انسان کی اصل پہچان

انسان کی اصل پہچان

﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَانْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولٰئِكَ هُمُ الْفٰسِقُونَ﴾ (الحشر:19)
انسان فطرتًا کتنا متجسس واقع ہوا ہے کہ ہمیشہ ہر چیز کی کھوج اور ٹوہ میں رہتا ہے، ہر چیز کا علم حاصل کر لینا چاہتا ہے، اپنے گردو پیش میں کوئی نقل و حرکت نظر آئے تو فورا متوجہ ہو کر اس کا سبب جانا چاہتا ہے اور اگر کہیں کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر تو اس کے تجس میں گویا شدت آجاتی ہے اور جب تک وہ اس کے بارے میں کوئی تھوڑی بہت معلومات حاصل نہیں کر لیتا جب تک اسے چین نہیں آتا، آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کہیں کوئی حادثہ ہو جائے تو وہاں لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور وہ محض تجس ہی ہوتا ہے ، اور باقی جو اپنے جاننے والوں کی ہر چھوٹی بڑی بات کا تجس ہے تو وہ تو گو یا لوگ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں تجس کرنا کہ کوئی کہاں گیا ہے، کیوں گیا ہے ، کس سے ملا ہے اور کیوں ملا ہے، کیا باتیں ہوئی ہیں، کیا کھایا اور کیا پیا ہے غرضیکہ ہر چھوٹی چھوٹی بات کا تجس ہوتا ہے۔ مگر ایک بات جو کہ سب سے اہم بات ہے اس کے جاننے کی فکر اور اس کا تجسس ہرگز نہیں رکھتا اور وہ ہے اس کا اپنی ذات کے بارے میں تجس، کہ وہ کون ہے اور کیوں ہے ، اس نے بھی اپنے آپ سے نہیں پوچھا کہ: میں کون ہوں ؟ اور میرا مقصد زندگی کیا ہے
اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل و دماغ میں اپنی ذات کی ایک پہچان رکھتے ہیں، اس کو ہم اپنی اصلی پہچان سمجھتے ہیں، وہ پہچان ہمارے دماغوں میں راسخ ہو چکی ہے، اس پر ہم خوش ہوتے اور فخر کرتے ہیں۔
وہ ایک مصنوعی کی پہچان جو ہم طبقاتی تقسیم کے حوالے سے رکھتے ہیں، وہ روح کے جسم سے الگ ہوتے ہی فوراً بدل جاتی ہے اور بے حیثیت ہو جاتی ہے۔
آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ آدمی جب فوت ہوتا ہے تو بھی کسی نے اس کا نام لے کر، اس کے لقب، اس کے عہدہ و منصب اور اس کی معاشرتی حیثیت کا ذکر کر کے نہیں کیا کہ جنرل صاحب کو دفنانے کے لئے لے چلو، سیٹھ صاحب کو، خان صاحب کو، چوہدری صاحب کو، علامہ صاحب کو لے چلو بلکہ کہتے ہیں: میت کو لے چلو۔
وہ مصنوعی پہچان چند لمحوں میں ہی بدل جاتی ہے، اگر چہ نام کی حد تک پہچان تو مرنے کے بعد بھی رہتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، مگر عوام کے ہاں فورا بدل جاتی ہے۔ یہ خود ساختہ اور مصنوعی پیچان آدمی کو اس کی اصلی اور حقیقی پہچان تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
دنیا میں انسان مختلف حیثیتوں سے اپنی مختلف پہچانیں رکھتا ہے جو کہ خود ساختہ اور مصنوعی ان معنوں میں ہیں کہ انہیں انسان اس عارضی دنیا میں کچھ عارضی ضرورتوں کے پیش نظر تخلیق کر کے انہیں میں کھو جاتا ہے اور اپنی حقیقی پہچان کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔ حالانکہ اس کی حقیقی پہچان کی معرفت اسے دنیا میں زندگی گزارنے کا بھی سلیقہ سکھلاتی ہے اور آخرت کی کامیابی کا انحصار تو سراسر اس کی حقیقی پہچان کا علم حاصل ہونے پر ہی ٹھہرتا ہے۔
دنیا کی زندگی میں انسان جو اپنی مختلف پہچانیں رکھتا ہے اُن میں سے ایک اسے دوسری مخلوقات سے مختلف اور ممیز کرنے کے حوالے سے ہے۔ اور وہ ہے انسان کا حیوان ناطق ہونا۔
اور اس میں انسان کی دو خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے: حیوان کا معنی ہے: زندہ، جاندار اور ذی روح ہونا اور ناطق کا معنی ہے: بولنے والا ۔
حیوان کا لفظ اگر چہ انسان کی طبیعت پر ذرا گراں گزرتا ہے، مگر یہاں لفظ حیوان جنس حیوان کے معنوں میں نہیں ہے بلکہ لغوی معنوں میں مراد ہے۔
تو انسان کی تعریف اور اس کی پہچان کے حوالے سے اس کی ان دو خصوصیتوں کے ذکر کا مطلب ہے کہ بنیادی طور پر دو قسم کی مخلوقات ہیں: ایک جمادات، جیسے پہاڑ وغیرہ اور دوسرے حیوانات، جیسے انسان، جن، فرشتے ، جانور اور دوسری جاندار مخلوقات ۔
پھر جاندار مخلوقات میں سے صرف اور صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو بولنے کی قدرت و صلاحیت رکھتی ہے۔
اس لئے حیوان ناطق کا لفظ صرف انسان پر ہی صادق آتا ہے کہ وہ حیوان بھی ہے، یعنی جاندار اور ذی روح بھی ہے اور بولنے والا بھی۔ دیگر جاندار مخلوقات کا بھی اگرچہ بولنے اور کلام کرنے کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے، جیسے فرشتوں کے بات کرنے کا ذکر، جنوں کے کلام کرنے کا ذکر اور بعض جانوروں کے گفتگو کرنے کا ذکر اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کا پرندوں کی بولی سمجھنے کا ذکر وغیرہ۔
مگر انسان کے بولنے اور دیگر جاندار مخلوقات کے بولنے میں فرق یہ ہے کہ انسان عقل فکر اور ارادے سے بولتا اور تدریجا اس میں ترقی اور مہارت حاصل کرتا ہے۔
انسان کی تعریف ’’حیوان ناطق‘‘ کے حوالے سے نہایت اختصار کے ساتھ یہ چند باتیں تمهيدا عرض کی ہیں، ورنہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے۔ تو آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان کیا ہے اور اصل پہچان معلوم کرنا ضروری کیوں ہے؟
سب سے پہلے انسان کی اصل پہچان کے مصدر و ماخذ کے حوالے سے یہ بات یاد رہے کہ انسان کی اصل پہچان صرف اور صرف قرآن وحدیث سے مل سکتی ہے۔ ورنہ کوئی آپ کو بندر کی نسل قرار دے گا اور کوئی کچھ اور بنادے گا۔ جبکہ انسان کی اصلیت اس کی حقیقت اور اس کی تمام تفصیلات صرف اور صرف قرآن وحدیث سے ہی ملتی ہیں۔
رہی یہ بات کہ انسان کو اپنی پہچان حاصل کرنا ضروری کیوں ہے؟ تو وہ ضروری اس لئے ہے کہ اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنے کے درجات میں سے پہلا درجہ اپنی معرفت حاصل کرتا ہے۔ یہ بات محض اتفاق کا نتیجہ نہیں کہ قرآن پاک کی صورت میں اللہ تعالی نے اپنا سب سے پہلا کلام جو نازل فرمایا وہ یہ تھا کہ:
﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ۝۱خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ۝۲﴾ (العلق:1۔2)
’’ پڑھیے اے نبی! اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا۔ ‘‘
تو اللہ تعالی نے اپنی عبادت اور اپنی معرفت کے ذکر کے ساتھ انسان کی تخلیق کا ذکر بے مقصد نہیں کیا یقینًا ان دونوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
اور پھر اللہ تعالی نے انسان کی پیدائش کا کوئی سرسری ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بعد قرآن پاک میں متعدد مقامات پر انسان کی پیدائش کا مختلف پیرائے اور اسلوب میں اور ذرا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا: جیسا کہ سورۃ الدھر میں بات شروع ہی انسان کی پیدائش اور اس کے وجود سے کی ، فرمایا:
﴿هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا۝۱﴾ (الدهر:1)
’’ کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت نہیں گزرا جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔‘‘
﴿اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۝﴾(الدهر:2)
’’ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سنے اور دیکھنے والا بنایا۔ ‘‘
﴿اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا۝﴾( الدهر:3)
’’ ہم نے اسے راستہ دکھایا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔‘‘
یہاں ان آیات کریمہ میں اللہ تعالی نے پھر اپنی عبادت اور شکر و احسان مندی کو انسان کی پیدائش کے ساتھ ذکر فرمایا۔
اور پھر آپﷺ کا جمعے کے روز فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۃ السجدہ اور دوسری رکعت میں سورۃ الدھر کی تلاوت پر مداومت فرمانا گویا کہ انسان کو اس کی پیدائش اور پہچان کی یاد دہانی کراتا ہے، جس سے مقصود گویا یہ ہے کہ جب انسان کو اپنی حقیقت کا علم ہو جائے گا، اپنی ابتداء اور اپنی تخلیق کا علم ہو جائے گا تو وہ بے ساختہ اپنے محسن اور اپنے منعم کے سامنے سربسجود ہو جائے گا اور اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں ، اپنے ارادے اور اپنی منشاء اور اپنی خواہشات اس کے حوالے اور اس کے حکم کے تابع کر دے گا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان دیگر مخلوقات کی پیدائش پر بھی اگر غور و فکر کرے گا تو بے ساختہ پکار اٹھے گا کہ:
﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝﴾ (آل عمران:191)
’’جب وہ زمین و آسمان کی ساخت پر غور و فکر کرتے ہیں تو بے اختیار پکار اٹھتے ہیں: اے ہمارے پروردگارا یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ ‘‘
تو انسان کے اپنی پہچان حاصل کرنے کا اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور شکر و احسان مندی بجالانے کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اگر انسان کو اپنی اصلیت اور پہچان حاصل نہ ہو کہ وہ کیا ہے اور کیوں ہے تو وہ سرکشی پر اتر آتا ہے، کیونکہ اسے جس طرح کی اپنی پہچان حاصل ہے وہ بہر حال اسے سرکشی پر آمادہ کرتی ۔ تو سورۃ العلق کی انہی ابتدائی آیات کے بعد انسان کی سرکشی کا ذکر ہے، فرمایا:
﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ۝﴾( العلق:1)
’’ پڑھیئے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔‘‘
﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ۝۲﴾( العلق:2)
’’ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا۔‘‘
﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ۝﴾( العلق:3)
’’پڑھیئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘
﴿الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ۝۴﴾(العلق:4) ’’ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ۔‘‘
﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ۝﴾(العلق:5)
’’انسان کو وہ علم دیا جو وہ جانتا نہ تھا۔‘‘
﴿كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤیۙ۝۶﴾(العلق:6)
’’ ہرگز نہیں! انسان سرکشی کرتا ہے۔‘‘
﴿اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰیؕ۝﴾(العلق:7)
’’اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے۔‘‘
انسان کی اصل پہچان جب انسان کو اپنی حیثیت اور اپنی حقیقت کا علم ہی نہ ہو، اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ اک کمزور اور ضعیف مخلوق ہے۔
﴿وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۝﴾(النساء:28)
’’انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
جب اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ ہر دم اللہ کے حضور محتاج و فقیر ہے۔
﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰهِ ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۝۱۵﴾
’’لوگو! تم سب اللہ کے محتاج وفقیر ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے۔‘‘ (فاطر:15)
تو جب انسان کو اپنی حیثیت کا علم نہ ہوگا، اپنی معرفت اور اپنی پہچان نہ ہوگی تو وہ اللہ تعالی کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے یہ سمجھتے ہوئے سرکشی کرنے لگے گا کہ یہ سب کچھ تو میرے کمال ہنر کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ قارون نے کہا تھا:
﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ؕ﴾ (القصص:78)
’’یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بناء پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے۔“
یعنی وہ اس دولت کو اپنی ذہانت اور مہارت کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر فخر، تکبر اور بے نیازی تو اس سوچی کا لازمہ ہے۔ جب ایک طرف آدمی کو اپنی پہچان نہ ہو، اپنی اصلیت کا علم نہ ہو اور دوسری طرف ایک خود ساختہ اور مصنوعی پہچان معاشرے نے اس کے دماغ میں ڈال دی ہو، تو پھر اس کا لب ولہجہ کیسا ہوگا؟ آپ نے شاید کبھی کسی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا ہو کہ تو مجھے جانتا نہیں ہے؟ مگر حقیقت میں جب وہ کسی کو یہ کہہ رہا ہوتا ہے تو اس کی اپنی بات ہی اس کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے، وہ دوسرے سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ تو مجھے جانتا نہیں ہے جبکہ حقیقت میں دو خود اپنے آپ کو نہیں جانتا ہوتا، اگر جانتا ہوتا تو ایسی بات ہرگز نہ کرتا، کیونکہ اس کی اپنی پہچان اسے شرمندہ کر دینے کے لئے کافی ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالی نے انسان کو اس جیسی سرکشی سے بچانے کے لئے فرمایا ہے۔
﴿فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ۝۵﴾(الطارق:5)
’’ پس ذرا انسان دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے اس کی تفصیل بیان فرمائی، انسان کو اگر اپنی یہ حیثیت یاد ہو تو کیا وہ کبھی کسی سے کہے گا کہ تو مجھے جانتا نہیں! بلکہ اس میں عاجزی وانکساری پیدا ہو جائے بالخصوص اپنے ماں باپ کے سامنے تو وہ آنکھ اٹھا کر بھی بات کرنے کی جرأت نہ کر پائے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہیں، بلکہ لگتا ہے کہ بھلا دیئے گئے ہیں اور جس بات کو یاد رکھنے کی ترغیب دی گئی ہو اور بھول جانے کو نا پسند کیا گیا ہو اس کا بھلا دیا جانا سزا کے طور پر ہوتا ہے، بالخصوص جب متنبہ کیا گیا ہو کہ خبردار اپنے آپ کو بھولنا نہیں ہے جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝﴾(الحشر:19)
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے، تو اللہ نے انہیں بھلا دیا خود ان کے اپنے نفس سے اور وہی لوگ فاسق ہیں ۔ ‘‘
اور آپ یقینًا اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہوں گے کہ جب انسان کو یہ یاد نہ رہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور اسے کدھر جانا ہے تو کیا وہ کبھی اپنی منزل مقصود تک پہنچ پائے گا! ہرگز نہیں۔
انسان کی پہچان کا ایک پہلو یہ ہے جس کا مختصر سا ذکر کیا اور اس کی پہچان ایک اور پہلو سے بھی ہے، اس کا ان شاء اللہ آئند ہ خطبہ جمعہ میں ذکر کریں گے۔ تا ہم ہمیں ہر پہلو سے اپنی پہچان کرنا ہوگی ، ہر وہ بات جو ہماری ذات کے ساتھ خاص ہے اور نتیجہ خیز ہے، ہمیں اس کے بارے میں جانتا ہوگا۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اپنے بارے میں جانتے بھی نہیں اور جانتا بھی نہیں چاہتے۔ اقول قولي هذا واستغفر الله العظيم لي ولكم ولسائر المسلمين من كل ذنب انه هو الغفور الرحيم .
………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں