*اخلاص*

*اخلاص*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔
الحج : 37

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ ]
[ مسلم : 2564/34 ]
’’اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘

اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی ہو یا کوئی بھی نیک عمل، خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"اگر اخلاص نہیں ہے تو خود کو تھکانے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
[بدائع الفوائد (3/235)]

*نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔*

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا :
[ إِنَّ بِالْمَدِيْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ ؟ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ]
[ بخاري : 4423 ]
’’مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔‘‘ لوگوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔‘‘

*اعمال اور اخلاص کا باہمی تعلق*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
بخاری : 1
یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔

*نیت میں اخلاص ہوا تو بیماری کی وجہ سے عمل نہ بھی کر پائیں گے لیکن اجر ملتا رہے گا*

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ : اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ ".
مسند احمد : 12503
"جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو جسمانی بیماری میں مبتلا کرتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: ‘اس کے لیے وہ نیک عمل لکھ دو جو وہ کیا کرتا تھا۔'”

*إخلاص کی اہمیت کو اس بات سے سمجھیں کہ لوگوں کے ہاں شہرت نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں، اللہ کے ہاں نیک نامی ضروری ہے*

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
: ” إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ ".
مسلم : 2965
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے متقی، بے پروہ اور گمنام بندے سے محبت کرتا ہے

*کتنے رسول ایسے گزرے ہیں کہ جنہیں آج دنیا میں کوئی بھی جاننے والا نہیں ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رسول اور پیغمبر کے رتبے پر فائز ہیں*

فرمایا :
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا
اور بہت سے رسولوں کی طرف جنھیں ہم اس سے پہلے تجھ سے بیان کر چکے ہیں اور بہت سے ایسے رسولوں کی طرف جنھیں ہم نے تجھ سے بیان نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔
النساء : 164

اور فرمایا :
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے سنایا اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے نہیں سنایا۔
غافر : 78

*ابراهيم علیہ السلام کا معاشرے میں تعارف اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تعارف*

ایک وقت تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کا لوگوں کے ہاں کوئی خاص تعارف نہیں تھا، اپنے معاشرے میں لوگوں کے ہاں فقط اتنے کو معروف تھے کہ آپ نے جب بتوں کو توڑا اور لوگوں نے توڑنے والے کا سراغ لگانے کے لیے پوچھ پڑتال شروع کی تو بیچ میں سے کچھ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام پر اپنے شک کا اظہار کرتے ہوئے آپ کا یوں تعارف کروایا :
قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
الأنبياء : 60

ابراهيم علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے کہ "ہاں ایک نوجوان ہے اسے ابراہیم کہتے ہیں” یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک ابراہیم علیہ السلام ایک بے وقعت، عام اور معمولی سی شخصیت تھے
لیکن
یہی ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ جب ان کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے کیا تو کیا فرمایا :
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
بے شک ابراہیم ایک امت تھا، اللہ کا فرماں بردار، ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا اور وہ مشرکوں سے نہ تھا۔
النحل : 120

الغرض کہ وہی شخص جو لوگوں کے ہاں فقط ایک ابراہیم نامی نوجوان ہے، اس سے زیادہ اس کا کوئی تعارف نہیں ہے
وہی شخصیت اللہ تعالیٰ کے ہاں ،اکیلے ہی امت قرار دیے جا رہے ہیں
یہ اس لیے ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے
اور یہ اخلاص کا ہی ثمرہ ہے

*دعوت میں اخلاص کا ایک واقعہ*

شیخ سلیمان رحیلی بیان کرتے ہیں :
”بخدا میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے استاد شیخ عبدالعزیز الشبل رحمہ اللہ کو دیکھا ہے کہ وہ مسجد میں درس کیلیے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے ایک بھی طالب علم نہیں تھا۔ مگر انہوں نے اپنا درس مکمل کیا، جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور چل دییے۔

اور مجھے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے کسی شاگرد نے بتایا کہ جب شیخ نے درس دینا شروع کیا تو ایک بھی شخص نہیں ہوا کرتا تھا۔ آپ مسجد کے مؤذن کو سامنے بٹھاتے اور اسے پڑھاتے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو اللہ کیلیے پڑھاتے تھے، بِھیڑ کیلیے نہیں۔“

(إرشاد المريد للشيخ سليمان الرحيلي : ٩٣/١)

*دعوت میں اخلاص نہ رکھنے والے داعی بالآخر دعوت کے کام سے اکتا جاتے ہیں*

فضيلة الشيخ صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان حفظه الله تعالىٰ فرماتے ہیں :

’’فبعض الناس إذا لم يُمدح ويُشجع ترك الدعوة ! وهذا دليل على أنه لا يدعو إلى الله ؛ وإنما يدعو إلى نفسه.‘‘
(إعانة المستفيد : ١٣٦)
"بعض لوگوں کی اگر تعریف یا حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو وہ دعوت کا کام چھوڑ دیتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دعوت کا کام ﷲ کیلیے نہیں کرتے۔ بلکہ صرف اپنی ذات ہی کی طرف دعوت دینے کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں! (تاکہ لوگوں میں یہ دعات پہچانے جائیں اور ان کا خوب چرچا ہو! والعياذ بالله)”

*جس کےلئے کیا ہے وہ بھولنے والا نہیں*

محمد ابرار ظہیر صاحب فرماتے ہیں ماہ رمضان میں پروفیسر ساجد میر رحمہ اللہ کی اقتداء میں نماز تراویح پڑھیں ۔ ان سے عرض کیا کہ "کتنے مصلے سنائے ہیں اور کتنی مرتبہ حج و عمرہ کی سعادت پائی ہے؟”۔
سوال سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ "جس کےلئے کیا ہے وہ بھولنے والا نہیں’۔”

*بیس ہزار گمنام سپاہی*

امام الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ہارون الرشید کی فوج میں بیس ہزار سپاہی تھے، جن کے نام فوج کے دفتر میں درج نہیں کیے گئے اور انہوں نے اپنی اجرت نہیں لی، تاکہ انہیں الله کے سوا کوئی نہ جانے

[سير أعلام النبلاء]

*ہم نے جانتے تو پھر کیا؟ اللہ تو انہیں خوب جانتا ہے*

سیدنا عمر رضى الله عنه کے سامنے ذکر کیا گیا کہ معرکۂِ نہاوند میں فلاں اور فلاں شہید ہوا، اور کچھ لوگ جنہیں ہم نہیں جانتے۔ عمر کہنے لگے : لیکن اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة : ٣٤٤٨١ ، صحيح)

*صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اخلاص کے واقعات*

*ایسا اخلاص کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں بتایا*

مہمان کی چراغ بجھا کر ضیافت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ بتایا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا

بلال رضی اللہ عنہ کا عمل وہ جس کی وجہ سے جنت میں آپ کے قدموں کی آہٹ سنائی دی، نا جانے کب سے کررہے تھے لیکن آپ اسے صرف اللہ کے لیے اتنا خالص ہو کر کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ بتایا

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا روزانہ روزہ رکھنے اور رات بھر قیام کرنے والا عمل بھی ان کی بیوی نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا نہ جانے شادی سے پہلے کب سے یہ عمل کرتے چلے آ رہے تھے

*غار والے تین بندے*

غار میں پھنسنے والے تین بندوں کا واقعہ بہت مشہور ہے
تینوں نے غار میں اپنے اپنے نیک اعمال کا اللہ تعالیٰ کے سامنے تذکرہ کیا
تینوں اعمال کو غور سے پڑھیں تو حد درجے کا اخلاص نظر آتا ہے

*مشاری بن راشد العفاسي حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشید*

هل لك سر عند الله؟
بينك أنت وبين الله
هل لك صدقات تخفیھا
لا يعلمها إلا الله؟
قصص لا تكشف إلا
بكتابك حين ترى الله
کیا تمہارے اور اللہ کے درمیان کوئی راز ہے؟
کوئی ایسا عمل جو صرف تم اور تمہارا رب جانتے ہو؟
کیا تم چھپ کر صدقات دیتے ہو؟
ایسے صدقات جنہیں صرف اللہ جانتا ہے؟
کیا تمہاری زندگی کی کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو صرف تمہاری کتابِ اعمال کے ذریعے ہی ظاہر ہوں گی،جب تم اللہ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے؟

*ایسا پر خلوص صدقہ کے جسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہ جانتا ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بدلہ کیا ہے*

ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس وقت اپنے عرش کا سایہ دیں گے جب کوئی اور سایہ نہیں ہو گا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن عرش کا سایہ پانے والے سات خوش نصیب بندوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا :
وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ
بخاری : 660
"اور وہ شخص جس نے ایسا خفیہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔”

*میرے رونے کی خبر کسی کو نہ دینا*

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نماز کے دوران رونے لگے جب نماز سے فارغ ہوئے تو مڑ کر دیکھا تو پیچھے ایک آدمی یہ رقت آمیز منظر دیکھ رہا تھا اس سے منت سماجت کی کہ کسی کو میرے رونے کی خبر نہ دینا
1/256 :صفة الصفوة

*بیس برس کی مخفی عبادت*

ابوالتیاح رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں :
*سلف کا دستور تھا کہ ایک شخص 20 برس عبادت کرتا مگر اس کے پڑوسی کو خبر تک نہ ہوتی!*
(الإخلاص والنية لإبن أبي الدنيا، ص 61)

*کسی کو دیکھتے تو قرآن چھپا لیتے*

ربيع بن خثیم رحمہ الله کے بارے میں آتا ہے
أنه كان يدخل عليه الداخل وفي حجره المصحف فيغطيه.
سير أعلام النبلاء : 4 / 260
کہ گود میں قرآن مجید کا نسخہ رکھ کر تلاوت کر رہے ہوتے اسی دوران کوئی آجاتا تو قرآن پاک کو ڈھانپ لیتے (تاکہ اسے پتہ نہ چلے)

*پچاس سال گزر گئے کبھی اپنی کسی خوبی کا تذکرہ نہ کیا*

امام يحيى بن معين رحمه الله کہتے ہیں:
"میں نے امام احمد بن حنبل رحمه الله جیسا کِسی کو نہیں دیکھا؛ ہم اُن کے ساتھ پچاس سال تک رہے،
لیکن اُنہوں نے کبھی بھی اپنی کِسی بھی خوبی اورکِسی بھی بھلائی پہ ہمارے سامنے فخر نہیں کیا!”
(حلية الأولياء لأبي نعيم : 9/ 181)

*رات کے قیام کو چھپاتے*

سلام رحمة اللّٰہ علیہ کا بیان ہے کہ امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ تمام رات قیام فرماتے تھے اور اسے مخفی رکھتے تھے۔ جب صبح ہونے لگتی تو ایسے آواز بلند کرتے کہ گویا ابھی جاگے ہیں!
(سیر اعلام النبلاء، ١٧/٦)

*اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا چاہتے ہو تو خفیہ طور پر نیک اعمال کیا کرو*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔
الكهف : 110

امام عبداللہ بن المبارك رحمه الله فرماتے ہیں :
*”من أراد النظر إلى وجه خالقه فليعمل عملا صالحا ولا يخبر به أحدا”.*
اللالكائي (٢٣٥/٣)
جو شخص اپنے خالق کے چہرے کا دیدار کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے نیک اعمال کرے اور اور اس کی کسی کو خبر نہ دے

‏ *”حبِّ شہرت، ہلاکت کا سبب ہے!”*

امام حافظ ذہبی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
*فكم من رجل نطق بالحق ، وأمر بالمعروف؛ فيسلط الله عليه من يؤذيه ؛ لسوء قصده ، وحبه للرئاسة الدينية !*
*فهذا داء خفي ، سار في نفوس الفقهاء ، كما أنه داء سار في نفوس المنفقين من الأغنياء ، وأرباب الوقوف والترب المزخرفة !*
*وهو داء خفي يسري في نفوس الجند والأمراء والمجاهدين!*
*فمن طلب العلم للعمل ؛ كسره العلم ، وبكى على نفسه .*
*ومن طلب العلم للمدارس والإفتاء والفخر والرياء ؛ تحامق ، واختال ، وازدرى بالناس ، وأهلكه ، ومقتته الأنفس .*

سير أعلام النبلاء (192/18)

"کتنے ہی لوگ ہیں جو حق بات بولتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں؛ مگر اللہ تعالیٰ ان پر کسی کو مسلط کر دیتا ہے جو انہیں اذیت دیتا ہے — اس لیے کہ ان کی نیت خراب ہوتی ہے اور وہ دینی قیادت (یا مذہبی برتری) کے طالب ہوتے ہیں!”

"یہ ایک چھپا ہوا مرض ہے، جو فقہاء کے دلوں میں سرایت کر چکا ہے — جس طرح یہ مرض اُن دولت مندوں کے دلوں میں ہے جو خرچ کرتے ہیں، اوقاف کے مالک ہوتے ہیں، یا خوبصورت قبریں اور مزارات بناتے ہیں۔”

"یہی مرض خفیہ طور پر سپاہیوں، حکمرانوں اور جہاد کرنے والوں کے دلوں میں بھی سرایت کر جاتا ہے!”

"جو شخص علم اس لیے حاصل کرتا ہے کہ اس پر عمل کرے، تو علم اُسے توڑ دیتا ہے (یعنی عاجز بنا دیتا ہے) اور وہ اپنے نفس پر روتا ہے۔”

"اور جو شخص علم مدارس، فتویٰ، شہرت، رِیاء، اور فخر کے لیے حاصل کرتا ہے؛ تو وہ حماقت میں مبتلا ہو جاتا ہے، تکبر کرتا ہے، لوگوں کو حقیر جانتا ہے، اور اسی (تکبر) سے ہلاک ہو جاتا ہے — اور لوگوں کے دلوں میں ناپسندیدہ بن جاتا ہے۔”

*اپنی تعریف کی خواہش نہ کریں*

فضيلة الشيخ ربيع بن هادي المدخلي حفظه الله تعالىٰ نصیحت کرتے ہیں :

*’’حُبُّ المَدحِ فِتنةٌ يا إخوتَاه، حُبّ المدح فِتنةٌ، حُبّ ثناء النَّاس يَقُودُكَ إلى الرِّيَاء وإلى الهَلاكِ والدَّمَار، فَنعوذُ بالله.‘‘*
(مَرحبًا يَا طَالِبَ العِلْم : 189)
"اپنی تعریف چاہنا فتنہ ہے بھائیو! اپنی تعریف چاہنا فتنہ ہے، لوگوں کی تعریف کی چاہت تمہیں ریا، ہلاکت اور بربادی کے دہانے پر پہنچا دے گی، ہم اس سے ﷲ کی پناہ میں آتے ہیں۔”

*تعریف میں غلو اور مبالغہ آرائی، علامہ البانی رحمہ اللہ کا ایک سبق آموز واقعہ*

پروفیسر ڈاکٹر عاصم القریوتی حفظہ اللہ (محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب) نے اپن فیس بک پیج پر علامہ البانی رحمہ اللہ کے نام جامعہ سلفیہ بنارس کا ایک پرانا مکتوب نقل کیا ہے۔ یہ مکتوب سن 1969 کا ہے۔ جس میں جامعہ سلفیہ نے انھیں اپنے یہاں فارغین طلبہ کے درمیان تقسیم اسناد کے ایک پروگرام میں تشریف لانے کی دعوت دی ہے۔ تاکہ وہ طلبہ کو اپنے قیمتی پند و نصائح سے مستفید فرمائیں۔

اس مکتوب کے حوالے سے ایک صاحب نے استفسار کیا ہے کہ کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے جامعہ سلفیہ کی اس دعوت کو قبول کیا تھا یا نہیں ؟

پروفیسر ڈاکٹر عاصم حفظہ اللہ نے اس کا جو جواب دیا وہ واقعی ہم سب کے لئے بہت ہی قابل غور اور نصیحت آموز ہے :

کہتے ہیں کہ شیخ نے اس پروگرام میں شرکت سے معذرت کی اور فرمانے لگے :
‏”إخواننا من أهل الحديث هناك يغلون في الثناء والحب، ونفسي لا تطيق هذا”)
"وہاں انڈیا کے ہمارے اہل حدیث احباب تعریف اور محبت میں غلو اور مبالغہ کرتے ہیں اور میرا نفس اسے برداشت نہیں کر پاتا”۔

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں