احسان اور شکر خوشگوار معاشرے کی اساس

احسان اور شکر خوشگوار معاشرے کی اساس

﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠۝۱۵۲﴾ (البقرة:152)
شکر کی ضرورت و اہمیت پر گذشتہ چند تدعوں سے بات ہورہی تھی ، اس موضوع پر اگر چہ ابھی اور بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کو باقی ہے، لیکن چاہوں گا کہ اسے سمیٹ کر دوسرے موضوعات کی طرف بڑھا جائے، چنانچہ موضوع کو سمیٹتے ہوئے ، اس موضوع کے حوالے سے یعنی لوگوں کا شکر ادا کرنے کے حوالے سے آج کے خطبے میں چند آخری باتیں عرض کی جائیں گی۔ ان شاء اللہ
گذشتہ خطبات میں ہم نے جانا کہ شکر انسانی معاشرتی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور یہ کہ شکر فطری لحاظ سے، عقلی لحاظ سے ، اخلاقی لحاظ سے اور شرعی لحاظ سے لازمی اور ضروری ہے اور یہ کہ شکر کے بہت سے دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔
شکر، مالی، اخلاقی علمی اور ہر قسم کے تعاون کے صلے میں ہوتا ہے، اور تعاون یعنی باہمی تعاون معاشرتی زندگی کی اساس ہے، اس کے بغیر پُر امن اور خوشگوار معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، لہذا معاشرے میں جہاں باہمی تعاون ضروری ہے، وہاں شکر بھی ضروری ہے۔
گذشتہ خطبات میں باہمی تعاون کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں بھی ہم نے جانا اور خصوصی طور پر معاشرے کے کمزور و ناتواں اور ضعیف طبقے کے بارے میں بھی جاتا۔ اسلام میں عمومی طور پر باہمی تعاون کی بہت ترغیب دی گئی ہے اور خصوصی طور پر کمزور طبقے کے ساتھ تعاون کی بہت تاکید کی گئی ہے۔
معاشرے کے کمزور طبقے کے ساتھ تعاون کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ ﷺنے فرمایا: ۔
((إبْعُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضْعَفَائِكُمْ)) (مسند احمد:21731، سنن ابی دائود: 2594)
’’مجھے اپنے کمزوروں میں تلاش کروں کہ تمہیں صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘
اور کمزوروں سے مراد مالی لحاظ سے کمزور مراد ہیں، یعنی خستہ حال لوگ۔ تو کمزوروں کے ساتھ تعاون اور ہمدردی اور خیر خواہی کی اسلام حد درجہ تاکید کرتا ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺنے آدمی کے ایمان کو اس سے مشروط کر دیا، فرمایا:
((مَا آمَنَ بِي مَن بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارَهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ به)) (صحيح الجامع:5505)
’’ وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا کہ جو خود تو شکم سیر ہو کر رات کو سوئے اور اس کا پڑوی اس کے پہلو میں بھوکا رات گزارے اور وہ اس کے حال سے واقف بھی ہو۔‘‘
تو اس حدیث میں ایسے شخص کے کمال ایمان کی نفی کی گئی ہے، یعنی وہ شخص کامل ایمان نہیں رکھتا کہ جسے معلوم بھی ہو کہ اس کا پڑوی کھانا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بھوکا ہے اور وہ پھر بھی اس کی مدد نہ کرے۔
اور اسلام میں غریب، مسکین اور مفلوک الحال شخص کے تعاون کی شدت تاکید کا انداز و لگائیے کہ اسلام صرف ایسے شخص کے کمال ایمان کی نفی ہی نہیں کرتا کہ جو معلوم ہونے کے باوجود بھوکے کو کھانا نہ کھلائے، بلکہ اسلام دوسروں کو غریب اور مسکین کی مدد کرنے کی ترغیب دینے کی بھی تاکید کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ۝۱۸﴾(الفجر:18)
’’ اور تم مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو ابھارتے نہیں ہو۔‘‘
یعنی تمہارا طرز معاشرت ایسا ہے کہ تم لوگوں نے فقراء و مساکین کو بالکل نظر انداز کر رکھا ہے حتی کہ تم ایک دوسرے کو غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔
تو غریبوں کی مدد کی اہمیت کا یہ ایک انوکھا پہلو ہے کہ کافروں کے جہنم کا مستحق ہونے کا اصل سبب تو ایمان نہ لانا ہے مگر اس کے ساتھ ان کی بعض بری صفات کا بھی ذکر فرمایا جن میں سے ایک نماز نہ پڑھنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دیتا بھی ہے، حالانکہ اگر وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے اور نماز بھی پڑھتے تو پھر بھی اللہ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے جہنم میں جاتے۔
خلاصہ یہ ہے کہ غریبوں کی مدد اور تعاون کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت زیادہ ترغیب و تاکید کی گئی ہے، جس کی تفصیل کے لئے یقینًا وقت درکار ہوگا۔
تاہم جتنی تاکید تعاون کی کی گئی ہے اتنی ہی تاکید شکر کی بھی کی گئی ہے، ایک طرف تعاون کو فرض و واجب قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس پر شکر کو بھی لازم قرار دیا جاتا ہے۔
مثلاً: مرد پر اس کی بیوی کا نان و نفقہ ہر حال میں واجب ہے چاہے اس کی بیوئی مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس والدین اور اولاد کا نان و نفقہ مشروط ہے اس کی استطاعت ہے کہ اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو ، کیونکہ وہ حسن سلوک کے ضمن میں آتا ہے اور یہ کہ اگر والدین محتاج ہوں اور اولا د استطاعت رکھتی ہو تو پھر ان کے مال میں والدین کا شرعی حق بنتا ہے ۔
آپ نے دیکھا کہ ایک احسان ، تعاون اور نان و نفقہ جو کہ واجب ہے اس پر بھی شکر واجب ہے اور ایسا واجب ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
((يا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثَرْنَ الاسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أهلِ النَّارِ))
’’اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو اور کثرت سے استغفار کیا کرو کہ میں نے جہنم میں تمہاری اکثریت دیکھی ہے۔‘‘
((فَقَالَتْ إمرأةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ ومالنا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ))
’’ تو ان میں سے ایک سمجھدار عورت نے پوچھا: اے اللہ کے رسول سے کام ہماری جہنم میں اکثریت کا سبب کیا ہے؟‘‘
((قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ العَشِيْرَ)) (صحيح مسلم:79)
’’تو آپ ﷺنے فرمایا: تم لعنت و علامت اور گالی گلوچ بہت کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘
تو آپ نے غور فرمایا کہ مردوں کا اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان پر خرچ کرنا جو کہ واجب تھا اس پر بھی شکر واجب قرار دیا گیا اور ایسا واجب قرار دیا کہ ناشکری اور احسان فراموشی پر جہنم کی سزا کا مستحق ٹھہرایا۔
احسان اور شکر کی بحث تو بہت طویل ہے جو دو ایک نشستوں میں بیان نہیں ہو سکتی ، لہذا اس بحث کو سمیٹتے ہوئے اس ضمن میں ایک آخری بات عرض کرتے ہیں جو لوگوں کے مابین احسان اور شکر کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور وہ یہ کہ عمومی طور پر لوگوں کا شکر ادا کرنے کی قرآن وحدیث میں بہت تاکید کی گئی ہے، مگر ایک شخصیت ایسی بھی ہے کہ جس کا نام لے کر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے۔ اور وہ ہے: والدین ، چنانچہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰی وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۝﴾ (لقمان:14)
’’ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے، اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ یہ کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔‘‘
لوگوں کے ایک دوسرے پر بے شمار قسم کے احسانات ہو سکتے ہیں کوئی بڑے ہو سکتے ہیں اور کوئی بہت بڑے ہو سکتے ہیں، مگر دنیاوی معاملات میں والدین سے بڑھ کر کسی انسان پر کس کا احسان ہو سکتا ہے؟ یقینًا کسی کا نہیں۔ اس لئے کہ انسان کے وجود سے بڑھ کر، اس کی زندگی سے بڑھ کر تو دنیا کی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی اور وہ نعمت اسے والدین کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
بہت سے نادان لوگ اپنے والدین کے احسان کو نہیں مانتے، کچھ لوگ زبان سے تو انکار نہیں کرتے مگر عملاً احسان فراموشی کرتے ہیں۔ جو لوگ احسان نہیں مانتے، ان کے نزدیک احسان کا معنی شاید یہ ہے کہ انھوں نے اُن کے لئے کوئی دولت جمع نہیں کی اور اس میں نادانی کا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے دولت کی قدر تو جانی مگر زندگی کی قدر نہ جان سکے۔ ان کے نزدیک زندگی کی اگر کوئی قیمت ہوتی تو وہ اللہ تعالی کے بعد یقینًا والدین ہوتے جن کے احسان مند اور شکر گزار ہوتے کہ زندگی یقینًا ایک بے مول چیز ہے اور دنیا میں بھلا کون ہے جو زندگی کی قیمت چکا سکے؟ چلیے اگر وہ والدین کا یہ احسان نہیں مانتے نہ سہی، مگر اُن کے اُس احسان کا انکار کیسے کریں گے جس کا ذکر قرآن پاک نے کیا ہے کہ:
﴿ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰی وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ﴾
’’ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے عمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھرائی دو برس میں ہے۔‘‘
شاید اسے یہ احسان یاد نہیں رہا یا وہ اس احسان کی گہرائی اور حقیقت کو سمجھ نہیں پایا، آئیے ماں باپ کے اس احسان کو ایک دوسرے انداز سے بجھتے ہیں۔ فرض کرو! آپ زمین کے ایک گڑھے میں نگلے پڑے ہوئے تھے، آپ کے پاس کھانا تھا نہ پانی، تنہا تھے، ضعیف اور ناتواں تھے اور اتنے کمزور کہ اپنا دفاع نہ کر سکتے تھے، نہ کوئی فائدہ حاصل کر سکتے تھے، بول نہ سکتے تھے، کوئی زبان نہ آتی تھی، صرف رو سکتے تھے۔ تو اللہ تعالی نے آپ پر رحم کرتے ہوئے ایک مشفق و مہربان اور رحم دل انسان آپ کے پاس بھیج دیا، جس نے آپ کو کپڑے پہنائے، کھانا کھلایا، سینے سے لگایا، رہائش دی، آپ کو گرمی اور سردی سے بچایا، آپ کی گندگی صاف کرتا، خود تکلیفیں اٹھا کر آپ کو ہر تکلیف سے بچاتا، اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے آپ کی تکلیف بہت گراں گزرتی ، اور یوں اس نے آپ کی پرورش کی ۔
کیا اب بھی یاد نہیں آیا کہ وہ کون سی شخصیت تھی، وہ آپ کے والدین تھے۔ کیا کسی میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ والدین کے ان احسانات کا انکار کر سکتے؟ یقینًا نہیں۔
اور اگر کوئی پھر بھی انکار کرتا ہے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا احسان فراموش ہے اور آپ جانتے ہیں کوئی انسان اپنے والدین کی احسان فراموشی کب کرتا ہے، جب وہ طاقت ور ہو جاتا ہے جب وہ دولت مند ہو جاتا ہے، جب وہ پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے، جب اسے لکھنا پڑھنا آجاتا ہے، جب اس کی بڑے بڑے لوگوں سے دوستی ہو جاتی ہے، جب وہ خود کفیل ہو جاتا ہے، جب وہ بے نیاز ہو جاتا ہے اور اسے ماں باپ کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی ۔
ہاں ایسی صورت میں وہ اپنے والدین کے احسانات کو بھول سکتا ہے، مگر اللہ نہیں بھولتے اللہ فرماتے ہیں: ﴿ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۝۱۴﴾ (لقمان:14)
’’ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا ، تجھے میری ہی طرف لوٹنا ہے ۔‘‘
یعنی پھر شکر ادا کرنے پر اجر دوں گا اور ناشکری کی سزا دوں گا۔
والدین کا شکر ادا کرنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اجر و ثواب کیا ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے، مگر وہ ایک باتیں اس ضمن میں عرض کیسے چلتا ہوں۔
حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِي يَقْرَأُ))
’’میں سویا اور دیکھا کہ میں جنت میں ہوں ایک پڑھنے والے کی آواز سنی کہ وہ پڑھ رہا تھا‘‘
((فَقُلْتُ مَنْ هٰذَا))
’’ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟‘‘
((قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النَّعْمَانِ))
’’ انہوں نے کہا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں‘‘
((فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: كَذَاكَ الْبِرُّ، كَذَاكَ البِرُّ))
’’ تو آپ ﷺنے فرمایا: نیکی ایسے ہی ہوتی ہے حسن سلوک کا اجر ایسے ہی ہوتا ہے‘‘
((وَكَانَ أَبَرَّ النَّاس بأُمِّه)) (تخريج سیر اعلام النبلاء:141/19 ، النسائي (السنن الكبرى):8233)
’’اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے تھے۔‘‘
دوسری طرف والدین کی نافرمانی اور احسان فراموشی کتنا سین جرم ہے ملاحظہ کیجئے، حدیث میں ہے:
((قَالَ رَسُولُ اللهِ أَلا أُنُبِّئُكُمْ بِأكبر الكبائر ا ثَلَاثًا))
’’ آپ ﷺنے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ تین بار ارشاد فرمایا۔ ‘‘
((قَالُوا بَلَى يَارَسُولَ اللهِ‘‘
’’صحابی کہتے ہیں ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسولﷺ!:
((قَالَ الإِشْرَاكَ بِالله))
’’تو آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا‘‘
((وَعُقُوقُ الْوَالِدَين))
’’اور والدین کی نافرمانی‘‘
((وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِأً))
’’آپ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ اٹھ کر بیٹھ گئے‘‘
((فَقَالَ: أَلا وَقَوْلُ الرُّورِ ، ، قَالَ: فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سكت)) (صحيح البخاري:2654)
’’ اور فرمایا: ہاں اور جھوٹی بات، آپ نے کی اس بات کو دہراتے جارہے تھے، حتی کہ ہم نے کہا کاش آپ سکوت فرمائیں۔‘‘
تو لوگوں کے شکر کے حوالے سے یہ ایک مختصرسی گفتگو تھی اور اس گفتگو میں ہم نے یہ جانا کہ شکر انسانی معاشرے کی ایک ضرورت ہے، شکر ادا کرنے کے فائدے ہیں اور نہ کرنے کے نقصانات۔
شکر پر گفتگو تو اصل میں اللہ تعالی کے شکر کے حوالے سے کرنا مقصود تھی، لیکن چونکہ اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ بندوں کے شکر کو بھی جوڑا گیا ہے جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ
((لا يَشْكُرُ الله مَنْ لا يَشْكُرُ النَّاسِ)) (ابوداؤد:4811)
’’وہ اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا ، جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔‘‘
اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے لوگوں کے شکر کی حقیقت اور اس کا معنی و مفہوم معلوم کیا جائے، تاکہ کہیں انجانے میں لوگوں کی ناشکری اور احسان فراموشی کے مرتکب نہ ہور ہے ہوں اور نتیجتًا اللہ کی ناشکری کر رہے ہوں ۔
شکر کی ضرورت واہمیت اور اس کی کچھ تفصیل جانتا اس لئے بھی ضروری ہے کہ شیطان شکر کی راہ میں حائل ہوتا ہے تا کہ لوگ شکر گزار نہ بنیں، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ تعالی شکر کو پسند کرتا ہے اور ناشکری اور احسان فراموشی کو نا پسند کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ ۫﴾ (الزمر:7)
’’ اگر تم کفر کرو تو اللہ تعالی تم سے بے نیاز ہے۔‘‘
﴿ وَ لَا یَرْضٰی لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ﴾ (الزمر:7)
’’ لیکن وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
﴿ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ ؕ ﴾ (الزمر:7)
’’اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘
اس آیت کریمہ میں کفر کے مقابلے میں شکر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کفر کو پسند نہیں کرتا اور شکر پسند کرتا ہے۔ اس کا واضح مفہوم نظر آتا ہے کہ چونکہ کفر اصل میں ناشکری اور احسان فراموشی ہے اور ایمان حقیقت میں شکر گزاری ہے۔ تو اللہ تعالی احسان فراموشی پسند نہیں کرتا ہے اور شکر و احسان مندی کو پسند کرتا ہے، لہذا شیطان نہیں چاہتا کہ انسان شکر گزار ہے۔ چنانچہ شیطان نے علی الاعلان اپنے ان عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:
﴿ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىِٕلِهِمْ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ۝﴾ (الاعرف:17)
’’پھر میں ان کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا ۔‘‘
اور وہ کافی حد تک اپنے ارادوں میں کامیاب نظر آتا ہے، اللہ فرماتے ہیں:
﴿ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ۝﴾(سبا:13)
’’میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں ۔‘‘
اور ایک جگہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ۝﴾ (البقرء:243)
’’ یقینًا اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔‘‘
اللہ تعالی ہمیں شکر ادا کرنے والوں میں سے بنائے۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں