مسنون وظائف

774۔سیدنا ابو عیاش رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

((مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ. وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَ لَهُ عِدْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ فِي حِرْرٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِي، وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسٰى كَانَ لَهُ مِثْلُ ذٰلِكَ حَتَّى يُصْبِحُ)) (أخرجه أبو داود: 5077)

’’جو شخص صبح کے وقت یہ کہ لے: ((لا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر)) ’’ایک اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی ساتھی نہیں، اس کا ملک ہے، اس کی تعریف ہے اور وہ ہر شے پر خوب قادر ہے۔‘‘ تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے دس غلطیاں مٹائی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے اور شام تک کے لیے شیطان سے حفاظت میں رہے گا اور اگر شام کو یہ (الفاظ ) کہہ لے تو صبح تک (بھی) اس کے لیےیہی کچھ ہے۔‘‘

 توضیح و فوائد: بیماریوں، شیطان اور مخطرات و خدشات وغیرہ سے بچاؤ کے لیے مخصوص اذکار، دم یا کسی چیز کا بطور حفاظت استعمال حرز کہلاتا ہے۔ مذکورہ دعا دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے۔

775۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

مَنِ اصْطَبَحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ)) (أخرجه البخاري:5445، 5768، 5769، 5779، و مسلم:2047)

 ’’جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجور میں استعمال کرے، اسے رات تک زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘

776۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! کل رات سے مجھے بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے بہت درد ہو رہا ہے۔

آپ ﷺنے فرمایا:

((أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّكَ)) (أخرجه مسلم: 2709)

’’اگر تم رات کے وقت یہ (کلمات) کہہ دیتے: ((أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ))

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر ہے۔ تو وہ (بچھو) تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔‘‘