دل نیکی کی طرف راغب کیوں نہیں ہوتا ؟

دل نیکی کی طرف راغب کیوں نہیں ہوتا ؟

﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۝۱۸۳﴾(البقرة: 183)
گذشتہ چند جمعوں سے دین کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، بالخصوص رمضان المبارک کی اہمیت کو اور یہ بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انسان کی زندگی میں موقع غنیمت کی کیا اہمیت ہے۔
مواقع غنیمت انسان کی زندگی میں آتے رہتے ہیں اور سب سے بڑا ، سب سے اہم اور سب سے قیمتی موقع غنیمت وہ ہوتا ہے جو آخرت کے حوالے سے ہو، بخشش و مغفرت کے لئے اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہو۔
اب ہم میں سے کسی کو کتنی سمجھ آئی ہے یہ تو اس کے طرز عمل سے ہی انداز و لگایا جاسکتا ہے، مگر مجموعی طور پر اگر ہم دین کے حوالے سے اپنی سمجھ کا جائزہ لیں تو نتیجہ کوئی حوصلہ افز انظر نہیں آتا، کیونکہ سمجھ کے نتیجے میں عملی پیش رفت اس کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔
اور یہاں عملی پیش رفت کے برعکس اس میں کمی آئی ہے۔ مسجد میں جو شروع کے چند روز میں تراویح کے دوران کھچا کھچ بھری ہوتی تھیں، وہ آج کل خالی خالی نظر آتی ہیں، وہ شروع کا جوش و جذ بہ برقرار نہیں رہا، اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں ان باتوں کی سمجھ ہی نہیں آئی۔
دنیا کی اہمیت کی ہمیں سمجھ ہے، اس لئے اُس کے معاملے میں ہمارا طرز عمل بھی یکسر مختلف ہے۔ تو یہ ایک حقیقت ہے کہ دین کی باتیں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں اور اگر سمجھ آجائیں تو عمل کی ہمت نہیں ہوتی ۔ جہاں تک دین کی باتیں سمجھ نہ آنے کا معاملہ ہے، تو آپ کو معلوم ہے کہ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو تبلیغ کرتے کرتے گزارے اور ان کی ہدایت و رہنمائی ، ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے بہت جتن کیے، لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ۝۴۰﴾ (هود:40)
’’ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے۔‘‘
اور حدیث میں ہے آپ ﷺنے فرمایا:
((عُرِضَتْ عَلَىَّ الأمم)) ’’امتیں مجھ پر پیش کی گئیں‘‘
((فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلانِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ)) (صحيح البخاري:5752)
’’ پس ایک نبی (علیہ السلام) گزرے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی تھا ، اور ایک نبی (علیہ السلام) گزرے کہ ان کے ساتھ دو آدمی تھے ، اور ایک کے ساتھ چند لوگ تھے ، اور کسی نبی (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی آدمی بھی نہیں تھا یعنی ان کے ساتھ کوئی ایک بھی ایمان نہ لایا۔ ‘‘
اور جہاں تک تعلق ہے عمل کی ہمت نہ ہونے کا، تو یہ بھی انسان کی ایک فطری کمزوری ہے، ہر دور کے انسان کا یہی معاملہ اور طرز عمل رہا ہے جیسا کہ آپﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے، تو اللہ تعالی نے پچاس نمازوں کی فرضیت کا حکم نامہ جاری فرمایا، آپ ﷺ واپس تشریف لا رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا، موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کیا حکم ہوا؟ فرمایا: پچاس نمازوں کا ۔ تو موسی علیہ السلام نے کہا: واپس جائے اور اپنے رب سے کم کروا کر لائے ، آپ کی امت یہ نہ کر سکے گی، آپ ﷺنے دو تین چکر لگائے ، جب بھی جاتے کچھ کم کروا کے لاتے اور موسی علیہ السلام آپ ﷺ کو پھر واپس بھیج دیتے کہ اور کم کروائے حتی کہ پانچ رہ گئیں۔ تو موسی علیہ السلام نے پھر کہا کہ: ((فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ))
’’آپ(ﷺ) کی امت اس کی طاقت نہ پائے گی۔‘‘
((وَاللَّهِ لَقَدْ رَا وَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَوْمِي عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذَا فَضَعُفُوا فَتَرَكُوهُ)) (صحيح البخاري:7517، مسلم:163)
’’ اللہ کی قسم میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس سے بھی کم پر آمادہ کرنے کی کوشش کر چکا ہوں ، مگر وہ کمزور پڑ گئے اور انھوں نے وہ کم بھی ترک کر دیں۔‘‘
یعنی لوگ کسی دور کے بھی ہوں ، کسی قوم ، کسی نسل اور کسی دین و مذہب کے بھی ہوں سب کا ایک جیسا مزاج اور ایک جیسی فطری خواہشات ہوتی ہیں، تبھی تو قرآن وحدیث میں عبرت و نصیحت کے لئے گذشتہ قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں، حتی کہ روزے فرض کرتے ہوئے بھی گذشتہ قوموں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں:
﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۝۱۸۳﴾(البقرة:183)
’’ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے۔‘‘
اسی طرح یہ بھی انسان کی کمزوری ہے کہ جلد ہی نیکی سے اکتا جاتا ہے اور دنیا کی طرف مائل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر نہایت شدید کشش رکھتی ہے، چنانچہ انسان اس کی طرف بھاگ بھاگ جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُ الَّتِي تَفَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فيها))
’’فرمایا: میری اور تمہاری مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے کہ جس نے آگ جلائی تو تتلیاں، پہلے اور پروانے جو آگ میں اچھل اچھل کر گرتے ہیں، اس میں آ آ کر گرنے لگے۔‘‘
((فَجَعَلَ يَنْزِعَهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فيَقْتَحِمَن فِيهَا ، فَأَنَا أَخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، وَأَنتُمْ تَقْتَحِمُونَ فيها)) (صحيح البخاري:6483)
’’اور وہ انہیں آگ میں گرنے سے روکتا مگر پتنگے اور پروانے اس پر غالب آجاتے ہیں اور اس آگ میں جا جا کر گرتے ۔ فرمایا: اور میں تمہیں تمہارے کمر بند سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچانے کے لئے کھینچتا ہوں اور تم اس میں زبردستی جا جا کر کرتے ہو۔ ( صحیح البخاری: 1383)
انسان کی دین اور دنیا کے درمیان رسہ کشی اور کھینچا تانی پر یہ بہترین مثال ہے مثال میں انسان کی حالت پر بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔
اس اللہ تعالی مسلمانوں کو اپنی رحمتوں اور مغفرتوں میں ڈھاپنے کے لئے اپنی قربتوں سے نواز نے کے لئے، نار جہنم سے گلو خلاصی کے لئے، انہیں بڑے بڑے اور پرکشش مواقع نقیمت فراہم کرتا اور معمول کے اعمال پر بڑے بڑے اجر و ثواب کی پیشکش کرتا ہے، مگر وہ ہیں کہ دنیا کی طرف لپکے چلے جاتے ہیں اور اُس پیشکش کی قطعا پرواہ نہیں کرتے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایسی بدبختی سے محفوظ فرمائے۔آمین۔
اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی ایسی ہی کیفیت محسوس کرے اور اُس کو اپنی اس حالت پر تشویش اور فکر مندی لاحق ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے! اسے اس کے اسباب تلاش کرنے چاہیں اور پھر ان کے ازالے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی انسان کی یہ حالت ایک بہت بڑے خطرے کی علامت ہے۔
اگر دل دین کی طرف مائل نہیں ہوتا ، عبادت میں لذت نہیں پاتا اور دنیا کے لئے مچلتا ہے تو جان لیجئے کہ یہ دل کی سختی کے سبب سے ہے اور دالوں کی سختی اللہ تعالی کی طرف سے کسی بھی انسان کے لئے سب سے بڑی سزا ہے۔
دلوں کی سختی کی کچھ علامات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: ایک یہ کہ عبادت میں جی نہ لگتا، نماز اور دیگر نیک اعمال میں سستی کرنا ، نصیحت کا اثر نہ ہوتا ، موت اور دیگر حادثات سے متاثر نہ ہونا، دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا وغیرہ۔ اور پھر ان علامات کی کچھ وجوہات ہیں، اور وہ ہیں: دنیا کی محبت، فظت، تیرے دوستوں کی صحبت ، معصیتوں کا کثرت سے ارتکاب وغیرہ۔
اور دلوں کی سختی کے علاج کے لئے بہت سی باتوں میں سے ایک بہت اہم بات ہے موت کو یاد کرنا اور موت کی یاد کے لئے گاہے بگا ہے قبرستان کی زیارت کرتا، قرآن پاک کے معانی پر غور کرتے ہوئے پڑھنا، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا اور کثرت سے تو بہ واستغفار کرنا وغیرہ ہے۔
دلوں کی سختی کو معمولی بات مت سمجھئے، یہ اکثر انسان کو خود سمجھ نہیں آتی ، اسے اس بیماری کا احساس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کچھ بھی تو مفقود نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ دنیا سے خوب لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے، پھر وہ کسی چیز کی کمی کیوں محسوس کرے گا اور کیونکر اس کے دل میں یہ خیال گزرے گا کہ کہیں اللہ اس سے ناراض تو نہیں ہے؟ ہاں اگر اللہ کا اس پر احسان ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کو سنبھلنے کا ، تو بہ و استغفار کار رجوع الی اللہ کا، اپنی قربتیں عطا کرنے کا ایک موقع اور دیتے ہوئے کسی طریقے سے یہ احساس دلا دے کہ وہ بدنصیبی، بدبختی اور اللہ کی ناراضی کا شکار ہورہا ہے تو وہ اس احساس کو غنیمت جان کر روتے ہوئے اللہ کی طرف لپکے گا۔
اور اللہ تعالی بھی اپنے بندوں کو یہ احساس دلانے کے لئے انہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ۝﴾ (الانعام:42)
’’ آپ سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تا کہ دو عاجزی اختیار کرتے ہوئے گڑگڑا ئیں ۔ ‘‘
البأساء والضراء تنگی اور تکلیف، یعنی زندگی میں کسی طرح کی بھی تنگی، پریشانی اور مصیبت ان پر ڈالتے اور انہیں تکلیفوں اور بیماریوں میں مبتلا کرتے تا کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں، رسولوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔
اور اللہ کی طرف لوٹنے کے لئے سرسری کی تو بہ و استغفار نہیں بلکہ گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہے۔
﴿فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۝﴾( الانعام:43)
’’ پس جب ہماری طرف سے ان پر کشتی آئی تو وہ کیوں نہ گڑ گڑائے اور عاجزی اعتیار کی ۔ مگر ان کے دل سخت ہو گئے ۔‘‘
یعنی انہیں یہ احساس ہی نہ ہوا کہ یہ پریشانی اور مصیبت تو انہیں جھنجھوڑ نے اور بیدار کرنے کے لئے تھی اور یہ احساس اس لئے نہ ہوا کہ انہیں اپنی دولت پر جڑا ناز تھا، معاشرے میں سرکردہ لوگوں کی دوستی ما دوستی، بڑے بڑے عہدہ داروں کی معرفت اور واقفیت پر انہیں فخر اور مان تھا چنانچہ وہ بڑی متکبرانہ طرز زندگی اختیار کئے ہوئے تھے گویا انہیں کسی چیز کی کمی نہ تھی، اس لئے اللہ کی ناراضی کا احساس نہ ہوا۔
اور ایسے لوگوں کو کہ جو تکبر کرتے ہیں اللہ تعالی دین کی باتیں سمجھ آنے ہی نہیں دیتے
﴿سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕ﴾ (الاعراف:146)
’’میں اپنی نشانیوں سے، اپنی آیات سے ان لوگوں کی لگا میں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں۔‘‘
اور زمین میں بڑے بننے اور تکبر کرنے کی بہت سی شکلیں اور صورتیں ہیں، کسی کی تذلیل کرنا کسی کا مذاق اڑانا، کسی کو مارتا اور کسی پر رعب جمانا کسی کی چیز پر زبردستی اپنا حق جتانا، کیونکہ وہ اپنے آپ کو طاقت ور اور با اثر جو مجھتے ہیں۔ وَإِنْ يَرْوَاكُلَ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ) اور ہم اپنی آیات سے یوں ان کی نگاہیں پھیر دیتے ہیں کہ پھر وہ کوئی بھی نشانی دیکھ لیں تو اس پر ایمان نہ لائیں گے۔
﴿وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ۚ ﴾ ’اور اگر سیدھا راستہ ان کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے۔‘‘
﴿وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ؕ ﴾ (الاعراف:146)
’’اور اگر تیڑ ھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے۔‘‘
اس لئے سیدھا راستہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے کام کی پکار پر لبیک کہو۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے:
﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ۝۲۴﴾ (الانفال:24)
’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ اور جان رکھو! کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
اور جیسا کہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا: ((إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ)) (ترمذي (2140)
’’ لوگوں کے دل اللہ تعالی کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں انہیں جدھر چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔‘‘
اور ظاہر ہے جس طرف کسی کا دل مائل ہوتا ہے اسی طرف اللہ تعالی اس کو پھیرتے ہیں. ورنہ اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتے کہ آدمی تو نیکی کی طرف جانا چاہتا ہو اور اللہ تعالی اس کو گناہ کی طرف پھیر دیں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ:
﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰی ﴾(النساء:115)
’’ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا۔‘‘
اور یہ بھی اس پر حق واضح ہو جانے اور اہل ایمان کی روش سے ہٹ جانے کے بعد۔ اور یہ کس طرح پتہ چلتا ہے کہ آدمی کسی طرف جانا چاہتا ہے؟ اس کے قول اور فعل ہے۔ لہذا اگر وہ چاہے کہ نیکی اور دین کی طرف اس کا دل مائل رہے تو اُس کے لئے ایک تو اسے اللہ کے حضور درخواست کرنا ہوگی کہ اللہ تعالی اس کے دل کو دین پر قائم رکھے۔ جیسا کہ آپ ﷺیہ دعا کیا کرتے تھے۔ ((يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك)) (ترمذي:3522)
’’اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا۔‘‘
جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: آپﷺ کی اکثر دعا یہ ہوتی: ((يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ)) ’’اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھے۔‘‘
((قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلٰى دِينِكَ ، قَالَ يَا أَمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أَصْبعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أزاع)) (ترمذي: 3522)
’’ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ؟ آپ کیوں اکثر یہ دعا فرماتے ہیں: تو آپ ﷺنے فرمایا: اے ام سلمہ ! ہر آدمی کا دل اللہ تعالی کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، ہیں جس کو چاہتا ہے سیدھا کر دیتا اور جس کو چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی دین کی راہ اختیار کرنا اور اس پر قائم رہنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے یہ خواہش اور چاہت اس کے دل کی آواز ہونی چاہیے اور پھر زبان سے بھی اس کا اظہار ہو اور میں اس کی طرف عملی پیش قدمی بھی ہو کہ یہ دین اور ہدایت بڑی قدر و منزلت والی چیز ہے جو صرف قدردانوں کو نصیب ہوتی ہے، قدر ناشناسوں کو نہیں دی جاتی کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۝۲۸﴾ (هود:28)
’’کیا اسے ہم زبردستی تمہارے سر چپیک دیں جبکہ تم اسے نا پسند کرتے ہو!‘‘ یعنی ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا دین کی ضرورت اور اہمیت کوسمجھنے کی ضرورت ہے اور جب سمجھ آجاتی ہے تو پھر نہ صرف یہ کہ انسان اس کے لئے دعا کرتا اور اس کے حصول کے لئے سعی و جہد کرتا ہے بلکہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں وہ نعمت اس سے چھن نہ جائے اور یہ کہ کہیں چھن تو نہیں رہی ، کیا وہ صحیح راستے پر ہے، کیا کہیں وہ منافق تو نہیں ہو گیا، اور یہ فکر مندی آدمی کے خلوص اور شدت حرص کی علامت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ((أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ كُلُّهُمْ يَخَافُ النَّفَاقَ علٰى نَفْسِهِ)) (بخاري معلقا، كتاب الايمان:36 ، باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر)
’’میں نے تیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو پایا ہے، یعنی ان سے ملا ہوں اور سب کے سب نفاق سے ڈرتے تھے کہ کہیں وہ منافق نہ ہو جائیں‘‘
اور منافقین کی قرآن وحدیث میں متعدد علامات بیان ہوئی ہیں، ایک علامت یہ بیان ہوئی ہے۔
﴿وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰی﴾(التوبه:54)
’’ نماز کے لئے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے ۔‘‘
بے چینی، بے قراری اور بے دلی سے آتے ہیں۔ خوش دلی اور شوق سے نہیں آتے ۔ بلکہ ایک بوجھ سمجھتے ہوئے آتے ہیں۔
اسلام میں فرض نماز کی جو حیثیت ہے وہ تو آپ جانتے ہی ہیں نفل نماز بھی خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی ہو تو اتنا بڑا جرو ثواب رکھتی ہے کہ صرف دور کعت ادا کرنے سے جنت واجب ہو جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
((مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهُهُ عَلَيْهَا إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّةُ)) (ابو داود:906)
’’جو شخص اچھی طرح وضو کرے، اور قبلہ رخ ہو کر دل کی توجہ کے ساتھ دو رکعت ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ‘‘
اور نفل نماز کی اہمیت کے حوالے سے نیک لوگوں کے ایسے ایسے قابل رشک واقعات بھی تاریخ میں ملتے ہیں جو نیکی کا جذبہ بڑھانے اور شوق پیدا کرنے کے لئے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ خلیفہ ہارون رشید کی زوجہ زبیدہ کا ہے، جس نے حاجیوں کے لئے بہت بڑا مال خرچ کر کے پانی کی نہر بنوائی ، فوت ہونے کے بعد بیٹے کو خواب میں نظر آئی، بیٹے نے پوچھا اللہ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟ کہنے لگی قریب تھا کہ میں تباہ و برباد ہو جاتی ، تو بیٹے نے کہا کہ وہ جو چشمہ کھدوایا تھا اس کا اجر کہاں گیا؟ تو کہا: میری ان دو رکعتوں کی وجہ سے بچت ہوئی جو میں تہجد کے وقت پڑھتی تھی۔ (البداية والنهاية ، ج :10، ص:271)
اور حدیث میں ہے کہ فرض نمازوں کے بعد کثرت سے نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی چمک ایک سرا سر دھوکہ ہے، یہ صرف اتنی ہی کام آئے گی جتنی اللہ کی راہ میں خرچ کردی، باقی وارثوں کے لئے ہے۔
دنیا کی بے ثباتی اور نا پائیداری کو جانتے اور آخرت کی پائیداری اور استواری کو سمجھنے کے حوالے سے ایک واقعہ اور ذکر کرتا چلوں ، قصہ کچھ یوں ہے کہ:
((بَنَى رَجُلٌ دَارًا بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا فَرَع مِنْهَا مَرَّ أبو هريرة عَلَيْهَا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَابِ دَارِهِ ، فَقَالَ: قِفْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا أَكْتُبُ عَلٰى بَابِ دَارِي ، قَالَ ، وَأَعْرَابِي قَائِمٌ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أُكْتُبْ عَلٰى بَابِهَا: إِبْنِ لِلْخَرَابِ وَلِّدْ لِلْثُكْلِ ، وَاجْمَعْ لِلْوَارِثِ، فَقَالَ الْأَعْرَابِي: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا شَيْخُ، فَقَالَ صَاحِبُ الدَّارِ: وَيْحَكَ هٰذَا أَبُو هُرَيْرَةَ صاحِب رَسُولِ اللهِ)) (حلية الأولياء وطبقات الاصفياء ، ج:1، ص:385 ، تاریخ دمشق لابن عساکر، ج:68 ، ص:374)
’’مدینہ منورہ میں ایک شخص نے گھر بتایا ، جب گھر بنا کر فارغ ہوا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے گزرے، اور وہ شخص اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا اور وہاں ایک بدو بھی کھڑا تھا، کہنے لگا: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ذرا رکیے! بتائیے کہ میں اپنے گھر کے دروازے پر کیا لکھوں؟ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اس پر لکھو: اجڑنے کے لیے تعمیر کرو، بچھڑنے کے لیے جنم دو، اور وارثوں کے لیے جمع کرو، وہبدو کہنے لگا: اے بزرگ! تم نے بہت بری بات کہی ہے، تو گھر کا مالک کہنے لگا افسوس تم پر ، یہ صحابی رسولﷺ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔‘‘
اب غور فرمائیے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جسے یوں تو ہر شخص خوب سمجھتا ہے ، اور جس میں قطعًا کوئی مبالغہ بھی نہیں ہے مگر لوگ ذہنی طور پر اسے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اس سے مانوس نہیں ہوتے کیوں کہ ہماری زندگی کے منصوبوں میں کبھی کہیں اس کا ذکر نہیں ہوتا اور کوئی اسے سننا بھی پسند نہیں کرتا، کیوں کہ اس کے ذکر سے زندگی بے مزہ ہو جاتی اور لذتیں چکنا چور ہو جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اسے نظر انداز کر کے دنیا کے دھوکے کو سمجھا نہیں جا سکتا اور آخرت کی حقیقت کو اپنایا نہیں جاسکتا۔ اللہ تعالی ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………….

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں