جہنم اور اس کے صفات واحوال

جہنم اور اس کے صفات واحوال

﴿قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ۝﴾ (التوبة:81)
عقیدہ و ایمان انسان کی ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے کہ ہر انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی نہ کوئی عقیدہ یعنی ایمان دل میں ضرور رکھتا ہے، حتی کہ وہ لوگ جو سرے سے کائنات کے خالق کو مانتے ہی نہیں وہ بھی ایک عقید و ضرور رکھتے ہیں اور وہ ہے کا ئنات کے خالق کو نہ ماننے کا عقیدہ۔
مسلمان کے ایمان کی بات ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے اللہ پر ایمان اور پھر اللہ پر ایمان کی تفصیل میں ایمان کے چند بنیادی ارکان کا ذکر ہوتا ہے، جن میں سے ایک عقیدہ آخرت بھی ہے، اور عقیدہ آخرت میں موت کے بعد کے تمام احوال و مراحل ہیں، جس میں فتنہ قبر اور عذاب قبر بھی ہے، حشر بھی ہے، نشر بھی ہے، تراز بھی ہے، پل صراط بھی ہے، اور جنت اور جہنم بھی ہے۔
ایمان کے تمام ارکان اپنی اپنی جگہ ضرورت اور افادیت کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں عقید و آخرت کی اُس کے دیگر متعدد فوائد کے ساتھ ایک افادیت یہ بھی ہے کہ دنیا میں قیام امن کے لئے یہ ایک نسخہ کیمیا ہے، کہ آخرت کی فکر آخرت کا تصور انسان کو ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، نا انصافی سے روکتا ہے، لوٹ مار سے روکتا ہے، حرام کا روبار سے روکتا ہے۔ بد زبانی سے روکتا ہے اور دل آزاری سے روکتا ہے۔
تو یہ عقیدہ دنیا میں پُر امن اور کامیاب معاشرے کی ضمانت ہے اور اخروی کامیابی کا بھی واحد ذریعہ ہے، اس عقیدے کا انکار دنیا میں فتنہ وفساد کا سبب ہے اور آخرت میں بھی ناکامی و نامرادی کا باعث ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی غالب اکثریت اس عقیدے کاانکار کرنے والے ہیں زبان قال سے ہو یا زبان حال سے، مشرکین مکہ اور دیگر منکرین اسلام کو انبیاء و رسل علیہم السلام کی دعوت اور پیغام میں سے سب سے اچنبے کی ایک بات یہ معلوم ہوتی تھی کہ اس زندگی کے بعد بھی بھلا کوئی دوسری زندگی ہو سکتی ہے۔
﴿ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ۝۳﴾(ق:3)
’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے۔‘‘
تو عقیدہ آخرت سے انکار لوگوں کی محبوب خواہش اور سوچ ہے ان کا پسندیدہ نظریہ اور عقیدہ ہے، اس لئے کہ اس سے ان کی ذہنی آوارگی کو سکون ملتا ہے، ان کی خود ساختہ آزادی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، ان کی من مانی کے راستے کشادہ ہوتے ہیں اور اس سے اُن کی خواہشات کی تکمیل کے راستے کی سب سے بڑی روکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔
کیونکہ عقیدۂ آخرت تو انسان کے طرز زندگی پر پہرے بٹھا دیتا ہے پھر انسان ہر بات سوچ سمجھ کر اور تول کر کرتا ہے اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے۔
اس لئے لوگ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور انکار کر کے سمجھتے ہیں کہ اب ان کی جان چھوٹ گئی، حالانکہ حقیقت کا انکار کر دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
تو انکار عقیدۂ آخرت چونکہ ایک بہت ہی حساس اور نہایت ہی سنگین مسئلہ ہے ہے، اس لئے اس کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اپنے بارے میں جان سکیں کہ کہیں ہم انجانے میں اس کے مرتکب تو نہیں ہور ہے اور وقت سے پہلے اگر بات سمجھ میں آجائے تو اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے، ورنہ ڈر یہ ہے کہ کہیں ہم سے وقت وفات یہ نہ کہہ دیا جائے کہ:
﴿ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ۝۱۹﴾(ق:19)
’’یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھا گیا تھا۔ ‘‘
یا کہہ دیا جائے کہ:
﴿لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۝﴾(ق:22)
’’اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا، اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے۔‘‘
اور تاکہ ہم ان بدنصیبوں میں نہ ہو جا ئیں جن کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ:
﴿بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَاعْتَدْ نَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا﴾ (الفرقان:11)
’’اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے ہم نے اس کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی‘‘
﴿اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا﴾ (الفرقان:12)
’’اور جب دور سے ان منکرین آخرت اور منکرین جہنم کو دیکھے گی تو یہ لوگ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے۔‘‘
اس لئے ہمیں آخرت کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہوگا اور سمجھ کر اسے دل و جان سے تسلیم کرنا ہوگا۔ آخرت کے احوال و مراحل اور مقامات ومواقف میں سے خصوصی طور پر آج ہم جس مقام و موقف کا ذکر کرنے جارہے ہیں وہ ہے۔
جہنم: آخرت کے مقامات و مراحل میں سے سب سے آخری دو مقامات میں سے ایک ہے، کہ جن میں سے کوئی ایک ہر انسان کا آخری اور حتمی مقام اور ٹھکانہ ضرور ہوگا، کہ اس دن دو ہی قسم کے لوگ ہوں گے۔
﴿فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ﴾ (الشورى:7)
’’ ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں ہوگا‘‘ اس لئے اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
تو یہ جاننے کے لئے کہ کہیں ہم آخرت کا اور بالخصوص جہنم کا انجانے میں انکار تو نہیں کر رہے، آخرت کے انکار کی مختلف شکلیں اور صورتیں ملاحظہ کرتے ہیں۔
اس کی ایک شکل تو یہ ہے کہ سیدھا سیدھا آخرت کا ہی انکار کر دیا جاتا ہے، کہ جب آخرت کا ہی انکار کر دیا جائے تو اس میں پیش آنے والے تمام واقعات کے وجود کا خود بخود انکار ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ ۙ۬ اَىِٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ۝اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ۝﴾(الواقعة:47،48)
’’ کیا جب ہم مرکر خاک ہو جائیں گے تو پھر اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں ۔‘‘
اور ایک دوسری آیت میں ہے کہ ﴿ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ﴾(ق:3)
’’یہ تو عقل سے بعید ہے۔‘‘
اور جہنم کے انکار کی دوسری صورت یہ ہے کہ اسے اپنے لئے ہلکی پھلکی اور چند روز ہ سزا کے طور پر تسلیم کر لیا جائے ، جیسا کہ یہودی یہ کہا کرتے تھے کہ:
﴿وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً ؕ﴾(البقرة:80)
’’ جہنم کی آگ ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی، مگر بس گنتی کے چند روز‘‘
اور گنتی سے ان کی مراد سات دن ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ: یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا کی کل مدت سات ہزار سال ہے اور ہر ہزار سال کے بدلے ایک دن لوگوں کو عذاب ہوگا۔ ( تفسیر طبری/سورة البقرة ، آیت :80)
تو یوں صرف سات دن عذاب ہوگا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ چالیس دن تک آگ کا عذاب مانتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ان کے بڑوں نے چالیس دن تک بچھڑے کی پوجا کی تھی اس لئے انہیں صرف چالیس دن تک عذاب ہوگا ۔ (تفسیر طبری)
مگر قرآن پاک اُن کے ان عقائد کی نفی کرتا ہے۔ اور جہنم کے انکار کی ایک تیسری صورت یہ ہے کہ اس کا مذاق اڑایا جائے ، اور استہزاء
کیا جائے اُس کی اہمیت کم کی جائے اور اسے بے حیثیت ثابت کیا جائے، تا کہ دل سے اُس کا ڈر اور خوف نکل جائے اور وہ من مانیوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے جیسا کہ جب اللہ تعالٰی نے جہنم پر مقرر کردہ فرشتوں کی تعداد کا ذکر فرمایا: کہ
﴿عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ۝۳۰﴾ (المدثر:30)
’’اس پر انیس کا رکن مقرر ہیں۔‘‘
﴿وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً ۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰی لِلْبَشَرِ۠۝﴾(المدثر:31)
’’ اور ہم نے دوزخ کے یہ کا رکن فرشتے بنائے ہیں اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنا دیا ہے اور فرشتوں کی اس تعداد کا اس لئے بھی ذکر کیا ہے تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور اہل ایمان کا ایمان بڑھے۔‘‘
تو مشرکین مکہ نے یہ سن کر اس بات کا بہت مذاق اڑایا، ابو جہل اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا: کیا تم لوگ اتنے گئے گزرے ہو کہ تم میں سے دس دس آدمی مل کر بھی ان میں سے ایک سے نہیں نمٹ سکتے! تو ان میں سے ایک جو کہ پہلوان تھا کہنے لگا:
((أنا أكفيكم سبعةَ عَشَرَ وَاكْفُونِي أَنتُمْ إِثنين.)) (تفسیر ابن كثير/ المدثر:30)
’’کہ سترہ سے تو میں اکیلا نمٹ لوں گا، باقی دو کو تم سنبھال لینا۔‘‘
فرشتوں کا مذاق اڑانا یقینًا مشرکین مکہ کی نا کبھی، تاوانی، علمی، جہالت اور بدبختی ہے، فرشتوں کی قوت و طاقت اور صفات و خصوصیات کا اندازہ کسی کو ایمان بالغیب کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے اور ایمان بالغیب کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق فرشتوں کی ہیئت جسمانی جان کر فرشتوں کی طاقت کا خوب اندازہ ہوتا ہے، مثلاً: حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((أذن لي أن أحدِّث عن ملكٍ من ملائِكَةِ اللهِ مِنْ حَمَلة العرش))
’’مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالی کے حاملین عرش فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بیان کروں ۔‘‘
((إن ما بين شحمة أذنه إلى عاتقه مسيرة سبع مائة عام)) (ابو داود:1727)
’’اس کے کان کی لو سے لے کر، اس کے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔‘‘
اور ایک حدیث میں ہے کہ: ((قَدْ مَرَقَتْ رِجَلاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ وَالْعَرْشِ عَلٰى مَنكِبَيهِ)) (مجمع الزوائد: 8|138)
کہ اس فرشتے نے اپنے پاؤس ساتویں زمین میں گاڑ رکھے ہیں اور عرش اس كاکے کندھوں پر ہے۔
تواس قدر ضخیم اور عظیم جسمانی ساخت کے مالک فرشتے کی قوت و طاقت کا کیا حساب ہوگا۔ تو کافر ہو کر اگر کوئی دین کے مسلمات کا اور اسلام کے شعائر کا مذاق اڑاتا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے، کہ چونکہ وہ نعمت ایمان سے محروم ہے، اس لئے وہ اس بصیرت سے محروم ہے کہ جس سے دین کی باتیں سمجھ آتی ہیں، لیکن مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والا دین کے اس قدر تمیم اور تنظیم جسمانی ساخت کے مالک فرشتے کی قوت و طاقت کا کیا حساب بنیادی عقائد کا مذاق اڑائے ، بات سمجھ میں نہیں آتی۔
یہ بات دنیا اور آخرت کے لحاظ سے کتنی خطرناک ہے، شاید اکثر لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ کسی کو جاننے کی فکر ہے اور نہ کوئی بتانے والا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس ڈر سے کہ لوگوں کے اپنے تراشے ہوئے بہت اور دلوں میں بسائے ہوئے طاغوت پاش پاش ہو جائیں، وہ جانتا ہی نہیں چاہتے اور بتانے کی کوشش کرنے والے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس لئے کہ دو اپنے بنائے ہوئے بتوں کو اس شدت سے چاہتے ہیں کہ:
﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ﴾ (البقره:165)
’’وہ ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسا کہ اللہ کا گرویدہ ہونا چاہیے۔‘‘
مگر وہ اپنے بنائے ہوئے بتوں کے گرویدہ ہیں اور اس گرویدگی میں وہ ان کی ہے حیائی بھی برداشت کرتے ہیں، ان کی بد زبانی بھی برداشت کرتے ہیں اور ان کے کفریہ کلمات بھی برداشت کرتے ہیں۔
لوگ عموماً پتھروں کے تراشے ہوئے بتوں کو ہی بت سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں درہم و دینار کے بھی بت ہوتے ہیں اور مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے بھی بہت ہوتے ہیں اور ان بتوں کی پرستش پتھر کے بنے ہوئے بتوں کی پوجا سے زیادہ خطر ناک ہوتی ہے۔
کبھی کسی نے کسی کو درہم و دینار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ نہیں دیکھا ہوگا، مگر وہ بہت ہیں اور بہت سے لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں، اور ان کی پوجا کا مطلب، ان کے حصول کی خاطر اللہ تعالی کے احکامات کو پس پشت ڈالنا ہے، حلال اور حرام کی تمیز کھو دیتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے، آپﷺ نے فرمایا:
((تعس عبد الدينار وعبد الدرهم)) (صحيح البخاري:2887)
’’تباہ و برباد ہو دینار کا بندہ، تباو و بر باد ہو درہم کا پجاری۔‘‘
اسی طرح مذہبی رہنما بھی بت ہوتے ہیں، بہت سے لوگوں نے انہیں اپنا رب بنا رکھا ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ کرتے ہیں کہ: میں آپ ﷺکے پاس حاضر ہوا اور آپ نے کہ یہ سورہ توبہ کی آیت تلاوت کر رہے تھے:﴿ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾ (التوبة:31)
کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا ہے۔
((قال: أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونهم))
’’ تو فرمایا تاہم وہ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔‘‘
((وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَ إِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ)) (صحيح الترمذي ، للألباني:3095)
’’ لیکن جب وہ ان کے لیے کوئی چیز حلال قرار دیتے تو وہ اسے حلال قرار دے لیتے اور اگر ان کے لیے کوئی چیز حرام کر دیتے تو وہ اسے حرام قرار دے لیتے ۔‘‘
تو اسی طرح سیاسی شخصیات کے بھی بت ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی ہر بات پر آمنا و صدقا کہتے ہیں اور آنکھیں بند کر کے تسلیم کر لیتے ہیں حتی کہ وہ اسلام کا مذاق بھی اڑا ئیں تو بھی ان کا دفاع کرتے ہیں اور انہی کی محبت کا دم بھرتے ہیں، اور یوں وہ بھی شریک جرم ہو جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ۖؗ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ ؕ﴾ (النساء:140)
’’اللہ تعالی اس کتاب میں تمہیں حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہیں کی طرح ہو۔‘‘
اندازہ کریں کہ کسی ایسے شخص کی مجلس میں محض بیٹھنا بھی کہ جو دین اسلام کا مذاق اڑا رہا ہو اتنا بڑا جرم ہے کہ بیٹھنے والے کو بھی اس جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے یعنی اس کا شمار بھی دین کا مذاق اڑانے والوں میں کیا جاتا ہے۔
اور اس وقت اس جرم کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے جب وہ ایسے شخص سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کرے، اسے دامے، درمے، سخنے سپورٹ کرے اور اس کا دفاع کرے۔
دین کا مذاق اڑانا کتنا بڑا جرم ہے شاید اکثر لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے، آئیے جانتے ہیں: غزوۂ تبوک کے موقع پر منافق لوگ اپنی محفلوں میں طرح طرح سے مسلمانوں کا نداق اڑاتے، جس میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ایک شخص نے یہ کہا:
((مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قُرَّائِنَا هٰؤُلَاءِ أَرْغَبَ بُطُونًا ، وَلَا أَكْذَبَ أَلْسِنَةً وَلا أجبن عند اللقاء) (تفسير طبري/ سورة التوبة)
ہمیں اپنے ان قاریوں کی طرح کوئی پیٹواور شکم دار، کوئی شیخی باز اور جھوٹا اور مڈ بھیٹر کے وقت بزدل نہیں دیکھا۔
اور جب ان سے پوچھا گیا تو معذرت کرتے ہوئے کہنے لگے:
﴿اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ﴾ (التوبة:65)
’’ کہ ہم تو یونہی بہنسی مذاق کر رہے تھے۔‘‘
تو اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ۝﴾(التوبة:65)
’’ ان سے کہیے: کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی نداق کرتے ہو؟‘‘
﴿لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ﴾(التوبة:66)
’’ اب معذر تیں پیش نہ کرو، ایمان لانے کے بعد اب تم کفر کر چکے ہو۔‘‘
تو دین کا مذاق اڑانے والے کا دنیا میں انجام یہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جاتا ہے اور آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔
اور جو لوگ ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمدردیاں رکھتے ہیں وہ بھی یقینًا انہی جیسے ہیں اور قیامت کے دن ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو مذاق اڑانے والوں کا ہوگا، کیونکہ حدیث میں ہے ، آپ ﷺنے فرمایا:
((المرء مع من أحب)) (بخاري:6168)
’’ آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘
یعنی قیامت کے دن اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ جب آپﷺ نے ایک شخص سے فرمایا:
((فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ))
’’تم اس کے ساتھ ہو گئے جس سے تم محبت کرتے ہو ۔‘‘
تو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الاسلام فرحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ، فَإِنَّكَ مع من أحببت))
’’ہمیں اسلام کے بعد کبھی کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی خوشی آپ ﷺکے اس فرمان سے ہوئی کہ آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے کہ وہ محبت کرتا ہے۔‘‘
اور پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
((فَأَنَا أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَارْجُوانَ أَكُونَ مَعَهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ))
’’اور میں نبی ﷺسے محبت کرتا ہوں ، ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان سے محبت رکھنے کے سبب میں انہی کے ساتھ ہوں گا، اگر چہ میرے ان جیسے اعمال نہیں ہیں۔‘‘
تو یہ ایک حقیقت ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ ہوں گے، اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ اور برے لوگ برے لوگوں کے ساتھ اور ان میں سے بھی لوگوں کے الگ الگ گروہ ہوں گے، جیسا کہ آیت
﴿اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ۝﴾ (الصافات:22)
’’ گھیر لاؤ سب ظالموں کو اور ان جیسوں کو ‘‘
اس کی تفسیر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((الزَّانِي مَعَ الزَّانِي وَشَارِبُ الْخَمْرِ مَعَ شَارِبِ الْخَمْرِ)) (تفسير القرطبي/ الصافات: الآية:22)
’’کہ بدکار آدمی بدکار کے ساتھ اور شراب خور، شراب خور کے ساتھ ہوگا۔‘‘
یہ گناہ یقینًا کبیرہ گناہ ہیں، مگر عقیدے کی خرابی ان گناہوں سے کہیں شدید ہے، دین کا مذاق اڑانا اور وہ بھی مسلمات کا، یعنی دین کے ایسے عقائد کا کہ جو قطعی اور ثوابت ہیں، جن میں اجتہاد، بحث و مباحثے اور ترمیم و اضافے کی کوئی گنجاش نہیں، ان باتوں کا انکار کرتا یا مذاق از انا ایک بہت ہی تسکین جرم ہے اور پھر ایسے لوگوں کو پسند کرنے والے، ان کی حمایت کرنے والے، ان کی طرف داری کرنے والے، ان کا دفاع کرنے والے یقینًا یقینًا ان جیسے ہی ہیں۔
لہٰذا ہمیں اپنی اپنی فکر کرنی چاہیے کہ کل کو کہیں یہ کہتے ہوئے نہ پائے جائیں کہ:
﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا﴾(الاحزاب:67)
’’ اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں، اپنے بڑوں، اپنے لیڈروں اور اپنے رہنماؤں کی بات مانی اور اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا۔‘‘
﴿رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠۝﴾ (الاحزاب:68)
’’ اے ہمارے رب! ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت فرما۔‘‘
اور ایک دوسری آیت میں ہے، ارشاد ہوگا۔
﴿قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۝﴾ (الاعراف:38)
’’ہر ایک کے لئے دہراہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔‘‘
گویا کہ جہاں ان کو گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا عذاب ہوگا، تو وہاں تمہیں گمراہ ہونے اور اپنی اولادوں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے لئے گمراہی کی مثال اور نمونہ بنے کا عذاب ہوگا اور اللہ تعالی ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔
دین کا مذاق اڑانے کے جرم کی سنگینی شاید میں ٹھیک طرح سے بیان نہ کر سکا ہوں ، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے، لوگوں کو دین سے دور کرنے کے مترادف ، بلکہ اس کی ڈائر یکٹ کوشش ہے، اللہ کے دین کو بے وقعت اور بے حیثیت ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
ایک ایسی چیز کہ جس سے بچنے کی بہت تاکید کی گئی اور اُس سے بچانے کے لئے انبیاء و رسل علیہم السلام کو بھیجا گیا اور انبیاء علیہم السلام نے اس کے لیے بہت تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا ئیں، اس سے ڈرا کر لوگوں کے اخلاق و کردار درست کیے جاتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺنے فرمایا:
((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُقَلْ خَيْرًا أَوْلِيَصُمْتْ))
’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔‘‘ (صحيح البخاری:6018)
ایک ایسی چیز کہ جس سے بچنے اور اپنے اہل خانہ کو بچانے کا حکم دیا گیا ہے:
﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا﴾ (التحريم:6)
’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کہ جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘
ایک ایسی چیز کہ جس سے بچنے کو حقیقی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ؕ ﴾ (آل عمران:185)
’’ جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا، وہ یقینًا کامیاب ہو گیا۔‘‘
اس آگ کے بارے میں کوئی کہے کہ اسے اُس میں گرمی نہیں لگے گی تو ایسے شخص کو کیا نام دیں گے اور اگر بات اکیلئے اس شخص کی ہوتی تو بھی شاید اتنی بڑی بات نہ ہوتی، مگر جب صورت حال یہ ہو کہ لاکھوں لوگ جنون کی حد تک اسے چاہنے والے ہوں تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کتنوں کو ساتھ لے کر جائے گا۔
اور یہ بات یوں بھی انتہائی خطر ناک ہے کہ ہم بار بار بیٹیوں آیات و احادیث سنا سنا کر بمشکل تھوڑا سا لوگوں کو دین کی طرف مائل کر پاتے ہیں مگر دوسری طرف وہ کہ جن کی آواز دور دور تک جاتی ہے، وہ محض ایک آواز سے لاکھوں لوگوں کو گمراہی کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، تاہم خلاصہ یہ ہے کہ: جس دل میں جہنم کی آگ کا ڈر اور خوف نہ ہو، وہ مسلمان تو کیا، ایک اچھا انسان بھی نہیں بن سکتا۔ اس موضوع پر کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اللہ تعالی ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………….

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں