مواقع غنیمت کو غنیمت جانیں

مواقع غنیمت کو غنیمت جانیں

﴿كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۝﴾(الاسراء:20)
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ افراد اور قوموں کی زندگی میں مواقع تخقیمت آتے رہتے ہیں، موقع نقیمت ایک ایسے وقت اور موقعے کو کہتے ہیں جو روز مرہ کے معمول سے ہٹ کر جو، انسان کی ترقی ، بہتری، فائدے اور کامیابی کے لئے ہو اور محدود وقت کے لئے ہو۔ ان مواقع سے استفادے کے حوالے سے لوگوں کی مختلف حالتیں ہوتیں ہیں:
٭کچھ لوگ نیند اور غفلت کی حالت میں ہوتے ہیں کہ موقع آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔
٭ کچھ لوگ بیدار تو ہوتے ہیں مگر موقعوں اور ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔
٭ کچھ لوگ موقعے کو سجھ تو رہے ہوتے ہیں، مگر ان مواقع کا حصول ان کی ترجیحات میں نہیں ہوتا۔
٭ کچھ لوگ مواقع کو سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں، اُن سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں مگر وہ دوسرے کاموں میں اتنا مگن اور مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اس موقعے سے استفادے کے لئے فرصت ہی نہیں ہوتی۔
٭ کچھ لوگ موقعوں کو سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں اور ان سے استفادہ بھی کرنا چاہتے مگر اس سوچ اور امید کے ساتھ اس موقع کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ابھی بڑی عمر پڑی ہے، پھر کوئی دوسرا موقع آئے گا تو استفادہ کر لیں گے۔
تو بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو موقع دیکھتے ہی فورا اس کی طرف لپک جاتے ہیں کہ اس سے مستفید ہوں، گویا کہ وہ شدت سے اس کے منتظر تھے۔
موقعوں کی فراہمی اور دستیابی اور اُن سے استفادہ انسان کی زندگی کا ایک بہت بڑا اور اہم معاملہ ہے، لہذا سب سے پہلے مواقع غنیمت کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔
افراد اور قوموں کی زندگی میں تبدیلی کا عمل مواقع کو نقیمت جاننے سے ہی ہوتا ہے ور نہ روٹین اور معمول کی زندگی تو محض زندگی کا ایک سرکل ہی ہوتا ہے، جس سے انسان کی زندگی میں دینی اور دنیوی لحاظ سے کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔
اور یہ اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر بہت بڑا انعام اور احسان ہے کہ انہیں زندگی میں مواقع فراہم کرتا رہتا ہے، ان کے دنیوی فوائد کے لئے بھی اور اخروی کامیابی کے لئے بھی ۔ اور کسی کو بھی اپنی عطاء اور فضل و انعام سے محروم نہیں رکھتا، جیسا کہ فرمایا
﴿كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۝﴾(الاسراء:20)
’’ہم ہر ایک کو بہم پہنچاتے ہیں، انہیں بھی اور انہیں بھی ، تیرے رب کے فضل و عطاء سے اور تیرے رب کی عطاء اور فضل و انعام محظور وممنوع نہیں ہے۔‘‘
یعنی دنیا کے طالب کو بھی اور آخرت کے طالب کو بھی اللہ تعالی رزق عطاء کرتے ہیں، انہیں انعامات سے نوازتے اور مواقع فراہم کرتے ہیں، ہر ایک کو یکساں اور برابر مواقع فراہم کرتے ہیں۔
وہ مواقع کچھ تو کبھی کبھار زندگی میں آتے ہیں اور کچھ وقتا فوقتا آتے ہی رہتے ہیں اور کچھ موسمی ہوتے ہیں کہ ہر سال اک خاص موسم میں آتے ہیں۔
انسان کی زندگی میں جو مواقع آتے ہیں ان کی بہت سی قسمیں اور بہت سی شکلیں اور صورتیں ہیں اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں آتے ہیں، لیکن انہیں آسانی کے لئے دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک قسم دنیا کے مواقع پر مشتمل ہے اور دوسری قسم آخرت سے تعلق رکھنے والے مواقع سے ہے۔ ہم انسان کی دنیا کی زندگی سے تعلق رکھنے والے مواقع کے حوالے سے فی الحال بات نہیں کر رہے، کہ انسان اُن کی ضرورت واہمیت کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور کافی حد تک ان کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے، اگر چہ کچھ لوگ اُس میں بھی اس قدر پست ہمت ہوتے ہیں کہ بھیک مانگنے کی ذلت تو برداشت کر لیتے ہیں مگر باعزت زندگی بسر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ :
مثلاً: ((سَمِعَ عُمَرُ سَائِلًا يَسْأَلُ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، فَقَالَ لِوَاحِدٍ مِنْ قَوْمِهِ عَشَّ الرَّجُلَ ، فَعَشَّاهُ))
’’ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو مغرب کے بعد سوال کرتے ہوئے سنا تو ایک شخص سے فرمایا: اسے کھانا کھلا دو، اس نے کھانا کھلا دیا۔‘‘
((ثُمَّ سَمِعَهُ ثَانِيَا يَسْأَلُ))
’’ پھر اسی شخص کو دو بارہ ما نگتے ہوئے سنا۔‘‘
((فَقَالَ : أَلَمْ أَقُلْ لَكَ عَشِّ الرَّجُلَ)) ’’تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ کیا میں نے تمھیں کہا نہیں تھا کہ اسے کھانا کھلاؤ؟‘‘ ((قَالَ: قَدْ عَشَّيْتُهُ)) ’’تو اس نے کہا: جی ہاں! میں نے اسے کھانا کھلا دیا ہے۔‘‘
((فَنَظَرَ عُمَرُ فَإِذَا تَحْتَ يَدِهِ مِخْلاةٌ مَمَلُوعَةٌ خُبْرًا))
’’تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی ہے جو روٹیوں سے بھری ہوئی ہے۔‘‘
((فَقَالَ: لَسْتَ سَائِلًا وَلَكِنَّكَ تَاجِرُ))
’’ تو فرمایا تم سائل نہیں ہو بلکہ تم تو تاجر ہو‘‘ یعنی تم ضرورت مند نہیں بلکہ یہ تمھارا کاروبار ہے۔
((ثُمَّ أَخَذَ الْمِخْلاةَ ونَثَرَهَا بين يدي إبل الصَّدَقَةِ، وَضَريَهُ بالدُّرَّهِ وَقَالَ: لَا تعد)) (إحياء علوم الدين / كتاب الفقر و الزهد)

’’تو حضرت عمر بھی ہند نے اس سے وہ تھیلی چینی اور اس میں جو کچھ تھا اسے صدقے کے اونٹوں کے سامنے پھیلا دیا، اور اسے دُرے سے مارا، اور فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا۔‘‘
اسی طرح ایک بار انہوں نے کسی کو یوم عرفہ کے دن مانگتے ہوئے دیکھا: ((إِنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ)) ’’انہوں نے عرفہ کے دن کسی کو لوگوں سے مانگتے ہوئے سنا۔‘‘
((فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ، وَفِي هَذَا الْمَكَانَ تَسْأَلُ غَيْرَ اللهِ؟ فَخَفَقَهُ بالدرة)) (جامع الأصول لابن الأثير: 7646)
’’ تو فرمایا: آج کے دن اور اس جگہ پر، یعنی میدان عرفات میں، اللہ کے سواکسی اور سے مانگ رہا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ نے اسے درے سے مارا۔‘‘
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ دنیا کے معاملے میں بھی ایسے پست ہمت ہوتے ہیں کہ موقع غنیمت کی جستجو کرنا تو بہت دور کی بات وہ روز مرہ اور معمول کی زندگی گزار نے کے لئے بھی ہاتھ پاؤں نہیں مارتے۔
یہ واقعات سن کر آپ لوگ ان آدمیوں کے بارے سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس قدر پست ہمت اور گئے گزرے تھے کہ اپنا پیٹ پالنے کے لئے بھی انہیں محنت و مشقت کی ہمت نہ ہوئی۔
مگر یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، وہ شاید اتنے بھی پست ہمت نہ تھے، اتنے بھی گئے گزرے نہ تھے، جتنا پست ہمت اور گیا گزرا وہ انسان ہے جسے آخرت کی اور حقیقی کامیابی کا موقع نقیمت میسر آئے اور وہ اسے نظر انداز کردے اور ٹھکرادے۔
جو آخرت کی کامیابی کے موقع غنیمت کو ٹھکرا دے وہ کتنا پست ہمت ، گیا گزرا، بد بخت اور بد نصیب انسان ہو گا! یہ آپ جانتے ہیں، اس لئے کہ وہ حدیث آپ لوگ ہر سال سنتے ہیں، جس میں جبریل علیہ السلام ایک ایسے ہی انسان کے لئے بددعاء کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر آمین فرماتے ہیں۔
((بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ)) (ترمذي: ٣٥٤٥)
’’دوری اور ہلاکت ہو ایسے شخص کے لئے جس نے اپنی زندگی میں رمضان المبارک کا موقع غنیمت پایا اور اپنے گناہوں کی بخشش حاصل نہ کر سکا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: آمین۔‘‘
رمضان المبارک ایک ایسا موقع نغیمت ہے جو ہماری زندگی میں واقع خلل کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے (لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ) ’’ تا کہ ہم تقوی حاصل کر پائیں‘‘
اور یہ اصلاح آخری درجے کی اصلاح ہوتی ہے۔ کوئی آدمی نیکی کرتا ہے تو اصلاح ہے، برائی سے باز رہتا ہے تو اصلاح ہے، مگر کوئی شخص زندگی اس طرح گزارتا ہو کہ ہر ہر بات ہر ہر فعل اور ہر ہر قدم پر پر جہیز اور اجتناب کی ایسی صورت اور کیفیت کہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہو آخری درجے کی اصلاح ہے جس کا نام تقوی ہے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس موقع غنیمت کو نظر انداز کرنے والوں کی ہمارے مسلم معاشروں میں کمی نہیں ہے، مگر اس سے بڑھ کر آپ نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہم میں کچھ ایسے بدقسمت لوگ بھی ہیں جو اس موقع غنیمت کو حاصل کرنے میں صرف سستی، کاہلی اور غفلت کا مظاہرہ ہی نہیں کرتے، بلکہ حقیقی معنوں میں وہ اسے ٹھکراتے ہیں اور وہ یوں کہ وہ اس مبارک مہینے میں عام دنوں سے زیادہ کام کرتے ہیں اور ان کی منطق یہ ہوتی ہے کہ اس مہینے میں بزنس چونکہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔ مگر وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ ہم سے پہلے یہ مثالیں گزر کر چکی ہیں کہ یہودیوں کو ہفتے کے روز مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا اور آزمائش کے لئے اس روز مچھلیاں زیادہ کر دیں۔ یہ اب آپ کی پسند ہے کہ آپ نے وہ موقع غنیمت حاصل کرنا ہے کہ جس میں بزنس زیادہ ہوتا ہے یا وہ موقع غنیمت کہ جس میں: فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَخُلِقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشياطين (صحيح البخاری:3277)
’’جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
جان لیجیے کہ یہ چند سو یا چند ہزار ڈالر کا بزنس تو کیا، اس دنیا کی ساری کی ساری دولت اور تمام کی تمام نعمتیں آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہیں۔
اللہ تعالی کی اس پیش کش کے مقابلے میں اس متاع قلیل کو اختیار کرنے والے کتنے ناداں ہیں کہ چند کلیوں پر قناعت کر بیٹھے، اور آپ دیکھتے ہیں کہ انہیں اس مبارک مہینے میں نہ تلاوت قرآن پاک کی توفیق ہوتی ہے، نہ اذکار و وظائف کی ، نہ تکبیرات و تسبیحات کی اور نہ نوافل کی ، بس کام ہی کام۔
سارے دن کے تھکے ہارے جب شام کو گھر لوٹتے ہیں تو تراویح میں شامل ہو کر وہ سمجھتے ہیں کہ نہوں نے رمضان المبارک کی عبادت کا حق ادا کر دیا ہے، مگر حقیقت میں یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ وہ عبادت بھی بھلا کوئی عبادت ہے، جو بے لذت و بے سرور ہو، جس میں حلاوت اور چاشنی نہ ہو، جو آدمی کے دل و دماغ پر، اس کی موت اور افکار پر جتنی کہ اُس کے جسم پر اثر انداز نہ ہو۔
عبادت وہ ہے جس کا آدمی کے چہرے پر اور اس کے پورے بدن پر بھی اثر ہوتا ہے۔
﴿سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ (الفتح:29)
’’سجدوں کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔‘‘
انسان کا چہرہ گویا اک کھلی کتاب ہوتا ہے جس کے صفحات پر اس کے نفس کی کیفیات دیکھی جاسکتی ہیں اور حقیقت میں عبادت وہ ہے جو آدمی کی سوچی اور اس کے دل و دماغ پر چھا جائے۔
ابھی دو ایک روز پہلے ایک صاحب بتا رہے تھے، جو کہ نمازی اور دیندار ہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ اب میں خواب میں بھی ٹیکسی چلاتا ہوں، گذشتہ رات میں خواب میں ٹیکسی چلاتا رہا، صبح اٹھ کر جب بیگم کو بتایا تو اس نے کہا کہ پھر لاؤ پیسے کہاں ہیں؟ تو میں نے کہا وہ میں نے خواب میں ہی آپ کو دے دیئے تھے۔
حقیقت یہ ہے جو کام آدمی ذوق اور شوق سے اور دل جمعی سے کرتا ہے وہ کام اس کی سوچ پرستی کہ اس کے خوابوں پر بھی چھا جاتا ہے۔ دن بھر آدمی دنیا کمانے میں لگا رہے اور رات کو غنودگی کی حالت میں تراویح ادا کر کے وہ سمجھے کہ وہ رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہو رہا ہے اور اس موقعِ غنیمت کو حاصل کر رہا ہے تو اسے اس کی سادگی سے زیادہ کیا کہیں گے۔
رمضان المبارک کی سعادتوں سے ہم صحیح معنوں میں مستفید کیوں نہیں ہو پاتے اور اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ہم اس کی طرف کیوں نہیں لپکتے؟
اس کے بہت سے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم دنیا کے حصول میں پوری طرح مگن ہیں اور اس دلدل میں سرتا پا غرق ہیں، یہاں تک کہ دنیا کی خواہش ہمارے خوابوں پر بھی چھاگئی ہے، پھر ایسے میں عبادت میں لذت کہاں سے آئے گی اور اس کو جی کیسے چاہے گا۔
موقع غنیمت کو حاصل کرنے کی انسان کوشش جب کرتا ہے جب اس کی اہمیت اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہو اور موقع غنیمت کا مطلب یہ سمجھے کہ اگر وہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔ اور رمضان المبارک کے موقع غنیممت ہونے کی صورت میں یہ سمجھنا کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو شاید دوبارہ یہ موقع نہ ملے لوگ اس تصور کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ چنانچہ اس کے حصول کے لئے وہ جذبہ اور وہ ذوق اور شوق پیدا نہیں ہوتا جو کسی موقع غنیمت کے حصول کے لئے درکار ہوتا ہے۔
یہ زندگی بڑی محدود ہے، چند گفتی کی سانسیں ہیں ان محدود سانسوں کی قدر نہ کرنے والا ضرور پچھتاتا ہے، انسان کو اس پچھتاوے سے بچانے کے لئے قرآن و حدیث میں بہت زیادہ تنبیہ کی گئی ہے، بہت ڈرایا گیا ہے، بہت زیادہ نیکی کا شوق پیدا کیا گیا ہے کہ کسی طرح انسان اس پچھتاوے سے بچ جائے۔ جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ۝﴾(المنافقون:10)
’’اور جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کر وہ قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اس وقت وہ کہے: اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہات اور دے دی، کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا ۔‘‘
موقع غنیمت کو ضائع کر دینے کا انجام حسرت وافسوس، ندامت اور پچھتاوا ہی ہوتا ہے، چنانچہ ایک مقام پر اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰی رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۝۵۴﴾ (الزمر:54)
’’پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع وفرمانبردار بن جاؤ اس کے قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے ۔‘‘
﴿وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ۝﴾ ( الزمر:55)
’’ اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی ، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘
﴿اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ۝﴾( الزمر:56)
’’کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے: افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا ۔‘‘
﴿اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ۝۵۷﴾ ( الزمر:58)
’’ یا کہے کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا ۔‘‘
﴿اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ۝﴾ (الزمر:58)
’’ یا عذاب دیکھ کر کہے: کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں ۔‘‘
تو موقع غنیمت کو اگر استعمال نہ کیا جائے تو یقینًا بہت بڑے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے، جیسا کہ مختلف مواقع غنیمت کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے آپ ﷺنے ایک موقع غنیمت کی یوں ترغیب فرمائی ، فرمایا: ((مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ))
’’ جس شخص نے حج کا ارادہ کیا اسے چاہیے کہ وہ حج جلدی کرلے۔‘‘
((فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضِ ، وَتَضِلُّ الضَّالَةُ ، وَتَعْرِضُ الحاجة)) (ابن ماجة:2883)
’’کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی بیمار ہو جائے، یا سواری گم ہو جائے یا کوئی اور کام پڑ جائے۔‘‘
لہذا کسی کو کوئی موقع غنیمت میسر آئے تو اسے فوراً حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے، کہ اللہ تعالی کی پیش کش بہت قیمتی ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں۔ لہذا محض سنتی اور کاہلی کی بناء پر اس کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں