویڈیوز حیا کو تباہ کرتے ہیں۔
⑥ بے دینی، غفلت اور آخرت کو بھول جانا
قرآنی فیصلہ ہے :
﴿ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ﴾
"انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں (ان کے حال پر چھوڑ کر) بھلا دیا۔”
(التوبة: 67)
غفلت انسان کو ہر گناہ پر جری کر دیتی ہے، حتیٰ کہ بے حیائی بھی معمول بن جاتی ہے۔
⑦ لباس اور طرزِ زندگی میں مغربی تہذیب کی نقالی
ارشاد نبوی ﷺ ہے :
«مَن تَشبَّهَ بقومٍ فهوَ منهم»
"جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ اُسی میں سے شمار ہوگا۔”
(سنن أبي داود: 4031)
مغربی فیشن، مخلوط ماحول اور فحاشی پر مبنی کلچر حیا کو ختم کر دیتا ہے۔
5️⃣ *بے حیائی کے خطرات و نقصانات*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَافْعَلْ مَا شِئْتَ»
یعنی جب شرم ختم ہو جائے تو انسان پھر جو چاہے کرے…
(بخاری: 3483)
اور یہی آج ہمارے معاشرے میں تعلقات کے ٹوٹنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
➊- اللہ کی ناراضگی اور عذابِ الٰہی کا خطرہ
﴿وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا﴾
"اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے بڑے لوگ فسق میں پڑ جاتے ہیں، پھر وہ بستی تباہ کر دی جاتی ہے۔”
( الإسراء: 16 )
فحاشی اور فسق و فجور اللہ کے عذاب کو قریب لانے والے بڑے اسباب میں سے ہیں۔
➋ – ایمان اور روحانیت کا کمزور ہونا
رسولُ الله ﷺ نے فرمایا :
«إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الإِسْلَامِ الحَيَاءُ»
"ہر دین کا ایک خاص اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔”
( سنن ابن ماجه 4181 حسن )
جب حیا اسلام کا بنیادی اخلاق ہے تو بے حیائی ایمان کی کمزوری اور روحانیت کے زوال کا بنیادی سبب ہے۔
➌ – غیر محرم سے دوستی اور ناجائز تعلقات
﴿ ۚإِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ﴾
اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو نرم گفتگو نہ کرو، کہ جس کے دل میں (گناہ کی) بیماری ہو وہ لالچ کرنے لگے
(الاحزاب: 32)
آج سوشل میڈیا، چیٹس، کالز اور بے پردگی نے گھروں کو توڑ دیا۔
بہت سے خاندان غلط تعلقات کی وجہ سے برباد ہو رہے ہیں۔
معاشرے میں بیماریاں، پریشانیاں اور اموات کی شرح بڑھ رہی ہیں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
«خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ: لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ، حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا، إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ، وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا، وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ، إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ، وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ، وَعَهْدَ رَسُولِهِ، إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ»
"پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گڑے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں) تم تک پہنچیں۔ جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔ جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، ان کو قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزا دی جاتی ہے۔ جب وہ اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کردیے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔”
( سنن ابن ماجہ 4019 حسن)
➍ – آن لائن فتنوں کا طوفان
فحاشی، ناچ گانے، ویڈیوز، ریلس، ٹک ٹاک… وغیرہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الدِّينِ إِلَّا اسْمُهُ…»
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ائے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا
(بیہقی: شعب الإيمان، 1763)
حدیث میں اگرچہ کلام ہے لیکن فی الواقع حقیقت یہی ہےکہ وہ زمانہ آ چکا ہے — نام مسلم، لیکن عمل مکمل غیروں جیسا ۔۔۔۔۔
➎ – گھر کا اعتماد ختم ہونا
میاں بیوی کے درمیان بے اعتمادی، شک، بدظنی—
یہ سب بے حیائی کے فتنوں کی وجہ سے ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِوَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ﴾
بے شک اللہ عدل ، احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے-
( النحل 90 )
➏ – نوجوان نسل کا اخلاقی دیوالیہ پن
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
"جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں فحاشی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”
( النور: 19 )
جب معاشرے میں فحاشی پھیلتی ہے تو سب سے پہلے نوجوان نسل بے غیرتی، بے حسی اور کردار کے زوال کا شکار ہوتی ہے۔
➐ – نظر اور فکر کی بے حیائ — تعلقات کی جڑ کاٹ دیتی ہے
﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾
وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو (خوب) جانتا ہے
(غافر: 19)
موبائل پر چھپ کر غلط چیزیں دیکھنا “خیانت” ہے جس سے دلوں کی محبت مر جاتی ہے، نورِ ایمان بجھ جاتا ہے۔
➑ – بے پردگی — خاندان کی جڑیں کھوکھلی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ »
(ترمذی: 1173 صحیح )
جب مرد و عورت پردہ چھوڑ دیتے ہیں تو شیطان ان کے درمیان آ جاتا ہے، اور رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں۔
6️⃣ *حیا کے موضوع پر مستند واقعات*
1۔ *حضرت آدم و حوا علیہما السلام کا حیا*
جب شیطان کے بہکانے سے آدم و حوا علیہما السلام نے درخت کا پھل چکھ لیا تو ان کے ستر ظاہر ہوگئے۔ دونوں فوراً اپنے جسم کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے۔
( سورۃ الأعراف: 22؛ سورۃ طٰہٰ: 121 )۔
2۔ *حضرت موسیٰ علیہ السلام اور مدین کی دو خواتین*
حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین پہنچے تو دیکھا کہ لوگ پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنی بکریوں کو روک رہی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے نہایت باحیا انداز میں جواب دیا:
لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
’’ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک چرواہے واپس نہ چلے جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔‘‘
بعد ازاں ان میں سے ایک عورت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔
( سورۃ القصص: 23-25 )۔
3۔ *حضرت یوسف علیہ السلام کا حیا*
عزیزِ مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو گناہ کی طرف بلایا اور دروازے بند کر دیے، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ کی پناہ مانگی اور فرمایا:
مَعَاذَ اللَّهِ
’’اللہ کی پناہ!‘‘
اور گناہ سے بچنے کے لیے قید کو ترجیح دی:
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
’’اے میرے رب! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں، اس کے مقابلے میں مجھے قید زیادہ پسند ہے۔‘‘
( سورۃ یوسف: 23-24، 33 )
4۔ *حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حیا*
نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ بہت باحیا تھے، اپنے جسم کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے ان کے ستر کے بارے میں طعنہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک واقعے کے ذریعے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پاکیزگی واضح فرما دی۔
( صحیح البخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، حدیث 3404؛ صحیح مسلم، حدیث 339 )۔
5۔ *حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیا*
رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہایت عظیم حیا بیان فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے پر اپنے لباس کو درست فرمایا۔ پوچھا گیا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے ایسا نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ
’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟‘‘
( صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، حدیث 2401 )۔
6۔ *حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حیا*
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اپنے گھر میں جہاں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مدفون تھے، بے تکلف آتی جاتی تھیں، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے وہاں جاتے ہوئے اپنے لباس کو اچھی طرح ڈھانپ لیتی تھیں۔
( سنن ابن ماجہ، حدیث 1573؛ مسند أحمد، حدیث 25824 )۔
*7️⃣ حیا کے حصول اور نگاہوں کی حفاظت کی عملی مشقیں* —
➊ – اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس بیدار رکھنا
﴿ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَى ﴾
کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟
(سورۃ العلق: 14)
جب بندے پر اللہ کی نظارت کا احساس غالب ہو جائے تو گناہ سے شرم آنے لگتی ہے، یہی حقیقی حیا ہے۔
➋ – گناہ سے شرمندگی کا احساس زندہ رکھنا
حدیث شریف میں ہے:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذَنْبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ، يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذَنْبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا»
— وَصَفَ يَدَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ۔
"مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈرتا ہو کہ کہیں اس پر گر نہ پڑے۔
اور فاجر (گناہ گار بے خوف آدمی) اپنے گناہ کو ایسے سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کی ناک پر بیٹھ جائے، جسے وہ یوں اڑا دے۔” ( آپ نے ہاتھ کا اشارہ کیا )
( صحیح بخاری 6308 )
➌ – نگاہوں کی حفاظت کی مشق
«النَّظَرُ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ»
"نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔”
(حاکم 4/349)
➍ – پاکیزہ مجلس و ماحول اختیار کرنا
««مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ… كَحَامِلِ المِسْكِ»
(بخاری، 5534)
نیک ساتھی کی مثال عطر والے شخص جیسی ہے، یا تمہیں خوشبو دے گا یا تم خود فائدہ پا لوگے۔
ایک اچھا ماحول انسان کو خیر، علم اور ادب دیتا ہے۔
گندی مجلس، بے پردگی اور مخلوط ماحول حیا کو کمزور کرتا ہے، نیک صحبت اسے مضبوط بناتی ہے۔
➎ – لباس میں حیا کا اہتمام کرنا
﴿ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ ﴾
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت (پردہ، ستر) اختیار کرو۔
(الاعراف: 31)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
«صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا: … وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا»
( صحیح مسلم 2128)
"دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جنہیں میں نے (اپنی زندگی میں) نہیں دیکھا: …
اور وہ عورتیں جو (ظاہری طور پر) لباس پہننے والی ہوں گی مگر حقیقت میں ننگی، وہ خود بھی گمراہ ہوں گی اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والی، ان کے سروں پر اُونٹنی کے کوہان جیسے جوڑے ہوں گے۔ نہ وہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی۔”
لباس کا شرعی معیار — ڈھیلا، ساتر اور بے تکلفی و نمائش سے پاک — حیا کو جنم دیتا ہے۔
➏ – زبان اور گفتگو میں شائستگی
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا»
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کرے۔
(بخاری 6018)
فحش کلامی، بے ہودہ مزاح اور گندی گفتگو حیا کو مٹا دیتی ہے۔
➐ – نبی ﷺ کی سیرت میں حیا کے نمونے یاد رکھنا
«كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا»
نبی ﷺ پردہ نشین لڑکی سے کہیں زیادہ حیا والے تھے۔
(بخاری 3562)
سیرت کے واقعات پڑھنے، سننے سے دل میں عملی حیا پیدا ہوتی ہے۔
*چند مزید مختصر عملی مشورے*
(۱) موبائل کا استعمال مخصوص اوقات میں کریں۔
(۲) بازار، سڑک، میڈیا میں نگاہیں ہلکی رکھیں۔
(۳) پہلی غلط نظر کو فوراً ہٹا دینا اپنا اصول بنا لیں۔
(٤) دل میں یہ جملہ دہرائیں: "اللہ مجھے دیکھ رہا ہے”۔
(۵) صبح و شام استغفار اور سورت النور کی آیات پڑھیں
( ٦) فجر کے بعد 4–5 منٹ استغفار کی عادت
( ٧) دل پر اثر ڈالنے والی دینی مجالس سننا
(٨) عفت و حیا پر مبنی اذکار و دعائیں پڑھنا (مثلاً: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف…»
*محترم قارئین !*
جب ہم حیا کو زندہ کریں گے تو ہمارے گھروں میں پاکیزگی، ہمارے ازدواجی تعلقات میں امانت، اور ہماری اجتماعی زندگی میں وقار لوٹ آئے گا۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ الحَيَاءِ وَالإِيمَانِ،وَاحْفَظْنَا وَذُرِّيَّاتِنَا مِنْ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَبَاطِلٍ،وَطَهِّرْ
قُلُوبَنَا وَأَبْصَارَنَا وَأَلْسِنَتَنَا،
وَارْزُقْنَا عِفَّةً وَسَتْرًا وَطُهْرًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔