نیکی کی حفاظت کیسے کریں؟
﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴾ (الانعام:162)
گذشتہ جمعے قربانی کی اہمیت، فضیلت، آداب، فوائد و ثمرات، حکمتوں، اغراض و مقاصد اور بالخصوص معاشرے پر اس کے نتائج و اثرات کا ذکر ہورہا تھا۔
مختلف پہلوؤں پر غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ معاشرے پر قربانی کے مطلو به مثبت اثرات مرتب نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ اس میں سب سے بنیادی شرط اور عنصر نا پید ہے، اور جب کسی عمارت کی بنیاد ہی درست نہ ہو تو اس کا درست ہونا محال ہوتا ہے۔
جیسا کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
خشت اول چون نہد معمار کج
تاثریا می رود دیوار کج
پہلی اینٹ جب معمار ٹیڑھی لگادے تو اگر دیوار ثریا تک بھی چلی جائے تو ٹیڑھی ہی رہے گی۔ تو گویا یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ بنیاد اگر ٹیڑھی ہو تو دیوار بھی ٹیڑھی ہی ہوگی اور یہاں دیوار یا عمارت سے مراد عمل ہے اور عمل کی بنیاد نیت ہے۔
تو معنی یہ ہوا کہ نیست اگر خراب ہوئی تو حمل بھی خراب ہوا اور جب عمل خراب ہو تو یقینًا اس کے مطلوبہ مثبت اثرات افراد اور معاشرے پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔
صحبتِ نیت کے بغیر اس دنیا میں آدمی کی ذات پر اور معاشرے پر کوئی مثبت اثر ظاہر ہوتا ہے اور نہ آخرت میں ، جیسا کہ حدیث میں حضرت ابو امامہ الباھلی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
((جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِي فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الاَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ))
’’ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ جس نے ثواب اور شہرت کی نیت سے جہاد کیا؟‘‘
((فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ، لَا شَيْءَ لَهُ))
’’تو آپﷺ نے فرمایا: اس کے لئے کچھ نہیں۔‘‘
((فَاعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللهِ لَا شَيْءَ لَهُ))
’’اس شخص نے تین بار یہ بات دہرائی ، اور آپﷺ نے تینوں بار یہی جواب دیا کہ اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یعنی کوئی اجر وثواب نہیں ہے۔‘‘
((ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصاً وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ)) (سنن نسائی:3140)
پھر آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالی صرف وہ عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لئے ہو اور صرف اسی کی خاطر کیا گیا ہو۔‘‘
اس حدیث کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ جس کی نیت میں کچھ خرابی اور ملاوٹ ہو اس کا دہ عمل اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتا، اللہ وہ عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لئے کیا گیا ہو۔
قبولیت اعمال کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے چنانچہ ہر مسلمان کو لازمًا اس کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے، کیونکہ نیک اعمال کی توفیق اگر چہ ایک بہت بڑا اور مشکل کام ہے، مگر اس سے مشکل کام اس عمل کو صالح بناتا ہے، کیونکہ صرف عمل صالح ہی اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول ہے، اور اس کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠۱۱۰﴾ (الكهف:110)
’’ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔‘‘
تو عمل کے صالح ہونے کی فکر ہونی چاہیے اور جب تک کسی عمل میں یہ دوشرطیں نہ پائی جائیں وہ عمل صالح نہیں ہوتا، اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کے لئے ہو اور دوسری یہ ہے کہ وہ سنت کے مطابق ہو اور اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو عمل صالح نہیں رہتا۔
اور اگر اس کی فکر نہ کی گئی تو خطرہ یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے تئیں یہ سمجھتے رہیں کہ ہم نیک عمل کر رہے ہیں اور اُس دن پتہ چلے کہ وہ تو سب ذرات بنا کر ہوا میں اڑا دیئے گئے ہیں کیونکہ وہ عمل صالح نہ تھے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴾ (الفرقان:23)
’’اور جو جو اعمال انہوں نے کئے تھے ہم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کر دیا۔‘‘
اسی طرح حدیث میں ہے ، آپﷺ نے فرمایا:
((لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ بِحَسَنَاتِ أَمْثَالِ جِبَالٍ تِهَامَةَ بَيْضًا فَيَجْعَلُهَا اللهُ هَبَاءً مَّنْثُورًا)) (سنن ابن ماجه:4245)
’’میں یقینًا اپنی امت کے کچھ لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جیسے بڑے بڑے اعمال لے کر آئیں گے مگر اللہ تعالی انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردے گا۔‘‘
لہٰذا اللہ تعالی نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے، کہ ابھی سے غور و فکر کر لو، فرمایا۔
﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ۱۰۳
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا﴾ (الكهف:103۔104)
’’ اے پیغمبر (ﷺ) ان سے کہیے کیا ہم تمہیں بتا ئیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں، وہ لوگ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہ راست سے بھنگی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔‘‘
تو اپنے اعمال کی جانچ پرکھ کرنا ضروری ہے کہ کیا وہ شرعی تعریف کے مطابق نیک اعمال میں یا محض ہمیں لگتا ہے کہ وہ نیک اعمال ہیں اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ واقعی صالح اعمال ہیں تو پھر ان کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ بہت سے ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے کیے ہوئے نیک عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔
جیسا کہ شرک ہے، ارتداد ہے، یعنی مرتد ہونا، دین کا یا اہل دین کا مذاق اڑانا، دین کی کسی بات اور حکم کو نا پسند کرتا، شرک اصغر کا مرتکب ہوتا، کتا پالنا، جیسا کہ حدیث میں ہے بخاری مسلم کی حدیث ہے کہ :
((مَنِ اتَّخَذَ كَلَبًا ، إِلَّا كَلْبَ زَرْعٍ أَوْ غَنَمِ أَوْ صَيْدٍ يَنقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيْرَاطٌ)) (صحيح مسلم: 1574)
’’جو شخص کتا رکھتا ہے، سوائے کھیتوں کی حفاظت کے لئے، بکریوں کی رکھوالی کے لئے یا شکار کے لئے تو اس کے اجر و ثواب سے روزانہ ایک قیراط اجر کم کر دیا جاتا ہے اور اگر کسی کے پاس دو کتے ہوں تو ظاہر ہے دو قیراط روزانہ اس کے نیک اعمال میں سے کم ہو جاتا ہے اگر وہ کوئی نیک اعمال کرتا ہو تو ، اسی طرح دیگر کئی اعمال ہیں جو نیکیاں ضائع کر دینے کا سبب بنتے ہیں اس لئے ہمیں یقینًا اس کی فکر کرنی چاہیے۔
نیک اعمال ضائع کر دینے والے دیگر متعدد اسباب میں سے ایک وہی ہے جس کا آغاز میں ذکر ہوا کہ نیک عمل کرتے وقت نیت میں کچھ ملاوٹ ہو جائے تو اس سے عمل ضائع ہو جاتا ہے، جیسا کہ جب آپﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
((ولا شيء له) ’’اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی حساس، پریشان کن، باعث فکر مندی اور سنگین ہے، اس کی سنگینی کا سرسری طور پر تو شاید اکثر لوگوں کو اندازہ نہ ہو، مگر غور و فکر کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
کسی نیک عمل میں سو فیصد نیت درست ہونا نہایت ہی مشکل کام ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اکثر و بیشتر کام کا آغاز نیک نیتی سے ہی ہوتا ہے، مگر انتقام تک کیا وہ نیت سلامت رہتی ہے یا اس میں بدنیتی کی دخل اندازی ہو جاتی ہے، کسی بھی نیک عمل کا یہ سب سے خطر ناک حصہ ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں کہ جس کا ذکر ہو رہا ہے اور اس طرح کی دیگر احادیث اور قرآن پاک کی آیات سے تو انجام نہایت ہی خوفناک نظر آتا ہے، کیونکہ کام کے آغاز سے القام تک نیست درست رکھنا ایک چیلنج ہے، اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں، ہمارے جیسے لوگ کسی چھوٹے سے کام میں کہ جو چند منٹس میں ادا ہو جائے ممکن ہے نیت درست رکھنے میں کامیاب ہو جائیں مگر پھر دوسرا مرحلہ اس کی حفاظت کا آجاتا ہے اور اس نیکی کی حفاظت مرتے دم تک کرنا پڑتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے شاعر نے کہا ہے کہ:
کوک فریدا کوک توں راکھا جیویں جوار
جد تک نا تھا نہ پکے توں کردا رہ پکار
یعنی ایک تو نیکی بعض صورتوں میں ابتدا سے ہی نا قابل قبول ہوتی ہے، کیونکہ یا تو اس کی نیت درست نہیں ہوتی یا سنت کی مطابقت نہیں ہوتی، یا اس نیکی کے دوران میں ملاوٹ ہو جاتی ہے، یا نیت تبدیل ہو جاتی ہے، پانی کی مکمل ہو جانے کے بعد احسان جتلانے یا کسی دوسرے سبب سے ضائع ہو جاتی ہے۔
لہٰذا تینوں صورتوں میں نیکی کی حفاظت ضروری ہے، کہ پہلے تو عمل کو ابتداء صالح بنانے کی کوشش کرتا ، اور پھر اس صالح عمل کو ملاوٹ سے بچانے کی کوشش کرنا اور پھر مکمل ہونے کےبعد اس پر اترانے، احسان جتلانے یا دیگر نیکی کو ضائع کر دینے والے اسباب سے بچانے اور اس کی حفاظت کی کوشش کرتے رہنا ضروری ہے۔
تو بہت سی آیات واحادیث کی روشنی میں یہ نہایت ہی تشویش و فکر مندی کی بات ہے۔ البتہ میں یہاں آج کی گفتگو میں ایک دوسرا پہلو بھی سامنے رکھنا چاہوں گا کہ جس سے ایک امید کی کرن پھوٹتی ہے اور قدرے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور نیکی کا جذ بہ برقرار رہتا ہے، اور وہ یہ کہ علماء کرام نے قرآن وحدیث کے دیگر دلائل کی روشنی میں اس کی ایک تفصیل بیان کی ہے، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ:
اگر کوئی شخص کوئی عمل خالصتاً کسی دنیوی مقصد کے لئے کرتا ہے، جیسے: ریا کاری کے طور پر شہرت کے لئے، تعریف کی غرض سے کسی مالی منفعت کی خاطر ، یاکسی کی خوشنودی کے لئے، تو اس کے پورے کے پورے عمل کے باطل اور ضائع ہونے میں قطعًا کوئی شک نہیں ہے۔
اور جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے کہ جو ملاوٹ والا عمل ہو، جس میں اجر و ثواب کی نیت بھی ہو اور اس میں کوئی دنیوی مقصد بھی شامل ہو تو اس کی چند ایک صورتیں ہیں:
جن میں سے ایک یہ ہے کہ جس عمل میں دونتین برابر برابر ہوں، تو وہ پورے کا پورا عمل ضائع ہو جائے گا اور اس میں سے اسے کچھ نہیں ملے گا جیسا کہ اس حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی ہے، جو ابھی ہم نے سنی کہ جس میں آپ سے ہم سے جب دریافت کیا گیا کہ جو شخص تو اب کی نیست سے اور شہرت کی نیت سے جہاد کرتا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ((لا شيء له)) ’’اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح ملاوٹ والے عمل کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے کی گئی نیت کا حصہ، دنیا کے لئے کی گئی نیت سے زیادہ ہو، تو اس میں جس مقدار سے اچھی نیت کا حصہ زیادہ ہو گا صرف اسی قدر اس کو اجر ملے گا باقی ضائع ہو جائے گا۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ دنیا کے لئے کی گئی نیت کا حصہ اللہ کے لئے کی گئی نیت سے زیادہ ہو، تو س اس صورت میں اسے کوئی اجر نہیں ملے گا، بلکہ مزید یہ کہ وہ اس پر سزا کا مستحق بھی ہوگا۔
فاسد نیت سے نیکی کا ضائع ہونا یا اجر وثواب میں کمی آنا تو ایک بہت بڑی حقیقت ہے جو قرآن وحدیث کے متعدد دلائل سے ثابت ہے، اس کو مزید آسان الفاظ میں سمجھنے کے لئے اس بات کو سامنے رکھیئے کہ اگر نماز میں محض غفلت اور بے تو جہی کی وجہ سے ثواب میں کمی ہو سکتی ہے تو فاسد نیت سے کیونکر نہیں ہوگی۔
حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ العَبْدَ لَيُصَلِّى الصَّلاةَ، مَا يُكْتَبُ لَهُ فِيهَا إِلَّا عُشْرُهَا، تُسعُها، ثُمُنُهَا، سُبُعُهَا، سُدُسُهَا، خُمُسُهَا، رُبُعُهَا، ثُلُثُهَا، نِصْفُهَا (مسند احمد:18894)
’’فرمایا: بندہ نماز پڑھتا ہے، مگر اس کا اجر اسے دسواں حصہ ملتا ہے، نواں ملتا ہے، آٹھواں ملتا ہے، ساتواں ملتا ہے، چھٹا ملتا ہے، پانچواں ملتا ہے، چوتھا ملتا ہے،تیسراملتا ہے اور آدھا ملتا ہے۔‘‘
یعنی اگر نماز کے ثواب کے اس حصے کئے جائیں، تو نماز میں غفلت، بے توجہی، غیر حاضری اور عدم خشوع کی وجہ سے ثواب میں کمی آتی ہے اور ایسی کمی آتی ہے کہ کسی کو سب سے کم یعنی دسواں حصہ ملتا ہے اور کسی کو سب سے زیادہ آدھا حصہ ملتا ہے۔
ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں دس میں سے دس نمبر ملتے ہوں گے یعنی سو فیصد ملتے ہوں گے، شاید کوئی نہ ہو اور ویسے بھی کوئی اس کا دعوی تو کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس کا اللہ کے سوا کسی کو علم ہے ہی نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ مجموعی طور پر آج امت مسلمہ کی جو حالت ہے وہ بقول شاعر کچھ یوں ہے کہ:
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشناء تجھے کیا ملے گا نماز میں
ہم نے دل میں بت پال رکھتے ہیں۔ دولت کے ، قوت و طاقت کے علم و آگہی کے فہم و فراست کے، عہدہ و منصب کے، وطن کے اور برادری کے، وہ ہماری توجہ نماز میں کہاں قائم رہنے دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو نماز میں ادھر اُدھر جھا سکتے ہیں، کہ اس سے بھی ثواب میں کمی آتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ((سَأَلْتُ رَسُولَ الله عَن الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاةِ))
’’میں نے آپ ﷺسے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے بارے میں پوچھا۔‘‘
((فَقَالَ: هُوَ اخْتِلاسُ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ))
’’تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان کا اچکتا ہے جو وہ بندے کی نماز سے لے بھاگتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری:751)
اسی طرح ہے تو جہی والی دعاء بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِل لاهٍ)) (سنن ترمذی:3479)
’’اور جان لو کہ اللہ تعالی غافل اور بے توجہ دل سے نکلی ہوئی دعا قبول نہیں کرتا ۔‘‘
تو یہ، قربانی کے افراد اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب نہ ہونے کی اک بنیادی وجہ ہے کہ ہم قربانی شاید اس جذبے سے نہیں کر پاتے جو مطلوب ہے اور شاید ہم میں خلوص و تقوی کا بھی فقدان ہے، کیونکہ قربانی کی قبولیت مشروط ہے خلوص و تقوی ہے، جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ﴾(المائدة:27)
’’ اللہ تعالی متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔‘‘
اللہ تعالی ہمیں اعمال خالص اپنی رضا اور خوشنودی کے لیے اور سنت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
…………..