درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ان الحمد للہ و الصلاۃ والسلام علی رسول اللہ
صدر مجلس، معزز مہمانان گرامی !
دل و دماغ کی صلاحیتوں
اَسنان و لسان کی نوکوں
اور جنبش پکڑتے ہونٹوں
پر موضوعِ سخن ہے :
*درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو*
حالی نے کہا :
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
جناب والا !
مالک ارض و سماں کے ہاں درد دل کی قدر دیکھئے !
وحیِ الہی میں ایک چیونٹی کو ایپرشیٹ کیا گیا جو لشکرِ سلیمان سے اپنی قوم کو سکیور کرتی ہے
ایک کتے کو قرآن میں کوڈ کیا گیا جو لُٹے پُٹے اصحابِ کہف کا چوکیدار بنتا ہے
ایک مینڈک کے قتل سے روکا گیا جو درد دل کے ساتھ اپنی ناتواں پھونک سے نارِ خلیل کو بجھاتا رہا
ایک فاحشہ کو نویدِ مغفرت سنائی گئی جو خلقِ خدا پر ترس کھاتے ہوئے ایک پیاسے کتے کو آبِ شیریں پلاتی ہے
جناب والا !
احساس، خیر خواہی اور درد دل سے ماوراء ہو کر فقط اپنے لیے جینا، اپنے ہی نفع اور اپنے ہی مفاد کا سوچتے رہنا، حیوانیت، ابن الوقتی، مفاد پرستی، حرص اور بخل تو ہوسکتا ہے مگر انسانیت نہیں
بقول شاعر
اپنے لیے تو سب جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
اقبال کہتے ہیں :
لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے، ضعیفوں سے محبت کرنا
حضرات!
لفظ انسان اُنَس سے بنا ہے
جس کا معنی محبت، پیار، ہمدردی اور خیر خواہی بانٹنے والا
انسانیت تو یہ ہے کہ
چاہے تم سلیمان ہو مگر گمشدہ ننھے ہد ہد کی فکر کرو
چاہے تم فاروق ہو مگر فرات کنارے پیاسے کتے کا سوچو
خواہ موسیٰ کلیم اللہ ہو مگر پیاسی بکریوں کے لیے بوکا کھینچو
چاہے سفینہِ نوح میں جا بیٹھے ہو مگر ہر ذی روح کا ایک ایک جوڑا سنبھال لو
اور چاہے یوسفِ دوراں ہو مگر بے رحم قحط سالی کے بالمقابل دانے کو سٹے میں اور ہر محتاج کے حصے میں رکھو
حضراتِ ذی وقار !
درد دل کو کسی صاحبِ دل نے کچھ یوں بیان کیا ہے
بے ہنر فقیر کو کلہاڑی میں دستہ ٹھونک دو
بحرانوں میں گوداموں کا ذخیرہ کھول دو
مقروض میت کا قرض اپنے ذمے لے لو
یتیموں کی دیواروں میں یادِ خضر چھوڑ دو
درد دل والو !
دل ایسا رکھو کہ
بھوکے اونٹ کی شکایت سن سکو
چلاتی چڑیا کی آہ و بکاء سن سکو
منڈلاتی فاختہ کی فریاد سنو
مظلوم انسانوں کی پکار سنو
دکھی انسانیت، مظلوموں، بے کسوں اور بے سہارا لوگوں کی آہ و بکا، درخواست اور التجاہ سننے کے لیے دل کی سنسر شپ اتنی حساس رکھو کہ
گرتی ہوئی شبنم،
چڑھتے ہوئے سورج،
کھِلتے ہوئے پھول،
چمکتے ہوئے مون،
ڈوبتے ہوئے ستارے،
صاف اجالے
اور گہرے اندھیرے کی آہٹ بھی محسوس ہو
جناب والا !
ہمسائیوں سے نمک فقط اس لیے مانگ لو کہ انہیں سالن مانگتے جھجھک نہ ہو
اور شوربے میں پانی محض اس لیے بڑھا دو کہ پڑوسی کو دیتے اضطراب نہ ہو
جلتے ہوئے چراغ کو محض اس لیے گل کردو کہ بھوکا مہمان سیر ہو سکے
اور کدو کا شوق محض اس لیے باور کروادو کہ آپ کا دوست بوٹیاں کھا لے
ہونٹوں سے لگا جام، پانی پئے بغیر فقط اس لیے ہٹا دو کہ قریب تڑپنے والا پی لے
اجتماعی دستر خوان پہ ایک دفعہ کہہ دو کہ سیب مجھے پسند نہیں ہیں تاکہ کوئی اور لے لے
جناب والا !
ایک عربی مقولہ ہے :
خَیرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس
إقبال نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے :
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھّے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
جی ہاں !
اچھے بننے کے لیے خدمت، ایثار، قربانی رحمدلی کا مظاہرہ بہت ضروری ہے
کسی کمزور بڑھیا کی گھٹھڑی اٹھا کر،
کسی ناتواں بوڑھے کو بیساکھی تھما کر،
مقامی اور مہاجر کو ایک میثاق میں اخوان بنا کر
رات کے اندھیرے میں گشت کرتے ہوئے کسی بھوکے کے دروازے پر کان لگا کر،
جذبہءِ خدمت خلق سے سرشار ہو کر آگے بڑھنا ہوگا
صدر ذی وقار !
میں اپنی گفتگو کو دکھی انسانیت کے مسیحا و غم گسار، محسن انسانیت، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ مقدسہ سے ختم کرتا ہوں
آپ نے فرمایا :
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ
اور فرمایا :
ارْحَمُوا تُرْحَمُوا
اور فرمایا :
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
شاعر نے ان احادیث کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :
کرو مہربانی تم اہلِ زمین پر
خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر