رد بدعت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
الحجرات : 1
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی طور بھی آگے بڑھنے سے منع کر دیا ہے اور یہ آگے بڑھنا ہی بدعت ہے
*بدعت کیا ہے؟*
مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ دین مکمل ہو جانے کے بعد اس میں ہر وہ نئی بات، نیا عمل اور نیا عقیدہ و نظریہ بدعت ہے جس کی کوئی اصل یا نظیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ پائی جاتی ہو
*بدعت کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
ابوداؤد : 4607
ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو پھر پنکھے ،موبائل ،گھڑیاں اور گاڑیاں بھی بدعت ہوئیں تو اس کا جواب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ میں موجود ہے کہ یہاں نئی چیز دنیاوی لحاظ سے نہیں دینی لحاظ سے مراد ہے
جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ ”
بخاری : 26
"جس نے ہمارے اس دین کے معاملے میں کوئی ایسا نیا کام نکالا جو اس میں نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔”
معلوم ہوا نئی چیز سے مراد دین اسلام اور شریعت میں پیدا کردہ نئی چیز ہے
*چند جید علماء و مشاہیر کی زبانی بدعت کی تعریف سن اور پڑھ لیں*
*شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ)لکھتے ہیں:*
«إن البدعة هي الدين الذى لم يأمر به الله ورسوله، فمن دان دينا لم يأمر به الله ورسوله فهو مبتدع بذلك
(الاستقامہ: 1/5)
”بدعت وہ دین ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا، اور جس کا حکم شریعت میں نہ ہو اس پر عمل کرنے والا بدعتی ہوتا ہے
*علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) فرماتے ہیں:*
«هي ما لم يكن له أصل فى الكتاب والسنة وقيل: إظهار شيء لم يكن فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا فى زمن الصحابة رضي الله عنهم»
(عمدۃ القاری: 25/37)
”دین میں بدعت ہر اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو، یا وہ عمل جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں نہ پایا گیا ہو۔“
*مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:*
”بدعت کے شرعی معنی یہ ہیں کہ وہ عقیدہ یا عمل جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂِ حیات میں نہ ہو اور بعد میں ایجاد کیا جائے۔ نتیجہ یہ کہ بدعت شرعی دو قسم کی ہے: بدعت اعتقادی اور بدعت عملی۔“
(جاء الحق: 204)
*بدعت کی تعریف کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سن لیں کہ دین مکمل ہو چکا ہے*
اللہ سبحانہ وتعالى نے فرما دیا ہے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پہ اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے۔
سورۃ المائدۃ: 3
*اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر آپ کی صحابیہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا تھا :
أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ
مسلم : 6318
اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ۔
*نیکی اور عبادت کی کوئی ایسی شکل باقی نہیں بچی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی نہ بتادی گئی ہو*
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، ويُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ.
سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ 2488
کوئی چیز ایسی باقی نہیں بچی جو جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے مگر میں نے تمہارے سامنے اسے بیان کر دیا ہے۔
*جب یہ بات کنفرم ہو چکی ہے کہ دین مکمل ہو گیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دوبارہ پڑھیں*
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
الحجرات : 1
*اس آیت کریمہ نے بدعت کی جڑ اکھاڑ کر رکھ دی ہے، خواہ تمہارا ارادہ کتنا ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو، اور جذبات کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں اور عقیدت کتنی ہی بڑھی ہوئی کیوں نہ ہو اور شوقِ عبادت کتنا ہی جوش کیوں نہ مار رہا ہو اور چاہے محبت میں انتہا درجے کا غلو ہی کیوں نہ ہو، یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ اچھی ہوں گی مگر شریعت کے کسی ایک مقام پر اللہ اور اس کے رسول سے ایک قدم تو کیا ایک انچ بھی آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہے*
*شریعت میں اندھی عقیدت، فرط محبت ،جذبات، مشقت اور غلو نہیں بلکہ طریقہءِ محمدی چلتا ہے*
شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
اگر دین کا دارومدار جذبہ پر ہوتا تو تمام اہل بدعت حق پر ہوتے
[ اللقاء الشهري 33]
*ایک عقیدت مند کے خود ساختہ جذبات اور امام مالک رحمہ اللّٰہ کا جواب*
ایک شخص نے امام مالک رحمہ اللّٰہ سے کہا :
میں چاہتا ہوں کہ مسجدِ نبوی میں رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس سے احرام باندھوں۔
امام صاحب نے فرمایا :
ایسا نہ کرو، مجھے تم پر فتنے کا اندیشہ ہے۔
وہ کہنے لگا :
اس میں فتنے کی کیا بات؟ چند قدم ہی کا تو اضافہ ہے؟
امام نے جواب دیا :
وَأَيُّ فِتْنَةٍ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ تَرَى أَنَّكَ سَبَقْتَ إِلَى فَضِيلَةٍ قَصَّرَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ؟
(روى ابن العربي بإسناده)
اس سے بڑا فتنہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ تم یہ سمجھو کہ تم ایک ایسی فضیلت حاصل کر رہے ہو جس سے رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم محروم رہ گئے؟!
*ایک عبادت گزار کی خود ساختہ عبادت اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا واقعہ*
امام سعید بن المسیب تابعی رحمہ اللہ نے ایک شخص کو طلوع ِفجر کے بعد دو سے زیادہ رکعتیں پڑھتے دیکھتا جن میں وہ کثرت سے رکوع سجود کر رہا تھا تو امام ابن المسیب نے اسے منع فرمایا۔
اس شخص نے کہا:
يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَيُعَذِّبُنِيَ اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ؟
اے ابو محمد! کیا الله تعالی مجھے نماز پر عذاب دیں گے؟
امام صاحب نے فرمایا :
لَا، وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ عَلَى خِلَافِ السُّنَّةِ.
[عبد الرزاق في المصنف (3/52ح 4755 ) ، والدارمي في سننه (1/404 ح 405 ) ، والبيهقي في السنن الكبرى (2/466) ، والخطيب في الفقيه والمتفقه ( 1 / 380 ح 387) واسنادہ صحیح]
نہیں، بلکہ تمھیں سنت کی مخالفت پر عذاب دیں گے۔
*الغرض کہ*
خالص دین وہی ہے جو وحی ہے
دین، تب تک ہی خالص ہے جب تک صرف وحی الہی پر مشتمل ہے اور جیسے ہی اس میں کوئی ملاوٹ ہوجائے چاہے اس ملاوٹ کے پیچھے ہزار درجہ نیک نیتی، عقیدت، اور محبت ہی کیوں نہ ہو، تو وہ خالص نہیں رہ سکتا
دودھ میں زم زم بھی ملا دیں تو دودھ خالص نہیں رہتا
*مزید وضاحت کے لیے چند مثالیں سن لیجیے*
یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ لمبے لمبے وظائف، عبادات ،تصرفات اور صدقات کی نہیں بلکہ اپنے رسول کی سنت کے مطابق کیے ہوئے اعمال کی قدر کرتے ہیں
1 جانور ذبح کرتے وقت ” بسم اللہ اللہ اکبر ” کی بجائے پوری سورہ بقرہ بھی پڑھ ڈالو گے تو کام نہیں بنے گا
حالانکہ ” بسم اللہ اللہ اکبر ” کے الفاظ سورہ بقرہ کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں
2 بڑی عید پہ جان بوجھ کر 50 ہزار کا بکرا ذبح کرنے کی بجائے پچاس لاکھ کی سخاوت کر ڈالو، یہ 50 لاکھ اس 50 ہزار کا کبھی متبادل نہیں بن سکتا
حالانکہ 50 ہزار ، 50 لاکھ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے
3 نماز میں سورہ فاتحہ کے علاوہ چاہے پورا قرآن پڑھ دو آپ کی نماز قبول نہیں ہوگی
حالانکہ فاتحہ کی ادائیگی سارے قرآن کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے
4 رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر ایک روزہ چھوڑ دیں بعد میں پورے گیارہ مہینے روزے رکھ کر بھی اس کا متبادل نہیں لا سکتے
حالانکہ بظاہر ایک روزے کا گیارہ ماہ کے روزوں سے کوئی تقابل نہیں بنتا
*حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
"سنت کے مطابق تھوڑا عمل بدعت کے کثیر عمل سے زیادہ بہتر ہے ۔”
( شعب الإيمان ٩٥٢/٧)
*خود ساختہ عبادات ،اذکار، وظائف اور طریقوں کو دین یا شریعت بنا کر پیش کرنا، جہنم میں جگہ بنانے کے مترادف ہے*
یہ بات تو مُسَلَّم ہے کہ شریعت سازی کا حق صرف اور صرف قرآن و حدیث کو حاصل ہے سو جب کوئی شخص ،جماعت یا گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے طریقے کو دین بنا کر شریعت میں داخل کرتا ہے تو گویا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس عمل یا قول کو منسوب کرتا ہے جو آپ نے کیا یا کہا نہیں ہوتا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ”
بخاری : 110
"اور جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔”
*امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:*
جس نے اسلام میں کوئی ایسی بدعت متعارف کروائی جسے وہ اچھا سمجھتا ہے، اس نے دعوی کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغامِ رسالت میں خیانت کی۔(العیاذ باللہ)
(كتاب الاعتصام : 1/28 )
*شریعت میں اپنی طرف سے بڑے بڑے اعمال تو درکنار ایک لفظ بھی زیادہ نہیں کیا جا سکتا*
سمرة بن جندب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إِذَا حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيْهِ
مسند أحمد : 20126
“جب میں تمہیں کوئی بات بیان کروں تو تم اس پر اضافہ ہرگز نہ کرنا۔”
*لفظ "نبی” کی جگہ لفظ "رسول” کی تبدیلی کی بھی گنجائش نہیں ہے*
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“جب تم اپنی خوابگاہ میں آؤ تو نماز کی طرح وضو کرو، پھر دائیں پہلو پر لیٹو اور یہ دعا پڑھو:
اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
(اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کیا، اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا، اور اپنی پیٹھ تیرے حوالے کی، تیری طرف رغبت اور خوف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی پناہ اور نجات کی جگہ تجھ سے سوا تیرے، اے اللہ! میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تُو نے نازل فرمائی، اور تیرے نبی پر جسے تُو نے بھیجا۔)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اگر اسی رات تمہاری وفات ہو جائے تو تم دینِ فطرت پر مرو گے—اور ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بنا لو۔
براء بن عازب کہتے ہیں :
میں نے یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی۔
تو جب میں (اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ) پر پہنچا تو آگے (وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ) کی بجائے میں نے کہہ دیا (وَرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ)
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اصلاح کی اور فرمایا :
نہیں! بلکہ یوں کہو :
وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔
بخاری : 247
*غور کریں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ایک لفظ کو ایسے لفظ سے بدلنا جائز نہیں جس کا مفہوم بھی ایک ہو، تو دین میں پوری ایک نئی بدعت ایجاد کر لینا کیسے درست ہو جائے گا؟*
*ایک چھوٹے سے حرف کی تبدیلی کیوں ناقابل قبول ہے آخر لفظ "نبی” کی جگہ لفظ”رسول” آجانے میں کیا حرج ہے؟ اس سوال کی ایک مثال سے وضاحت*
موجودہ دور میں اسے یوں سمجھیں کہ موبائل فون کے مالک کے لگائے ہوئے پاسورڈ میں ایک معمولی سے عدد کی تبدیلی کردی جائے تو موبائل فون اسے قبول نہیں کرتا
جب ایک معمولی فون بھی مالک کی مرضی سے ہٹ کر لگائے گیے پاسورڈ کے ساتھ نہیں کھلتا تو سوچیں جنت کے عظیم دروازے جنت کے مالک کے بتائے ہوئے الفاظ (پاسورڈ) کے بغیر کیسے کھلیں گے؟ اور اتنی عظیم الشان شریعت ایسے الفاظ (پاسورڈ) کو کیسے قبول کرے گی؟
*اللہ تعالیٰ کی شریعت میں ایک حرف کی تبدیلی بھی بہت بڑے عذاب کا باعث بن سکتی ہے*
بنی اسرائیل کی مثال لے لیجیے جب انہوں نے دو بدعات کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ انہیں فاسق اور ظالم قرار دیا بلکہ ان پر آسمان سے خوفناک عذاب بھی نازل کیا
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں فاسق قرار دیا
فرمایا :
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
پھر ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا تھا، آسمان سے ایک عذاب نازل کیا، اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
البقرة : 59
اور سورہ اعراف میں انہیں ظالم قرار دیا فرمایا :
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ
تو ان میں سے جنھوں نے ظلم کیا، انھوں نے بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان پر آسمان سے ایک عذاب بھیجا، اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔
الأعراف : 162
بنی اسرائیل نے شریعت کے حکم میں جو تبدیلی کی تھی حدیث میں اس کی تفصیل یوں ہے کہ جب ان سے کہا گیا :
« وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ»
’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو بخش دے۔‘‘
تو انھوں نے اسے بدل دیا اور اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہنے لگے :
[ حَبَّةٌ فِيْ شَعْرَةٍ ]
’’دانہ بالی میں۔‘‘
[ بخاری : 3403۔ مسلم : 3015 ]
*امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*
"قيل لبني إسرائيل :
قولوا حطة وهي التوبة،
فقالوا : حنطة،
فزادوا حرفاً فلقوا من البلاء ما لقوا ،
فالزيادة في الدين والابتداع في الشريعة عظيمة الخطر شديد الضرر.
هذا في تغيير كلمة،
فما ظنك بتغيير ما هو من صفات المعبود؟!”
*تفسير القرطبي ( ١٣٢/٢)*
"بنی اسرائیل سے کہا گیا:
‘کہو حِطَّة’، یعنی توبہ کرو،
تو انہوں نے کہا: ‘حنطة’ (گندم)،
یعنی ایک حرف کا اضافہ کیا،
تو انہوں نے وہ مصیبت دیکھی جو انہوں نے دیکھی۔
تو دین میں زیادتی اور شریعت میں بدعت بہت خطرناک اور سخت نقصان دہ ہے۔
یہ معاملہ تو صرف ایک لفظ کی تبدیلی کا تھا،
تو سوچو اُس چیز کی تبدیلی کا کیا انجام ہوگا جو اللہ کی صفات (یا شریعت) میں سے ہو؟!”
*اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹ کر کیے جانے والے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں*
جیسا کہ فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔
محمد : 33
معلوم ہوا کہ شریعت کے مصادر اصلیہ میں صرف دو ہی چیزیں ہیں ایک کتاب اللہ اور دوسری سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم۔ ان دونوں سے ہٹ کر کیا جانے والا کوئی بھی عمل خواہ وہ بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو قابل قبول نہیں ہے
اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
(مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ )
[ مسلم: 18 / 1718 ]
” جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
*نماز، جو کہ ثابت شدہ چیز ہے وہ غیر مسنون قبول نہیں تو خود ساختہ وظائف، عبادات اور رسوم کیسے قبول ہوں گے؟*
*سنت سے ہٹ کر پڑھی ہوئی ساٹھ سالوں کی نماز بے کار چلی جاتی ہے*
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي سِتِّينَ سَنَةً مَا تُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ، لَعَلَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا يُتِمُّ السُّجُودَ، وَيُتِمُّ السُّجُودَ وَلَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ ۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ : 2963، وسندہ حسن)
"بلاشبہ ایک آدمی ساٹھ (60) سال تک نماز پڑھتا رہتا ہے، مگر اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی، ممکن ہے کہ وہ کبھی رکوع صحیح (اطمینان سے) کرتا ہو اور سجدے صحیح طرح نہ کرتا ہو یا کبھی سجدے صحیح طریقے سے کرتا ہو اور رکوع صحیح نہ کرتا ہو۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر سنی طریقے سے نماز پڑھنے والے سے ایک دو نہیں تین مرتبہ کیا فرمایا تھا :
” ارْجِعْ فَصَلِّ ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ”
بخاری : 757
واپس جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
*بدعات کرنے والے حوض کوثر سے ہٹا دیے جائیں گے*
سھل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"بیشک میں حوض (کوثر) پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں، جو کوئی میرے پاس آئے گا، وہ میرے حوض سے پیے گا، اور جو پیے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ
اسی دوران میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان دیوار یا رکاوٹ کر دیا جائے گا۔”
"تو میں کہوں گا: یہ تو میرے لوگ ہیں۔
تو کہا جائے گا:
إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئی باتیں (بدعتیں) نکالیں۔
تو میں کہوں گا:
"سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي”
بخاری : 6583
دوری ہو، دوری ہو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلی کی!”
*شریعت میں بدعات گھڑنے والے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دیے گئے*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ
یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی
شوریٰ : 21
ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے :
اس سے مراد کوئی انسان یاانسانوں کی کوئی جماعت ہی ہے جنھوں نے اللہ کی شریعت کے مقابلے میں اپنی شریعت چلا رکھی ہو، حرام و حلال قرار دینے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہوں اور لوگوں کے لیے ایسے نظام اور قانون مقرر کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف ہوں، پھر انھیں لوگوں میں رائج اور نافذ بھی کرتے ہوں۔ ایسے لوگ پارلیمنٹ یا ایوانوں کے ممبر بھی ہو سکتے ہیں، خود سر حکمران بھی، آستانوں اور مزاروں کے مجاور اور متولی بھی اور گمراہ قسم کے فلسفی اور مصنف بھی۔ علاوہ ازیں یہ شرکاء ایسے صالح اور متقی ائمہ بھی ہو سکتے ہیں جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا سوچ بھی نہ سکتے ہوں مگر لوگوں نے ان کے نام پر قرآن و سنت کے بالمقابل شریعت سازی کر کے انھیں اللہ کا شریک بنا رکھا ہو۔
*بدعت گھڑنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر جزاء و سزا کے لیے قیامت کا دن مقرر نہ ہوتا تو اہل بدعت کو فوراً پکڑ لیا جاتا*
اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں فرمایا ہے :
وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور اگر فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک جو ظالم ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
الشورى : 21
*عام گناہ اور بدعت میں فرق*
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
"بدعت شیطان کو گناہوں سے زیادہ محبوب کیوں ہے؟”
کیونکہ
گناہگار کا نقصان صرف اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے،
جبکہ بدعتی کا نقصان دوسروں تک پہنچتا ہے۔
گناہگار کی آزمائش شہوت (نفسانی خواہش) میں ہوتی ہے،
جبکہ بدعتی کی آزمائش دین کی بنیاد میں ہوتی ہے۔
بدعتی لوگوں کے لیے اللہ کے سیدھے راستے پر بیٹھ کر انہیں اس سے روکتا ہے،
جبکہ گناہگار ایسا نہیں کرتا۔
بدعتی اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی کامل ذات پر اعتراض کرتا ہے،
جبکہ گناہگار ایسا نہیں کرتا۔
بدعتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کی مخالفت کرتا ہے،
جبکہ نافرمان گناہگار ایسا نہیں کرتا۔
[فوائد من الجواب الكافي]
*بدعات کا رد کرنا، نہی عن المنکر کے تحت امت پر فرض ہے*
*علامہ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:*
اہلِ بدعت کو بے نقاب کرو اور ان کی گمراہی ظاہر کرو اور اُن لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کرو جو یہ کہتے ہیں کہ جواب دینا اور رد کرنا چھوڑ دو۔
[شرح السنہ للبربہاری (۳/۳۵)]
*امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:*
ایک آدمی کا نماز پڑھنا، روزے رکھنا اور اعتکاف کرنا کیا یہ آپ کو زیادہ پسندیدہ ہے
یا اہل بدعت کے خلاف بات کرنا زیادہ پسند ہے ؟
تو انہوں نے فرمایا :
إذا قام وصلى واعتكف فإنما هو لنفسه وإذا تكلم في أهل البدع فإنما هو للمسلمين هذا أفضل
الفتاوى (٢٨ /٢٣١-٢٣٢)
جب وہ نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے اور اعتکاف کرتا ہے تو یہ سب کچھ وہ اپنے لیے کرتا ہے
اور جب وہ اہل بدعت کے خلاف بات کرتا ہے تو یہ کام وہ مسلمانوں کے لیے کرتا ہے، اور یہ افضل ہے۔
*ردِ بدعت کے سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقدامات*
*ابوموسیٰ اشعری اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا رد عمل*
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے مسجد میں حلقے بنا کر گٹھلیوں پر تکبیر، تہلیل اور تسبیح کرنے والے لوگوں کو دیکھا تو فورا بھانپ گئے کہ یہ سنت نہیں ہو سکتی بلکہ ضرور یہ کوئی نئی اختراع ہے
جلدی سے اس سارے معاملے کے بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا تو انہوں نے فوراً مسجد آ کر بڑے سخت لہجے میں کہا :
يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ أَوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ
اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ❗تم اتنی جلدی ہلاک ہو گئے ہو، ابھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کثیر تعداد میں موجود ہیں، ابھی تک تو آپ کے کپڑے بھی بوسیدہ نہیں ہوئے، اور نہ ہی آپ کے برتن ٹوٹے ہیں
مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کیا تم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دین سے زیادہ اچھا دین لانا چاہتے ہو یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنا چاہتے ہو
لوگوں نے آگے سے کہا :
وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ
"ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی کا تھا”
حضرت ابن مسعودؓ نے جواب دیا:
وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ
[دارمي : 210 ، اسنادہ جید ،صحیحۃ (2005)]
"کتنے ہی لوگ بھلائی چاہتے ہیں مگر اسے پاتے نہیں
*اس روایت سے چند بہت اہم اور قیمتی باتیں معلوم ہو رہی ہیں*
1 اس روایت میں موجود اذکار کے الفاظ صحیح تھے اور ذکر بذاتِ خود نیکی ہے، اور لوگوں کی نیت بھی صحیح تھی لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے بغیر ایک نئی شکل میں تھے سو بدعت قرار پائے
2 اور یہ بھی کہ بظاہر نیک لگنے والے اضافے کو بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے بدعت کہا ہے ۔
3 اور یہ بھی کہ بدعتِ حسنہ کا نظریہ صحابہ کے فہم کے خلاف ہے۔
*بدعت کے رد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل*
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب چھینکا اور کہا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ
"میں بھی یہ الفاظ کہہ سکتا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح نہیں سکھایا۔
بلکہ فرمایا :
الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ
(سنن ترمذی 2738، الألبانی: حسن)
*اس روایت سے معلوم ہوا کہ*
1 دینی معاملات میں اپنی طرف سے اضافہ درست نہیں، چاہے وہ بذاتِ خود اچھا ہو۔
2 شریعت کے مقرر کردہ اذکار اور عبادات میں تبدیلی یا اضافہ ممنوع ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے :
كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَإِنْ رَآهَا النَّاسُ حَسَنَةً۔»
(السنة للمروزی: 24، سند صحیح)
”ہر بدعت گمراہی ہے، خواہ لوگ اسے اچھا سمجھیں۔“
*معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ*
آپ فرماتے ہیں :
«إِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ.»
ابی داؤد : 4611 صحیح
”بدعات سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
عبداللہ بن مسعودؓ:
«كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة»
المعجم الکبیر للطبرانی: 1/100، سند صحیح
”ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“