آج مسلمان بے توقیر کیوں ہیں؟

آج مسلمان بے توقیر کیوں ہیں؟

﴿وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران:139)
ہر باشعور مسلمان کو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، یہ دور امت مسلمہ کے زوال اور انحطاط کا دور ہے، پستی اور گراوٹ اور ذلت و رسوائی کا دور ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ امت مسلمہ کا ماضی نہایت شاندار، تاب ناک اور درخشاں تھا، آپ ﷺکے عہد مبارک سے لے کر خلفاء راشدین کے دور خلافت، اموی اور عباسی ادوار اور آخر میں خلافت عثمانیہ کے دور تک مسلمانوں کی اک شان و شوکت تھی ، عظمت تھی رعب و دبدبہ تھا، عزت و احترام تھا، شرافت، امانت اور دیانت مسلم تھی۔ مگر آج ذلیل و رسوا ہیں، بے یار و مددگار ہیں، نہ عزت ہے نہ احترام ہے نہ کوئی حیثیت ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک لمبی داستان ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ آج مسلمان محض نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، مسلمانوں نے اسلام کے احکام کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ زندگی کا مقصد صرف عیش وعشرت رو گیا ہے، دنیا کی محبت جو پہلے ہی پوری شدت کے ساتھ انسان کی فطرت میں موجود ہے اس میں مزید شدت آگئی ہے، چنانچہ آپﷺ نے مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی کا سبب بیان کرتے ہوئے پیشین گوئی فرما رکھی ہے کہ مسلمانوں کی بے بسی، خستہ حالی، نحجز و ناتوانی بے حیثیتی اور بے توقیری کا سبب یہ ہوگا کہ:
((الدنيا وكراهية الموت)) (سنن ابی داود:1297)
’’حب الله دنیا سے محبت اور موت کو ناپسند کرتے ہوں گے۔‘‘
اور آج ہماری حالت اس پر شاہد ہے، سب کچھ عیاں ہے، کچھ پوشیدہ نہیں ہے، آج مسلمان دنیا کی محبت اور موت کی نفرت سے اس قدر مغلوب ہو چکے ہیں کہ دین کے معاملات میں بے عملی بستی اور کوتاہی تو ایک طرف ، ہم نے فرائض تک کو نظر انداز کر رکھا ہے اور کوئی گناہ معصیت اور نافرمانی ایسی نہیں جس میں ہم اختیار کے شانہ بشانہ نہ ہوں ، بلکہ بہت کی چیزوں میں تو شاید ہم اُن سے بھی آگے نظر آتے ہیں۔
آپ سے کم کی اس بارے میں پیشین گوئی تو یہ ہے کہ:
((لَتَتَّبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ))
’’ فرمایا: تم اپنے سے پہلے گزری قوموں کی پیروی کرو گے بالشت بر بالشت اور ہاتھ پر ہاتھ حتی کہ اگر دو گوہ کی ہیں میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کے پیچھے چلو‘‘
((قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى))
’’ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺکیا آپ کی مراد یہود و نصاری ہیں؟‘‘
((قَالَ فَمَن)) (صحيح البخاری: 7320)
’’تو آپﷺ نے فرمایا: تو اور کون؟‘‘
اور آپ ﷺ کی یہ پیشین گوئی آج حرف بحرف ظاہر ہو چکی ہے کہ ہم میں سے بہت سے مسلمان پورے پورے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ کچھ تو ایسے بھی ہیں کہ جو یہود و نصاری کی خوشنودی کے لئے اس سے بھی چند قدم آگے نکل گئے ہیں۔
مثلاً: حال ہی میں ایک اسلامی ملک نے اپنے ملک میں گیارہ ملین ڈالرز کی لاگت سے ایک کرسمس ٹری بنایا ہے، وہ اس سے کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں، سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے اپنے آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہی وجہ ہے تو پھر یہ ان کی ایک ناکام کوشش ہے، کیونکہ قرآن پاک نے اس ضمن میں اک فیصلہ کن بات بیان کر رکھی ہے کہ:
﴿وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ؕ ﴾(البقره:120)
’’یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔‘‘
جب تک کوئی مکمل طور پر ان کا رنگ ڈھنگ اختیار نہیں کر لیتا ان کا عقیدہ و مذہب نہیں اپنا لیتا وہ راضی نہ ہوں گے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر بنے سے وہ راضی نہ ہوں گے۔
تعجب ہے کہ اک مسلمان سے مطلوب تو یہ ہے کہ وہ صاف صاف کہہ دے:
﴿لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠۝﴾ (الكافرون:6)
’’ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ۔‘‘
مگر وہ اس کے دین کو خود اس سے زیادہ مانے بات سمجھ لیں نہیں آتی۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک کرسمس ٹری پر گیارہ ملین ڈالرز خرچ کرنے والے کو شاید روہنگیا کے مسلمانوں پر گیارہ ڈالر ز بھی خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ہوگی۔
یہ تو خیر پیسے والے لوگ ہیں اور چونکہ ہر آدمی اپنی حیثیت سے اپنا اظہار ماضی الضمیر کرتا ہے، اس لئے یہ بڑی خبر بن گئی، مگر مسلمانوں کی یہ حالت زار، گمراہی اور بے راہ روی ، ان چند دولت مند لوگوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ غریب ، مفلوک الحال اور مزدور طبقے کا بھی یہی حال ہے، دین سے وہ بھی اس قدر بے زار ہیں، اندازہ کریں:
ابھی گذشتہ جمعے ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ آپ سیاست میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں، وہ صاحب کہنے لگے کہ دلچسپی کیوں نہ رکھوں: میری والدہ کھانا پکانے کے لئے پہلے لکڑیاں جلایا کرتی تھیں پھر گیس آگئی اور آج پھر دو بار د لکڑیاں جلانا پڑ گئی ہیں۔
سبحان اللہ! کیا دور اندیشی اور کیا فکر انگیزی ہے، کیا معصومیت ہے، سیاست میں دلچسپی کا باعث یہ ہے کہ لکڑیاں جلانا پڑتی ہیں مگر وہ موقف اور مقام کہ جنہاں انسان کو خود لکڑیوں کی طرح جلنا پڑ سکتا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں ، نوافل تو در کنار، فرائض کی ادائیگی کی بھی علی وجہ المطلوب توفیق نہیں ہے۔
آپ نے اندازہ کیا کہ آج مسلمان بے حیثیت اور بے توقیر کیوں ہیں آج مسلمان ایک کثرت کے باوجود جھاگ ، تلچھٹ اور خس و خاشاک کی مانند کیوں ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ آپﷺ نے مسلمانوں کی آج کی بے بسی کی پیشین گوئی اور اس کا سبب بیان فرما رکھا ہے۔ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((يُوشِكُ الأمم أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ، كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قصعتها))
’’ قریب ہے کہ امتیں، قو میں، مختلف ممالک تم پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک دوسرے کو دعوت دیں، جس طرح کھانے والے، کھانے کے برتن، کھانے کی میز اور دستر خوان پر ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں۔‘‘
((فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ))
کسی کہنے والے نے کہا: کیا اُس روز یہ ہماری عددی قلت کی وجہ سے ہوگا ؟
قالَ: ((بَلْ أَنتُم يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ))
’’فرمایا: بلکہ اس وقت تم بہت کثرت میں ہو گے۔‘‘
((وَلَكِنَّكُمْ غُنَاء كُغَتَاءِ السَّيْلِ))
’’ مگر تمہاری حیثیت سیلاب کی جھاگ اور خس و خاشاک کی سی ہوگی ۔‘‘
((وَلَيَنْزِ عَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ))
’’اور اللہ تعالی تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہار ا رعب و د بد بہ نکال دے گا۔‘‘
((وَلَيَقْدِ فَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ))
اور اللہ تعالی تمہارے دلوں میں وھن ڈال دے گا۔
((فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهَنُ))
’’ کسی کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ: اور وھن کیا ہے؟‘‘
قَالَ: ((حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ .)) (سنن ابی داود:4297)
’’فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کی کراہت ۔‘‘
آپ نے دنیا سے ہماری محبت اور موت سے نفرت کا اندازہ لگایا! کہاں ہم کہ جن کی زندگی کا مقصد بجلی اور گیس کا حصول اور کہاں وہ کہ جن کی زندگی کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ٹھہرا ۔
صحابہ کرام بھی میں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو ان کی بے سرو سامانی اور کسمپرسی دیکھ کر آنکھوں سے بے ساختہ آنسو ٹپک پڑیں مگر ان کا جوش و جذبہ، قوت ایمانی اور مقصد زندگی دیکھیں تو ایمان میں حرارت پیدا ہونے لگے۔ حالات جنگ میں دن بھر کے لئے کھانے کو صرف ایک کھجور ملے جسے وہ چوس کر گزارہ کریں اور زبان پر کوئی شکوہ نہ آئے، کیونکہ عیش و عشرت ان کی زندگی کا مقصد ہی نہ تھا۔
پیٹ پر پتھر باندھے، پتھریلی زمین میں خندق کھودنے والے ہوں، اور کھانے میں دو مٹھی بھر جو کو بد بودار چربی میں پکا کر پیش کیا جائے تو بھی ماتھے پر شکن نہ آئے ؟
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
ایسے خوب صورت اور قابل فخر و قابل ستائش کردار والی ہستیوں کا دور شہرا اور شاندار دور کیوں نہ ہوں، عزت و عظمت والا دور کیوں نہ ہوا اور جس دور میں لوگوں کا مقصد زندگی فقط دنیا کا حصول ہو، جب الدنیا و کراہیة الموت ہو، وہ ذلیل و رسوا کیوں نہ ہوں، در بدر کی ٹھوکریں کیوں نہ کھائیں، مختلف قو میں ان پر چڑھ دوڑنے کے لئے ایک دوسرے کو کیوں نہ بلائیں، ہم جانتے ہی نہیں کہ دنیا میں قوموں کا معیار عزت و ذلت اور مقیاس عروج و زوال کیا ہے؟
آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سنان اول ، طاؤس و رباب آخر
قو میں تلواروں اور نیزوں سے مزین ہو کر ترقی اور عروج کا سفر طے کرتی ہیں، اور جب قو میں عیش وعشرت میں کھو جاتی ہیں، طاؤس و رباب میں مگن ہو جاتی ہیں، ناچ گانے اور رقص و سرور سے دل بہلانے لگتی ہیں تو زوال و انحطاط ان کا مقدر بن جاتا ہے، اور ذلت ورسوائی ان پر مسلط کر دی جاتی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے: جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب لوگ سودی معاملات میں ملوث ہو جاتے ہیں اور کاروبار دنیا میں مگن ہو کر اسے آخرت پر ترجیح دینے لگتے ہیں، کہ کاروبار کے لئے، ملازمت کے لئے ، مزدوری کے لئے ان کے پاس وقت ہوتا ہے مگر نماز کے لئے نہیں تو اللہ تعالی ان پر ذلت و رسوائی مسلط کر دیتا ہے۔ اور ایسی مسلط کرتا ہے کہ پھر
((لا ينزعُه حتى ترجعوا إلى دينكم)) (سنن ابی داود:3462)
’’ اس وقت تک اللہ تعالیٰ وہ ذلت و رسوائی مسلط کیے رکھتا ہے اور دور نہیں کرتا جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہیں آتے۔‘‘
بدعمل، بد کردار اور ناچ گانے والے لوگوں پر صرف سادہ ہی ذلت و رسوائی ہی مسلط نہیں کرتا بلکہ انھیں زمین میں دھنسا دیے جانے اور بندر بنا دیے جانے کے تحقیر آمیز عذاب سے بھی خبردار کرتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((ليَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْر يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسمها))
’’فرمایا: میری امت کے لوگ شراب پئیں گے مگر اس کا نام بدل کر کچھ اور رکھ دیں گے۔‘‘
((يُعْزَفُ عَلَى رُؤوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغْنِّيَاتِ))
’’ ان کی سرپرستی میں باجے بجیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔‘‘
((يَخْسِفُ الله بهم الأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَة والخنازيرَ)) (سنن ابن ماجه:4020)
’’ اللہ تعالی انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔‘‘
تانی گانوں سے کیا ملک ترقی کرتے ہیں؟ تباہی و بربادی اور ذلت و رسوائی آتی ہے، یہ بات تو مسلم ہے، قرآن وحدیث سے ثابت شدہ ہے۔ تعجب ہے! آج ہمیں سراسر اور کھلی معصیت کرتے ہوئے اللہ تعالی کے عذاب کا ڈر اور خوف نہیں ہے، جبکہ ہمارے اسلاف تو اس سے بھی کم ، بلکہ جائز اور مباح چیزوں پر بھی ڈارتے تھے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک بار رات کو اپنے لشکر کے احوال جاننے کے لئے گردش کر رہے تھے، ایک خیمے کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ چند لوگ عبادت میں مصروف ہیں، کوئی قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا، اور کوئی نماز پڑھ رہا تھا۔ تو یہ دیکھ کر فرمانے لگے:
((مِنْ هُنَا يَأْتِي النَّصْر))
’’ یہاں سے اللہ کی مدد آئے گی ۔‘‘
پھر ایک دوسرے جیسے کے پاس سے گزر ہوا، دیکھا کہ وہ لوگ سورہے ہیں ، دیکھ کر فرمایا:
((مِنْ هُنَا تَأْتِي الْهَزِيمَة)) (شرح اصول اعتقاد اهل السنة للالكائي محمد حسن عبد الغفار ، جزء:68، ص:6)
ہزیمت اور شکست یہاں سے آئے گی ۔‘‘
وہ لوگ بہت دور اندیش تھے، اصحاب فراست تھے، حکماء و دانا تھے حالات کا جائزہ لے کر نتائج کا اندازہ اور ٹھیک ٹھیک تشخیص کر لیتے تھے۔
اس واقعے میں حالانکہ رات کو سونے والے لوگ کوئی برائی کا ارتکاب نہیں کر رہے تھے، مگر چونکہ اللہ کی مدد کے لئے صرف ظاہری اسباب پر انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ اصل انحصار اللہ تعالی پر اس سے تعلق اور توکل کی بناء پر ہوتا ہے۔
تو آج کا مسلمان سٹیجوں پر ڈانس کر کے، ڈی جے بجا کر کیا اللہ کی مدد کو پکار رہا ہوتا ہے؟ بلکہ وہ اللہ کے غضب کو دعوت دے رہا ہوتا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کو وصیت کرتے ہوئے لکھا کہ:
((إِنِّي أَمْرُكَ وَمَنْ مَعَكَ أَنْ تَكُونُوا أَشَدَّ إِحْتِرَاسًا مِنَ الْمَعَاصِي مِنكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، فَإِنْ ذُنُوبَ الْجَيْشِ أَخْوَفُ عَلَيْهِمْ مِنْ عدُوِّهم)) (العقد الفريد ، ج:1، ص:117 – نهاية الأدب في فنون الأدب ، ج:6، ص:168)
’’ فرمایا: میں تمہیں اور تمہارے ساتھ جو لوگ ہیں سب کو نصیحت کرتا ہوں، کہ اپنے دشمن سے زیادہ اپنے گناہوں سے محتاط رہو، کہ لشکر کے گناہ اس کے دشمن سے زیادہ خوفناک ہوتے ہیں ۔‘‘
قرآن و حدیث میں تو اس پر واضح دلائل موجود ہیں جبکہ تاریخ میں بھی اس کے شواہد موجود ہیں۔ ماضی قریب کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیئے: 1967 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں مصر کو شکست ہوئی۔ جب شکست کے اسباب کا جائزہ لیا گیا تو اس میں ایک سبب یہ بھی تھا، جو کہ شاید بنیادی سبب ہو کہ مصری فوجیوں کے ٹینکوں میں ناچنے گانے والیوں کی تصویریں ملیں، جبکہ اسرائیلی فوجیوں کے گلوں میں تو رات لٹکی ہوئی پائی گئی۔
آج یہ ایسا فتنوں کا دور ہے کہ خیر اور شر اور صیح اور غلط کے معیارات اور موازین بدل گئے ہیں، دو لوگ جو بے حیائی اور فحاشی کے ذریعے، ناچ گانے کے ذریعے ملکی حالات سنوارنا چاہتے ہیں جو کہ اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قوم کے بھی دشمن ہیں انہیں ہمدرد اور خیر خواہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور جو حالات سنوارنے کا صحیح اور سیدھا اور واحد راستہ ہے اس پر کوئی غور کرتا ہے اور نہ اہمیت دیتا ہے۔ جیسا کہ اس سیدھے راستے کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
((لَنْ يَصْلُحَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا بِمَا صَلَحَ بِهِ أَوَّلُهَا))
’’ اس امت کے آخری دور کی اصلاح انہی خطوط پر چل کر ہوگی جن پر پہلے دور کے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی ۔‘‘
(اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية . ج:2، ص:237)
اور وہ کیا ہے ؟ وہ صرف اور صرف قرآن وحدیث پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………..

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں