
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل : (34)
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ ، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہوگا۔“
ایفائے عہد یعنی عہد کو پورا کرنا ، وعدے کی تکمیل اور قول و قرار پر قائم رہنا اسلامی تعلیمات کا امتیاز اور بندہ مومن کی شناخت ہیں۔ ہر سطح اور ہر مقام پر راست گوئی ، دیانت و امانت اور ایفائے عہد اسلام کے نزدیک انسان کی سیرت و کردار میں مطلوب ہیں ۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ دنیا کی کوئی سوسائٹی اور کوئی انسانی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا ، جب تک اس کے نزد یک وعدے کی تکمیل اور ایفائے عہد کو بنیادی مقام حاصل نہ ہو۔ ” ایفائے عہد گو یا معاشرے کے استحکام اور اس کے قیام کی یقینی ضمانت ہے۔