آزمائشوں سے کسی کو مفر نہیں
﴿اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَوَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ﴾ (العنكبوت:2۔3)
یہ دور کہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے، یوں تو ہر دور ہی فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے، انسان کی پوری زندگی آزمائشوں سے معمور ہے، کہ زندگی اور موت کے درمیان کا سارا وقفہ آزمائش ہی آزمائش ہے، اور قدم قدم پر آزمائش ہے، بلکہ خود زندگی اور موت بھی آزمائش ہے کہ:
﴿ِ۟الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ ﴾ ( الملك:2)
’’ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تا کہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘
تو عمومی طور پر آزمائش ہر انسان کا مقدر ہے اور خصوصی طور پر اہل ایمان کے لئے لازم و نا گزیر ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ﴾ (العنكبوت:2)
’’ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ میں اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں ۔ گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟‘‘
تو فتنے اور آزمائشیں جو کہ انسان کی زندگی کا لازمہ ہیں، وہ اس کے دنیا میں قیام کے آخری دور میں خصوصی طور پر قابل ذکر اور قابل التفات ہوں گے، بکثرت ہوں گے، پے در پے ہوں گے، نہایت شدید ہوں گے، اور انتہائی مہلک ہوں گے۔ اور اس کے اسباب میں سے ایک بڑا اور بنیادی سبب گذشتہ جمعے ذکر ہوا اور وہ یہ تھا کہ علم اٹھا لیاجائے گا اور جب علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت چھا جائے گی تو کوئی اصلاح کرنے والا نہ ہوگا، رہنمائی کرنے والا نہ ہوگا، معیار بدل جائیں گے، شرک و بدعات کی کثرت ہوگی، گانے بجانے کے آلات اور گانے بجانے والی عورتوں کی بہتات ہوگی، بے حیائی اور فحش گوئی کی کثرت ہوگی اور دیگر بکثرت بڑے بڑے فتنے ہوں گے۔
لہٰذا فتنوں سے آگاہی انسان کی اور بالخصوص مسلمان کی بنیادی اور نہایت ہی اہم ضرورت ہے اور اس میں رہنمائی اس سے بھی بڑی ضرورت ہے، جب عام حالات میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسان کو نصیحت و موعظت، تزکیہ و تربیت اور اصلاح و درستی کی ضرورت ہوتی ہے، تو پھر فتنوں کے دور میں تو یقینًا اس سے کہیں بڑھ کر نصیحت اور اصلاح کی ضرورت ہوگی۔ مگر افسوس کہ فتنوں کی حقیقت اور اس کی سنگینی کو کوئی سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ یقینًا فتنوں کو سمجھنا آسان نہیں ہے اور اس کی کئی ایک وجوہات ہیں: ایک تو یہ کہ فتنوں کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں ہی سمجھا جا سکتا ہے اور اپنے تمام دنیوی مفادات اور وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور مزید یہ کہ فتنوں کی سمجھ اس کو آتی ہے جسے اللہ تعالی کی خصوصی حمایت اور توفیق حاصل ہو، ورنہ فتنوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا ۔
اور دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں فتنوں کا مفہوم اور تصور کچھ یوں پایا جاتا ہے کہ گویا وہ کوئی نہایت ہی مکروہ اور نا پسندیدہ چیز اور طبع انسانی پر گراں گزرنے والا کام ہے، حالانکہ فتنہ طبع انسانی کا پسندیدہ کام ہوتا ہے کہ جس کی طرف انسان بے ساختہ مائل ہو جاتا ہے، ایک ہی نظر میں جو انسان کے دل کو گھائل کر جاتا ہے اور انسان اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
فتنہ عموماً لوگوں کی پسندیدہ چیز ہوتی ہے، جیسا کہ مال اور اولا و کوفتہ کہا گیا ہے۔ اولاد سے انسان کو کس قدر شدید محبت ہوتی ہے، ہر صاحب اولاد انسان اس سے بخوبی واقف ہے اور جو اس نعمت سے محروم ہیں وہ اس کے حصول کے لئے کس قدر بے چین و بے قرار اور پریشان ہیں اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اور مال اور اولاد بھی قرآنی فتنہ ہیں، اسی طرح مال و دولت کی محبت میں انسان کا کیا حال ہے، وہ بھی قرآن پاک نے ہمیں بتا دیا ہے کہ:
﴿وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ﴾(العاديات:8)
’’وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔‘‘
اسی طرح دیگر فتنے ہیں جو انسان کے بہت پسندیدہ ہیں، جیسے عہدہ و منصب اور شہرت وغیرہ ہے۔ ان میں سے کچھ چیزیں تو وہ ہیں جو کہ اصل میں تو وہ نعمت ہیں مگر چونکہ ان کے استعمال کے وقت اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدوں کو تجاوز کر جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، بلکہ اکثر و بیشتر لوگ تجاوز ہی کرتے ہیں، جیسا کہ جائز طریقے سے حاصل کی ہوئی دولت یقینًا ایک نعمت ہے، مگر اس نعمت کو حرام کاموں میں صرف کرنے سے نعمت کلمت بن جاتی ہے اور آدمی فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے، اسی طرح اسے حرام ذرائع سے حاصل کرنا بھی فتنے میں مبتلا ہوتا ہے، مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کہ سراسر حرام ہوتی ہیں مگر لوگ ان کے ساتھ شدت تعلق و چاہت کے باعث ان میں جواز کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔ تاہم فتنوں سے بچنے کے احادیث میں بیان کردہ ان کی اقسام کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ دو قسمیں ہیں: ایک انفرادی فتنے ہیں اور دوسرے اجتماعی ہیں، انفرادی فتنے وہ ہیں کسی ایک دو یا چند افراد تک محدود ہوں، جیسا کہ بیوی بچوں کا فتنہ، مال و دولت کا فتنہ، جان کا فتنہ جبکہ اجتماعی فتنے وہ ہیں جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جیسا کہ عریانی فحاشی قتل و غارت اور لوٹ مار و غیر و جیسا کہ حدیث میں ہے، اور وہ حدیث گذشتہ جمعے بھی بیان ہوئی تھی جس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:
((بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ قَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ النبي في الفتنة؟))
’’ ایک بار ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے کہا: تم میں سے کس کو فتنے کے بارے میں آپﷺ کا کوئی فرمان یاد ہے؟‘‘
((قَالَ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ والصدقة، والأمرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهَى عَنِ الْمُنكَرِ))
’’تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ اہل خانہ میں، مال و دولت میں ، اولاد میں اور پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں آنے والے فتنوں کو نماز ، صدقہ ، بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں۔‘‘
((قَالَ: لَيْسَ عَنْ هٰذَا أَسْأَلُكَ ، وَلٰكِنِ الَّتِي تَمُوْجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ))
’’تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں تم سے اس فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، بلکہ اس فتنے کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی لہروں کی طرح موجیں مارنے والا ہے۔‘‘
((قالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وبينها بابا مغلقًا))
تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! آپ کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیوں کہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔‘‘
((قَالَ عُمَرُ: أَيْكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟))
تو حضرت عمر علی شاہ نے پوچھا کہ دو دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا ؟ قَالَ: ” بَلْ يُكسر ” تو حضرت حذیفہ علیہ نے فرمایا کہ توڑا جائے گا۔
((قالَ عُمَرُ: إِذا لَا يُعْلَقُ أَبَدًا))
’’تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہوگا۔‘‘
((قلتُ: أجل))
تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: ہاں بالکل ایسے ہی ہے۔
اندازہ کیجئے اللہ تعالی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو کس قدر حکمت و دانائی اور دور اندیشی سے نواز رکھا تھا، فورا بھانپ گئے کہ دو بند دروازہ کون ہے اور اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
جیسا کہ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ:
((أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ البَاب قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنْ دُونَ غَدٍ ليلة)) (صحيح البخاري:7096)
’’ کیا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس دروازے کا علم تھا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ جس طرح وہ جانتے ہیں کہ کل آنے والے دن سے پہلے رات ہے ۔‘‘
تو اس حدیث سے ہمیں فتنوں کی دو قسمیں معلوم ہو ئیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر چیز میں فتنہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز ، روزہ اور صدقہ و خیرات وغیرہ کے ذریعے ان انفرادی فتنوں سے بچا جاسکتا ہے، اور وہ ان کے کفارہ ہو سکتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں بھی ہے کہ:
﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ﴾(هود:114)
’’بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔‘‘
رہی اجتماعی فتنوں کی بات جو کہ ہمارا اصل موضوع ہے، تو وہ دیگر احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ان کی سنگینی کا ذکر کیا گیا ہے اور ان سے بچنے کا حل بھی بتایا گیا ہے. جیسا کہ اپنے گھروں میں گوشہ نشینی اعتیار کر لینا، اپنے اونٹوں کے باڑے میں یا اپنی بکریوں کے باڑے میں اور کھیتی باڑی کرنے والے کا اپنی زمین پر چلے جانا اور یہ سب کچھ نہ ہو تو اپنی تلوار کی دھار کو پھر سے کند کر لینا اور جہاں تک ممکن ہو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھنا۔
مگر فتنوں کے حوالے سے سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ لوگ فتنوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اس کی پیش گوئی تو آپ ﷺ نے پہلے سے فرما رکھی ہے کہ لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی۔
لہٰذا عافیت اور نجات کا راستہ صرف ایک ہی ہے کہ مقتوں سے دور رہا جائے، ورنہ جو ایک بار فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کا بچ نکلنا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اور فتنوں کے بارے میں یہ بھی حقیقت ہے کہ فتنہ جب شروع ہوتا ہے تو اس کو روکنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں نادان ، اور احمق قسم کے لوگ شریک ہوتے ہیں، اور آپ نے حالیہ فتنوں سے اس بات کا اندازہ کر لیا ہوگا کہ ایک آدمی سر عام گندی گالیاں بک رہا ہے اور لوگ اس پر سبحان اللہ کہہ رہے ہیں، کیا یہاں عقل و دانائی کی کوئی بات نظر آتی ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
((وَالْفِتْنَةُ إِذَا وَقَعَتْ عَجَزَ الْعُقَلَاءُ فِيهَا عَنْ دَفْعِ السُّفَهَاءِ))
’’جب فتنہ واقع ہو جاتا ہے تو عقلمند ، نادانوں کو روکنے سے عاجز آ جاتے ہیں۔‘‘
((وَهَذَا شَأْنُ الْفِتَنِ)) (منهاج السنة لابن تيمية ، ج: 4، ص:343)
’’اور فتنوں کا یہی انداز ہوتا ہے؟‘‘
جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ ﴾(الانفال:25)
’’ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہو۔‘‘
ہمیں اپنے بارے میں جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کہیں ہم کسی فتنے میں مبتلا تو نہیں ہو گئے اگرچہ جب کوئی آدمی کسی فتنے کو فتنہ سمجھنے سے قاصر ہو تو وہ یہ سوچنے کی زحمت کیوں کرے گا کہ کہیں وہ فتنے میں مبتلا تو نہیں ہو گیا، مگر پھر بھی ایک فارمولے کے ذریعے ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور وہ فارمولا حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا ہے اور حضرت حذیفہ رضی االلہ تعالی عنہ وہ صحابی ہیں جو فتنوں کی احادیث کے خصوصی راوی ہیں، کیونکہ وہ فرماتے ہیں:
((كَانَ النَّاسِ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي)) (صحیح البخاري:3606)
دوسرے صحابہ تو رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا، اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں ۔
تو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((إِذَا أَحَبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعْلَمَ أَصَابَتْهُ الْفِتْنَةُ أَوْلا فَلْيَنْظُرُ: فَإِنْ كانَ رَأَى حَلَالًا كَانَ يَرَاهُ حَرَامًا فَقَدْ أَصَابَتْهُ الْفِتْنَةُ وَإِنْ كَانَ يرى حرامًا كان يراه خلالاً فَقَدْ أَصابته .)) (مستدرك حاكم:8443)
’’جب تم میں سے کوئی یہ جاننا چاہے کہ اسے فتنہ پہنچا ہے یا نہیں تو وہ اس بات کو دیکھ لے کہ اگر وہ کسی چیز کو حلال جاننے لگے کہ جسے وہ حرام سمجھا کرتا تھا، تو جان لے کہ اس فتنہ پہنچ چکا ہے اور اگر کسی چیز کو حرام جاننے لگے کہ جسے وہ حلال سمجھتا تھا تو وہ بھی فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے ۔‘‘
اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
((مَا الْخَمْرُ صَرْفًا بِأَذهَبَ بعقُولِ الرِّجَالِ مِنَ الْفِتْنَةِ)) (مصنف ابن ابي شيبة ، ج:7 ، ص:475)
’’ شراب کوئی فتنوں سے زیادہ لوگوں کی مت مارنے والی نہیں ہے ۔‘‘
اور اسی طرح فتنوں سے بچنے کی سنجیدہ کوششوں کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ:
((لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لَا يَنْجُوْفِيهِ، إِلَّا مَنْ دَعَا بِدُعَاءِ كُدُعَاءِ الغَرِيقِ)) (مصنف ابن ابي شيبة ، ج:7، ص:451)
’’لوگوں پر ایک دور آئے گا کہ اس میں صرف وہی شخص بچ پائے گا جو اس طرح دعا مانگے گا جیسے ڈوبنے والا شخص دعا مانگتا ہے۔‘‘
گذشتہ جمعے ہم نے انسان کی سب سے اہم ضرورت کے بارے میں جاتا کہ وعظ و نصیحت، تزکیہ و تربیت اور اصلاح نفس انسان کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے، اگر ان باتوں کو نظر انداز کیا جا یا جائے تو معاشرے میں فتنہ و فساد اور بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وعظ و نصیحت اور تزکیہ وتربیت کی ذمہ داری ہر شخص کی ذمہ داری ہے جس قدر اس کا کسی شخص پر تسلط اور اثر ورسوخ ہوائی حساب سے اس کی ذمہ داری ہوگی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ:
((كلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ .)) (صحيح البخاري:2409)
’’تم میں سے ہر شخص رائی اور نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔‘‘
اب جو جو لوگ جس جس لحاظ سے بھی کسی کے ماتحت ہیں وہ ان کی رعایا ہیں، لہذا آدمی ان کے بارے میں جوابدہ ہے۔ تربیت کی ضرورت و اہمیت ایک طویل موضوع ہے،
لہٰذا اس کی مکمل تفصیل میں نہیں جاتے ۔ البتہ تربیت کے حوالے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضرور کرنا چاہیں گے اور وہ یہ کہ لوگ عموما تربیت کو تعلیم کا مترادف قرار دیتے ہیں اپنے بچوں کو قرآن پاک پڑھنا سکھا دینے کا نام تربیت رکھ دیتے ہیں جبکہ تربیت کا سب سے اہم اور لازمی حصہ عملی نمونہ بن کر تربیت کرنا ہے، ورنہ تعلیم بے اثر ہوتی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے، حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:
((قَالَ: ذَكَرَ النَّبِي شَيْئًا فَقَالَ: ذَاكَ عِنْدَ أَوَان ذَهَابِ العِلْمِ))
’’ آپﷺ نے کسی بات کا ذکر فرمایا اور پھر فرمایا: یہ اس وقت ہوگا جب علم اٹھ جائے گا۔‘‘
((قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَءُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءُنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَ هُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
’’ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ:علم کیسے اٹھ جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے اور پھر یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔‘‘
((قَالَ: ثكلتك أمك زياد!))
’’تو آپ ﷺنے از را ہِ تعجب فرمایا: ” زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے ۔‘‘
((إن كُنتُ لأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ))
’’ میں تو تمہیں مدینہ کے سمجھدار لوگوں میں شمار کرتا تھا۔ ‘‘
((أو لَيْسَ هَذِهِ اليهود والنصارى يقرءُون التوراة والانجيل لا يعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مما فيهما)) (ابن ماجة: 4048)
’’ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہود و نصاری تو رات و انجیل کو پڑھتے ہیں، لیکن ان میں جو کچھ ہے اس میں سے کسی چیز پر عمل نہیں کرتے۔‘‘
تو تربیت کے لئے عملی نمونہ بن کر ہی تربیت ہو سکتی ہے، اور ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ بچوں کو خراب کرنے کے تمام لوازمات مہیا کر کے، کمپیوٹر، ٹی وی، فون دے کر سمجھنا کہ بچوں کی تربیت کر رہے ہیں تو یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے اور یہ تو ایسے ہی ہے جیسے شاعر کہتا ہے کہ
القاء فِي الْيَمِّ مَكْتُوفًا وَقَالَ لَهُ
إياك إِيَّاكَ أَنْ تَبَتل بِالْمَاءِ
اس کے ہاتھ پشت کی طرف باندھ کر سمندر میں پھینکتے ہوئے کہنے لگا احتیاط کیجیے گا کہیں بھیگ نہ جانا ۔
اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق بخشے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
…………………