پریشانیوں کا ایک اہم سبب احساس محرومی

پریشانیوں کا ایک اہم سبب احساس محرومی

﴿وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ۖؗ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠۝﴾ (الانعام:165)
اس دنیا کی زندگی میں انسان کی پریشانیوں کا ایک بہت بڑا سبب اس کا احساس محرومی ہے، یعنی جب انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ دنیا کی بہت سی نعمتوں سے یا بڑی بڑی نعمتوں سے محروم ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات اور وسوسے اٹھنے لگتے ہیں اور وہ دل ہی دل میں کہتا ہے کہ آخر میں ہی کیوں؟ میں اتنا بد قسمت، بد نصیب اور محروم کیوں ہوں؟
اور پھر جب وہ اپنے سے کسی کم تر کو، جو اس کی نظروں میں کم تر ہوتا ہے، علم میں معقل اور سمجھداری میں صحت میں، حسب و نسب میں، یا کسی اور شعبے میں کم تر ہوتا ہے مگر اللہ تعالی نے اسے خوب مال و دولت سے نواز رکھا ہوتا ہے، نعمت اولاد عطا کر رکھی ہوتی ہے، کاروبار دن بدن پھل پھول رہا ہوتا ہے، کوٹھیوں اور گاڑیوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے آگے پیچھے نوکر چاکر اور ملازم اور غلام ہوتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ دیکھ کر وہ مزید کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کا اضطراب بڑھ جاتا ہے، بے چینی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور رنج والم اور پریشانی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ تب وہ اس محرومی کا ازالہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے اور ہر جائز اور نا جائز طریقے سے وہ نعمتیں حاصل کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جاتا ہے اور ہمہ تن اس میں مشغول ہو جاتا ہے، اپنی تمام صلاحیتیں اس کے لئے وقف کر دیتا ہے اور دن رات ایک کر دیتا ہے۔
آج کی گفتگو میں ان شاء اللہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟
جہاں تک محرومیت کی حقیقت کا تعلق ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی چیز سے ضرور محروم ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالی کے نظام کا حصہ ہے، اس کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور فوائد ہیں اور سب سے بڑی بات کہ یہ اللہ تعالی کی مرضی اور منشا ہے، وہ جو چاہے کرے اُس سے کوئی پوچھنے کا حق نہیں رکھتا
﴿ لَا یُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْـَٔلُوْنَ۝﴾(الانبياء:23)
’’وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہے اور سب جوابدہ ہیں ۔‘‘
تو اللہ تعالی نے کائنات کا یہ نظام بنا رکھا ہے تمام مخلوقات کے درمیان درجات و مراتب اور فرق و تفاوت رکھ رکھا ہے اور پھر ہر مخلوق کے اندر بھی درجہ بندی کر رکھی ہے اور ایک کو دوسرے پر برتری اور فضیلت دے رکھی ہے۔
مثلاً: انسانوں کے مابین ہر پہلو سے درجہ بندی ہے ایک کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ شکل وصورت کے لحاظ سے علم و آگہی کے لحاظ سے عقل و دانش کے لحاظ سے اور دیگر نعمتوں کی تقسیم کے لحاظ سے۔
اللہ تعالی کی بے شمار اور ان گنت نعمتوں میں سے یہ جو چند مشہور اور نمایاں نعمتیں ہیں: مال و دولت اور اولا و و احفاد وغیرہ ، ان کا اگر جائزہ لیں تو یہ نعمتیں بھی اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت سب کو یکساں عطا نہیں کیں، بلکہ واضح طور پر فرمایا کہ ہم نے ان نعمتوں کی تقسیم میں فرق رکھا ہے۔
جیسا کہ اولاد کے بارے میں فرمایا:
﴿ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ۝۴۹
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا ﴾ (الشورى:49۔50)
’’جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اسی طرح مال و دولت کی تقسیم کے بارے میں فرمایا:
﴿ وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ۚ﴾(النحل:71)
’’ اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کر رکھی ہے۔‘‘
اسی طرح دیگر تمام نعمتوں کی تقسیم میں اللہ تعالی نے بندوں میں فرق و تفاوت رکھا ہے اور بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔
ایسے ہی دیگر تمام مخلوقات کو ایک دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے، وہ لیل و نہار ہوں، ایام و شہور ہوں ، سنین و قرون ہوں، جن وانس اور ملائکہ ہوں، مقامات ہوں، عبادات ہوں، ہر ایک میں درجہ بندی ہے، فرق و تفاوت ہے اور فضیلت و برتری میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
تو اس لحاظ سے تو محرومی ایک حقیقت ہے کہ جس کا ہر انسان کو کسی نہ کسی صورت میں سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ اللہ تعالی کے اس نظام کا حصہ ہے کہ جس پر پوری کائنات کو بشمول انسان چلا یا جا رہا ہے جس کی بہت سی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ جہاں اللہ تعالی کچھ لوگوں کو نعمتیں عطا کر کے آزماتا ہے وہاں کچھ لوگوں کو ان سے محروم کر کے آزماتا ہے۔
اللہ تعالی کے ہاں بندوں کو آزمانے اور ان کا امتحان لینے کا نظام بہت ہی اعلی و ارفع اور بہت ہی پیچیدہ ہے، بہت ہی لطیف اور دقیق ہے اور عین عدل پر مبنی ہے، بلکہ اس سے بھی آگے اس کی مغفرت اور بخشش اور رحمت بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کے اس نظام کو اجمالی صورت میں تو سمجھ سکتے ہیں مگر اس کی تہہ میں جا کر کسی آزمائش کی حکمت پر کوئی حتمی بات کہنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، الا یہ کہ انبیاء علیہم السلام اللہ کے حکم سے کسی بات کی حکمت بیان کردیں۔
تو اللہ تعالی کے نظام ابتلاء وامتحان کو اس کی تمام جزئیات کے ساتھ سمجھنا اور اس کی تمام باریکیوں کا احاطہ کرنا ناممکن ہے، البتہ قرآن وحدیث میں بیان کردہ اس کے اصولوں کی روشنی میں ایک اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے۔ اور ان اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ:
اللہ تعالی لوگوں کو خیر اور شر، دونوں کے ذریعے آزماتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ۝۳۵﴾(الانبياء:35)
’’اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں، آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹتا ہے۔‘‘
اور یہ کہ ہر انسان کی آزمائش لازمی اور ضروری ہے بالخصوص اہل ایمان کی، جیسا کہ فرمایا:
﴿ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۝﴾ (العنكبوت:2)
’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔‘‘
اور ایک اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
(( إنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ))
((بڑا ا جر، بڑی آزمائش کے ساتھ ہوتا ہے۔ ‘‘
((وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبُّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ))
’’اور اللہ تعالی جب کسی قوم کو پسند کرتا ہے تو وہ انہیں آزماتا ہے‘‘
((فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَاء وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطَ)) (سنن ترمذی:2396)
’’پس جو اس پر راضی رہا، اس پر صبر کیا اور اللہ تعالی سے اجر کی امید رکھی تو اسے اللہ کی رضا حاصل ہوگی اور جس نے ناراضی کا اظہار کیا، اسے ناراضی ہی ملے گی۔‘‘
اسی طرح ایک اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے پسندیدہ بندوں کی زیادہ سخت آزمائش کرتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
((سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاء))
’’آپ ﷺسے دریافت کیا گیا کہ سب سے سخت آزمائشیں کن لوگوں پر آتی ہیں؟‘‘
((الانبياء ، ثم الأمثل فالأمثل))
’’انبیاء علیہم السلام پر، پھر ان جیسے اور پھر ان جیسے لوگوں پر۔‘‘
یعنی جیسے جیسے کوئی اطاعت و فرمانبرداری میں انبیاء ملسلام کے قریب ہو جائے گا، زیادہ سے زیادہ ان کے نقش قدم پر چلے گا، اس کی آزمائشیں سخت ہوتی چلی جائیں گی، جیسے جیسے آدمی بلندیوں کو چڑھتا ہے اس کی مشقت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، میٹرک کے امتحان میں بیٹھنے والے سے پرائمری کے سوالات نہیں کئے جاتے اور بی اے کا امتحان دینے والے سے میٹرک کے سوالات نہیں ہوتے۔
((يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبٍ دِينِهِ))
’’آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمایا جاتا ہے۔‘‘ (سنن ترندی:2398)
((فَإِنْ كَانَ فِي دِيْنِهِ صَلَابَةٌ زِيْدَ فِي بَلَائِهِ))
’’ آدمی دین میں اگر سخت ٹھوس اور مضبوط ہوگا تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جائے گا۔‘‘
((وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَةٌ خُفِّفَ عَنْهُ))
’’اور اگر اس کے دین میں پتلا پن ہوگا تو اس کی آزمائش ہلکی کر دی جاتی ہے۔‘‘
((وَلَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتّٰى يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيْئَةً)) (سنن دارمی:2825)
’’اور آزمائش بندے پر مسلسل جاری رہتی ہے حتی کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ زمین پر اس حال میں چل رہا ہوتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘
تو اسی طرح ابتلاء، آزمائش اور امتحان کے متعدد اصول، حکمتیں اور فوائد ہیں اور اس کے فوائد میں سے چند فائدے یہ ہیں کہ: وہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں، اپنی غلطیوں، خطاؤں اور گناہوں کے اقرار و اعتراف کا شعور پیدا کرتی ہیں تو بہ واستغفار کی توفیق ملتی ہے اور عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اور بہت سے فوائد ہیں۔
تو بات ہورہی تھی محرومی کی ، ان معنوں میں محرومی تو ایک حقیقت ہے، اس سے کسی کو مفر نہیں ہے، کسی کو استثناء نہیں ہے، رہی یہ بات کہ یہ احساس محرومی کیوں پیدا ہوتا ہے، تو اس کی ایک بنیادی وجہ ہے ایمان کی کمزوری، دین سے لاعلمی اور کامیابی اور ناکامی کا خود ساختہ معیار اور آزمائش میں ناکامی ۔
آزمائش اور امتحان کے موضوع کی تو ایک تفصیل ہے جو یقینًا اس مختصر سے وقت میں بیان نہیں ہو سکتی، اس لئے ہم احساس محرومی کے دوسرے پہلو پر گفتگو کرتے ہیں۔ ابھی تک تو ہم نے جس احساس محرومی کا ذکر کیا ہے وہ تو اللہ تعالی کی طرف سے آنے والی آزمائش پر ناراضی کا اظہار ، تقدیر پر اعتراض اور اللہ کی تقسیم پر شکوہ ہے۔ مگر اب ہم ایک ایسے احساس محرومی کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جو حقیقی محرومیت کا احساس و شعور ہے، جو ایمان کی علامت ہے اور مسلمان سے مطلوب ہے، اور وہ احساس محرومی نعمت ایمان سے محروم ہو جانے کا ڈر اور خوف اور اس کی لذت سے محروم ہونے کا احساس ہے۔ وہ احساس محرومی تلاوت قرآن اور تدبر قرآن کی لذت سے محروم ہونے کا احساس ہے، وہ احساس محرومی اللہ کے ڈر سے بہنے والے آنسوؤں اور ان کی لذت سے محروم ہونے کا احساس ہے۔
کیا آج ہماری آنکھیں اللہ کے ڈر سے بہنے والے آنسوؤں سے محروم نہیں ہیں؟ کیا ہماری آنکھیں قحط سالی کا شکار نہیں ہیں؟ کیا ہمیں یاد ہے کہ آخری بار ہماری آنکھوں سے اللہ کے ڈر سے کب آنسو بہے تھے: اور تعجب یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ ہماری آنکھیں اللہ کے ڈر سے بہنے والے آنسوؤں سے خشک ہو چکی ہیں اور ہمیں اس کمی اور محرومی کا احساس تک نہیں ہے، جب کہ حقیقت میں یہ بات نہایت ہی باعث تعجب ہے جیسا کہ امام محمد بن واسع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((إِذَا رَأَيْتَ رَجُلًا فِي الْجَنَّةِ وَيَبْكِي ، أَلَسْتَ تَعْجَبُ مِنْ بُكَائِهِ))
’’اگر آپ جنت میں کسی آدمی کو روتا ہوا دیکھیں، تو کیا اس کے رونے پر تعجب نہیں کریں گے؟‘‘
((قال: بلٰى)) ’’کہا: ہاں کیوں نہیں۔‘‘
((قَالَ: فَالَّذِي يَضْحَكُ فِي الدُّنْيَا وَلَا يَدْرِي إِلَى مَاذَا يَصِيرُ هُوَ أعجب منه)) ” (احياء علوم الدين / الآفة العاشرة ، المزاح:133/3))
’’ تو فرمایا تو تو دنیا میں جو شخص ہنستا ہے اور اسے معلوم نہیں کہ اس کا انجام کیا ہونے و والا ہے وہ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات ہے۔‘‘
اللہ کے ڈر سے نکلنے والے آنسو بندۂ مؤمن کی معراج ہے، یہ اس کی ضرورت ہے اور ایمان کی علامت ہے۔ اللہ پر ایمان کے تین مقام اور ستون ہیں: اللہ کی محبت، اللہ کا ڈر اور اللہ سے امید ۔ جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس کے شوق اور محبت سے محروم ہو جانے کے ڈر سے روتا ہے۔ اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے روتا ہے، اور جو اللہ سے امید کرتا ہے وہ اس کی رحمت کی امید کرتے ہوئے آنسو بہاتا ہے۔ تو آنسوؤں سے تو کسی صورت کوئی مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتا اور قرآن و حدیث میں اللہ تعالی کے ڈر اور خوف سے بہنے والے آنسوؤں کی فضیلت اور قدر و قیمت اور ان کی ترغیب جابجا بیان ہوئی اور اہل ایمان کی صفات کے طور پر ان کا ذکر ہوا ہے جیسا کہ فرمایا:
﴿ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۝۵۸﴾ (مريم:58)
’’جب ب اللہ کی آیات ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ روتے روتے سجدے میں گر جاتے ہیں۔‘‘
اور حدیث میں ان آنسوؤں کی فضیلت اور قدروقیمت یوں بیان ہوئی ہے کہ:
((عَيْنَانَ لا تَمَسُّهُمَا النَّارُ))
’’دو آنکھیں ایسی ہیں جنھیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘
((عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ الله))
’’ایک وہ آنکھ جو اللہ تعالی کے ڈر سے روپڑی۔‘‘
((وَعَيْنٌ بَاتَتٍ تَحْرُسُ فِي سَبِيْلِ الله)) (ترمذي:1639)
’’ اور ایک وہ آنکھ جس نے رات اللہ تعالی کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے گزاری۔‘‘
اور ایسے ہی ایک حدیث میں ہے کہ: ((لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضرع)) (ترمذي:2311)
’’ جو شخص اللہ تعالی کے ڈر سے رو پڑا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا جنتی کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے۔‘‘
آنسوؤں کی فضیلت، آنسوؤں کی قدرو قیمت، آنسوؤں کی ترغیب اور قیامت کے ہولناک مناظر سنے اور جاننے کے باوجود بھی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں تو اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ محرومی نہیں! اور اس سے بڑھ کر محرومی کیا ہوگی کہ آدمی کو یہ معلوم ہو کہ قیامت کے دن جو نہی قبروں سے اٹھیں گے تو دو فرشتے آکر انہیں اپنے چارج میں لے لیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿ وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِیْدٌ۝۲۱﴾ (ق:21)
’’اور ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہوگا۔‘‘
اور یوں اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
تو کیا ہمیں اپنے اعمال پر اتنا ناز اور گھمنڈ ہے، اور ایسا اطمینان ہے کہ وہ سو فیصد درست ہیں جس کی بناء پر ہم امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بس سیدھے جنت میں چلے جائیں گے اور کیا کبھی یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے نہیں ہوئے اور جسم پر کپکپی طاری نہیں ہوئی کہ آج ہم جن اعمال پر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو جب ان کی نقاب کشائی ہو تو معاملہ اس سے مختلف ہو جس کی ہم اُمید لگائے بیٹے ہوں ، جیسا کہ اللہ تعالی ظالموں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے سامنے وہ کچھ ظاہر کر دیا جائے گا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔
﴿وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ﴾ (الزمر:47)
’’ وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔‘‘
یعنی گویا کہ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتے رہے کہ﴿أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ (الكهف:104)
’’ کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘
اور جیسا کہ قاضی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ ، آیت (وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْْنَ) ( الزمر:47) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ((عَمِلُوا أَعْمَالَا وَحَسِبُوا أَنَّهَا حَسَنَاتٌ فَإِذَا هِيَ سَيِّئَات)) (مجموع رسائل ابن رجب ، ج:4، ص:437)
’’ انہوں نے وہ اعمال کیے جنہیں وہ نیکیاں سمجھتے رہے جبکہ وہ گناہ ظاہر ہوئے۔‘‘
چنانچہ سلف صالحین بلکہ اس بارے میں بہت فکر مند ہوتے جیسا کہ امام سفیان بن عیینہ رحمہہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:
((لَمَّا حَضَرَتِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ الْوَفَاةُ جَزِعَ ، فَدَعَوْا لَهُ أَبَا حَازِمٍ التَّابِعِي ، فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْمُنكَدِرِ: إِنَّ اللهَ يَقُولُ: ﴿وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ﴾ (الزمر: ٤٧) فَأَخَافُ أَنْ يَبْدُو لِي مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ أَكُنْ أَحْتَسِبُ، فَجَعَلا يَبْكِيَانِ جَمِيْعًا)) (مجموع رسائل ابن رجب ، ج:1 ، ص:437)
’’جب امام محمد بن المنکد رکا وقت وفات قریب آیا تو ان پر گھبراہٹ طاری ہو گئی تو لوگوں نے ان کے لیے ابو حازم (التابعی رحمہ اللہ ) کو بلا بھیجا، وہ تشریف لائے تو محمد بن المنکدر رحمہ الہل ان سے کہنے لگے کہ مجھے یہ آیت ﴿وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ﴾ (الزمر:47) یاد کر کے ڈر لگنے لگتا ہے کہ کہیں میرے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ ہو جائے کہ مجھے وہ کچھ دیکھنا پڑ جائے جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ ہو، یہ بات کرنے کے بعد دونوں رونے لگ گئے ۔
تو بات یہ ہو رہی تھی کہ آج کا مسلمان اس سوچ اور فکر سے محروم کیوں ہے؟ تو اس کا ایک سبب یہ ہے کہ آج مسلمان دنیا کی رونق تر و تازگی اور شادابی ، چہل پہل اور گہما گہمی میں گم ہو کر ، اس کی رعنائیوں اور بھول بھلیوں میں کھو کر دین سے دور نکل گیا ہے جس کے لیے نتیجے مین دل سخت ہو گئے ہیں اور وہ رقت ، و و لطافت اور نظامت قلبی باقی نہ رہی ، لہذا احساس زیاں بھی رخصت ہو گیا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پھر سے ہمارے دلوں کی تختی دور کر دے اور انھیں فکر آخرت سے معمور کر دے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں