قربانی تقرب الی اللہ کا ایک ذریعہ

قربانی تقرب الی اللہ کا ایک ذریعہ

﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۝﴾ (الانعام:162)
فريضہ حج، عید الاشمی اور قربانی یہ تین اعمال اگر چہ ایک حیثیت سے مستقل اور الگ الگ موضوع ہیں، مگر حقیقت میں یہ تینوں ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہوتی ہیں اور ان تینوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ۔ فريضہ حج یوں تو اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے کہ جس کا لغوی معنی قصد و ارادہ ہے اور شرعی اصطلاحی معنی بیت اللہ کا قصد و ارادہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَ لِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا ؕ﴾ (آل عمران:97)
’’جو اس کے گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا قصد کرے (اس کا حج کرے)۔‘‘
مگر آپ جانتے ہیں کہ حج صرف بیت اللہ کی زیارت اور طواف کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں مزید دیگر اعمال بھی شامل ہیں، جیسا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی ہے، منٰی کا قیام، وقوف عرفہ، مبیت مز دلفہ، رمی جمرات اور قربانی وغیرہ شامل ہیں، اور ان میں سے متعدد اعمال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے گھر والوں سے متعلق ہیں، جیسا کہ صفا مروہ کے درمیان سعی اور رمی جمرات وغیرہ ہیں۔
اسی طرح عید الاضحی اور قربانی بھی انہی کی نسبت و تعلق سے ہے، ان اعمال کا بنیادی مقصد تو تقرب الی اللہ ہے خصوصی طور پر قربانی کا جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ ( الكوثر:2)
’’ پس تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘
﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ۝﴾ (الانعام:162)
’’ کہو میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔‘‘
مگر اس کے ساتھ ایک مقصد ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو بھی زندہ رکھنا ہے جب اللہ تعالی نے انہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور وہ دونوں باپ بیٹا قلبی، عقلی اور عملی طور پر اس کے لئے تیار ہو گئے ۔
﴿فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ۝﴾(الصافات:103)
’’جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا، اور ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا‘‘
﴿وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ۝۱۰۴
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴾
’’ اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہیں جزا دیتے ہیں‘‘ یعنی وہ حکم جو ہم نے تمہیں خواب کے ذریعے دیا تھا تم نے پورا کر دکھایا۔‘‘
تو جب دل و جان سے آپ نے تسلیم کر لیا، نہ عقل اس میں آڑھے آئی، نہ بیٹے کی محبت رکاوٹ بنی اور عملی طور پر اسے پیشانی کے بل گرا کر چھری بھی چلا دی ، تو ہمارے حکم کی تعمیل اور فرمانبرداری تو ہو گئی اور مقصد عذاب میں مبتلا کرتا اور سزا دیتا تو نہ تھا بلکہ ابتلاء اور آزمائش تھا اور وہ آپ اس میں پورے اترے
﴿اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ۝﴾
’’یقینًا یہ ایک بہت کھلی آزمائش تھی ۔ ‘‘
﴿وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۝﴾
’’چنانچہ ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑالیا۔‘‘
﴿وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ۝﴾
’’ اور اس کی تعریف و توصیف ہم نے ہمیشہ کے لئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ ‘‘
کہ اس دن کو ہم نے یوم عید بنا دیا اور اس قربانی کو لوگوں کے لئے قرب الہی کا ذریعہ بنادیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی آزمائشوں میں سرخرو ہونے کے بعد بڑے بڑے انعامات سے نوازا گیا، جن میں سے ایک انعام یہ تھا کہ انہیں امام الناس بتا دیا، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَ اِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ﴾(البقرة:124)
’’ جب ابراہیم علیہ السلام کو اُس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا، تو اُس نے کہا: میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔‘‘
یقینًا یہ ایک بہت بڑا انعام اور بہت بڑا شرف اور اعزاز ہے، اسی طرح انہیں اس اعزاز سے بھی نوازا کہ ان کی قربانی کو شرف قبولیت عطا کرتے ہوئے اسے رہتی دنیا تک ایک یادگار بنا دیا اسے لوگوں کے لئے اطاعت و فرمانبرداری اور خلوص و وفاداری کی ایک مثال اور نمونہ بنا دیا، اس دن کو لوگوں کے لئے خوشی اور مسرت کا دن بنادیا، انہیں خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنے کا دن بنا دیا، ان کے جذبہ تسلیم و رضا کو سراہنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کرنے کا دن بنا دیا۔
﴿وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ۝۱۰۸﴾
’’ان کے ذکر خیر کو ہمیشہ کے لئے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دیا۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام یقینًا ان بڑے بڑے انعامات و اعزازات کے مستحق تھے، کسی آزمائش میں پورا اترنا اور بالخصوص وہ آزمائش جس کو اللہ تعالی بہت کھلی آزمائش قرار دیں اور وہ آزمائش کہ جس پر پورا اترنے کی گواہی خود اللہ تعالی دیں کتنے عظیم مقام و مرتبے اور کتنی عزت اور شرف کی بات ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے کا صرف تصور ہی کر کے دیکھ لیجئے کہ دل پر کیا گزرتی ہے۔ صرف تصور کرنے سے ہی دل دہل جاتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی پر غشی طاری ہو جائے اور حرکت قلب بند ہو جائے۔
تو ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے عملی طور پر تیار ہو جاتا کوئی عام سا واقعہ نہیں ہے، بلکہ متعدد خصوصیات کا حامل ہے، ایک تو یہ کہ دو اس وقت اکلوتا بیٹا تھا اور دوسرے یہ کہ بڑھاپے کی عمر میں ملا تھا اور تیسرے یہ کہ دعا ئیں مانگ مانگ کر لیا تھا اور چوتھے یہ کہ اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا آزمائش در آزمائش تھا۔ اللہ تعالی کو ابراہیم علیہ السلام کی وفاداری کا تو پہلے ہی علم تھا، مگر آزمائش اور امتحان میں بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں، امتحان سے گزر کر ہی انسان انعامات و اکرامات اور درجات و اعزازات پاتا ہے۔ کسی کو با اعتماد اور وفادار کا لقب پانے کے لئے مدتوں امتحانات کی چکی سے گزرنا پڑتا ہے، کبھی کسی کو کوئی پہلی ہی ملاقات میں وفادار کا لقب نہیں مل جاتا۔ تو ابراہیم علیہ السلام کو بھی بہت سے امتحانات سے گزر کر یہ لقب ملا۔
﴿وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤیۙ﴾
’’وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا حق ادا کر دیا۔‘‘
تو اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ابراہیم علیہ السلام کی وفاداری کو پرکھنا چاہا، اور اس میں ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے بیٹا مانگا تو اللہ تعالی نے بیٹا عطا کر دیا اور چونکہ اولاد سے محبت ایک فطری بات ہے چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کے دل کے کسی کونے میں بیٹے کی محبت نے بھی کچھ جگہ بنالی ادھر اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنا رکھا تھا اور خلیلیت ایک ایسا مقام و منصب ہے کہ جو کسی قسم کی شراکت قبول نہیں کرتا، تو جب بیٹے کی محبت نے باپ کے دل میں جگہ بنائی تو خلیل کی غیرت نے جوش مارا اور ابراہیم علیہ السلام کے دل سے بیٹے کی محبت کو نکال دینا چاہا، چنانچہ حکم دیا گیا کہ بیٹے کو ذبح کر دو، تو جب ابراہیم علیہ السلام بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے عملی طور پر تیار ہو گئے تو ثابت ہو گیا کہ ان کے دل میں اللہ تعالی کی محبت بیٹے کی محبت پر غالب ہے، تو خُلت شراکت کی آلائشوں سے پاک ہو گئی، چنانچہ ذبح کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی، کیونکہ اصل مقصود تو عزم و استقلال کو پرکھنا تھا کہ کہیں اس میں کوئی لغزش پیدا تو نہیں ہوئی، تو جب مقصود حاصل ہو گیا تو ذبح کرنے کا حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک دینے کی قربانی دے کر اس کو چھڑا لیا گیا۔ (بدائع الفوائد:1198)
اس مینڈھے کے سینگ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سنبھال کر کعبے کے اندر رکھ دیئے تھے اور قریش نسل در نسل آپ ﷺکی بعثت تک ان کو محفوظ رکھتے چلے آئے تھے حتی کہ بنوامیہ کے دور میں جب بیت اللہ کو آگ لگ گئی تو وہ سینگ بھی اس میں جل گئے ، امام الشعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے وہ دونوں سینگ کعبہ میں دیکھتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر: الصافات)
امام شعبی رحمہ اللہ کی تاریخ وفات 103ہجری ہے ، اور کعبہ کے جلنے کا واقعہ 64 ہجری میں پیش آیا ۔ )
عید الاضحی ، عید قربان جس نسبت سے منائی جاتی ہے آپ سب پہلے بھی اس سے واقف تھے، آج اس سے متعلق کچھ معلومات پھر سے تازہ ہو گئیں۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے مینڈھے کی قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے، جس کے پیچھے ایک اور بہت بڑی قربانی ہے، جو کہ دنیا کی عجیب ، انوکھی اور نرالی قربانی ہے۔ اس یاد کو قیامت تک تازہ رکھنے کا اللہ تعالی نے عید کی صورت میں جو انتظام فرمایا ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑا انعام اور اعزاز ہے، جو انھیں ان کے آزمائشوں میں سرخرو ہونے کے نتیجے میں عطا کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا بھی مائی تھی کہ:
﴿وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴾(الشعراء:84)
’’ اور بعد کے آنے والوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھے۔‘‘
ذکر خیر کی خواہش انسان کی فطری خواہش ہے، انسان اگر خود اچھا نہ بھی ہو، اس کی عادات و صفات اچھی نہ بھی ہوں حتی کہ اس میں کوئی ایک اچھی صفت بھی نہ ہو، وہ پھر بھی چاہے گا کہ لوگ اس کی تعریف کریں، یا کم از کم اسے برا نہ کہیں۔
تعریفی کلمات میں ایک ایسی مٹھاس ہے کہ اس کی لذت و حلاوت انسان کو مسحور کر دیتی ہے اور مذمتی الفاظ میں ایسی کڑ واہت ہے کہ پورے جسم کو مسموم اور زہر آلود کر دیتی ہے۔
مدح و تعریف کی خواہش سے کوئی انسان مستغنی نہیں ہے، اگر انسان کی زندگی کا ایک دن بھی باقی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اس میں بھی اسے تعریف ہی سننے کو ملے۔
جھوٹی تعریف جھوٹ ہی ہوتا ہے، جھوٹی تعریف کی خواہش کرنے والے کی موت کے ساتھ تعریف بھی مر جاتی ہے، جبکہ سچی تعریف باقی رہتی ہے اور وہ آدمی کے فوت ہو جانے کے بعد بھی اسے زندہ رکھتی ہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے سچی تعریف اور سچے ذکر خیر کی دعا مانگی:
﴿وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴾(الشعراء:84)

’’ کہ بعد والوں میں میرا سچا ذکر رکھ دے۔‘‘
تو اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمائی، بلکہ اللہ تعالی نے خود بھی تعریف فرمائی اور لوگوں میں ان کا ذکر خیر رکھنے کا انتظام فرما دیا۔ چنانچہ مسلمان، یہود اور نصاری سب کے سب ان کے مداح اور ثناخواں ہیں اور ان کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں اور انہیں اپنے اپنے گروہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اللہ تعالی ان کے دعوے کی نفی کرتا ہے، فرمایا:
﴿مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۝﴾ (آل عمران:67)
’’ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک مسلم تھے اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘
سچے ذکر خیر کی خواہش تو اچھی خواہش ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے نیکی کی توفیق مانگ رہا ہے، آدمی نیک کام کرے گا تو سچاذ کر خیر ہوگا۔
مثلاً: آدمی بخیل اور کنجوس ہو اور خواہش کرے کہ لوگ اسے اچھا سمجھیں تو یہ کیے ممکن ہے ہاں کوئی آدمی کسی مقصد کے لئے اس کی جھوٹی تعریف کرتا ہے تو اور بات ہے مگر وہ ایک عارضی کی تعریف ہوگی اور لوگوں پر جھوٹی تعریف کرنے والے کا جھوٹا ہونا واضح ہو جائے گا اور جھوٹی تعریف کی خواہش رکھنا انسان کے لئے بہت بڑے نقصان اور دین کے فساد کا باعث بنتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: آپﷺ نے فرمایا:
((مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لدِيْنِهِ)) (سنن ترمذی: 2376)
’’ دو بھوکے بھیڑیئے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال اور شرف (یعنی چود ہر اہٹ اور ریاست) کی خواہش اور حرص و لالچ آدمی کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔‘‘
جبکہ سچی تعریف اور سچے ذکر خیر کی خواہش جائز بھی ہے بشرطیکہ اس میں ریاہ اور دکھلاوا نہ ہو، اگر ریا کاری ہوگی تو وہ بھی تعریف نہ رہے گی۔ اگر لوگ خود بخود کسی کی بھی تعریف کرتے ہیں تو اسے ایک مؤمن کے لئے فوری خوشخبری قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ مسلمان کو دونوں جہاں میں اجر و ثواب ملتا ہے۔ دنیا میں اجر کئی صورتوں میں ہو سکتا ہے جیسا کہ مال میں برکت ، اولاد میں برکت یا دیگر بے شمار نعمتوں کے ذریعے اجر دیا جاتا اور ان میں سے ایک تعریف بھی ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝﴾ (مريم:96)
’’یقینًا جو لوگ ایمان اور عمل صالح کرتے ہیں عنقریب رحمن ان کے لئے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔ ‘‘
اور جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فَلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ: فَيُحِبُّه جبريل ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فَلَانًا فَأَحِبُّوهُ ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ ثُمَّ يُوضَعُ لهُ القَبُولُ فِي الْأَرْضِ)) (صحيح مسلم:2637)
’’ اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو تو جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں منادی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں پس تم بھی اس سے محبت کرو، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اور پھر زمین پر بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔ ‘‘ یعنی لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، ایسے ہی جب اللہ تعالی کسی کو نا پسند کرتے ہیں تو یہی عمل ہوتا ہے۔ ‘‘
تو دنیا میں اس تعریف اور لوگوں کے دلوں میں کسی کی محبت ڈال دینے کو فوری اور جلدی والی خوشخبری قرار دیا ہے، یعنی ایک خوشخبری تو آخرت میں ہوئی اور دوسری جلدی حاصل ہونے والی خوشخبری یہ دنیا میں عزت و احترام اور تعریف ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ((عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قِیلَ لِرَسُولِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ العَمَل من الخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ))
’’ آپﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ جو نیک عمل کرتا ہے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟‘‘
((قَالَ: تِلْكَ عَاجِل بُشْرَى الْمُؤْمِن)) (صحيح مسلم:2642)
’’فرمایا یہ مسلمان کی جلدی والی خوشخبری ہے۔‘‘
ابراہیم علیہ السلام کی قدر و منزلت ، مقام و مرتبے اور ان کے ذکر خیر کی بات ہو رہی تھی ادھر آپ اسلئے کام کے مقام و مرتبے اور ذکر خیر کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالی خود فرماتے ہیں۔
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾
’’ہم نے آپ ﷺکا ذکر بلند کر دیا ہے ۔‘‘
اور یہ مقام یقینًا بلند ترین ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں