
بادل پھٹنے سے بے تحاشا بارش، سیلابی ریلے، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پانی کی تباہی نے پورے پورے گاؤں ہی صفحہ ہستی سے مٹادیئے ، جس سے جانی و مالی بدترین تباہی ہوئی، 214 سے زیادہ افراد کی شہادت، کئی درجن افراد زخمی ہوئے ، گھر تباہ ہوئے ، ریسکیو کرنے والا ہیلی کا پر گر کر تباہ ہو گیا، دو پائلٹ اور پانچ افراد شہید ہو گئے۔
سوات، بونیر، باجوڑ ، مانسہرہ، بٹگرام، باغ، کشمیر اور دریا نیلم میں سیلابی ریلے نے جان و مال کو شدید نقصان پہنچایا۔ بادل پھٹنے کی سائنسی توجیہ بیان کی جاتی ہے کہ جب ایک ہی وقت میں دس سینٹی میٹر تک بے تحاشا بارش ہوتی ہے تو پانی کے فوارے ابل پڑتے ہیں، اس صورتحال کو عذاب الہی کہیں یا آزمائش؟ بہر حال میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔