فتنوں کو پہچانیں اور ان سے بچیں

فتنوں کو پہچانیں اور ان سے بچیں

﴿وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۝﴾ (الانفال:25)
گذشتہ جمعے بات ہورہی تھی ہدایت ورہنمائی کی، کہ یوں تو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کر کے انہیں ان کی ضرورتوں کے مطابق رہنمائی دے رکھی ہے، مگر انسان ان تمام مخلوقات میں سے ایک ایسی مخلوق ہے کہ جسے ہدایت و رہنمائی کے ساتھ ساتھ کہ جو اُس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے الگ سے ایک اضافی اور مسلسل تذکیر و موعظت کی بھی ضرورت ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ چونکہ انسان متعدد پہلوؤں سے دیگر مخلوقات سے مختلف ہے، جن میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ انسان کے لئے اس جہان کے بعد ایک دوسرا جہان بھی ہے، جہاں انسان کو جاتا ہے، وہاں اس کا حساب و کتاب ہوگا، کامیاب ہونے کی صورت میں جنت اور نا کام ہونے کی صورت میں جنم لے گی اور اس دنیا میں رہ کر آخرت کی کامیابی کے لئے تیاری کرنا ہے، اس لئے ایک اضافی اور مسلسل ہدایت و رہنمائی اور نصیحت و موعظت کی خصوصیت سے نوازا گیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں اتارتے ہوئے اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ تمہیں دنیا میں بے یارومددگار اور بھٹکتے ہوئے نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ ہماری طرف سے تمہارے پاس ہدایت و رہنمائی آئے گی فرمایا:
﴿قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا ۚ﴾(البقره:38)
’’ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔‘‘یعنی آدم و حواء علیہما السلام۔
﴿ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًی فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۝﴾(البقرۃ:38)
’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔‘‘
تو پہلے پہل جب انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا تو چونکہ وہ اس دنیا میں تو وار د تھا۔ اس لئے وہ ابھی اپنی بہت سی ضرورتوں کے حصول کے لئے اسباب و وسائل اور ان کے طریقوں سے آگاہ نہ تھا، پھر آہستہ آہستہ وہ اپنی فطرت اپنی عقل اور تجربے سے اور کچھ اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی رہنمائی کے ذریعے سیکھتا چلا گیا۔ دنیا کی زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالی کی خصوصی رہنمائی کے ذریعے انسان نے جو باتیں سیکھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کسی انسان کے فوت ہونے کی صورت میں اسے کیا کرتا ہے، جیسا کہ قابیل نے اپنے بھائی بائیل کو جب قتل کر ڈالا تو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی لاش کو کیا کرے۔ چنانچہ:
﴿فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ ؕ ﴾(المائدة:31)
’’ پھر اللہ تعالی نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے ۔‘‘
تو مادی زندگی گزارنے کے لئے انسان اپنی عقل، فطرت، تجربات، تعلیم و تعلم درس و تدریس اور اللہ تعالی کی عطا کردہ دیگر صلاحیتوں کے ذریعے جو کچھ سیکھتا ہے وہ نسل در نسل اس کی اولاد میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔
مگر اخروی زندگی کے حوالے انسان جو کچھ سیکھتا ہے وہ اکثر و بیشتر نہ اپنی اولاد کو منتقل کر پاتا ہے اور نہ ہی خود مستفید ہوتا ہے۔ الا ما شاء اللہ، اور اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر بہت ہی فطری کمزوریاں ہیں کہ جن کے سامنے وہ مغلوب ہو جاتا ہے، جیسا کہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ جلدی حاصل ہونے والی چیز کو پسند کرتا ہے اور اسے دائمی اور پائیدار چیز پر ترجیح دیتا ہے اور انسان کی کمزوری ہے کہ وہ بھول جاتا ہے، لاپرواہی کرتا ہے، خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اس طرح کی دیگر بہت سی کمزوریاں ہیں، اس لئے اسے ہمیشہ اور بار بار یاد دبانی کی ضرورت پڑتی ہے۔
لہٰذا اللہ تعالی نے اس پر اپنی مزید رحمت اور اتمام حجت کرتے ہوئے اسے اس سعادت سے نوازا کہ اس کی رہنمائی کا اضافی بندوبست فرمایا اور وہ رہنمائی جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ انبیاء و رسل علیہم السلام اور پھر ان کے بعد علماء کرام کے ذریعے دینے کا بندوبست فرمایا، اگرچہ اسلام میں نظام اصلاح احوال ، ایسا جامع، مضبوط اور مربوط انتظام ہے کہ معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی درجے پر اور کسی نہ کسی لحاظ سے اس کا ذمہ دار قرار پاتا ہے، اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ تا ہم علماء کرام ہر دور میں، اُس دور کے مسائل کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتے چلے آئے ہیں اور یہ سلسلہ ان شاء اللہ یونہی جاری رہے گا۔
البتہ چونکہ ہر بعد میں آنے والا دور، پہلے دور سے بدتر ہوگا، علمائے حقہ کم ہوتے چلے جائیں گے، جہالت پھیلتی چلی جائے گی، اقتدار جاہل اور دین بیزار قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ مال ودولت کی بہتات اور فراوانی ہوگی ، ناچ گانا عام ہوگا، زندگی کو آسان بنانے کے ذرائع اور وسائل زیادہ ہوں گے اور اسی لحاظ سے مسائل بھی زیادہ ہونگے۔ اور علمائے حق جو کہ ہر دور میں کم رہے ہیں اور کم ہی رہیں گے، جیسا کہ حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا:
((لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ))
’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے ساتھ ظاہر اور غالب رہے گا، انھیں رسوا کرنے کی کوشش کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔‘‘
((حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَالِكَ)) (صحیح مسلم:1920)
’’حتی کہ اللہ کا حکم آپہنچے اور وہ اسی حالت میں ہونگے ۔‘‘
فتوں کے دور میں جبکہ وسائل کے ساتھ طبعی طور پر مسائل بھی زیادہ ہوں گے اُدھر علمائے حق جو کہ ہر دور میں کم رہے ہیں، انھیں فوت کر کے علم اٹھا لئے جانے کے ساتھ اور بھی کم ہو جائیں گے تو آپ انداز نہیں کر سکتے کہ اُس وقت دنیا میں کس قدر رفتنہ و فساد برپا ہوگا۔ تو اس دور کے بارے میں کہ جس کے بارے میں دلائل کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس میں داخل ہو چکے ہیں، خصوصی توجہ اور غور وفکر کی ضرورت ہے۔
آپ لئےﷺ نے چودہ سو سال پہلے جن باتوں سے ہمیں آگاہ کیا اور جن فتنوں سے خبردار کیا، افسوس کہ ہم ان میں مبتلا ہونے کے باوجود بے فکر اور بے پرواہ ہیں۔
آپ ﷺ نےمعمول کی گفتگو اور تعلیم و تربیت کے ضمن میں یہ ارشادات نہیں فرمائے بلکہ با قاعدہ اہتمام کے ساتھ ان سے خبردار فرمایا: جیسا کہ حدیث میں ہے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
((كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ))
’’ہم آپ ﷺکے ساتھ ایک بار شریک سفر تھے۔‘‘
((فنزلنا منزلاً .))
’’ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ۔‘‘
((فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جشره))
ہم میں سے کوئی اپنا قیمہ درست کرنے میں مصروف ہو گیا، کوئی نیز و بازی اور تیراندازی کی مشق کرنے لگا اور کوئی اپنے جانوروں کے ساتھ ہی ٹھہر گیا۔ جانوروں کے ساتھ ٹھہرنے کا مطلب ہے کہ جانور جب چرتے چرتے اور نکل جاتے اور رات ہو جاتی تو وہ واپس نہ لوٹتے بلکہ وہیں سو جاتے، تو جو لوگ ان کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتے وہ بھی وہیں رات گزارتے۔
((إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ الله: الصَّلاةَ جامعة))
کہ ادھر آپ ﷺکے منادی نے ’’الصلاة جامعة‘‘ کہ کرند الگائی۔
’’الصلاة جامعة‘‘ کا لفظی مفہوم تو ہے کہ نماز جمع کرنے والی ہے، مگر اس سے مراد نماز کے لئے نہیں، بلکہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے بولا جاتا ہے۔
((فاجتمعنا إلى رَسُولِ اللهِﷺ))
’’تو ہم رسول اللہﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے ۔ ‘‘
((فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِي قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلُّ أُمَّتَهُ على خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم وَيُنذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم))
’’تو فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنی امت کو ہر اس چیز سے آگاہ کرے جو ان کے لئے خیر کی بات جانتا تھا اور ہر اس شر سے خبردار کرتا رہے جس کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ ان کے لئے شر ہے۔“
پھر اس تمہید کے بعد آپ ﷺنے فرمایا:
((وَإِنَّ أمَّتكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتِهَا فِي أَوَّلِهَا))
’’ اور تمہاری اس امت کی عافیت اس کے شروع میں رکھ دی گئی ہے، یعنی اس امت کا دور اول فتنوں سے محفوظ ہوگا۔‘‘
((وسيصيب آخرها بلاء وأمور تنكرونها)) (صحیح مسلم:1844)
’’ جبکہ اس کے آخر میں بلائیں، آزمائیں، مصیبتیں اور فتنے ہوں گے اور ایسے امور اور واقعات رونما ہوں گے جنہیں تم نا پسند کرو گے۔‘‘
آپ ﷺکا یہ خطاب صحابہ کرامﷺ سے تھا کہ جس میں آپ ﷺنے انہیں آگاہ کیا کہ اس امت کا خیر و عافیت والا دور ان کا دور ہے اور انہی کے دور میں اس امت کا آخری دور بھی شروع ہو جائے گا کہ جس میں وہ ناپسندیدہ واقعات کا مشاہدہ کریں گے۔
اس خیر و عافیت والے دور کا انتقام کب ہوا اور فتنوں کے دور کا آغاز کب ہوا ؟ تو وہ عافیت والا دور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے ساتھ ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی فتنوں کے دور کا آغاز ہو جاتا ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے واضح ہوتا ہے: ایک بار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مجلس میں موجود اپنے ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے دریافت کیا کہ:
((أيكم يحفظ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي الْفِتْنَةِ))
’’ تم میں سے کس کو فتنے کے بارے میں آپﷺ کا کوئی فرمان یاد ہے؟
تو جواب میں حضرت حذیفہﷺ نے فرمایا مجھے، اور پھر روز مرہ میں پیش آنے والے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: آدمی کے اہل و عیال ، اس کے مال و دولت اور پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں پیش آنے والے فتنوں کو نماز ، صدقہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں ان فتنوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ ان فتنوں کی بات کر رہا ہوں جو سمندر کی لہروں کی طرح موجیں مارنے والے ہوں گے، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ اے امیر المؤمنین! آپ کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیوں کہ:
((إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا)) (صحيح البخاري:525)
’’ آپ کے اور ان کے درمیان بند دروازہ ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دریافت کیا کہ وہ دروازہ کھولا جائے گا یا تو ڑا جائے گا ؟ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: تو ڑا جائے گا اور وہ درواز ہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے ۔ جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وضاحت فرمائی تھی ۔
تو فتنوں کے دور کا آغاز حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے ساتھ ہی ہو گیا تو تھا، چنانچہ آج کا یہ دور بھی فتنوں کا دور ہی ہے ، اور آج اس دور میں بکثرت فتنے موجود ہیں ، اور ہر نیا آنے والا دن نت نئے فتنوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فتنوں کے بارے میں آگاہی حاصل کی جائے کہ کون سی چیز فتنہ ہے اور کون سی نہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فتنوں کی اس کثرت کے سبب صرف یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ کون سی چیز فتنہ نہیں ہے، کیوں کہ فتنوں کی کثرت سے تو آپ ﷺنے یوں خبر دار فرمایا ہے کہ: ((فَإِنِّي لأرى الفتن تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقعِ القَطْرِ)) (صحيح البخاري:7060)
’’میں فتنوں کو تمھارے قرب و جوار میں بارش کے قطروں کی طرح کرتا ہوا دیکھتا ہوں ‘‘
۔ اور فتنے کسی ایک میدان میں نہیں ، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہیں کہ جس طرف نظر اٹھا کر دیکھیں اس طرف فتنے ہی فتنے ہیں، اور جس فتنے کی طرف ذراسی توجہ مبذول کریں وہ اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے مگر آج کے دور میں میدان سیاست ایک ایسی فتنوں کی آماجگاہ ہے کہ ہر شخص اس کی دلدل میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے ، اور لوگ ایسے سادہ لوح اور بھلے مانس ہیں کہ ان سیاستدانوں کو اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھے بیٹھتے ہیں حالانہ یہ سراسر اقتدار کی جنگ ہے، مگر اصلاح کے نام پر ہوتی ہے:
﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝۱۱﴾ (البقرة:11)
’’جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔‘‘
یہ عذر، یہ بہانہ آپ کو ہر سطح پر نظر آئے گا، بین الاقوامی معاملات میں بھی اور ملکی سطح پر بھی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
﴿اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۝﴾
’’ خبردار! یہی لوگ حقیقت میں مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔‘‘
اور یہ اقتدار کی جنگ، یہ فتنہ وفساد لوگوں کو بے وقوف بنائے بغیر نہیں ہو سکتا، اور ایسے لوگ معاشرے میں بکثرت موجود ہوتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کی تین قسمیں بیان کی ہیں ، ہم ان میں سے کون سی قسم میں شامل ہیں، آئیے اپنے اپنے بارے میں غور کرتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((النَّاسُ ثلاثة))
’’ لوگ تین قسم کے ہیں‘‘
(عالم رباني)
عالم ربانی ۔ عالم ربانی وہ عالم دین ہوتا ہے ، جو عالم با عمل ہو، اور انبیاء سلام اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد عام لوگوں میں اس سے بڑا درجہ سی اور شخص کو حاصل نہیں ہے۔
(ومتعلمٌ علٰى سَبِيْل نجاةٍ)
اپنی نجات کے لیے دین کا علم حاصل کرنے والا یعنی ایک ایسا شخص جو اپنی نجات کی فکر کرتے ہوئے دین کا علم سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ عالم تو نہیں ہوتا کہ دوسروں کی رہنمائی کر سکے مگر اپنی نجات کے لیے مقدور بر علم دین حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
((وَهَمَج رعاعٌ)) اور ایک جاہل اور احمق قسم کے لوگ ۔ یعنی جنھیں کسی چنے کی فکر نہیں ہوتی ، نہ یہ گھر ہوتی ہے کہ معاشرے میں امن و امان ہو ، نہ ہی یہ فکر کہ معاشرے میں بے حیائی نہ پھیلے ، ناچ گانا نہ ہو، اور نہ اس بات کی فکر کہ انھیں جہنم سے کسی طرح بچتا ہے، بلکہ وہ تو جہنم سے ایسے بے خوف ہوتے ہیں کہ الٹا اہل دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔
(أَتْبَاعُ كُلَّ نَاعِقٍ) (جامع بيان العلم وفضله:149)
’’ ہر ہانکنے والے کی آواز پر چل پڑنے والا۔‘‘
یعنی تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی کوئی سوچ نہیں رکھتے ، صیح اور غلط کی پہچان نہیں رکھتے ، بلکہ کبھی کسی اور کبھی کسی ہانکنے والے کے پیچھے چل دیتے ہیں ، جس طرح جانور چرواہے کی بات کو نہیں سمجھتا کہ اس نے کیا کیا ہے، بس صرف آواز کے پیچھے چل دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً﴾ (البقرة:171)
’’یہ لوگ جنہوں نے اللہ کے بنائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کیا، ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ باتک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے۔‘‘
تو یہ لوگوں کی تیسری قسم ہے، جنہوں نے اپنے دماغ فتنہ و فساد بر پا کرنے والوں کے حوالے کر رکھے ہیں کہ ہماری عقلوں کو جس طرح چاہو استعمال کرو اور یہی لوگ معاشرے میں لگنے والی ہر آگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ اب بتائیں کہ جب عقل ہی پاس نہ ہو تو کسی طرح کوئی فت، فتنہ معلوم ہوگا، یہ دھر نے ، یہ احتجاج ، یہ مظاہرے اگر فتنہ نہیں ہیں تو پھر اس دور میں کچھ بھی فتنہ نہیں ہے۔ اور اس لئے فتنے سمجھ نہیں آتے کہ دین بھی پاس نہیں ہے اور عقل بھی نہیں ہے، جو فتنوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی عقل چھین لی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ بَيْنَ يَدَى السَّاعَةِ لَهَرَجًا))
’’قیامت سے پہلے ( ہرج) ہوگا۔‘‘
حضرت ابو موسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں۔
((قُلْتُ يَارَسُولَ اللَّهِ مَا الْهَرْجُ؟))
’’ میں نے کہا: اللہ کے رسول سے کام! ہرج کیا ہے؟‘‘
((قَالَ: الْقَتْلُ .))
آپﷺ نے فرمایا: ’’قتل‘‘
((فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَقْتُلُ الْآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا))
’’ کچھ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول سے! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں ۔ ‘‘
آپ ﷺنے فرمایا: ((لَيْسَ بِقَتْلِ المُشْرِكِينَ ، وَلَكِن يَقْتُلُ بَعْضُكُم بَعْضًا، حَتَّى يقتل الرجل جاره وابن عمِّهِ وذَا قرابته))
’’فرمایا: اس سے مراد مشرکوں کو قتل کرنا نہیں بلکہ تم میں سے لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں کے حتی کہ آدمی اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا ، اپنے چچازاد کو قتل کر دے گا ، اور اپنے رشتہ دار کو قتل کرے گا۔‘‘
((فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَارَسُولَ اللَّهِ وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ اليوم))
’’لوگوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس وقت ہمارے پاس عقلیں ہوں گی؟‘‘
((فَقَالَ رَسُولُ الله:))
’’ تو آپ ﷺنے فرمایا: نہیں۔‘‘
(( تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ ، وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لا عُقُولَ لَهُمْ)) (ابن ماجة:3959)
’’ اس دور کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی ، اور پیچھے لوگوں کا ایک گرد و غبار رو جائے گا، جن کی عقلمیں نہیں ہوں گی ۔‘‘
اقتدار کے لیے، اصلاح کے نام پر جو فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے ، وہ یقینًا بہت خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن جب دین کے نام پر فتنہ برپا ہوتا ہے تو پھر وہ جلدی تھمنے کا نام نہیں لیتا، کیوں کہ لوگ اسے ثواب کے لیے پورے جوش و جذبے اور خلوص کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں فتنوں کو سمجھنے اور ان سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں