*جماعت اہل حدیث ، جہاد اور علامہ امن پوری صاحب*

*جماعت اہل حدیث ، جہاد اور علامہ امن پوری صاحب*

عمران محمدی
عفا اللہ تعالیٰ عنہ

جہاد فلسطین کے حوالے سے مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں حضرت صاحب نے جہاد فی سبیل اللہ کو دبے اور کھلے الفاظ میں ایسے انداز میں بیان کیا کہ جو کسی طور بھی درست اور مناسب نہیں ہے
اور اس سے ہر وہ شخص جسے جہاد کے ساتھ تھوڑی سی بھی لگن ہے، بے حد پریشان ہوا اور مختلف لوگوں کی طرف سے اس پر شدید رد عمل بھی دیا گیا
اس بیان کی آڑ میں بعض لوگوں نے مسلک اہل حدیث کے خلاف خوب اظہارِ نفرت شروع کر دیا
کس نے کہا کہ یہ مسلک بنا ہی انگریز کے دفاع کے لیے ہے
کسی نے وکٹورین پیداوار کا طعنہ شروع کردیا
کسی نے انگریز کے وفادار کہنا شروع کر دیا
کسی نے مرزا قادیانی کے ساتھ جوڑتے ہوئے مسلک اہل حدیث کو جہاد مخالف باور کروانا شروع کر دیا
الغرض
امن پوری صاحب کے ایک بیان کو لے کر یاروں نے مسلک اہل حدیث پر خوب ہاتھ صاف کیے
کیا واقعی مسلک اہل حدیث کا نظریہ جہاد وہی ہے جو امن پوری صاحب نے بیان کیا ہے
کیا باقی سلفی علماء کرام اس موقف میں امن پوری صاحب سے متفق ہیں؟

ذیل کی چند سطور میں مسلک اہل حدیث اور احیاءِ نظریہءِ جہاد کے متعلق چند گزارشات پیش کرتا ہوں تاکہ مسلک پر کیچڑ اچھالنے والوں کو حقیقت سے واقفیت ہو سکے

مسلک اہل حدیث کی جہادی سرگرمیوں پر مشتمل ماضی کے تاریخی حوالے بیان کرنا شروع کروں تو بیسیوں ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک کتاب معرض وجود میں آ جائے
تاہم اختصار کے پیش نظر زمانہ حال سے چند مثالیں پیش کرتا ہوں

نوے کی دہائی سے لے کر آج 2025 تک نہ صرف وطن عزیز پاکستان بلکہ پورے خطہ برصغیر میں جہاد کی نسبت سے اگر کوئی جماعت سب سے زیادہ معروف ہے تو وہ مسلک اہل حدیث سے ہی تعلق رکھنے والی ایک جماعت ہے جس کا نام کبھی لش کر طیبہ تو کبھی کچھ اور رکھا گیا

اسی دوران صرف کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لیے دس ہزار سے زائد اہل حدیث نوجوان جام شہادت نوش کرگئے یہ اعزاز کسی اور جماعت کو حاصل نہیں ہے اور ان شہادتوں کے پیچھے فقط اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کا جذبہ تھا ورنہ کشمیریوں کے ساتھ اور کوئی تعلق نہیں تھا

اور یہ دس ہزار شہادتیں صرف شہادتیں ہی نہیں ہیں بلکہ ان شہادتوں کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان میں جہاد فی سبیل اللہ کے احیاء کی ایسی لہر اٹھ چکی ہے کہ جسے دبانا اب بہت حد تک ناممکن ہو چکا ہے

اردو زبان میں "الجہاد الاسلامی” نام سے ایک کتاب لکھی گئی ہے کہ جسے جہاد کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے اردو زبان میں اس قدر ضخیم اور جہاد کے سبھی پہلوؤں پر محیط کتاب معرض وجود میں نہیں آئی تھی اس کتاب کے مصنف مسلک اہل حدیث کے مایہ ناز عالم مفتی عبدالرحمن رحمانی رحمہ اللہ ہیں
اس کے علاوہ بھی اس موضوع پر بے شمار کتب مسلک اہل حدیث کی طرف سے شائع ہوئی ہیں مثال کے طور
"زاد المجاہد” از سیف اللہ خالد حفظہ اللہ تعالیٰ
"تفسیر سورہ توبہ” از علامہ محمد سعيد گجر حفظہ اللہ تعالیٰ
"فدائی دستے” از عبدالرحمن بہاولپوری رحمہ اللہ
"ہم جہاد کیوں کررہے ہیں” از عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ
"شہید کا غائبانہ نماز جنازہ” از مفتی احسان الحق شہباز
"قافلہ دعوت و جہاد” از مولانا امیر حمزہ
اس کے علاوہ "مقالات جہاد”، "الرحیق المختوم”، "شہسوار صحابہ” ،”صحابہ کا شوق شہادت "اور دیگر بے شمار کتب مسلک اہل حدیث کی جہاد فی سبیل اللہ سے محبت اور وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے

جہاد افغان اور جہاد کشمیر کی نیوز سے اپ ڈیٹ کرنے اور تحریض و تحریک کے لیے "جہاد ٹائمز” کے نام سے ایک عرصہ تک اخبار شائع ہوتی رہی جو بعد میں غزوہ اور پھر جرار کے نام سے چلتی رہی اس اخبار کے نام ہی اخبار کی حقیقت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں

وطن عزیز پاکستان کے باسیوں کی اکثریت نے لفظ مع سک رات، استاذ ال مجا ہد ین ،امیر ال مجا ہد ین، شہید کا غائبانہ نماز جنازہ ، فدائی، اور بے شمار جہ ا دی اصطلاحات سنی ہی مسلک اہل حدیث کے علماء سے ہیں

اہل حدیث کے بڑے علامہ محمد سعید گجر صاحب اپنے استاد شیخ بن باز رحمہ اللہ کے متعلق فرماتے ہیں ایک دفعہ شیخ نے عصر کی نماز کے بعد جہاد افغان کے تعاون کا اعلان کیا تو ایک پورا کمرہ ریالوں سے بھر گیا

جب افغانستان میں روسی فوجیں داخل ہوئیں تو روس کو سب سے پہلے اور سخت رد عمل کا سامنا کنڑ اور نورستان کے علاقے سے ہوا جس کی قیادت اہل حدیث کے بڑے سرخیل اور بڑے عالم شیخ جمیل الرحمن رحمہ اللہ کررہے تھے اور یاد رہے کہ روس اور اس کے بعد امریکہ سب سے پہلے انہیں علاقوں سے بھاگے تھے

زیادہ نہیں تو صرف اتنا ہی دیکھ لیجیے کہ وطن عزیز پاکستان میں وہ کون سی شخصیت ہے کہ جس کے سر کی قیمت امریکہ کی طرف سے مقرر کی گئی ہے بھلا انگریز اپنے ایجنٹوں کے سر کی قیمت مقرر کرے گا؟

اب ذرا انصاف سے سوچئے کہ بھلا یہ لوگ انگریز کے ایجنٹ ہوسکتے ہیں ؟
ہرگز نہیں، جہاد تو مسلک اہل حدیث کا ہمیشہ سے طرہِ امتیاز رہا ہے افغانستان میں آنے والے روسی یا امریکی ہوں ،بغداد و دمشق میں آنے والے ہلاکو یا تاتاری ہوں ،فلسطین و اقصی پر قابض صلیبی ہوں یا کشمیر پر قابض گائے کے پجاری ہوں، ہر محاذ پر مسلک اہل حدیث ان غاصبوں اور ظالموں کے بالمقابل ڈٹ کر کھڑا نظر آتا ہے

امن پوری صاحب کے ایک واضح غلطی پر مبنی موقف کو لے کر اسے پوری جماعت اہل حدیث پر تھوپنا کہاں کا انصاف ہے؟
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے

یاد رہے کہ امن پوری صاحب کا یہ موقف جماعت اہل حدیث کا نمائندہ موقف ہرگز نہیں ہے، اور یہ بھی یاد رہے کہ تادم تحریر نہ صرف یہ کہ کسی بھی اہل حدیث عالم نے امن پوری صاحب کے اس موقف کی تائید نہیں کی بلکہ رد بھی کیا ہے

امن پوری صاحب کے ایک متنازعہ بیان کو لے کر آسمان سر پر اٹھانے والوں اور اہل حدیث کو انگریز کی پیداوار کہنے والوں کو حالیہ دنوں میں فلسطینی عوام کی مدد اور جہاد کے حق میں اہل حدیث کے بڑے عالم علامہ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب کا فتویٰ جہاد کیوں سنائی نہیں دیتا؟ اور جماعت اہل حدیث کی طرف سے ملک بھر میں ایک ایک شہر ہے فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے جلسے کانفرنسیں اور ریلیاں کون نکال رہا ہے؟

مفتی اعظم غزہ ڈاکٹر یوسف شوبکی اور الظہیر الناجی جیسے فلسطینی نمایندے وطن عزیز پاکستان میں کن کے مہمان ہیں؟ دیکھ کر خود ہی فیصلہ کیجئے

چند سال قبل اسلام آباد کے ایک بڑے پروگرام میں علامہ سعید گجر صاحب کے کان میں فلسطینی سفیر کی سرگوشی کسے یاد نہیں ہے؟

تھوڑا پیچھے چلیں تو تاریخ میں مسلک اہلحدیث باطل قوتوں بالخصوص انگریز کے بالمقابل ہر میدان میں پوری آب و تاب سے کھڑا نظر آتا ہے

1803ءمیں جب دہلی پر انگریز کا قبضہ ہو گیا اور نازک حالت میں مسلمان مختلف الخیال ہو گئے کوئی انگریز سے جہاد حریت کو جائز کہتا اور کوئی ناجائز ‘لیکن شاہ عبد العزیز کی عقابی نگاہوں نے فرنگی شاطرانہ چال کو بھانپ لیا اور یہ فتویٰ صادر کیا کہ تمام محبان وطن کا فرض ہے کہ غیر ملکی طاقت سے اعلان جنگ کر کے اس کو ملک بدر کئے بغیر زندہ رہنا اپنے لئے حرام جانیں
برصغیر کو ”دارالحرب“ قرار دینے کا فتویٰ سب سے پہلے شاہ عبدالعزیز نے دیا تھا۔ اس کے بعد تمام علما نے اس کی حمایت ہی کی۔ کسی نے بھی مخالفت نہ کی تھی

اور ان ہی کی منظم قیادت اور معتقدین میں سے وہ علمائے اہلحدیث پیدا ہوئے جنہوں نے انگریز کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہندوستان آزادی سے شرف یاب ہوا ،ان کے خون سے اب تک ہندوستان کے درودیوار لالہ رنگ ہیں ‘دراصل آزادی ہند علماے اہلحدیث ہی کی مرہون منت ہے۔

مولانا سید نذیر حسین دہلوی، مولانا حفیظ اللہ خان اور مولانا عبدالقادر جیسے جید علماء کرام نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا اور اپنے دستخط کئے
صرف فتویٰ تک اکتفاء نہیں کیا بلکہ علماء کرام نے بنفس نفیس جہاد میں شرکت بھی کی اور اس پر لوگوں کو تیار بھی کیا
یہی وجہ ہے کہ انگریز دور میں اونچی شلوار اور داڑھی والے علماء کرام تختہ مشق بنے رہے

شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی جو علمائے اہلحدیث کے سرخیل اور سرتاج تھے صرف اہلحدیث ہونے کی بنیاد پر انگریزی مقدمات کے لپیٹ میں آئے ان کے مکان اور مسجدوں کی تلاشی لی گئی راولپنڈی کے جیل خانے میں ایک سال تک نظر بند رکھے گئے ‘درحقیقت انگریز کو کسی تنظیم یا جماعت سے خطرہ تھا تو وہ صرف اہلحدیث ہی کی جماعت اور اس کے علماءو مشائخ تھے اور اسی وجہ سے راولپنڈی کی جیل میں میاں صاحب پر جبر کیا جاتا تھا کہ وہ ان ارکان اہلحدیث کے نام ظاہر کر دیں جو اس باغیانہ تحریک میں شامل تھے ۔مگر آپ استقلال کا پہاڑ بنے رہے

تحریک سیدین شہیدین سے کون ناواقف ہے اور سیدین بالخصوص شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا مسلک کس سے اوجھل ہے؟
مجاہدین کی یہ تحریک ہی تھی جس نے تقریباً سو سال تک انگریز کو پریشان کیئے رکھا
شورش کاشمیری مرحوم اپنی کتاب بوےگل، نالہ دل، دود چراغ محفل "میں لکھتے ہیں” یہ غلط ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے بنایا پاکستان حاصل اس نے کیا لیکن اس کی بنیاد سید احمد شہید نے رکھی”
سیدین شہیدین مئی 1831ء کو بالاکوٹ کے میدان میں شہید ہوئے

یہ ہمارے اسلاف تھے بھلا یہ لوگ انگریز کے ایجنٹ ہوسکتے ہیں ؟

تیسری الباری میں علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:
(یاد رہے! کہ انہوں نے یہ الفاظ اس زمانے میں لکھے ہیں جب ہند میں انگریز کی حکومت پورے عروج پر تھی اور وہ کسی ایسے مسلمان کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھا جو کسی طرح بھی جہاد سے تعلق رکھتا ہو اور یہ بھی یاد رہے کہ علامہ وحید الزمان نے صحیح بخاری کا یہ ترجمہ و تشریح نواب صدیق حسن خان صاحب کے حکم پر لکھی تھی آپ خود اندازہ کر لیں کہ ہند کے عامل بالحدیث علماء کا جہاد کے متعلق کیا عقیدہ وعمل تھا؟)

علامہ لکھتے ہیں:
"صحیح جہاد اسلام کا ایک رکن اعظم ہے اور فرض کفایہ ہے لیکن جب ایک جگہ ایک ملک کے مسلمان کافروں کے مقابلہ سے عاجز ہو جائیں تو ان کے پاس والوں پر ، اسی طرح تمام دنیا کے مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے اور اس کے ترک سے سب گناہ گار ہوتے ہیں اسی طرح جب کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھ آئیں تو ہر مسلمان پر جہاد فرض ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں پر بھی۔ ہمارے زمانے میں چند دنیا دار، خوشامد خورے، جھوٹے ، دغا باز مولویوں نے کافروں کی خاطر سے عام مسلمانوں کو بہکا دیا ہے کہ اب جہاد فرض نہیں رہا ان کو اللہ سے ڈرنا اور توبہ کرنا چاہیے جہاد کی فرضیت قیامت تک باقی رہے گی۔
(تیسیر الباری)

*علماء اہل حدیث قیامت تک جہاد کا ہراول دستہ رہیں گے*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ
میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پرغالب رہے گی ، ان کی مددنہ کرنے والے انہیں کو ئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں لکھا ہے
” لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ ". وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ.
صحيح البخاري | كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا :
وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ
یعنی وہ اہلِ علم ہیں

امام ترمذی نے کہا میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سناکہ میں نے علی بن مدینی کوکہتے سنا :
هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ
ترمذی :2229 ،صحيح
یعنی وہ اہل حدیث(حدیث کا علم رکھنے والے علماء) ہیں

معلوم ہوا کہ علماء اہل حدیث ہمیشہ سے حق کے دفاع کیلئے قتال کرتے رہیں گے
حتی کہ دجال کے فتنے کے خلاف بھی علماء اہل حدیث ہی میدان میں اتریں گے”
جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ ، حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ
سنن ابی داؤد 2484
سیدنا عمران بن حصین ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتا رہے گا اور وہ اپنے مقابل آنے والوں پر غالب رہیں گے حتیٰ کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے لڑائی کرے گا ۔ “

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں