*مجاہد اور شہید کا مقام اور شہادت کی فضیلت*
*راه جهاد ميں زخمی ہونے کی فضیلت*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ
بخاری
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کوئی زخمی ہوا ہے‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا‘ رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ
مسلم
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے (تو زخم کھانے والا) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا، اس (زخم) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی۔”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ
نسائى
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوگیا یا اسے کوئی چوٹ لگی تو قیامت کے دن اس سے تیزی سے خون بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو زعفران جیسا ہوگا مگر خوشبو کستوری جیسی۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوا‘ اس پر شہداء والی مہر لگی ہوگی۔‘
*کائنات کے سب سے عظیم انسان میدان جنگ میں زخمی ہو گئے*
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی میدان جہاد میں زخمی ہوئے
سھل رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن لگنے والے زخموں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
جُرِحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَغْسِلُ الدَّمَ وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الدَّمَ لَا يَزِيدُ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ حَصِيرًا فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ
بخاري ومسلم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمبارک پر ٹوٹ گئی تھی ۔ ( جس سے سر پر زخم آئے تھے ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ خون دھورہی تھیں اور علی کرم اللہ وجہہ پانی ڈال رہے تھے ۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتاہی جارہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگادیا جس سے خون بہنا بند ہوگیا ۔
*شہادت کی خواہش*
*سچے دل سے شہادت کی دعا کرنے والے کو شہادت کا اجر مل ہی جاتا ہے*
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا، أُعْطِيَهَا، وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ»
مسلم
"جس شخص نے سچے دل سے شہادت طلب کی، اسے عطا کر دی جاتی ہے (اجر عطا کر دیا جاتا ہے) چاہے وہ اسے (عملا) حاصل نہ ہو سکے۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ
مسلم
"جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے، اللہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ
نسائی
اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے سچے دل کے ساتھ شہادت کاسوال کرے‘ پھر خواہ فوت ہوجائے یا مارا جائے‘ اسے شہید کا ثواب ملے گا۔
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہادت کی اکٹھی چار مرتبہ تمنا اور دعا کرنا*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ
بخاری ومسلم
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاوں اور مجھے خود اتنی سواریا ں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کرکے اپنے ساتھ لے چلو ں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لئے جارہا ہوتا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاوں پھر قتل کیا جاوں اور پھر زندہ کیا جاوں اور پھر قتل کردیا جاوں ۔
*امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کا شہادت کی تمنا اور دعا کرنا*
عمر رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسلم
اے اللہ مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت عطاء فرما اور میری موت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں لکھ دے
*شوق شهادت كے واقعات*
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ
"جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے (ہوتے) ہیں۔”
یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں۔
یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا :
میں تمہیں (الوداعی) سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا
مسلم
*شہادت کی اتنی جلدی کہ ہاتھ میں پکڑی کھجوریں پھینک دیں کہ انہیں کھاتے کھاتے لیٹ ہو جاؤں گا*
بدر کے میدان میں کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ
"اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں۔”
(یہ سن کر) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے :
یا رسول اللہ! جنت ! جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہے؟
آپ نے فرمایا: "ہاں۔”
اس نے کہا: واہ واہ!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟”
اس نے کہا: اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں (کہا) کہ میں (بھی) جنت والوں میں سے ہو جاؤں
آپ نے فرمایا:
فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا
"بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو۔”
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں، پھر کہنے لگے :
اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی (یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی)، پھر انہوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
مسلم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :
أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا
اگر میں شہید ہو جاؤں تو کہاں جاؤں گا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فِي الْجَنَّةِ تو جنت میں جائے گا
فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ
بخاري
تو اس نے ہاتھ میں پکڑی کھجوریں پھینک دیں اور لڑنا شروع کر دیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے
*انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت*
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں حاضر نہ ہو سکے‘ اس لئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں پہلی لڑائی ہی سے غائب رہا جو آپ نے مشرکین کے خلاف لڑی لیکن اگر اب اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکین کے خلاف کسی لڑائی میں حاضری کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ پھر جب احد کی لڑائی کا موقع آیااورمسلمان بھاگ نکلے تو انس بن نضر نے کہا کہ اے اللہ ! جو کچھ مسلمانوں نے کیا میں اس سے معذرت کرتا ہوں اورجو کچھ ان مشرکین نے کیا ہے میں اس سے بیزار ہوں ۔ پھر وہ آگے بڑھے ( مشرکین کی طرف ) تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا ۔ ان سے انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا :
يَا سَعْدُ بْنَ مُعَاذٍ الْجَنَّةَ وَرَبِّ النَّضْرِ إِنِّي أَجِدُ رِيحَهَا مِنْ دُونِ أُحُدٍ
اے سعد بن معاذ ! میں تو جنت میں جانا چاہتا ہوں اور نضر ( ان کے باپ ) کے رب کی قسم میں جنت کی خوشبو احد پہاڑ کے قریب پاتا ہوں ۔
سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو انہوں نے کر دکھایا اس کی مجھ میں ہمت نہ تھی ۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا :
فَوَجَدْنَا بِهِ بِضْعًا وَثَمَانِينَ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ أَوْ طَعْنَةً بِرُمْحٍ أَوْ رَمْيَةً بِسَهْمٍ وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَقَدْ مَثَّلَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ فَمَا عَرَفَهُ أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ
کہ اس کے بعد جب انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو ہم نے پایا تو تلوار نیزے اور تیر کے تقریباً اسی زخم ان کے جسم پر تھے اورکوئی شخص انہیں پہنچان نہ سکا تھا‘ صرف ان کی بہن انگلیوں سے انہیں پہنچان سکی تھیں۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسے مومنین کے بارے میں نازل ہوئی تھی
مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ
کہ ” مومنوں میں کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اس وعدے کو سچا کر دکھایا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا “ آخر آیت تک ۔
بخاري
*شہادت کا متلاشی شخص بہترین شخص قرار پایا*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ
مسلم
لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی نے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، اس کی پیٹح پر اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو
*شہید تمنی کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس جا کر مزید دسیوں مرتبہ شہید ہونے کا موقع ملے*
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ الْكَرَامَةِ
بخاري ومسلم
سوائے شہید کے جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص دنیا میں واپس لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا
شہید خواہش کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے اور پھر وہ دس مرتبہ شہید ہو اس لیے کہ وہ جنت میں شہادت کی بناء پر ملنے والی عزت وتکریم کو دیکھ لیتا ھے
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ
نسائي
’’جنت والوںمیں سے ایک شخص کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تو نے اپنے جنتی گھر کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! بہترین گھر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :مانگ جو تمنا ہے۔ وہ کہے گا: میں یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں تیرے راستے میں دس دفعہ قتل کیا جاؤں۔ اور یہ اس بنا پر کہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ لے گا۔‘‘
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا
مسلم
ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا :
"کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم (اور) کیا خواہش کریں، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا (جھانک کر دیکھا اور پوچھا۔) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے نے کہا: اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔”
*شہداء کی روحیں جنت میں چلتی پھرتی اور کھاتی پیتی ہیں اور عرش کے نیچے لٹکتی ہوئی قندیلوں میں رہتی ہیں*
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی:
( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ )
"جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، ان کو رزق دیا جاتا ہے۔”
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا :
أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ
مسلم
"ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں
*شہید کے اعزاز میں فرشتوں کا اترنا*
جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے فرمایا :
هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ
نسائی : 2055
ان کی شہادت پر عرش ہل گیا ہے اور ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور ان کے پاس ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ہیں
*شہید پر فرشتوں کا اپنے پروں سے سایہ کرنا*
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
کہ جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتاتھا۔ دوسرے لوگ تومجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہابھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔
مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ
بخاری و مسلم
جب تک تم لوگوں نے میت کو اٹھایا نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کرتے رہے
*شهادت اور گناہوں کا کفارہ*
شہادت سابقہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ
تو وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور انھیں میرے راستے میں ایذا دی گئی اور وہ لڑے اور قتل کیے گئے، یقینا میں ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کروں گا اور ہر صورت انھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، اللہ کے ہاں سے بدلے کے لیے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا بدلہ ہے۔
آل عمران : 195
اور فرمایا :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ
اور بلاشبہ یقینا اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیے جاؤ، یا فوت ہو جاؤ تو یقینا اللہ کی طرف سے تھوڑی سی بخشش اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔
آل عمران : 157
اور فرمایا :
فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
پس لازم ہے کہ اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچتے ہیں اور جو شخص اللہ کے راستے میں لڑے، پھر قتل کر دیا جائے، یا غالب آجائے تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔
النساء : 74
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:
نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ
مسلم
"ہاں، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے (ڈٹے ہوئے) ہو، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو، آگے بڑح رہے ہو، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو۔”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ
مسلم
سوائے قرض کے شہید کے باقی سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
*شہید کا مقام و مرتبہ*
اللہ تعالیٰ نے شہید کے مقام و مرتبے کو انبیاء اور صدیقین کے ساتھ یوں بیان کیا ہے :
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا
اور جو اللہ اور رسول کی فرماںبرداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔
النساء : 69
*جہاد ،شهادت اور جنت*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
الصف : 10
تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
الصف : 11
يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کردے گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور رہنے کی پاکیزہ جگہوں میں، جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
الصف : 12
*شہید کے لیے جنت کی رجسٹری تورات ،انجیل اور قرآن تینوں کتابوں میں موجود ہے*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہو جائو جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
التوبة : 111
*اہل اسلام میں سے جو بھی شہید ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا*
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے رب تعالیٰ کا پیغام سناتے ہوئے ارشاد فرمایا :
أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى الْجَنَّةِ
بخاري
کہ ہم میں سے جو بھی شہید ہوگا وہ جنت میں جائے گا
*اللہ تعالیٰ نے مجاہد کی دو باتوں میں سے ایک کی ضمانت لے رکھی ہے*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
بخاري
اللہ تعالی اپنی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کا وکیل اور کارساز ہے کہ یا تو اسے فوت کرکے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اسے غازی بنا کر اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
مسلم
"اللہ تعالیٰ نے خود (ایسے شخص کی) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا، میرے راستے میں جہاد، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ (میری خاطر) نکلا تھا، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی۔
*آپ کا شہید بیٹا حارثہ جنت الفردوس میں ہے*
انس بن مالک نے بیان کیا کہ ام الربیع بنت براءرضی اللہ عنہا جو حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! حارثہ کے بارے میں بھی آپ مجھے کچھ بتائیں(حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہوگئے تھے‘ انہیں نامعلوم سمت سے ایک تیر آکر لگا تھا)کہ اگر وہ جنت میں ہے تو صبر کرلوں اور اگر کہیں اور ہے تو اس کے لئے روؤں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى
بخاري
اے ام حارثہ ! جنت کے اندر بہت سی جنتیں ہیں اور تمہارے بیٹے کو فردوس اعلیٰ میں جگہ ملی ہے
*اونٹنی دوہنے کے درمیانی وقفے کے برابر لڑائی کرنے پر بھی جنت*
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَوَاقَ نَاقَةٍوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
نسائی
’جو مسلمان آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اونٹنی دوہنے کے درمیانی وقفے کے برابر لڑائی کرے‘ اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
*جنت میں بنی الگ سے شہداء کالونی*
سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا قَالَا أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ
بخاري
میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا‘ ایساخوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے
*شہادت اور اللہ کی رضاء*
*اللہ تعالیٰ کو شہداء سے اس قدر محبت ہے کہ اسے یہ بھی گوارہ نہیں کہ شہداء کو مردہ کہا جائے*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ
اور ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں، مت کہو کہ مردے ہیں، بلکہ زندہ ہیں اور لیکن تم نہیں سمجھتے۔
البقرة : 154
*اللہ تعالیٰ میدان جہاد میں بنیان مرصوص کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہونے والوں سے محبت کرتا ہے*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
بلاشبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔
الصف : 4
*مجاہدین ،دنیا میں سب سے افضل لوگ ہیں*
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
’’لوگوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! لوگوں میں سے افضل (سب سے بہتر) کون ہے؟‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ
[ بخاري : 2786 ]
’’وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔‘‘
*جہاد کی فضیلت کے برابر کوئی عمل نہیں پہنچ سکتا*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔”
صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا
آپ نے ہر بار فرمایا :
"تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔”
تیسری بار فرمایا :
«مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ، وَلَا صَلَاةٍ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى»،
"اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے۔”
*راہ جہاد میں کسی کافر کو قتل کرنے والا مجاہد جہنم میں نہیں جا سکتا*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا»
مسلم
"کافر اور اس کو قتل کرنے والا (مسلمان) جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔”
*اللہ تعالیٰ شہداء کی اور شہادت کا انتظار کرنے والوں کی تعریف کرتے ہیں*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا
مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا، پھر ان میں سے کوئی تو وہ ہے جو اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وہ ہے جو انتظار کر رہا ہے اور انھوں نے نہیں بدلا، کچھ بھی بدلنا۔
الأحزاب : 23
*اپنی جان پیچ کر رب کی رضا کے خریدار*
مجاہدین کو یہ عظمت ،فضیلت ،مقام اور مرتبہ کیوں ملا ہے؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنی جان پیچ کر رب کی رضا حاصل کی ہے فرمایا :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ ان بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔
البقرة : 207
*اللہ تعالیٰ فرشتوں کے بیچ اپنے شہید بندے پر فخر کرتے ہیں*
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَانْهَزَمَ يَعْنِي أَصْحَابَهُ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ
ابوداؤد
’’ ہمارے رب تعالیٰ کو اس بندے پر بڑا تعجب آتا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے ‘ اور اس کے ساتھی بھاگ نکلیں ( مگر ) اس بندے کو گناہ کا احساس ہو تو وہ ( قتال کے لیے ) واپس لوٹ آئے حتیٰ کے اس کا خون بہا دیا جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے ۔ دیکھو میرے بندے کی طرف کہ میرے ہاں ثواب کی رغبت میں اور میری پکڑ کے ڈر سے واپس لوٹ آیا حتیٰ کے اس کا خون بہا دیا گیا ۔ ‘‘
*شهيد کے چھ امتیازی اعزازات*
یہ چھ خصلتیں ایسی ہیں کہ شہید کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ہوں گی
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ
يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ
وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ
وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ
وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنْ الْحُورِ الْعِينِ
وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ
ابوداود،ترمذی
(۱) خون کاپہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے
(۲) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے
(۳) عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے
(۴) فزع اکبر (عظیم گھبراہٹ والے دن)سے مامون رہے گا
(۵) اس کے سرپر عزت کا تاج رکھا جائے گاجس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہترہے
(۶) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی
*اسلامی سرحد کا پہرہ دیتے ہوئے شہید ہونے والے کا عمل دنیا چھوڑ جانے کے بعد بھی جاری رہتا ہے*
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ
مسلم : 1913
” اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کے مطابق اس کا رزق بھی جاری رہے گا، نیز وہ آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا۔ “
*شہید کو شہادت کے وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ
ترمذي
شہید کو قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف تم میں سے کسی کو چٹکی لینے سے ہوتی ہے
*شهدائے احد کا خاص پروٹوکول*
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ابوداود
” جب تمہارے بھائی احد میں شہید کر دیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں میں کر دیا جو جنت کی نہروں پر آتے ہیں ، وہاں کے پھل کھاتے ہیں اور پھر سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتے ہیں جو عرش کے سائے میں لٹک رہی ہیں ۔ جب انہوں نے وہاں کے کھانے پینے اور آرام و راحت کے مزے دیکھے تو کہا : کون ہے جو ہمارا یہ پیغام ہمارے بھائیوں تک پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں ، ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ جہاد سے بے رغبت نہ ہو جائیں اور لڑائی میں بزدلی نہ دکھائیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر دی : «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ”وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کیجئیے کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں ۔ “