فکر آخرت سے اعراض کا انجام گمراہی
﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۵﴾ (فاطر:5)
گذشتہ چند جمعوں سے فکر آخرت کے حوالے سے بات ہو رہی تھی اور فکر آخرت کے حوالے سے بات کرنا یقینًا ہماری زندگی کا سب سے اہم موضوع ہے، حتی کہ دیگر موضوعات بھی بالواسطہ اسی موضوع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بالآخر اسی نقطے پر آکر ٹھہرتے ہیں لیکن بلا واسطہ اور مسلسل اتنے دنوں سے اس موضوع پر گفتگو کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ دلوں کی مٹی ذرا نم ہو، تاکہ کاشت کے قابل بن جائے۔
اور آپ جانتے ہیں کہ بنجر، پتھریلی اور خشک زمین پر کچھ اُگا یا نہیں جاسکتا، جبکہ زرخیز زمین کو بھی کا شیکاری کے قابل بنانے کے لئے نم اور تر کرنا اور اسے ہموار کرنے کے لئے بل اور کراہ چلانا اور پھر سہا گہ دینا ضروری ہوتا ہے اور پودوں کی نشوونما کے لئے زمین کا مناسب وتر اور بُھربُھری ہونا اور جڑی بوٹیوں سے پاک ہونا درکار ہوتا ہے۔
تو کیا ہمارے دلوں کی زمین میں کچھ ایسی تبدیلی آئی ہے اور کچھ ایسے اوصاف پیدا ہو گئے ہیں کہ ہم اسے کاشتکاری کے قابل سمجھ سکیں یا ابھی تک ویسی ہی سخت، خشک اور نا ہموار ہے؟
اگر کیفیت ایسی ہی ہے تو یہ بڑی سنگین اور خطر ناک صورت حال ہے، کیونکہ دلوں کی تختی کا مطلب ہوتا ہے کہ دل نصیحت و موعات کو قبول نہیں کرتے ، اصلاح احوال کی اُمید دم توڑ چکی ہے اور دل پر بد نصیبی کا لیبل لگا کر سر دست سر بمہر کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں ایسی بدبختی اور بدنصیبی سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
جو دل ہدایت کو قبول نہیں کرتے ، نصیحت کے سامنے اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں وہ اتنے سخت ہوتے ہیں کہ پتھر کی سختی بھی ان کے سامنے کم ہوتی ہے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے دلوں کی سختی کا ذکر کیا ہے، بنی اسرائیل کہ جنہیں اللہ تعالی نے اپنی متعدد نشانیاں دکھائیں اور فرمایا:
﴿وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۷۳﴾(البقرة:73)
’’اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔‘‘
مگر دو راہ راست پر نہ آئے ، اپنی بد عہدیوں اور نافرمانیوں سے باز نہ آئے۔ ایک نشانی اللہ تعالی نے یوں دکھائی کہ بنی اسرائیل میں ایک قتل ہوا ، تو اس قتل کی گتھی سلجھانے کے لیے اور قاتل کو بے نقاب کرنے کے لیے اللہ تعالی نے انھیں حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس گائے کا کوئی ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر لگاؤ تو وہ زندہ ہو جائے گا چنانچہ جب گائے ذبح کر کے اس کا ٹکڑا لگایا گیا تو دو زندہ ہوا اور اس نے بتا دیا کہ اسے فلاں نے قتل کیا ہے، یہ بتانے کے بعد پھر وہ اسی حالت میں چلا گیا تو قاتل نے انکار کر دیا اور کہا کہ اس نے قتل نہیں کیا، اس واضح نشانی کے بعد بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا، اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کے دلوں کی سختی کا کیا عالم ہوگا ، چنانچہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں کی سختی کو اک تشبیہ کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۷۴﴾ (البقرة:74)
’’مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد آخر کار تمہارے دل سخت ہو گئے، پتھروں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ اُن سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بنتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی اللہ کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔‘‘
تو پھر اس قدر سخت ہونے کے باوجود بھی اللہ کے خوف سے کانپتے اور گر پڑتے ہیں، مگر بے فکر انسان اس سنگ سے بھی زیادہ سنگدل ہے، تو ایسا دل جو نصیحت قبول نہیں کرتا وہ سخت ہے، اور سخت دل نصیحت قبول کرتا ہے اور نہ کسی تنبیہ اور تہدید کا اثر لیتا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾(الانعام:43)
’’پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو انہوں نے ہماری منت سماجت کیوں نہ کی، ہمارے سامنے عاجزی کیوں اختیار نہ کی، اور ہمارے حضور گڑ گڑائے کیوں نہ ؟ مگر ان کے دل سخت ہو گئے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں شیطان نے اسے ان کی نظروں میں مزین کر دیا۔‘‘
گویا انہیں اطمینان دلایا ہے کہ تم بالکل صحیح کر رہے ہو یعنی جو کچھ تم کر رہے ہو یہی اصل کرنے کا کام ہے، یہی وقت کا تقاضا ہے اور اس میں ملک وقوم کی خدمت ہے، اس لئے لگے رہو اپنی اور اپنے بچوں کی فکر اور آخرت کا ذکر چھوڑو یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ اور پھر ایسی بے رخی اور بے اعتنائی کا انجام کچھ یوں ہوتا ہے کہ:
﴿فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ۴۴﴾ (الانعام:44)
’’اور پھر جب انہوں نے اُس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے اُن کے لئے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب تمکن ہو گئے، تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔‘‘
جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہو یا وہ سخت ہوں تو ان کے دل خصوصی طور پر شیطان کی آماجگاہ، اس کا نشانہ اور اس کا ہدف ہوتے ہیں، شیطان کے وسوسے، اس کے خیالات اور اس کے شکوک و شبہات سب سے زیادہ انہی دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
﴿لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ۵۳﴾ ( الحج:53)
’’یہ اس لئے کہ شیطان کے خلل اور رخنے اندازی اور اس کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دیا جائے اُن لوگوں کے لئے کہ جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہو یا جن کے دل سخت ہوں ۔ ‘‘
تو دلوں کی سختی ایک نہایت ہی خطرناک معاملہ ہے چنانچہ دل کی سختی کو قرآن پاک میں نہایت ہی شدید اور سنگین الفاظ میں بیان کیا گیا ہے فرمایا:
﴿اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۲۲﴾(الزمر:22)
’’کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالی نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے ان باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ۔ تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور سخت ہو گئے ۔‘‘
تو یہ بات تو واضح ہے کہ دل اگر سخت ہو تو اس پر نصیحت اثر نہیں کرتی ، آخرت کی باتیں ول میں نہیں بیٹھتیں، تو دلوں کی سختی ایک بہت بڑی بیماری ہے، بہت بڑی آزمائش اور ایک بہت بڑی سزا ہے۔
دل کی سختی ایک بہت بڑی بیماری اور آزمائش اس لئے ہے کہ آدمی کو اس کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہے حتی کہ بتانے پر بھی اُس کا احساس نہیں ہوتا اور نہ وہ ماننے کو تاہم اگر کوئی ایمانداری سے اور سنجیدگی سے اس کا جائزہ لینا چاہے اور جانا چاہے کہ کہیں وہ دل کی سختی کی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے تو وہ خود بھی جان سکتا ہے، ورنہ وہ کسی روحانی امراض کے ماہر سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔
دلوں کی سختی جانچنے کے خواہشمند حضرات کے لئے اس کی چند علامات کا ذکر کرتے ہیں۔ گھر اپنے اپنے دل کی سختی جانچنے کے لئے ، کہ دوسروں کے دلوں کی سختی جانچنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوگا، بلکہ نقصان ہی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کی سختی سے غافل ہو جائیں گے۔
اس بیماری کی علامات میں سے ایک علامت ہے: آنکھوں کا جامد اور خشک ہو جانا، آنکھوں میں آنسو نہ آنا، آنکھوں میں قحط پڑ جانا۔
اور امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(( وَمَتَى أُقْحِطَتِ الْعَينُ مِنَ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، فَأَعْلَمْ أَنَّ قَحْطَهَا مِنْ قَسْوَةِ القلب)) (بدائع الفوائد: 1200)
’’اور جب اللہ کے ڈر سے آنکھوں سے آنسو ٹپکنے بند ہو جائیں تو پھر جان لو کہ آنکھوں کا وہ قحط اور خشک سالی دل کی سختی کی وجہ سے ہے۔‘‘
ہم اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کہیں ہماری آنکھیں بھی اللہ کے خوف سے بہنے والے آنسوؤں کے حوالے سے قحط سالی کا شکار تو نہیں ہیں؟
اللہ کے ڈر سے آخری بار ہماری آنکھوں سے کب کوئی آنسو نیکا ؟ اللہ کے ڈر سے بنے والے آنسوؤں کی بات کر رہا ہوں میں ان آنسوؤں کی بات نہیں کر رہا جو بھرے مجمعے میں لمبی لمبی دعائیں کرتے ہوئے بہائے جاتے ہیں، یا کسی منبر پر کھڑے ہوکر رقت بھری آواز کی
صورت میں دکھائے جاتے ہیں، بلکہ ان آنسوؤں کی بات کر رہا ہوں جو رات کی تاریکی میں اور تنہائی اور خلوت میں خالص اللہ کے ڈر سے بہنے لگتے ہیں، کتنا خوش قسمت ہے وہ انسان اور کتنی خوش نصیب ہے وہ آنکھ کہ اللہ کے ڈر سے جس سے کوئی آنسو ٹپک پڑیں۔
وہ سات خوش نصیب انسان کہ قیامت کے دن اللہ تعالی جنہیں اپنا سایہ نصیب فرمائیں گے ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہے کہ اللہ کے ڈر سے جس کی آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے ہوں۔
((وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهِ خَالِيًا فَقَاضَتْ عيناه)) (صحیح بخاری:660)
’’اور ایک وہ شخص کہ خلوت میں جب اُس نے اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔‘‘
کوئی دنیا دار اور سنگدل انسان ایسی آنکھ کی قدر و قیمت کیا جانے اور اس سے بہنے والے ایک آنسوگا، جو خالص اللہ کے خوف سے بہا ہو، مقام و مرتبہ کیا سمجھے!
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( عَيْنَانَ لا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سبيل الله)) (ترمذي:1639)
’’دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روپڑی ہو اور ایک دو آنکھ جس نے اللہ تعالی کی راہ میں پہرہ دیتے سے ہو ہوئے رات گزاری ہو ۔‘‘
اور فرمایا:
(( لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضرع )) ( ترمذي:1633)
’’وہ شخص جو اللہ کے ڈر سے روپڑا ہو جہنم میں نہیں جائے گا جب تک دودھ تھنوں میں نہیں لوٹ جاتا، یعنی ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا۔‘‘
مگر افسوس کہ آج ان آنسوؤں کے قدر دان خال خال ہی نظر آئیں گے ۔ وہ ہمارے اسلاف ہی تھے جو اللہ کے ڈر سے بہنے والے آنسوؤں کی قدر و قیمت سمجھتے تھے، حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
(( لَأَنْ أَدْمَعَ دَمْعَةً مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ بألف دينار )) (شعیب الايمان:816)
’’مجھے اللہ تعالی کے ڈر سے ایک آنسو بہانا ، ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘
آج ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں کبھی اللہ کے ڈر سے آنسو بہانے کی سعادت نصیب ہوئی ہو، یا اس کے حصول کی کبھی کوشش کی ہو، یا کبھی اس کی ضرورت محسوس کی ہو، شاید کم ہی ایسے خوش نصیب ہوں گے جنہوں نے کبھی اس کی ضرورت ہی محسوس ہو۔
خیر یہ تو ایک الگ موضوع ہے، بات ہورہی تھی دل کی سختی کی کہ اگر کوئی جاننا چاہے کہ اُس کا دل سختی کا شکار ہے یا نہیں ، تو وہ اس کی علامات دیکھ کر اپنا حال معلوم کرلے، اور اُن علامات میں سے ایک آنکھوں میں قحط پڑ جاتا ہے۔ اور ایک علامت وعظ و نصیحت کا اثر نہ ہوتا ہے، حکم یہ ہے کہ جو اللہ کی تنبیہ سے ڈرتا ہو اسے قرآن سے نصیحت کی جائے۔
﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠۴۵﴾ (ق:45)
’’جو اللہ کی وعید اور تنبیہ سے ڈرے اسے قرآن سے نصیحت کیجئے ۔‘‘
اور اللہ تعالی کے ڈر اور خوف کی اہمیت اور شرف وفضیلت کا اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالی نے ان اہل ایمان کی تعریف کی ہے کہ قرآن سن کر جن کے دل کانپ جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ۲﴾(الانفال:2)
’’ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔‘‘
اور اس کے برعکس کچھ وہ لوگ ہیں جن پر قرآن کا کچھ اثر نہیں ہوتا، ان کی اس کیفیت پر افسوس کا اظہار کرتے اور انھیں وعید سناتے ہوئے فرمایا:
﴿وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰی عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴾ (الجاثيہ:7)
’’ تباہی ہے ہر اس جھوٹے بد اعمال شخص کے لئے جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور دو ان کو سنتا ہے پھر از راہ تکبر اپنی اسی حالت پر مصر رہتا ہے گویا کہ اُس نے ان کو سنا ہی نہیں ۔‘‘
تو نصیحت کی باتیں سن کر اور قرآن سن کر اثر نہ لینا دل کی سختی کی ایک علامت ہے اور اسی طرح دیگر متعدد نشانیوں میں سے ایک نشانی اور علامت یہ بھی ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور حوادث زمانہ سے نصیحت نہیں لیتا جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ۱۲۶﴾(التوبة:126)
’’ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، مگر اس پر بھی نہ تو بہ کرتے اور نہ سبق لیتے ہیں ۔‘‘
اسی طرح اور بھی علامات ہیں، مگر ہمیں کچھ اسباب کا جائز و بھی لینا ہے کہ دلوں کی سختی کے اسباب و وجوہات کیا ہیں۔ دلوں کی سختی کے اسباب تو بہت زیادہ ہیں جیسے لمبی لمبی امیدوں میں گم رہنا، نماز با جماعت کا اہتمام نہ کرنا، قرآن پاک کی تلاوت نہ کرنا، خرید و فروخت میں حلال اور حرام کی تمیز نہ کرنا، لوگوں کو حقیر جانتا، مال و دولت پر اثر اناء برے دوستوں کی صحبت اختیار کرنا وغیرہ۔ غرضیکہ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں من ہونا اور آخرت کو بھول جاتا، جن کے پاس دولت ہے وہ تو اس کے نشے میں اور اس کی لذت میں گم رہتے ہیں اور جن کے پاس نہیں ہے وہ اس کے حصول کی سعی و جہد میں اور اس کے تصور میں گم رہتے ہیں۔
دلوں کی سختی کا علاج: انہی کوتاہیوں کو دور کرنا ہے یعنی لمبی لمبی امیدیں نہ باندھیں، نماز با جماعت کی پابندی کریں، قرآن پاک کی تلاوت پابندی سے کریں، نوافل کا اہتمام کریں، چاہے تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں ، اخلاص کے ساتھ ادا کی گئی دو رکعتیں بھی اللہ کے حضور اتنی قیمت پاتی ہیں کہ انسان تصور نہیں کر سکتا۔
مثالا فجر کی دو سنتوں کی اللہ تعالی کے ہاں ایسی قدر و قیمت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: (( رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا )) (بخاری:2840)
’’فجر کی دورکعتیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔‘‘
اور فجر کی سنتیں فرض نہیں ہیں بلکہ نوافل میں آتی ہیں البتہ بہت زیادہ اہمیت ، فضیلت اور اجر و ثواب کی حامل ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: (( لم يكن النبي على شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا على ركعتي الفجر )) (بخاري:1163)
’’ آپﷺ نوافل میں سے فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ کسی چیز پر سخت پابندی نہیں کرتے تھے۔‘‘
غرضیکہ دلوں کی تختی دور کرنے کے لیے کوئی بھی نیک اعمال کیے جاسکتے ہیں، چاہے وہ کتنے چھوٹے اور بظاہر معمولی ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((أَتُحِبُّ أَنْ يَلِينَ قَلْبُكَ ، وَتُدْرِكَ حَاجَتَكَ إِرْحَمِ الْيَتِيمَ وَامْسَحُ رَأْسَهُ وَأَطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِكَ، يَلِنْ قَلْبُكَ، وَتُدْرِكْ حَاجَتَكَ)) (صحيح الجامع:80)
’’کیا تم چاہتے ہو کہ تمھارا دل نرم ہو اور تمھاری ضرورتیں پوری ہوں؟ تقسیم کے ساتھ شفقت کرو اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اپنے کھانے میں سے کھانا کھلاؤ، تمھارا دل نرم ہوگا اور تمھاری حاجتیں پوری ہوں گی ۔‘‘
اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
اقول قولي هذا واستغفر الله العظيم لي ولكم ولسائر المسلمين من كل ذنب انه هو الغفور الرحيم.
……………………