*فضائل عمر رضی اللہ عنہ*
رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں سے حضرت عمر رضی اللہ نے سب سے پہلے اپنے ایمان کا کھلم کھلا اعلان فرمایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ : يَارَسُولَ اللهِ ﷺ ! إِنِّي لَا أَدَعُ مَجْلِسًا جَلَسْتُهُ فِي الْكُفْرِ إِلَّا أَعْلَنْتُ فِيهِ الْإِسْلَامَ ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ وَفِيهِ بَطُونُ قُرَيْشٍ ، مُتَحَلَّقَةٌ فَجَعَلَ يُعْلِنُ الْإِسْلَامَ ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَثَارَ الْمُشْرِكُونَ يَضْرِبُونَهُ وَيَضُرِبُهُمْ ، فَلَمَّا تَكَاثَرُوا عَلَيْهِ خَلَصَهُ رَجُلٌ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ : مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي خَلَصَكَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ؟ قَالَ : ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلِ السَّهْمِيُّ.
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اب میں ایسی کوئی مجلس نہیں چھوڑوں گا جس میں میں زمانہ کفر میں شریک ہوتا تھا اور اب اس میں اپنے اسلام لانے کا اعلان نہ کروں۔ (اس کے بعد ) حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ مسجد حرام میں آئے وہاں قریشی سردار حلقہ بنائے ہوئے تھے،
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا اور گواہی دی” لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ( کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں )
مشرک حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور مارنے لگے ، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ ان کو مارتے ۔ جب کافروں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ہجوم کر دیا تو ایک آدمی نے حضرت عمر کی جان بچائی۔
میں نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے پوچھا:
مشرکین سے آپ کو کس نے چھڑایا ؟
حضرت عمر بی ﷺ نے فرمایا: ” عاص بن وائل سہمی نے ۔
( رواہ الطبرانی فی المعجم الاوسط-رقم الحدیث_1293 )
(مجمع الزوائد 9/61 تحقيق محمد عبدالله الدرويش-رقم الحدیث_14415)
🟣 وضاحت :
یادر ہے عاص بن وائل سہمی کا قبیلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کا حلیف تھا۔
عاص بن وائل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا والد تھا۔
🤲نبی علیہ السلام کی دعا 🤲
• عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ذریعے اسلام کو تقویت ملی
• عمر رضی اللّٰہ عنہ اللہ کو پیارے نکلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’ اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمربن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما’ ، آپ ﷺ نے فرمایا:’ تو ان دونوں میں سے "عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ” اللہ کے محبوب نکلے
(جامع ترمذی-3681)
عمر رضی اللّٰہ عنہ کے مسلمان ہونے بعد حرم میں نماز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "”
🟣ترجمہ:
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : خدا کی قسم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ہم حرم (مسجد حرام) میں کھلے عام نماز نہ پڑھ سکتے تھے ۔
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4487 – صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔
"اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّاب”
”اے اللّٰہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“۔
آپ ﷺ نے فرمایا:تو ان دونوں میں سے عمرؓ اللّٰہ کے محبوب نکلے۔
[سنن ترمذی:3681]
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
"لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ”.
”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“۔
(سنن الترمذی:3686)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ امیر المؤمنین تھے، ان کے کندھوں پر تہہ بہ تہہ تین پیوند لگے ہوئے تھے“۔
[مؤطا امام مالک:2/918]
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ (کی میت)کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ
”اے عمر !آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو عمل و کردار کے اعتبار سے مجھے آپ سے زیادہ محبوب ہو (اورمیں تمنا کروں)کہ میں اس جیسا بن کر اللّٰہ تعالیٰ سے ملوں“۔
(صحیح بخاری:3685)
تابعی ابو سفر الهمداني رحمہ الله بیان کرتے ہیں:
سيدنا علي بن أبي طالب رضي الله عنہ ایک چادر بہت اوڑھا کرتے تھے. آپ سے کہا گیا: "امیر المؤمنین! کیا وجہ ہے کہ آپ یہ چادر بہت زیادہ اوڑھتےہیں؟سيدنا علي رضي الله عنہ نے فرمایا :
"مجھے یہ چادر میرے جگری یار، میرے خاص دوست اور میرے خاص ساتھی عمر بن خطاب (رضي الله عنہ) نے پہنائی تھی. بے شک عمر اللہ کیلیے خالص ہو گئے تو اللہ نے بھی عمر کے ساتھ بھلائی کا معاملہ رکھا!اور پھر علی رضی اللہ عنہ رو دیے!”
(مصنف ابن أبي شيبة: 31997)
میری بڑی خواہش ہے کہ عمر رضی اللّٰہ عنہ جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللّٰہ تعالٰی سے جا ملوں۔
امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ ؓ
(صحیح بخاری:3685)
”بربادی ہے میری اور میری ماں کی، اگر اللہ نے مجھے معاف نہ کیا“۔
یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ عمر بن خطابؓ کی روح پرواز کر گئی۔
(الطبقات لابن سعد:3/274)
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے تو ہم دو صفوں میں نکلیں ایک صف میں میں تھا اور ایک میں حمزہ تھے، اور ہم مسجد میں داخل ہوئے۔اس دن جو مشرکین مکہ کو تکلیف پہنچی اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچی تھی.!
لما أسلمت أنا وحمزة بن عبدالمطلب، خرجنا في صفين، أنا في صف، وحمزة في صف، ودخلنا المسجد، فنظر إلينا كفار قريش فأصابهم كآبة لم يصبهم مثلها قط.
حلية الأولياء (٤٠/١)
امام ذھبی نے پچاس سابقون اولون صحابہ کے نام گنوائے ہیں جو حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما سے قبل مسلمانو ہوئے اور اسکے بعد پھر یہ دونوں مسلمان ہوئے تو مسلمانوں کو قوت حاصل ہوئی اور مسلمان ہونا پہلے سے آسان ہوگیا۔
امام ذھبی نے حضرت حمزہ کو اسد اللہ یعنی اللہ کا شیر قرار دیا اور حضرت عمر کو عز الدین یعنی دین کے غلبے کا سبب کا قرار دیا۔
امام ذھبی نے ایمان لانے والوں کی ترتیب میں سیدہ خدیجہ کے بعد سیدنا علی کا نام ذکر کیا ہے پھر سیدنا ابو بکر کا۔
وہ پچاس صحابہ امام ذھبی کی ترتیب سے یہ ہیں:
خديجة بنت خويلد ، وعلي بن أبي طالب ، وأبو بكر الصديق ، وزيد بن حارثة النبوي ، ثم عثمان ، والزبير ، وسعد بن أبي وقاص ، وطلحة بن عبيد الله ، وعبد الرحمن بن عوف ، ثم أبو عبيدة بن الجراح ، وأبو سلمة بن عبد الأسد ، والأرقم بن أبي الأرقم بن أسد بن عبد الله بن عمر ، المخزوميان ، وعثمان بن مظعون الجمحي ، وعبيدة بن الحارث بن المطلب المطلبي ، وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل العدوي ، وأسماء بنت الصديق ، وخباب بن الأرت الخزاعي ، حليف بني زهرة ، وعمير بن أبي وقاص ، أخو سعد ، وعبد الله بن مسعود الهذلي ، من حلفاء بني زهرة ، ومسعود بن ربيعة القارئ من البدريين . وسليط بن عمرو بن عبد شمس العامري ، وعياش بن أبي ربيعة بن المغيرة المخزومي ، وامرأته أسماء بنت سلامة التميمية ، وخنيس بن حذافة السهمي ، وعامر بن ربيعة العنزي ، حليف آل الخطاب ، وعبد الله بن جحش بن رئاب الأسدي ، حليف بني أمية ، وجعفر بن أبي طالب الهاشمي ، وامرأته أسماء بنت عميس ، وحاطب بن الحارث الجمحي ، وامرأته فاطمة بنت المجلل العامرية ، وأخوه خطاب ، وامرأته فكيهة بنت يسار ، وأخوهما معمر بن الحارث ، والسائب ولد عثمان بن مظعون ، والمطلب بن أزهر بن عبد عوف الزهري ، وامرأته رملة بنت أبي عوف السهمية ، والنحام نعيم بن عبد الله العدوي ، وعامر بن فهيرة ، مولى الصديق . وخالد بن سعيد بن العاص بن أمية ، وامرأته أميمة بنت خلف الخزاعية ، وحاطب بن عمرو العامري ، وأبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة العبشمي ، وواقد بن عبد الله بن عبد مناف التميمي اليربوعي ، حليف بني عدي ، وخالد ، وعامر ، وعاقل ، وإياس ، بنو البكير بن عبد ياليل الليثي ، [ص: 145] حلفاء بني عدي ، وعمار بن ياسر بن عامر العنسي بنون ، حليف بني مخزوم ، وصهيب بن سنان بن مالك النمري ، الرومي المنشأ ، وولاؤه لعبد الله بن جدعان ، وأبو ذر جندب بن جنادة الغفاري ، وأبو نجيح عمرو بن عبسة السلمي البجلي۔رضی اللہ عنھم اجمعین.
تحریر: شاہ رخ خان
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
🌲🎄🌲🎄🌲🎄🌲
📜امیر المؤمنین خلیفہ ثانی
سیدنا عمر بن خطاب رضی الله
عنه کے بعض فضائل و مناقب پیش خدمت ہیں ۔
آپ مراد رسول کریم صلی الله
عليه وسلم ہیں ۔
سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله
عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله
صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :
اللھم أعز الاسلام بأحب ھذین
الرجلین اليك بأبی جھل أو بعمر
بن الخطاب فکان أحبھما الی الله
عمر بن الخطاب ۔
اے الله! ابو جھل اور عمر بن
خطاب میں سے جو آپ کے
نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ اس
کے ذریعے اسلام کو عزت وغلبہ
عطا فرما دیں ( راوی حدیث بیان کرتے ہیں) تو الله تعالیٰ
کے ہاں ان دونوں میں سے سیدنا
عمر بن خطاب رضی الله عنه
زیادہ پسندیدہ اور محبوب تھے۔
مسند احمد :2/ 95(5696)
سنن ترمذی :(3681)، الطبقات الکبریٰ لابن سعد:3/ 267، فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل:(312)مسند عبد بن حمید:(759) صحیح ابن حبان :(6881) الشریعۃ للآجری:(1314) شرح مزاھب أھل السنۃ لابن شاھین:(101) تاریخ المدینہ لابن شبۃ:2/ 657، فضائل الخلفاءالرشدین لابی نعیم:(35)
تاریخ دمشق لابن عساکر:44/ 24،25 سندہ حسن لذاتہ۔
بطعر فائدہ اس حدیث مبارکہ سے چند فوائد نقل کیے جاتے ہیں ۔
🌻فوائد:🌻
(1) مختار کل صرف الله تعالیٰ
ہی ہیں باقی سب الله تعالیٰ کے محتاج ہیں ۔
(2) دعا صرف الله تعالیٰ سے ہی
کرنی چاہیئے کیونکہ دعابھی عبادت ہے اور عبادت الله تعالیٰ
کا حق ہے۔
(3) الله تعالیٰ سے ہی مانگنا امام الأنبیاء صلی الله عليه
وسلم کی سنت ہے اور اہل ایمان کے لیے رسول مکرم صلی الله عليه وسلم کی ذات سب سے بہتر اسوہ حسنہ ہے۔
(4) ہدایت دینا صرف الله تعالیٰ کے اختیار میں ہے انبیاورسل صلوات الله علیھم اجمعین تو صرف پیغام رب العالمین پنہچانے کے پابند ہیں ۔
(5) انبیاءرسل صلوات الله علیھم اجمعین نے سبھی کو ہدایت الہی کا پیغام یکساں دیا تھا ہدایت قبول کرنے میں سب آزاد خود مختار تھے لہزا ہدایت کے خواہش مند کو ہدایت مل گئی اور منکرین ہدایت خاسرین میں جا شامل ہوئے ۔
(6) باری تعالیٰ کو ہی اپنے کامل علم کے مطابق معلوم ہے کہ کون خیر و کامیابی کی راہ اختیار کرے گا اور کون شر و ناکامی کی جبکہ ہدایت تو سب تک پہنچ چکی ۔
(7) مسئلہ تقدیر کو سمجھنے کے لیے اس دعا مصطفی صلی الله
عليه وسلم میں بھی راہنمائی موجود ہے۔
(8) سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه کا ہدایت قبول کرنا الله تعالیٰ کے علم میں تھا لہزا ان کے حق میں دعا قبول ہو گئی اور ابو جھل کے ہادی اور ہدایت کی مخالفت کرنے کا بھی الله تعالیٰ کو کامل علم تھا تو اس کے حق میں کی گئی دعا قبول نہیں ہوئی جبکہ رسول کریم صلی الله عليه وسلم کی دعوت تو دونوں تک یکساں پنہچی تھی اور تھے بھی دونوں قبول ورد کرنے میں مختار و آزاد۔
اسی طرح الله تعالیٰ کے ہاں اپنے علم کے مطابق سیدنا عمر رضی الله عنہ کے ہدایت قبول کرنے میں ارادہ و مشیت ورضا دونوں شامل تھے جبکہ ابو جھل کی دین دشمنی کے علم میں ہونے کی بنیاد پر اس کے لیے ارادہ تو تھا رضا شامل نہیں تھی۔
(9) سیدنا عمر رضی الله عنه کی شان و عظمت بھی واضح ہے۔
(10) عالم الغیب صرف الله تعالیٰ ہی ہیں اگر رسول الله صلی الله عليه وسلم کو عالم الغیب مانا جائے تو ابو جھل کے اسلام قبول نہ کرنے کا علم ہونے کے باوجود آپ صلی الله عليه وسلم کا دعا فرمانا کیا کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔
انبیاء رسل کی شان وعظمت اسی میں محفوظ ہے کہ انہیں عالم الغیب نہ سمجھا جائے ۔
آپ صلی الله عليه وسلم نے صرف سیدنا عمر رضی الله عنه کے لیے بھی خصوصی دعا فرمائی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان کے اسلام قبول کرنے کے زیادہ خواہش مند تھے ۔
جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ
نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :
اللھم أعزالاسلام بعمر بن الخطاب خاصة۔
اے الله خاص عمر بن خطاب کے ذریعے سے اسلام کو عزت عطا فرماو ۔
مستدرک حاکم:(4485) وسندہ صحیح، السنن الکبریٰ للبیھقی:6/ 370(12881) سندہ صحیح، تاریخ دمشق :44/ 27(9427) ۔
عبدالله بن جعفر درستویہ علی الراجح ثقہ امام اور کتب کثیرہ کے مؤلف ہیں ان پر جرح بلا دلیل ہے۔باقی سند بھی صحیح ہے۔
جیسا کہ حافظ ذہبی نے کہا:
و لم یضعفہ أحد بحجۃ ۔دیکھیے العبر فی خبر من غبر:
میں نے ان پر مفصل تحقیق کر رکھی ہے۔
ان ہر دو حدیثوں میں تطبیق دینا قرین صواب ہے کہ پہلے دونوں کے لیے دعا فرمائی پھر خصوصی طور پہ اکیلے سیدنا عمر رضی الله عنه کے لیے۔
لہزا اس روایت کو منکر و ضعیف کہنا درست نہیں ہے۔
والله أعلم۔
(11) سیدنا عمر رضی الله عنه کا باری تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین ہونا بھی ثابت ہوا۔
نوٹ:
عموما ہمارے ہاں جو واعظین اور سیرت کی عام کتب میں سیدنا عمر رضی عنه کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کیا جاتا اور لکھا ہوا ہے وہ پایہ ثبوت کو نہیں پنہچتا بلکہ اس میں شدید نکارت موجود ہے۔
البتہ اسلام قبول کرنے کے بعد اسے مشرکین کو بتانے پر آپ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑھا جس کا آپ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
ملاحظہ ہو:
🌻سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه نے اپنے اسلام قبول کرنے کی خبر کی تشہیر مشرکین مکہ کے لیے کیسے کروائی اور پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔🌻
سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله عنه بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی الله عنه نے اسلام قبول کیا تو اہل قریش آپ کے اسلام قبول کرنے کو نہ جان سکے، تو آپ رضی الله عنه نے کہا: مکہ والوں میں کون ایسا آدمی ہے جو باتوں کو پھیلانے میں ماہر ہو؟
کہاگیا کہ ( ایسا آدمی تو) جمیل بن معمر جمحی ہے۔
آپ رضی الله عنه اگلے دن اس کے پاس گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا اور دیکھ رہا تھا کہ آپ کیا کرتے ہیں جبکہ اس وقت میں ابھی چھوٹا تھا لیکن جو کچھ بھی دیکھتا، سنتا تھا اسے خوب سمجھتا تھا۔
سیدنا عمر رضی الله عنه اس ( جمیل جمحی) کے پاس آے اور کہا: أما علمت یا جمیل! أنی
قد أسلمت ودخلت فی دین محمد صلی الله عليه وسلم؟
اے جمیل! کیا تم جانتے ہو کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور محمد صلی الله عليه وسلم کے دین میں داخل ہو گیا ہوں؟
تو الله کی قسم! اس نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ ( یہ خبر سن کر جلدی میں) بھاگ کھڑا ہوا سیدنا عمر رضی الله عنه بھی اس کے پیچھے ہو لئے اور میں اپنے والد محترم کے پیچھے تھا حتی کہ وہ مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے بولا: اے قریش کے لوگو ( توجہ سے) سنو! عمربن خطاب بے دین ہو گیا ہے۔
اس وقت اہل قریش کعبہ کےارد
گرد اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے، تو سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه نے کہا: کذب، ولکنی أسلمت و آمنت و صدقت
رسوله اس نے جھوٹ کہا ہے بلکہ میں نے تو اسلام قبول کیا ہے اور الله پر ایمان لایا ہوں اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم کی تصدیق کی ہے ( کہ وہ ہر اعتبار سے سچے ہیں) ( یہ سنتے ہی) لوگ آپ رضی الله عنه پر ٹوٹ پڑے آپ رضی الله عنه برابر ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر آگیا( یعنی لڑتے وقت دوپر کا وقت ہو گیا) تو سیدنا عمر رضی الله عنه تھک کر بیٹھ گئے وہ سب ( اہل قریش) آپ رضی الله عنه کے سر پر آ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا : تم جو چاہو کر لو قسم ہے الله کی اگر ہم تین سو آدمی ہوتے تو یقینا یا تو تم ہمارے لیے میدان چھوڑ دیتے یا ہم تمھارے لئے چھوڑ دیتے۔
سیرت ابن ھشام:1/ 348، سیرت ابن اسحاق : ص:64، الروض الأنف:2/ 127 فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل:(327)
صحیح ابن حبان:(6879) تاریخ دمشق:44/ 42 سندہ حسن لذاتہ لاجل محمد بن اسحاق۔
آپ کے قبول اسلام سے اسلام اور اہل اسلام کو تقویت ملی اور آپ کے دورہ خلافت میں مثالی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے ذریعے بہت سے لوگ مسلمان ہوے اور ہر ایک کو عدل و انصاف ملنے لگا، یقینا آپ دین اسلام کو خوب جاننے والے اور سمجھنے والے تھے اور آپ کا ہر فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق ہوتا تھا آپ ایک ماہر قانون دان بھی تھے۔ آپ ایک ہی وقت میں ایک بہترین عادل حکمران، جج، فقیہ، محدث، مفکر، مدبر اور نہایت ہی مضبوط رکن، سخت فیصلے کرنے والے تھے آپ اسلام کا مضبوط قلعہ تھے غرض آپ ایمان و علم، اندازفکر سیرت وکردار کے اعتبار سے عظیم تر انسان تھے یہ اور دیگر بہت سی مثالی خوبیاں صرف شریعت اسلامیہ پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے سے ہی الله تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی تھیں۔آپ کا اسلام قبول کرنا الله تعالیٰ کی طرف سے دین اسلام اور اہل اسلام کے لیے بہت بڑی مدد تھا ۔
جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی الله عنه کے اسلام قبول کرنے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے۔
صحیح بخاری :(3863) الشریعۃ للآجری:(1318،1319) مصنف ابن ابی شیبۃ:(31973) صحیح ابن حبان:(6880) سندہ صحیح ۔
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی الله عنه فرمایا کرتے تھے:
اذا ذکر الصالحون فحی ھلا بعمر
( رضی الله عنه) ان اسلامه كان
نصرا، و ان امارته كانت فتحا۔
جب بھی لوگوں کا تذکرہ کیا جائے تو سیدنا عمر رضی الله عنه سے یہ تذکرہ شروع کرو بلاشبہ ان کا اسلام لانا دین کی نصرت تھا اور بلاشبہ ان کی خلافت و امارت ( دین اسلام کی ) فتح تھی۔
مصنف ابن ابی شیبۃ:(31989)
سندہ حسن لذاتہ، طبرانی کبیر:(8813،8812) سندہ حسن لذاتہ، مسند علی بن الجعد:(857) سندہ صحیح، فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل:(340) سندہ صحیح، السنۃ للخلال:(392) سندہ صحیح ۔
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی الله عنه سے ان الفاظ سے بھی مروی ہے آپ فرماتے تھے ان عمر
کان للاسلام حصنا حصینا، یدخل الاسلام فيه و لا یخرج منه۔
بے شک سیدنا عمر رضی الله عنه اسلام کے لئے مضبوط قلعہ تھے کہ لوگ ان کے دور میں اسلام میں ( کثیر تعداد میں) داخل ہوئے تھے اور اس سے نکلے نہیں تھے۔
مصنف ابن ابی شیبۃ:(31977) الطبقات الکبریٰ لابن سعد:3/ 371 سنده صحيح ۔
عبدالملک بن ابی سلیمان ثقہ ائمہ حفاظ میں سے ایک ہیں ائمہ متقدمین و نقاد سے ایک جماعت نے آپ کی زبردست توثیق کی ہے آپ کے اوھام نہ ہونے کے برابر ہیں اور آپ اس سے کہیں بلند ہیں حافظ ابن حجر کا محض صدوق لہ أوھام کہنا درست نہیں ہے۔
ایک نوجوان نے سیدنا عمر رضی الله عنه کی عیادت کرتے ہوئے کہا: أبشر یا امیرالمؤمنین! ببشری الله لك من صحبة رسول
الله صلى الله عليه وسلم، و قدم فی الاسلام ما قد علمت ثم ولیت فعدلت ثم شھادۃ۔
سے امیرالمؤمنین! آپ کو الله تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہو کہ آپ کو رسول الله صلی الله عليه وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور آپ نے ابتداء میں اسلام قبول کیا جیسا کہ آپ جانتے ہیں پھر آپ کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ نے عدل و انصاف قائم کیا پھر آپ کو شہادت نصیب ہوئی ۔
صحیح بخاری:(3700)
🍅اب سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه کے بعض اور فضائل و مناقب پیش کیے جاتے ہیں🍅
(1) رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: اگر میری امت سے کوئی محدث ہوتا( صاحب الہام و کشف) تو یقینا وہ عمر رضی الله عنه ہوتے۔
صحیح بخاری :(3398،3469)
(2) سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله عنه بیان کرتے ہیں رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : ایک بار میں سویا ہوا تھا میں نے خواب دیکھا کہ میں نے دودھ پیا حتی کہ میں اس کی سیرابی اپنے ناخن یا ناخنوں میں دیکھنے لگا پھر میں نے وہ ( بقیہ دودھ) عمر بن خطاب کو دے دیا صحابہ کرام رضی الله عنھم اجمعین کہنے لگے اے الله کے رسول! آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : العلم اس کی تعبیر علم ہے۔
صحیح بخاری :(3681) صحیح مسلم :(2391) ۔
(3) سیدنا عمر رضی الله عنه سابقون الاولون سے ہیں ۔
(4) سیدنا عمر رضی الله عنه کی راے کی موافقت میں کئ قرآنی آیات بینات نازل ہوئیں ۔جنہیں موافقت عمر رضی الله عنہ کہا جاتا ہے۔
(5) سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه کے بارے رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :
اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شیطان آپ کو کسی راہ پر چلتا دیکھ لے، پالے تو وہ اپنا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
صحیح بخاری :(3683) صحیح مسلم :(2396)
دوسری حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ جنات کے شیطان اور انسانوں کے شیطان سب عمر رضی الله عنه سے بھاگ گئے ہیں ۔
سنن ترمذی :(3691) السنن الکبریٰ للنسائی :(8957) فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم:(23) سندہ حسن لذاتہ۔
(6) سیدنا عمر رضی الله عنه کو بزبان رسول صلی الله عليه وسلم جنت کی بشارت ملی تو آپ نے سن کر الله تعالیٰ کی تعریف بیان کی۔
صحیح بخاری :(3693) صحیح مسلم :(2403)
دوسری حدیث مبارکہ میں یوں بشارت ہے و عمر فی الجنة۔
سنن ترمذی :(3747) مسند احمد :(1675) فضائل الصحابۃ (278) السنن الکبریٰ للنسائی:(8194،8219) مصنف ابن ابی شیبۃ:(31946) وغیرہ سندہ صحیح
(7) رسول الله صلی الله عليه وسلم نے جنت میں سیدنا عمر رضی الله عنه کا محل دیکھا ۔
صحیح بخاری :(3680،7023) صحیح مسلم :(2395)
(8) رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا : ان الله جعل
الحق علی لسان عمر و قلبه۔
بلاشبہ الله تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی الله عنه کے زبان و قلب پر حق جاری فرما دیا تھا۔
فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل :(315،524) صحیح ابن حبان:(6889) سندہ حسن ۔
اسی طرح دیکھیے مسند احمد :(5145) سنن ترمذی:(3682) مسند عبد بن حمید:(758) فضائل الصحابۃ :(313) المعرفۃ والتاریخ للفسوی:1/ 467، الناسخ والمنسوخ للنحاس:( 333) صحیح ابن حبان :(6895) سندہ حسن لذاتہ ۔
(9) نبی مکرم صلی الله عليه وسلم کے نزدیک سیدنا ابو بکر رضی الله عنه کے بعد سب سے زیادہ محبوب سیدنا عمر رضی الله ہیں ۔
صحیح بخاری :(3662) صحیح مسلم :(2382) ۔
(10) صحابہ کرام اور رسول الله صلی الله عليه وسلم کے نزدیک سب سے بہتر و افضل سیدنا ابو بکر رضی الله عنه کے بعد سیدنا عمر رضی الله عنه تھے۔
سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله عنه فرماتے ہیں کنا نتحدث علی عھد رسول الله صلی الله عليه وسلم أن خیر ھذہ الأمة بعد نبيها أبو بكر، ثم عمر ثم عثمان فبلغ ذلك النبی صلی الله عليه وسلم فلا ينكره۔
السنة لعبد الله بن احمد:(1357) السنة للخلال:(577) السنة لابن أبی عاصم :(1193) سندہ صحیح ۔
یہی اثر قدرے الفاظ کے اختلاف سے کئ کتب احادیث وغیرہ میں موجود ہے مثلاصحیح بخاری :(3455) سندہ صحیح ۔
مسند ابی یعلی:(5602) سنن ابی داود:(4627( وغیرہ سندہ صحیح ۔
(11) سیدنا علی بن ابی طالب رضی الله عنه کے نزدیک سیدنا ابو بکر رضی الله عنه کے بعد سب سے بہتر و افضل سیدنا عمر رضی الله عنه تھے۔
صحیح بخاری :(3671)
وھب بن عبدالله السوائی کہتے ہیں خطبنا علی رضی الله عنه فقال: من خیر ھذہ الأمة بعد نبیھا؟ فقلنا: أنت یا أمیر المؤمنین قال : لا خیر ھذہ الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر۔
ہمیں سیدنا علی رضی الله عنه نے خطبہ دیا تو فرمایا : نبی مکرم صلی الله عليه وسلم کے بعد سب سے بہتر اس امت میں کون ہے؟ ہم نے کہا: اے امیرالمؤمنین آپ ( سب سے بہتر و افضل ہیں) سیدنا علی رضی الله عنه نے فرمایا نہیں ( تم نے درست جواب نہیں دیا بلکہ حق یہ ہے کہ) اس امت میں سب سے بہتر و افضل سیدنا ابو بکر رضی الله عنه ہیں پھر سیدنا عمر رضی الله عنه ہیں ۔
مسند احمد :(834) سندہ حسن لذاتہ، فضائل الصحابۃ :(50 سندہ حسن۔
(12) سیدنا عبدالله بن عمرو رضی الله عنه بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے دن میں نے اہل کتاب کی بعض کتب میں یہ بات پائی کہ أبو بکر الصدیق أصبتم اسمه، عمر الفاروق قرن من حدید أصبتم اسمه کہ بلاشبہ ابو بکر رضی الله عنه صدیق ہی ہیں تم نے ان کا نام درست ہی رکھا ہے اور یقینا عمر رضی الله عنه الفاروق ہی ہیں گویا کہ وہ لوہے کے بنے ہوئے ہیں ( یعنی مضبوط ایمان اور مضبوط و سخت فیصلے کرنے والے ہیں) تم نے ان کا یہ نام درست ہی رکھا ہے۔
فضائل الصحابۃ :(74) سندہ حسن، الفتن لنعیم بن حماد:(263( سندہ حسن، الآحادوالمثانی:(65) سندہ حسن، السنۃ لابن ابی عاصم:(1153،1154) سندہ حسن، معجم ابن الاعرابی:(2211) السنن الواردۃ فی الفتن للدانی:(518 سندہ حسن ۔
(13) سیدنا طارق بن شہاب رضی الله عنه نے فرمایا : کنا نتحدث: أن عمر بن الخطاب رضی الله عنه ینطق علی لسان ملك۔
کہ ہم بیان کیا کر تے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنه فرشتے کی زبان پر کلام کرتے ہیں ۔
اس طرح بھی روایت میں الفاظ ملتے ہیں أن السكينة تنزل علی لسان عمر کہ سکینت سیدنا عمر رضی الله عنه کی زبان پر نازل ہوتی ہے۔
المعرفة والتاریخ للفسوی:1/ 456، سندہ صحیح، مصنف ابن ابی شیبۃ(32011( طبرانی کبیر:8/ 320 سندہ صحیح ۔
(14) سیدنا عمر رضی الله عنه مستجاب الدعاء بھی تھے۔
آپ دعا فرماتے تھے اللھم لا تجعل قتلی بید رجل صلی لك سجدة۔
اے الله میرا قتل ہونا کسی ایسے شخص کے ہاتھ سے نہ ہو کہ جس نے آپ کے لیے سجدہ کیا ہو۔
موطا امام مالک:(985) تاریخ المدینۃ لابن شبۃ:3/ 903 ،المطالب العالیۃ:(3978) واللفظ لہ حلية الأولياء :1/ 53، اتحاف الخيرة المهرة:7/ 64(6581) سنده صحيح ۔
(15) ثقہ تابعی قبیصہ بن جابر رحمہ الله کہتے ہیں : مارأیت رجلا أعلم بالله و لا أقرأ لكتاب الله و لا أفقه فی دين الله من عمر کہ میں نے سیدنا عمر رضی الله عنه سے زیادہ الله تعالیٰ کی کتاب کا علم رکھنے والا کتاب الله کا قاری، اور الله کے دین میں سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
مصنف ابن ابی شیبۃ:(31987) فضائل الصحابۃ :(472) سندہ صحیح ۔
جلیل القدر ثقہ تابعی اور فقیہ امام مسروق بن الاجدع رحمہ الله کہتے ہیں : حب أبی بکر و عمر و معرفة فضلهما من السنة۔
کہ سیدنا ابو بکر وعمر رضی الله عنھما سے محبت کرنا اور ان کی فضلیت پہچاننا سنت ہے۔
المعرفة والتاريخ للفسوی:2/ 812،813، العلل و معرفة الرجال:1/ 452(1026) السنۃ لعبدالله بن احمد:(1368) مصنف ابن ابی شیبۃ:(31937) وغیرہ سندہ صحیح ۔
خالد بن سلمہ الفأفاء المخزومی ثقہ راوی ارجاء کے الزام سے بری ہیں ۔
(16) امام جعفر بن محمد الصادق رحمہ الله نے کہا: برئ الله ممن تبرأ من أبی بکر و عمر جو شخص ابو بکر وعمر رضی الله عنھما سے بری ہے الله تعالیٰ اس سے بری ہیں ۔
فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل؛ (143) فضائل الصحابۃ للدارقطنی:(63،64) امالی للمحاملی:(229) سندہ حسن۔
سیدنا عمر رضی الله عنه سے الله تعالیٰ راضی ہو چکے اور وہ الله تعالیٰ سے آپ کو موت بھی شہادت کی نصیب ہوئی شہر بھی مدینہ مدفن بھی حجرہ عائشہ رضی الله عنہا میں رسول صلی الله عليه وسلم کے بائیں جانب نصیب ہوا۔
مزید آپ کی سیرت طیبہ اور مناقب و فضائل کے لیے کتب احادیث وتراجم کی طرف رجوع کیجئیے ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں پوری ایک جلد آپ کی سیرت وترجمہ پر لکھی ہے۔
🌷ابو انس طیبی۔🌷
علامہ البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح سیرۃ النبویۃ میں لکھتے ہیں:
فكان عبد الله بن مسعود يقول:
ما كنا نقدر على أن نصلي عند الكعبة حتى أسلم عمر فلما أسلم عمر قاتل قريشا حتى صلى عند الكعبة وصلينا معه
قلت: وثبت في (صحيح البخاري) عن ابن مسعود أنه قال:
ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر بن الخطاب
وقال زياد البكائي: حدثني مسعر بن كدام عن سعد بن إبراهيم قال: قال ابن مسعود:
إن إسلام عمر كان فتحا وإن هجرته كانت نصرا وإن إمارته كانت رحمة ولقد كنا وما نصلي عند الكعبة حتى أسلم عمر فلما أسلم عمر قاتل قريشا حتى صلى عند الكعبة وصلينا معه
ترجمہ:
عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جب تک عمر رضی اللّٰہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اس وقت تک ہم کعبہ کے پاس(مسجد حرام میں) نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ، پس جب عمر رضی اللّٰہ عنہ مسلمان ہوئے انہوں نے قریش سے(قتال کیا) لڑائی کی اور انہوں نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی اور ہم نے بھی ان (عمر رضی اللّٰہ عنہ) کے ساتھ نماز پڑھی۔
(علامہ البانی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں ثابت ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی
(صحیح بخاری-3684)
🟣 اور زیاد البکائی (نقل کرتے ہوئے ) کہتے ہیں:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
بے شک عمر رضی اللّٰہ عنہ کا اسلام لانا فتح تھی، اور بے شک عمر رضی اللّٰہ عنہ کا ہجرت کرنا مدد تھی، اور بے شک ان کی حکومت رحمت تھی، اور یقینا جب تک عمر رضی اللّٰہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تب تک ہماری حالت یہ تھی کہ ہم کعبہ کے پاس نماز نہیں پڑھ سکتے تھے پس جب وہ مسلمان ہوئے انہوں نے قریش سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہوں نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی اور ہم نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
(صحیح سیرۃ النبویۃ للالبانی-الصفحۃ 188)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ میرا عمل بھی سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ جیسا ہو اور میں اسی حال میں اللہ سے جا ملوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخصارا پیش خدمت ہے
۔۔۔۔۔فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعاء رحمت کی اور ( ان کی نعش کو مخاطب کرکے ) کہا ، آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور خدا کی قسم مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔۔۔۔۔
(صحیح بخاری-3685)
🛑 جو اہلبیت کو مانتے ہیں ان کو بھی یہی خواہش اور دعا کرنی چاہئیے