
جب خواہش، چاہت اور مرضی کو اللہ ورسول کے حکم کے مقابلے ترجیح دی جائے ، تو یہی خواہش پرستی ہے جو گمراہی کا سبب ہے۔ اس کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں، مثلاً: کبھی انانیت، آبا و اجداد پرستی، پیر پرستی، شخصی لگاؤ ، جذ بہ محبت یا نفرت کا غلبہ، جہالت و کم علمی ، حزبیت اور فرقہ پرستی اور ضد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے انسان حق کو جھٹلاتا ہے۔
خواہش پرستی انسان کو دنیا و آخرت میں ہلاکت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جو شخص کتاب وسنت کی پیروی واتباع نہیں کرتا وہ لازمی طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہوتا ہے۔