آئیڈیل ازم اک فطری ضرورت

آئیڈیل ازم اک فطری ضرورت

﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ۠۝۹۰﴾(الانعام:90)

گذشتہ جمعے بات ہو رہی تھی کہ آئیڈیل ازم ایک گمنام حقیقت ہے، یعنی ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے اکثر لوگ واقف نہیں ہیں، مگر نہ جانتے ہوئے بھی پوری طرح اس کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، لیکن جان کر جینے سے اس کے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں اور اس کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ اور آئیڈیل ازم کی حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنا کوئی نہ کوئی آئیڈیل ضرور رکھتا ہے، یہ انسان کی ضرورت بھی ہے اور وہ دل میں اس کی طرف ایک فطری میلان اور رجحان بھی رکھتا ہے۔

اور آئیڈیل ازم کے بارے میں دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کسی نہ کسی لحاظ سے خود بھی دوسروں کا آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے، جانتے ہوئے یا نہ جانتے ہوئے، چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے وہ کسی نہ کسی کا آئیڈیل ضرور بن رہا ہوتا ہے۔

اور دونوں صورتوں میں آدمی اللہ تعالی کے ہاں جوابدہ ہے کہ اگر کسی کو اپنا آئیڈیل بنایا تو کیوں ، یعنی کسی بنیاد پر اور جو دوسروں کے لئے آئیڈیل بنا تو کسی چیز میں۔

دوسروں کو اپنا آئیڈیل بنانے کے بارے میں تو بات ہو چکی کہ ہمارے حقیقی اور الٹی میٹ آئیڈیل تو انبیاء علیہم السلام  ہیں اور بالخصوص رسول کریمﷺ کی ذات اقدس ہے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ۝﴾(الاحزاب:21)

’’یقینًا  تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔‘‘

 یعنی رسول کریم ﷺکو اپنا آئیڈیل ، اسوہ اور نمونہ ماننے کا زبانی دعوی بے شک کوئی کرتا ہوا مگر حقیقتا اور عملا وہی اس سے مستفید ہوگا جو اللہ کی ملاقات کا اور یوم آخرت کے وقوع پذیر ہونے کا امیدوار ہو اور یقین رکھتا ہو اور غافل نہ ہو بلکہ کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہو۔ تو رسول کریمﷺ تو ہمارے حقیقی، حتمی اور لازمی آئیڈیل اور نمونہ ہیں، آپﷺ کو اپنا آئیڈیل بنانے یا نہ بنانے کا کسی مسلمان کو اختیار نہیں دیا گیا، بلکہ ہر حال میں اپنا آئیڈیل ماننا ہر اس شخص کے لئے لازمی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یعنی جو مسلمان ہو۔

اسی طرح آپ ﷺکے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کو بھی قرآن و حدیث کے حکم کے مطابق اپنا آئیڈیل ماننا لازمی اور ضروری ہے جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۚ﴾ (البقرة:137)

’’اگر لوگ اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ( یعنی نبیﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) ایمان لائے تو تب وہ ہدایت پر ہیں۔‘‘

اور حدیث میں ہے آپ ﷺنے فرمایا:

((وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثِ وَسَبْعِينَ مِلَّةَ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةَ وَّاحِدَةً))

’’میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ، ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے‘‘

((قَالُوا: وَمَنْ هِي يَا رَسُولَ اللهِ؟))

’’صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم  نے عرض کیا: اور  وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟‘‘

((قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحابی (سنن ترمذی:2641)

’’فرمایا: جس کا منہج اور عقیدہ اور طرز زندگی اس عقیدے کے مطابق ہوگا۔ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔‘‘

تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم  کا فہم، اُن کا منہج اور عقید ہ ہمارے لئے اسود، نمونہ اور معیار ہے، اگر اس طرز پر ایمان لائیں گے تو ہمارے ہدایت پر ہونے کی سند جاری ہو سکتی ہے، ورنہ اللہ تعالی کی سخت وعید کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠۝۱۱۵﴾ (النساء:115)

’’جو شخص راہ ہدایت واضح ہو جانے کے باوجو د رسول سے کا خلاف کرے اور مؤمنوں کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے ہم جہنم میں جھونکیں گے، جو بدترین جائے قرار ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں جن اہل ایمان کے طریقے کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اختیار کرنے پر جو وعید سنائی گئی ہے تو اس سے مراد کون اہل ایمان ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس وقت صرف صحابہ کرام ہی موجود تھے، تو ان کے طریقے کو چھوڑنے پر جہنم کی وعید ہے، لہذا ان کی سمجھ ان کا منبع اور ان کا طریقہ اور راستہ ہمارے لئے آئیڈیل، معیار اور اسوہ و نمونہ ہے۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما  فرماتے ہیں:

(مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَاسِّیًا فَلَيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٌ))

’’تم میں سے جو کوئی کسی کی پیروی کرنے والا اور اقتدا کرنے والا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی اقتداء کرے۔‘‘

 ((فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا وَأَقْوَمَهَا هَدْيًا وَّأَحْسَنَهَا حَالًا))

’’اس لئے کہ وہ اس امت کے صالح ترین دل رکھتے تھے سب سے گہرا علم رکھتے تھے اور سب سے کم تکلف والے تھے سب سے سیدھی اور درست روش والے تھے اور بہترین احوال والے تھے۔‘‘

(( قَوْمًا إِخْتَارَهُمُ اللهُ لِصُحْبَةِ نَبِيْهِ فَاعْرِفُوا لَهُم فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ فِي آثَارِهِمْ))

’’وہ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کے ساتھ کے لئے چنا ان کے مقام و مرتبے کو پہچانو اور ان کی فضیات کی قدر جانو ان کے طرز زندگی کو اپناؤ ان کے نقش قدم پر چلو۔‘‘

(( فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقيم)) (جامع بيان العلم وفضله ، رقم:1810)

’’وہ یقینًا  با لکل سیدھی ہدایت پر تھے ۔‘‘

تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی  عنہم  کے نقش قدم پر چلنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ قرآن و حدیث کا حکم ہے اور اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہی لوگ دین کے محافظ اور امین تھے انہی کے ذریعے ہم تک یہ پیغام پہنچا اور اللہ تعالی نے خصوصی طور پر انہیں اس کام کے لئے منتخب فرمایا تھا اور صحابی کا عمل حجت ہوتا ہے۔ بشرطیکہ کسی اور صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا اس میں اختلاف ثابت نہ ہو۔

تو آپ ﷺکے بعد صحابہ کرام  رضی اللہ تعالی عنہم ہمارے لئے آئیڈیل ہیں اور پھر ان ن کے بعد دنیا کے معاملات میں جس کو چاہیں اپنا آئیڈیل بنائیں، بشرطیکہ انہیں آئیڈیل بنانا کسی لحاظ سے بھی دین سے متصادم نہ ہو۔

کسی کو اپنا آئیڈیل بنانا، جیسا کہ گذشتہ جمعے بات ہوئی تھی کہ زندگی میں کوئی نہ کوئی آئیڈیل ، نمونہ اور مثالی شخصیت ہونا انسان کی ضرورت ہے۔ اور اس کی فطرت میں ہے، لہذا مثالی شخصیت کی ضرورت کی طرف وہ ایک فطری اور طبعی میلان رکھتا ہے۔

اور آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ معاشرے میں یہ ایک معمول کی بات ہے کہ کوئی بڑی عمر نے ملاحظہ کہ کا شخص کسی نوجوان سے کہتا ہے کہ تم فلاں شخص کی طرح بنو یا کوئی بچہ کسی سے کہتا ہے کہ میں تو فلاں شخص کی طرح بنوں گا، تو اس طرح کے تمام الفاظ گویا کہ آدمی کی اس حالت کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں جس میں وہ اپنے لئے کسی آئیڈیل کی طلب و جستجو کرتا ہے۔

 چیزوں کو ایکسپلور کرنے اور ان کی کیفیت اور ماہیت جاننے کی طلب و جستجو اور تجس اور رغبت انسان کی فطرت میں شدت کے ساتھ موجود ہے، وہ جاننا چاہتا ہے کہ کوئی مشین کس طرح کام کرتی ہے، پودے کسی طرح اگتے اور پرندے کیونکر اڑتے ہیں اور جب وہ جان لیتا ہے تو اسے گو یا تسکین نفس مل جاتی ہے اور اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے۔ اور کچھ ایسی ہی تسکین نفس اور اطمینان قلب کی خواہش نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے رب سے سوال کرنے پر راغب کیا کہ:

﴿رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ﴾ (البقره:260)

’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کسی طرح زندہ کرتا ہے !‘‘

 اگر چہ ابراہیم علیہ السلام کو وہ جواب تو نہ ملا جس کی وہ توقع کرتے تھے اور وہ یہ کہ مردہ کو زندہ کرنے کی عملی شکل اور ترکیب کیا ہے۔ اس کے بجائے اللہ تعالی نے اس کا اثر اور انجام دکھا دیا، زندہ کرنے کی عملی تشریح نہیں دکھائی بلکہ زندہ کرنے کا اثر دکھایا، کہ جس سے یہ پتہ تو چلتا تھا کہ اللہ تعالی نے ایک مردہ چیز کو زندہ کر دیا مگر یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ کیسے اور یہ اس لئے کہ مردہ کو زندہ کرنے کی عملی ترکیب اور کیفیت کو سمجھتا عقل انسانی کی بساط سے بالاتر ہے، تو زندگی میں آدمی کے لئے اسود ، نمونہ اور آئیڈیل ہونا بہت سے پہلوؤں سے نہایت ضروری ہے۔

مثلاً: جب ہم کسی بچے کو، یا جو شخص نیا نیا مسلمان ہوا ہو، نماز سکھانا چاہیں تو ضروری ہوتا ہے کہ الفاظ میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عملی تشریح بھی دکھائی جائے ، ورنہ عبادات کے نہایت بسیط ، سادہ اور آسمان اعمال کو سمجھنا بھی ان کے لئے مشکل ہوتا ہے، جیسا کہ رکوع و جود وغیرہ اور اسی طرح نماز کی دیگر حرکات و سکنات اور مناسک حج وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی طالب علم چاہے کتنی ہی سمجھ بوجھ کیوں نہ رکھتا ہو، کتنی ہی فہم و فراست کا مالک کیوں نہ ہو مگر استاد کی بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ذہن نشین کرنا اس کے لئے آسان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی عملی وضاحت نہ کی جائے عملی تشریح کے ذریعے، ہاتھ کے ہے اشاروں اور بورڈ پر ڈائیگرام وغیرہ بنا کر نہ کی جائے، گویا کہ الفاظ سے زیادہ عملی نمونے کا انسان پر اثر ہوتا ہے۔

چنانچہ یہ مقولہ کتنا حقیقت پسندانہ ہے کہ:

((رَجُلٌ فِي اَلْفِ رَجُلٍ، أَقوَى مِنْ قَوْلِ أَلْفِ رَجُلٍ لِرَجُلٍ))

’’ ہزار آدمی پر کسی ایک آدمی کا ہوتا ، ہزار آدمیوں کی باتیں کسی ایک آدمی کے لئے ہونے سے زیادہ قوی ہے۔‘‘

یعنی ہزار آدمیوں کے نصیحت آموز اقوال لکھ کر کسی ایک آدمی کو تھما دیئے جائیں کہ انہیں پڑھے اور ان پر عمل کرے، وہ ہزار آدمیوں کے ہزاروں اقوال کی ایک آدمی پر اتنا اثر انداز نہیں ہوتے، جتنا کسی ایک آدمی کا ہزار آدمیوں پر نگران اور منتظم بن کر ان کی رہنمائی کرنا موثر ہوتا ہے۔

اور آپ معاشرے میں اس کا عملی نمونہ دیکھتے ہیں کہ فورمین، سپروائزر، منیجرسی ای او، یا حکومتی اداروں کے سربراہان ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔ اور عام عوام کا یہی مزاج اور طرز عمل ہے کہ وہ کسی ایک شخص، قبیلے، ادارے، پارٹی یا جماعت کو اپنا اپنا آئیڈیل بنا کر ہر قسم کی سوچی، فکر اور حق کی جستجو سے دست بردار ہو جاتے ہیں اور اندھی پیروی کرنے لگتے ہیں، بلکہ یہ معلوم ہو جانے کے باوجود کہ ان کا آئیڈیل غلط راستے پر ہے، اس کو فالو کرنے پر مصر ہوتے ہیں۔

عمومًا تو یہ طرز عمل کفار اور منکرین حق کا ہوتا ہے اور وہ اپنے اس موقف کا بر ملا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں:

﴿اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ۝۲۳

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰی مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ۝﴾ (الزخرف:23۔24)

’’ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں، ہر نبی نے ان سے پوچھا: کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اس راستے سے زیادہ صیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے کہا: بہر حال جس دین کی طرف تم بلانے کے لئے بھیجے گئے ہوا سے ہم نہیں مانتے۔‘‘

 یعنی  وہ صیح اور غلط جاننے کی بحث میں ہی نہیں پڑنا چاہتے ، وہ جانتا ہی نہیں چاہتے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، وہ آرام سے کہہ دیتے ہیں ہم جہاں لگے ہیں ٹھیک لگے ہیں۔

اور جو لوگ تھوڑی بہت بحث کی جرات کر لیتے ہیں وہ بھی بس اتنا ہی کہتے ہیں: کیا ہمارے بزرگ سارے غلط تھے؟ انہیں دلائل سے صحیح اور غلط جاننے کی فکر نہیں ہوتی، بلکہ جو آئیڈیل انہوں نے اپنے لئے بنا رکھے ہوتے ہیں صرف ان کے دفاع کی فکر ہوتی ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ انہیں بغیر کسی دلیل کے صحیح مان لیا جائے۔

چنانچہ پہلے تو اللہ تعالی نے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے رب سے بغاوت کریں وہ اپنے جرم کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؕ قَالُوْا بَلٰی ۛۚ شَهِدْنَا ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ۝۱۷۲ اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۝۱۷۳﴾(الاعراف:172۔ 173)

’’اے نبی (ﷺ) لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا: ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں، یہ ہم نے اس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم اس بات سے بے خبر تھے، یا یہ نہ کہو کہ: شرک کی ابتداء تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو اُن کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا۔ ‘‘

تو ایک تو اللہ تعالی نے ازل میں ان سے اس بات کا اقرار لے لیا اور ان کی اس محبت کا خاتمہ کر دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کو فالو کرتے ہیں۔ اور پھر انبیاء و رسل علیہم السلام کو بھیج کر اللہ تعالی نے ان کی دوسری حجت بھی ختم کر دی کہ کوئی ایسی آئیڈیل شخصیت بھیج کر ہمیں خبردار کیا ہوتا کہ جس سے کسی غلطی کا امکان نہ ہو۔

جیسا کہ اہل کتاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

﴿یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰی فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ ؗ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠۝۱۹﴾(المائدة:19)

’’اے اہل کتاب ہمارا یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم دے رہا ہے، جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا، تا کہ تم یہ سے بند تھا، تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو دیکھو! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

ہمیں اس ساری گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ زندگی میں انسان کے لئے کسی آئیڈیل ، نمونہ اور مثالی شخصیت کا ہونا ضروری ہے اور یہ کہ انبیاء علیہم السلام ہی  اصلی حقیقی اور کامل آئیڈیل ہیں اور ان کے بعد صحابہ کرام بینی میں آئیڈیل ہیں اور پھر ان کے بعد کسی کو اپنا آئیڈیل بنانا ایک بہت بڑا حساس معاملہ ہے، لہذا اس کے لئے بہت زیادہ چھان پھنک اور تحقیق و تمحیص کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر جتنا یہ معاملہ حساس ہے اس قدر ہم اس معاملے میں لا پرواہ ہیں، جو کہ انتہائی خطر ناک اور سنگین بات ہے۔

 آئیڈیل بنانے کے بارے میں تو ہم نے جانا، مگر ایک اس کا دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ بھی اتنا ہی سنگین اور حساس ہے اور وہ یہ کہ ہر آدمی کسی نہ کسی شکل میں دوسروں کا آئیڈیل بن رہا ہوتا ہے۔ اس پر ان شاء اللہ دوجمعوں کے وقفے کے بعد گفتگو ہوگی۔

اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين .

………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں