
اچھی اور بری صحبت کی مثال
اچھی اور بری صحبت اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات
سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الہ ہم نے فرمایا :
مثل الجليس الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ ، كَحَامِلِ المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ : إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا ، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا ، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا ۔“
صحيح البخاري : 5534، صحیح مسلم : 2628