
ایمان کے بالمقابل کفر و نفاق ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ لئے علیم اور مسلمانوں کو کافروں کی بہ نسبت منافقوں سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ان لوگوں نے ظاہری طور پر ایمان قبول کر کے اپنے دلوں میں کفر و نفاق کو چھپائے رکھا، بظاہر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ، نماز پڑھتے اور لباس و خوراک میں مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔
ہر دور میں منافقوں نے اپنی چالوں، مکر وفریب، غداری، خیانت، وعدہ خلافی اور ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لیے کفار و مشرکین کی پشت پناہی کی ، اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کی اکثریت شعوری اور غیر شعوری طور پر عملی اور اعتقادی نفاق کا شکار ہے۔