تیراکی

تیراکی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے
المائدہ : 105

*چار قسم کے کھیل جن کی ترغیب دی گئی ہے*

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كلُّ شيءٍ ليس من ذِكْرِ اللهِ فهو لَهْوٌ أو سَهْوٌ (وفی روایۃ : لعب) إلا أربعَ خِصالٍ: مَشْىُ الرجلِ بينَ الغَرَضَيْنِ وتأديبُه فَرَسَهُ ومُلاعَبَتُهُ أهلَه وتعليمُه السِّباحَةَ
نسائی : 8940 ،طبرانی 1785
صححہ الألباني، صحيح الجامع (4534)
ہر وہ چیز جس میں اللہ کا ذکر نہیں ہے وہ محض فضول کھیل کود ہے سوائے چار چیزوں کے :
آدمی کا تیر اندازی کرنا
اپنے گھوڑے کو سدھانا
اپنی بیوی سے کھیلنا
اور تیراکی سیکھنا یا سکھانا

*امیر المومنین عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے غوطہ خوری کا مقابلہ کرتے تھے*

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ربما قال لي عمر بن الخطاب : تعال أباقيك في الماء ، أينا أطول نفسا ونحن محرمون
أخرجه الشافعي في المسند(801)
ونقلہ الالبانی فی الارواء (1021)
وسندہ صحیح

یعنی امیر المومنین عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے غوطہ خوری کا مقابلہ کرتے تھے کہ ہم پانی میں غوطہ لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون پانی کے نیچے زیادہ دیر تک رہتا ہے

اور محلی ابن حزم میں ہے :
‏كان عمر بن الخطاب يحب ابن عبَّاس حبًّا شديدًا، ويلاعبه أحيانًا، فكانا يتغاطسان في الماء وهما محرِمَين أيهما يبقى في الماء أطول
وكان الفارق بينهما 38 سنة تقريبا!
المحلى لابن حزم ٢٧٩/٧
امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور وہ دونوں حالت احرام میں غوطہ خوری کا مقابلہ کیا کرتے تھے کہ ہم میں سے کون زیادہ لمبا غوطہ لگاتا ہے

*تیرتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا*

ابن أبي الدنيا نے مجاهد رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں :
"ولقد جاء سيل بالبيت، فرأيت ابن الزبير يطوف سباحة”.
["الإصابة” لابن حجر (٤/ ٨٢)]
(ایک سال) بیت اللہ میں سیلاب آیا تو میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو تیرتے ہوئے طواف کرتے دیکھا

اسے فاکہی نے اخبار مکہ میں بھی نقل کیا ہے

یہاں سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تیراکی کے ماہر بھی تھے

*تیراکی سیکھنے کے فوائد*

*اپنی حفاظت*

تیراکی کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ کسی ہنگامی حالت میں انسان کم از کم اپنی حفاظت کرسکتا ہے
ہم کتنے واقعات سنتے ہیں کہ نہر کنارے چہل قدمی کرتے ہوئے پاؤں پھسلنے سے بندہ نہر میں گرا اور ڈوب کر جاں بحق ہوگیا
کشتی الٹنے سے سبھی سوار پانی میں ڈوب کر مر گئے وغیرہ وغیرہ
تو اگر کوئی انسان تیراکی سے واقف ہو تو ایسی حالت میں تیرتے ہوئے باہر نکل سکتا ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو، پھر دستوں کی صورت میں نکلو، یا اکٹھے ہو کر نکلو۔
النساء : 71

اور فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے
المائدہ : 105

*آدھی زندگی اور پوری زندگی*

ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ مسجد ام القریٰ میں درس دیتے ہوئے ازراہ تفنن اور بطورِ ترغیب ہمیں اکثر ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک گریجوئیٹ شخص ایک کشتی میں بیٹھا سفر کر رہا تھا
ملاح سے پوچھتا ہے : آپ نے کچھ لکھنا پڑھنا بھی سیکھا ہے یا صرف کشتی ہی چلاتے ہیں؟
ملاح نے کہا : مجھے تو لکھنا پڑھنا بالکل نہیں آتا
وہ شخص کہنے لگا :
آپ نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی، ملاح افسردہ سا ہو کر خاموش رہا، کچھ آگے بڑھے تو کشتی دریا میں ڈوبنے لگی ملاح نے اس شخص سے پوچھا : مسٹر جی! تیراکی سیکھی ہے؟
کہنے لگا : نہیں
ملاح نے کہا : میری تو آدھی زندگی ضائع ہوئی آپ کی پوری جاتی رہی

*تیراکی کے ذریعے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ اپنے بیٹے اور حکومت کو بھی بچا لیا*

عباسیوں نے جب اموی حکومت کا تختہ الٹا تو اس زمانے میں عبد الرحمن بن معاویہ دمشق میں موجود نہ تھا بلکہ اپنے گاؤں میں آیا ہوا تھا۔

عبدالرحمن کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنوامیہ اور ان کے ہمدردوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے تو وہ ادھر ہی گاؤں کے باہر درختوں کے کنج میں خیمہ نصب کر کے رہنے لگا کیونکہ گاؤں پر اگر کوئی آفت آئے تو خطرہ سے واقف ہو کر اپنی جان بچانے کی فکر کر سکے۔
ایک روز وہ اپنے خیمے میں بیٹھا تھا کہ اس کا تین چار سال کا لڑکا جو باہر کھیل رہا تھا ، خوف زدہ ہو کر خیمہ کے اندر آیا۔ عبدالرحمن اس کے خوف زدہ ہونے کا سبب معلوم کرنے کے لیے خیمے سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ عباسیوں کا سیاہ جھنڈا ہوا میں لہرا رہا ہے اور اس کی جانب آ رہا ہے۔ تمام گاؤں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر کہ عباسی لشکر بنوامیہ کو قتل کرنے کو پہنچ گیا ہے، وہ اپنے بچے کو گود میں اٹھا کر دریا کی طرف بھاگا۔ ابھی وہ دریا تک نہ پہنچنے پایا تھا کہ دشمنوں نے اس کا تعاقب کیا اور چلا چلا کر کہنے لگے کہ تم بھاگو مت ! ہم تم کو کوئی آزار نہ پہنچائیں گے اور ہر طرح سے تمہاری امداد واعانت بجالائیں گے۔ عبدالرحمن کے پیچھے پیچھے اس کا بھائی بھی تھا۔ عبدالرحمن نے دشمنوں کی ان باتوں کی جانب مطلق التفات نہ کی اور دریا کے کنارے پہنچتے ہی دریا میں کود پڑا۔ عبد الرحمن کا بھائی تشفی آمیز باتوں سے فریب کھا کر دریا کے کنارے کھڑا ہوا اور رک کر کچھ سوچنے اور پیچھے کو دیکھنے لگا۔ دشمنوں نے فورا پہنچتے ہی اس کا سر تلوار سے اڑا دیا۔ عبدالرحمن نے مطلق پس و پیش نہ کیا اور دریا میں تیرتا ہوا اپنے بیٹے کو چھاتی سے لگائے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ دشمنوں نے دریا میں تیرنے کی جرات نہ کی بلکہ اسی کنارے پر کھڑے ہوئے تما شا د یکھتے رہے۔
پھر یہ وہی عبدالرحمن ہے جو بعد میں عبدالرحمن الداخل کے نام سے مشہور ہوا اور اس نے اندلس میں پہنچ کر کئی صدیوں تک رہنے والی مسلمانوں کی حکومت کو نئے سرے سے مستحکم کیا
تاریخ اسلام نجیب آبادی ص 454

*تیراک کو تیراکی کے طبی اور میڈکلی فوائد*

تیراکی کرنے والے شخص کو فیزیکلی طور پر بے شمار طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں
چند ایک درج ذیل ہیں :

1 *کولیسٹرول کی بہتری*
جسم میں کولیسٹرول کی دواقسام پائی جاتی ہے، ایک ایچ۔ڈی۔ایل اور دوسرا ایل۔ڈی۔ایل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایچ۔ڈی۔ایل کو ‘اچھا’ اور ایل۔ڈی۔ایل کو’برا’ کولیسٹرول سمجھا جاتا ہے۔ تیرنے سے جسم میں کولیسٹرول کی اچھی قسم ایچ۔ڈی۔ایل میں اضافہ ہوتا ہے اور اسطرح کولیسٹرول کی یہ قسم دل کی بیماری سے بچاتی ہے

2 *وزن پر قابو*
بیشتر افراد کا یہ خیال ہے کہ عمومی طور پر پانی انسان جسم کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ٹھنڈا ہوتا ہے اسلئے یہ مشکل ہے کہ پانی میں تیرنے سے وزن پر قابو پایا جاسکے۔ لیکن نئی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ تیرنے سے انسانی جسم میں موجود کیلوریز اور وزن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ بریسٹ اسٹروک کے طریقے سے تیرتے ہیں تو یہ آپکے جسم کی 60 کیلوریز کو کم کرے گا، بیک اسٹروک 80، فری اسٹائل 100 اور بٹرفلائے اسٹروک 150 تک جسم کی کیلوریز کو کم کرسکتا ہے

3 *پھیپھڑوں کی صلاحیت میں اضافہ*

دوران تیراکی عام روٹین سے ہٹ کر ایک خاص انداز میں سانس لینا پڑتا ہے خاص طور پر برسٹ اسٹروک، ڈائیونگ اور غوطہ خوری میں تو بالکل ہی الگ طریقہ کار ہوتا ہے اس مشق سے یوں کہہ لیں پھیپھڑوں کے لیے بھی ایک قسم کی ایکسرسائز کا ماحول پیدا ہوتا ہے
اور ماہرین کے تجربات اور مشاہدات میں یہ بات آئی ہے کہ اس عمل سے پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے

4 *پٹھوں کی مضبوطی*

تیراکی کرنے سے انسانی جسم کے جس حصے کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ اسکے پٹھے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ پانی میں تیرنے کیلئے ایک انسان کو اپنے دونوں بازووں کو کندھوں سمیت حرکت میں لانا پڑتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ہاتھوں کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ آپ پانی کو ہاتھوں سے پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے کی طرف جاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران آپکے جسم کے پھٹے اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔

5 *ٹانگوں کی مضبوطی*

تیرنے کا فائدہ نہ صرف پھٹوں کو ہوتا ہے بلکہ اسکا فائدہ براہ راست آپکی ٹانگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ کیونکہ جب پانی میں تیر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت صرف کندھوں کا سہارا نہیں لیا جاتا بلکہ ٹانگوں کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ ٹانگوں کے اسطرح مسلسل حرکت میں رہنے سے انسان جوڑوں کے درد سے بچ سکتا ہے اور تیرنے سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

6 *دل کی حفاظت*

تیرنے کا سب سے زیادہ فائدہ جسم کے اندرونی اعضاء بالخصوص دل کو ہوتا ہے۔ اور جو افراد تیراکی کو اپنی عادت بناتے ہیں وہ اعصابی طور پر مظبوط ہوتے ہیں۔ جِم میں ورزش کرنے سے زیادہ فائدہ تیرنے سے ہوتا ہے۔ جب آپ تیر رہے ہوتے ہیں تب آپکا سینا پانی کے ایک خاص بہاو کو برداشت کررہا ہوتا ہے اور اسی کا فائدہ دل کو بھی ہوتا ہے۔ تیرنے سے دل کی دھڑکن اور دل میں خون کی گردش ٹھیک رہتی ہے

*دوسروں کی حفاظت*

تیراکی کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ تیراک آدمی دوسروں کو بچا لیتا ہے
کتنے واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ کشتی الٹنے یا پاؤں پھسلنے یا سیلابی ریلے میں پھنسنے سے ڈوبتے ہوئے انسانوں کو ماہر تیراک لوگوں نے ریسکیو کیا اور ڈوبنے سے بچا لیا

اور کتنے ہی واقعات ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے، عزیز اور رشتہ دار ڈوب رہے ہوتے ہیں اور وہ تیراکی سے ناواقفیت کی بنا پر کنارے کھڑے سوائے شور مچانے کے اور کچھ نہیں کر پاتے

*ڈوبتے کو بچانا کس قدر عظیم عمل ہے*

”غریق (ڈوبتے ہوئے شخص) کو بچانا ہر استطاعت رکھنے والے مسلمان پر واجب ہے۔ اس کیلیے فرض نماز بھی توڑنی پڑے تو توڑ دی جائے۔ مختلف دلائل کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ غریق کو نہ بچانے والا گناہ گار ہے”

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
جس نے کسی ایک جان کو زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
المائدہ : 32

امام مجاہد رحمه الله اس کی تفسیر بیان کرتے ہیں :
”یعنی جس نے کسی کو غرق ہونے یا جلنے سے بچایا تو اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : ٢٩٥٧١)

*شیخ صالح المنجد اور ان کے بیٹے کو ایک تیراک نے ڈوبنے سے بچا لیا*

یہ واقعہ مولانا عبد المالک مجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ مدیر ادارہ دارالسلام نے اپنی کتاب میں لکھا ہے

شیخ محمد بن صالح المنجد سعودی عرب کے مفتی اعظم اور بڑے عالم ہیں علم سے وابستہ سبھی لوگ شیخ کو جانتے ہیں
ان کے ایک دوست ابراہیم نے ایک دن اصرار کیا کہ میرے ساتھ سمندر کی سیر کو چلیے۔ سمندر کا جو بن دیکھیں گے اور مچھلی کا شکار کریں گے۔
شیخ نے ہامی بھر لی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ساحل پر پہنچ گئے۔ ان کا تین سالہ بیٹا انس بھی ہمراہ تھا۔بلا تاخیر کشتی میں سوار ہوئے اور سمندر میں جا اترے۔
گہرے سمندر میں پہنچے تو شکار کے لیے کشتی ایک جگہ روک دی
وہاں کافی دیر رک کر شکار کیا اس کے بعد واپسی کے لیے کشتی کا رخ ساحل کی جانب کر دیا۔ کشتی نے واپسی کے سفر کا آغاز کیا ہی تھا کہ دیکھا کشتی کے اندر پانی کھڑا ہے یکایک کشتی کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی۔ شیخ صاحب کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ انہوں نے انس کو ابراہیم کی طرف پھینکا۔ اتنے میں تیز لہر آئی اور ان کے سروں پر سے گزرگئی ۔پھر دوبارہ پانی کی سطح پر ابھرے۔
ابراہیم کہتا ہے یہ میری زندگی کے نازک ترین لمحات تھے ۔ میرے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ شیخ صاحب؟
ہماری کشتی میں لائف رنگ بھی تھے میں نے ایک لائف رنگ پر ہاتھ ڈالا اور اسے شیخ صاحب کی طرف پھینکا۔ انہوں نے ایک ہاتھ میں پہلے ہی لائف گیلن پکڑ رکھی تھی ، دوسرے ہاتھ میں انہوں نے لائف رنگ تھام لیا۔ اب ہمیں نہایت تیزی سے ساحل پر پہنچنا تھا اور یہ سفر بد قسمتی سے تیر کر طے کرنا تھا۔ ہم لہروں کے اتار چڑھاؤ میں ہچکولے کھا رہے تھے۔
مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔پھر رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔ سمندر کی تیز لہریں ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رہی تھیں ۔آخر شیخ صاحب سے میرا صوتی رابط منقطع ہو گیا۔
انس کی صورت میں شیخ صاحب کی قیمتی امانت میرے پاس تھی ۔ خود سے زیادہ مجھے اس کی فکر تھی ۔
کنارے کی جانب میرا سفر تیزی سے جاری تھا۔ مجھے تیرتے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ۔ بدن تھکاوٹ سے چور تھا۔ سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ میرے کندھوں پر سوار تین سالہ انس کبھی بے ہوش ہو جاتا اور کبھی ہوش میں آکر چلانے لگتا ۔ اتنے میں فجر کی اذان سنائی دی۔ میں نے تمام رات سمندر میں تیرتے ہوئے گزار دی تھی ۔ آخر سورج کے طلوع ہوتے ہی میں کنارے پر جا پہنچا۔ انس کو کندھوں سے اتار کر ریت پر لٹایا۔ خود بھی ریت پر لیٹ گیا اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔

اتنے میں ایک گاڑی اس طرف آتی دکھائی دی ۔ وہ ہمارے قریب آ کر رک گئی ۔ گاڑی میں سے ایک صاحب برآمد ہوئے اور ہماری طرف بڑھے۔
مجھ سے پوچھا: آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہم کل عصر کے بعد سمندر میں ڈوب گئے تھے ۔ اب تیرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں ۔
انہوں نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور لمبی مسافت طے کرنے کے بعد بارڈر سکیورٹی آفس پہنچا دیا۔
میں نے انہیں شیخ صاحب کے متعلق بتایا۔ انہوں نے فوری طور پر سر چنگ پارٹیوں کو آرڈر دیا کہ شیخ صاحب کو ہر حال میں تلاش کیا جائے ۔
مجھے شیخ صاحب کی پوزیشن کا علم تو نہیں تھا البتہ میں نے انہیں بتایا کہ وہ ایک ہاتھ میں لائف گیلن
اور دوسرے ہاتھ میں لائف رنگ تھامے ہوئے ہیں ۔
سر چنگ پارٹیاں سمندر میں ہر طرف پھیل گئیں۔ غوطہ خوروں نے غوطے لگائے۔ گھنٹے بھر کی تلاش بسیار کے بعد شیخ صاحب کا سراغ مل گیا۔ خوش قسمتی سے وہ زندہ اور صحیح سلامت تھے۔ مجھے بے حد خوشی کا احساس ہوا۔

میں کمانڈنگ آفیسر اور آفس کے بعض دیگر عہدیداران کے ہمراہ شیخ صاحب کے استقبال کو نکلا ۔ وہ ساحل پر آتے ہی قبلہ رو ہوئے اور سجدہ شکر ادا کیا ۔ یہ خیال مجھے نہیں آیا تھا۔
چنانچہ میں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ شکر ادا کیا۔ انہوں نے فردا فردا سب سے معانقہ کیا ۔ آخر میں وہ انس کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور اسے سینے سے لگا لیا ۔ جان لیوا حادثے کے بعد باپ بیٹے کی ملاقات کا منظر دیدنی تھا۔ میں نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے مجھے پچھتاوے کے دائمی احساس سے بچالیا۔

*جہاد کی تیاری*

تیراکی اس نیت سے سیکھیں کہ ہم نے اس کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ سر انجام دینا ہے اس وقت زمین کے 71 فیصد علاقے پر پانی اور 29 فیصد علاقے پر خشکی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے تجارتی روٹ سمندروں سے ہوکر گزرتے ہیں
ظاہر ہے کہ 29 فیصد پر بھی وہی قابض ہوگا جو 71 فیصد پر قابض ہوگا
اور آج یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ جس کا سمندر پر جتنا کنٹرول ہے وہ خشکی پر بھی اتنا ہی مضبوط ہے

*تیراکی سیکھنا جہاد کی تیاری میں سے ہے*

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
الأنفال : 60

*جہادی، سمندری سفر کے دوران سر چکرانے اور قے آنے کی وجہ سے ملنے والی فضیلت*

ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ "
سنن ابی داؤد 2493، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے
” سمندر کے سفر میں جس کا سر چکرائے اور قے آ جائے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے اور جو ڈوب کر مر جائے اس کو دو شہیدوں کا ثواب ہے ۔ “

عون المعبود میں المائد کی وضاحت میں لکھا ہے :
أي الذي يدور رأسه من ريح البحر واضطراب السفينة بالأمواج
یعنی سمندر کی بدبو اور موجوں کی وجہ سے کشتی کے ہچکولوں سے سر کا چکرانا

*سمندر کی ایک جنگ، فضیلت میں خشکی کی دس جنگوں کے برابر ہے*

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ﻏﺰﻭﺓ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﺗﻌﺪﻝ ﻋﺸﺮا ﻓﻲ اﻟﺒﺮ، ﻭاﻟﻤﺎﺋﺪ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﻛﺎﻟﻤﺘﺸﺤﻂ ﻓﻲ ﺩﻣﻪ ﻓﻲ اﻟﺒﺮ
سنن سعید بن منصور:(2395)
سنده صحيح
سمندر میں ایک جنگ خشکی پر دس جنگوں کے برابر ہے اور سمندر میں سر چکرانے سے قے کرنے والا خشکی پر خون میں لت پت ہو کر تڑپنے والے کی طرح ہے

اس کی سند درج ذیل ہے
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ ﻳﻌﻘﻮﺏ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺯﻡ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺯﻡ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻗﺎﻝ :
ابو انس طیبی حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
مرفوعا یہ روایت ضعیف ہی ہے
البتہ موقوفا صحیح ثابت ہے جس سے مرفوعا کی تائید ہوتی ہے

*سمندری جہاد کرنے والوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خوش ہونا*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے جاگے تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ کیوں ہنستے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ
بخاری : 2788
”میری امت کے چند لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے اس طرح سمندر کے بیچ میں سوار ہو رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔”
ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :
میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی

*پہلی سمندری جنگ لڑنے والے لشکر کی فضیلت*

ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا ".
صحيح بخاری 2924
میری امت کے سمندر کی جنگ لڑنے والے پہلے لشکر پر جنت واجب ہو گئی ہے

اقبال نے کہا :
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

*طاقت ور مومن، بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ مومن بننا*

تیراکی سیکھنا اور پھر ڈوبتے لوگوں کو ریسکیو کرنا اور بحری اتار چڑھاؤ سے واقف ہونا اور سمندروں ماحول و مزاج کو سمجھنا اور اس کے بعد اسلامی بحری حدود کی حفاظت کی صلاحیت حاصل کرنا، ان سب خوبیوں کا حامل، یقینا اس مومن سے زیادہ طاقتور ہے جو ان خوبیوں سے ناواقف ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ
مسلم : 2664
طاقت ور مومن، اللہ تعالیٰ کے ہاں کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہے اور بہرحال دونوں میں ہی خیر ہے

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں