فکر آخرت اور اخروی کامیابی
﴿﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۵﴾ (فاطر:5)
گذشتہ خطبات میں فکر آخرت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ فکر آخرت اخروی کامیابی کے لیے جو کہ حقیقی کامیابی ہے ضروری ہے۔
اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کسی چیز کی فکر ہی انسان کو اس کے حصول کی کوشش کے لئے آمادہ کرتی ہے، جب کہ بے فکر انسان جامد اور غیر متحرک ہوتا ہے، وہ اگر کچھ کرتا بھی ہے تو بے مقصد، بے حکمت اور بغیر کسی ہدف اور منزل کے، اس کی حرکات و سکنات خواہشات نفس کے تابع ہوتی ہیں۔
اور کسی چیز کی فکر نہ ہونا یا تو لاعلمی اور بے خبری کی بنا پر ہوتا ہے، یا بے حسی کی بناء پر یا عدم ضرورت کے سبب یا لا ابالی پن اور بے پروائی کی وجہ سے۔
تو ہم فکر آخرت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں، اللہ تعالی کے بعد ہر انسان اپنے بارے میں بہتر انداز ہو کر سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر بظاہر یہ لگتا ہے کہ ہمیں بات سمجھ میں نہیں آئی، کیونکہ اگر بات سمجھ میں آجائے تو کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور نظر آتی ہے، مگر ہمارے طرز زندگی میں کوئی محسوس اور قابل التفات تبدیلی دکھائی نہیں دی۔
اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ میرا احساس اور گمان ہے کہ فکر آخرت کی بات سمجھ نہیں آئی تو میرے اس احساس اور گمان میں بھی حسن ظن ہے، کیونکہ اگر میں یہ سمجھوں کہ بات سمجھ میں آگئی ہے مگر اس کے باوجود اس کے مطابق عمل نہیں کر رہے تو یہ اک نہایت ہی سنگین اور خطرناک صورت حال کی علامت ہوگی ، اس کے برعکس اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے طرز عمل میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں سرے سے بات ہی سمجھ میں نہیں آئی تو یہ بات قدرے بہتر ہوگی، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ یہ میری کم مائیگی اور بے بضاعتی اور بے ڈھب اور بے اثر انداز بیان کی وجہ سے ہے کہ میں ٹھیک طرح سے بات سمجھ نہیں پایا۔
ورنہ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ آخرت کی حقیقت سمجھ آجانے کے باوجود دل اُس طرف مائل نہیں ہوتا اور عمل کی توفیق نہیں ہوتی ، تو یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہوگی ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالی نے اپنی توفیق سے محروم کر کے انسان کو خود اس کے حوالے کر دیا ہے اور یہ بہت بڑی بدنصیبی ہوگی کہ کوئی توفیق سے محروم کر دیا جائے۔ اور توفیقی بندے کے لئے اللہ تعالی کی خصوصی مدد اور اعانت ہوتی ہے، توفیق اس کے معاملات کو سنوارنا، آسان کرتا اور اس کے لیے مددگار اسباب مہیا کرنا ہے، انسان کے اپنے بس میں تو کچھ نہیں ہے، وہ محض اپنی قوت و طاقت اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کچھ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالی کی مدد شامل حال نہ ہو۔ اور حدیث میں سکھلائی گئی ایک دعا کے الفاظ اس بات کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں جسے آپ ﷺنے ((كَنْزٌُ مِّنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ)) بتلایا ہے کہ وہ الفاظ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہیں اور وہ ہیں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِالله ’’کہ ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنے کی کوئی استطاعت ہے اور نہ قوت مگر اللہ کے ساتھ ۔‘‘
گناہ اور معصیت کی حالت سے، نیکی اور اطاعت وفرمانبرداری کی حالت میں بدلنے کی کوئی ہمت وسکت ہے اور نہ قوت و طاقت مگر اللہ کے ساتھ، غربت و افلاس اور فقر وفاقہ سے غنی اور تو نگری کی حالت میں تبدیلی کی کوئی طاقت ہے اور نہ قوت ، مگر اللہ کے ساتھ۔ ذلت ورسوائی کی حالت سے عزت و عظمت میں بدلنے کی کوئی استطاعت ہے اور نہ قوت ، مگر اللہ کے ساتھ۔ غرضیکہ کسی بھی ایک حسی یا معنوی حالت سے دوسری حالت میں اللہ تعالی کی مدد وتوفیق کے بغیر ہرگز ہرگز بدلا نہیں جاسکتا، اور جب کوئی توفیق سے محروم کر دیا جائے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اور تب انسان کی یہ حالت نہایت ہی قابل رحم ہوگی، کیونکہ اس کی یہ حالت اس وقت دو چند سنگین ہو جاتی ہے۔ جب ایک طرف توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور انسان کا نفس اسے کسی طرف لے کر جاتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے واضح طور پر بیان کر رکھا ہے کہ:
﴿إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلا مَا رَحِمَ رَبِّي﴾ (يوسف:53)
’’نفس یقینًا بدی پر اکساتا ہے، الا یہ کہ کسی پر میرے رب کا رحم ہو جائے ۔‘‘
تو جس پر سے اللہ تعالی اپنی توفیق کا ہاتھ اٹھالے اور اسے اس کے نفس کے حوالے کر دے، اس کی بدبختی اور بدنصیبی میں کیا شک رہ جاتا ہے۔ لہذا ایک طرف اللہ تعالی کی توفیق کی طلب اور اس کا اقرار و اعتراف اور اللہ پر بھروسہ ہونا چاہیے، جیسا کہ شعیب علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ایک مکالمے میں اللہ تعالی کی توفیق کا اعتراف اور اس پر بھروسے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ۸۸﴾ (هود:88)
’’میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘
تو ایک طرف اللہ کی توفیق کی تمنا اور دوسری طرف اپنے نفس کے حوالے نہ کئے جانے کی اللہ کے حضور درخواست جیسا کہ آپ ﷺنے دعا سکھلائی ہے:
((اللّٰهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، واصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ))
’’اے اللہ ! میں تیری رحمت کی امید کرتا ہوں، مجھے آنکھ کے جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے تمام معاملات خود ہی سنوار دیتا ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ ( سنن ابی داؤد:5090)‘‘
اور پھر یہیں بس نہیں ہوتی، بلکہ جب انسان اللہ کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اپنے نفس کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو پھر مصیبتوں، پریشانیوں، الجھنوں، آزمائشوں اور بد نصیبیوں کی دلدل میں پھنستا ہی چلا جاتا ہے۔
شیطان جو پہلے سے ہی انسان کا سخت ترین دشمن ہے، اسے مزید مسلط کر دیا جاتا ہے، انسان کی غفلت کی پاداش میں۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ۳۶ ﴾(الزخرف:36)
’جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔‘‘
﴿وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴾ (الزخرف:37)
’’وہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔‘‘
شیطان کی فریب کاریوں میں پھنسے ہوئے ہونے کے باوجود اپنے تئیں سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ ٹھیک جا رہے ہیں۔ اور آپ نے کبھی ملاحظہ کیا ہوگا کہ نفلی نیکیوں کی توفیق حاصل ہونا تو دور کی بات، بعض لوگ فرائض کو نظر انداز کر کے بھی اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
نماز روزے کی بات کی جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب مولویوں کا بتایا ہوا دین ہے، اصل دین یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ نہ دو، کسی سے ظلم و زیادتی نہ کرو، انسانیت کی خدمت کرو و غیرہ۔
چند نیکیوں کا ذکر کر کے کہ جن پر وہ پورا بھی نہیں اترتے ، اپنے آپ کو راہ راست پر کچھ لیتے ہیں ، جبکہ حقیقت میں وہ پوری طرح شیطان کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔
بات پھر وہیں پہ آتی ہے کہ ہماری ان تمام تر کوتاہیوں کی وجہ دین سے دوری اور آخرت کی حقیقت سمجھ نہ آتا ہے کہ ہم دنیا کی کشش اور اس کی رعنائیوں میں کھوئے ہوئے ہیں اور بری طرح اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی مصیبت اور آزمائش بھی ہمیں دین کی طرف پلٹنے میں مدد نہیں دیتی، کیونکہ ہم اُس کا کوئی نہ کوئی حسی سبب قرار دے دیتے ہیں۔
کوئی فوت ہو جائے تو بھی آخرت کی طرف ذہن نہیں جاتا بلکہ اس کی موت کے اسباب پر گفتگو کرنے لگتے ہیں، گویا کہ ہمارے طرز زندگی میں آخرت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت کی حقیقت سمجھ میں آجائے، جس طرح کہ اس کے سمجھنے کا حق ہے اور اس پر پختہ یقین اور ایمان حاصل ہو جائے ، صرف علم نہیں، کیونکہ یقین اور ایمان کے بغیر علم نہ صرف یہ کہ فائدہ نہیں دیتا، بلکہ نقصان ضرور دیتا ہے۔
تو اگر آخرت کی حقیقت سمجھ میں آجائے تو یقینًا آدمی کے طرز عمل میں تبدیلی آتی ہے اور خوب سے خوب تر کی طرف تبدیلی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ آئیے ذرا غور کرتے ہیں کہ جنہیں آخرت کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے اور جو اس پر پختہ یقین رکھتے ہیں ان کے رویوں اور طرز زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے اور ان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں؟
آخرت پر ایمان اور یقین کی ضرورت و اہمیت اور تاکید و ترغیب قرآن و حدیث میں بہت زیادہ بیان کی گئی ہے۔
جیسا کہ آخرت پر یقین رکھنے والوں کا ایک جگہ ذکر یوں فرمایا:
﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ۴﴾ (البقرة:4)
’’ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ (ﷺ) کی طرف اتارا گیا اور جو آپ (ﷺ) سے پہلے اُتارا گیا ۔ اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
پھر ایسے لوگوں کا مختلف ناموں اور مختلف صفات کے ساتھ ذکر کیا گیا، جیسا کہ فرمایا:
﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ۗ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (البقرة:5)
’’ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست ہے پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
انہی لوگوں کو مؤمنوں کے نام سے بھی یاد کیا۔
﴿قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ۱ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ۲﴾ (المؤمنون:1۔2)
’’يقينا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں۔‘‘
انہیں عباد الرحمن بھی کہا۔
﴿وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًاوَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًاوَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖاِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۶۶﴾(الفرقان:63۔ 66)
’’رحمن کے بچے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں: تم کو سلام ہو۔ جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ جو دعا میں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب جہنم کے عذاب سے ہم کو بچالے، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے وہ تو بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے۔‘‘
اسی طرح قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اہل ایمان کی صفات اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے، جن میں سے ایک یہ ہے
﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ؗ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۱۶﴾ (السجدة:16)
’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔‘‘
سوال یہ ہے کہ یہ اور اس طرح کی اہل ایمان کی جو دیگر صفات بیان ہوئی ہیں، جن میں راتوں کو ان کا بے قرار رہتا اور سجود و قیام میں راتیں گزارا ، کیا آخرت کی حقیقت کو سمجھے بغیر تھا ؟
یقینًا نہیں! بلکہ یہ ان کی آخرت کی حقیقت کی گہری سمجھ رکھنے کی علامت ہے۔ آخرت کی حقیقت کو سمجھنے سے آدمی کی زندگی میں کیا انقلاب پیدا ہوتا ہے اور کس طرح بے چین و بے قرار ہو جاتا ہے، اس کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں، آپ نے جان لیا۔
اب ہم اپنے گریبانوں میں جھانگیں کہ کیا ہمیں بھی آخرت کی سمجھ آئی ہے؟
یہ حقیقت اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ آخرت کی سمجھ کا انسان کے طرز زندگی میں تبدیلی کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، یعنی ایسی تبدیلی جو آخرت کے تقاضوں کے مطابق ہو، اور دہ ہے عمل صالح کی جانب پیش رفت ، اور یہ محض اللہ تعالی کی توفیق اور اس کا فضل خاص ہے جسے نصیب ہو جائے ، چنانچہ حدیث میں ہے ، آپﷺ نے فرمایا: (( إذا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِ خَيْرًا إِسْتَعْمَلَهُ))
’جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کام لیتا ہے۔‘‘
(( فَقِيلَ: كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ (ﷺ))
’’عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! اور اللہ تعالی کیسے کام لیتا ہے؟‘‘
(( قَالَ: يُوفِّقَهُ لِعَمَل صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ)) (ترمذي:2142)
’’فرمایا: اسے موت سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔‘‘
اور یہ سراسر اللہ تعالی کی توفیق اور اس کی عنایت ہے وہ جسے چاہے عطا کر دے، یہ اس کی تقسیم ہے، وہ جسے چاہے، جو چاہے ، جتنا چاہے عطا کر دے، جیسا کہ حدیث میں ہے آپ ﷺنے فرمایا:
(( إِنَّ اللهَ قَسم بينكُمْ أَخْلاقَكُمْ ، كَمَا قَسَم بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ))
’’یقینًا اللہ تعالی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق تقسیم کر دیے ہیں، جس طرح تمہارے درمیان تمہارے ارزاق تقسیم کر رکھے ہیں ۔‘‘
(( وَ إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُعْطِي الْمَالَ مَنْ أَحَبَّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الْإِيْمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ)) (الأدب المفرد:275)
’’اور بے شک اللہ تعالی مال دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے یا نہیں پسند کرتا، اور ایمان صرف اس کو دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ یہاں اخلاق سے مراد صرف حسن نظم ہی نہیں ، بلکہ پورا طرز زندگی ہے اس میں عبادات بھی ہیں اور معاملات بھی ہیں ، لہذا اپنے اپنے نصیب پر نظر ڈالو کہ اخلاق بھی ہمارے نصیب میں آئے ہیں کہ نہیں ، اور اگر نہیں تو پھر یقینًا فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے ایسی ہی بھر پور کوشش کی ضرورت ہے جس طرح ہم دنیا کے حصول کے لیے اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………….