
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال (2024 میں ) ملک بھر میں جنوری سے نومبر تک 392 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔ ان میں سے پنجاب میں 168، سندھ میں 151، خیبر پختونخوا میں 52 ، بلوچستان میں 19 جب کہ اسلام آباد سے دو کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو عدالتوں میں آئے اور باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنے اور جو کیسر منظر عام پر نہیں آسکے وہ اس سے الگ ہیں ۔
اس سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کے نام پر کسی مرد یا کسی عورت کو قتل کرنا جائز ہے؟ کون سے ایسے اسباب ہیں جو ہمیں اس کام کے کرنے پر ابھارتے ہیں؟ اور پھر ہم اس کام کا سد باب کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ تمام باتیں آج کے خطبہ جمعہ میں پیش کی جائیں گی تاکہ ہمیں اس حوالہ سے شرعی راہنمائی حاصل ہو سکے۔