
دنیا میں سعادت مند وہ شخص ہے جو قول سدید یعنی ”لا الہ الا اللہ کی گواہی دے، اس حال میں کہ وہ اس شہادت میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ کرے، جھوٹ اور نفاق سے کام نہ لے۔ زندگی کے تمام معاملات تبھی درست ہوتے ہیں جب دل و نگاہ میں اللہ کا ڈر اور خوف ہو، یعنی تقوی سے بگڑے کام درست ہوتے اور گناہوں معاف ہوتے ہیں۔
قول سدید سے مراد ہے سچی ، منصفانہ ، صاف اور سیدھی بات ہے، ایسی بات جس میں نیت خالص ہو، مقصد درست ہو اور جس سے مطلب اصلاح کرنا ہو، فساد نہیں ۔ یہ بھی لا إله إلا الله کے مفہوم کو بھی شامل ہے۔