
اسلام ہمیں صرف نیکی کرنے کا نہیں بلکہ نیکی کو ضائع ہونے سے بچانے کا بھی درس دیتا ہے۔ بعض اوقات انسان بہت سے نیک اعمال کرتا ہے لیکن ان کے ساتھ ریاکاری، تکبر، حسد، یا دوسروں کو ایذا دینے جیسے گناہوں کی آمیزش اس کے تمام اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو "خاسرین” یعنی نقصان اٹھانے والے قرار دیا ہے، جو دنیا میں محنت کرتے ہیں مگر آخرت میں ان کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔
عمل کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص اور تقویٰ پر ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اپنے دل کو ریا، کبر اور حسد سے پاک رکھیں تاکہ ہمارے اعمال بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوں اور خسارے سے محفوظ رہیں۔