باہمی تعاون میں شکر ایک ناگزیر ضرورت

باہمی تعاون میں شکر ایک ناگزیر ضرورت

﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠۝۱۵۲﴾(البقرة:152)
بندوں کا شکر ادا کرنے کے حوالے سے گذشتہ دو خطبوں میں ہم نے چند بنیادی باتیں جائیں ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کی نیکی اور احسان کے بدلے میں اس کا شکر ادا کرنا فطری، عقلی، اخلاقی اور شرعی طور پر لازم اور واجب تھرتا ہے۔
شکر کے بارے میں بنیادی قاعدہ تو آپ نے گذشتہ خطبات میں سنا کہ آپﷺ نے فرمایا:
((مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَّعْرُوفًا فَكَا فِئُوهُ))
’’جو تمہارے ساتھ کوئی نیکی اور احسان کرے تو اس کا اُس کو صلہ دو۔‘‘
((فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تَكَافِئُونَهُ فَادْعُوالَهُ، حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَا فَأْتُمُوهُ‘‘ (سن ابی داؤد:1072)
’’اور اگر تمہارے پاس اس کا بدلہ چکانے کو کچھ نہ ہو تو اُس کے لئے دعا کرو حتی کہ محسوس کرو کہ تم نے اُس کا بدلہ چکا دیا، اس کا حق ادا کر دیا ہے۔‘‘
اس حدیث کی تشریح میں علماء کرام لکھتے ہیں کہ کسی کی نیکی اور احسان کا بدلہ چکاتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ اگر وہ نیکی کرنے والا ، مالی معاونت کرنے والا کوئی بڑا آدمی ہو، جیسے بادشاہ یا کوئی اور مالدار اور رئیس آدمی تو اس کے احسان کا بدلہ ضروری نہیں که مالی صورت میں ہو، کیونکہ وہ اس سے مستغنی ہوتا ہے اور وہ مالی معاونت کے بدلے میں مالی معاونت کو اپنی عزت و احترام اور مقام و مرتبے کے منافی سمجھتا ہے، لہذا اس کے لئے دعا کر دی جائے۔
اسی طرح شکر کے بارے میں ایک اور بنیادی قاعدہ قرآن پاک میں بھی بیان ہوا ہے، اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا ؕ﴾(النساء:86)
’’ اور جب تمہیں تحیہ پیش کیا جائے، یعنی سلام کیا جائے، تو تم اس سے بہتر تحیہ پیش کرو۔‘‘
یعنی اس سلام کا اُس سے بہتر اسلوب میں جواب دو یا انھی الفاظ کو لوٹا دو۔
اب سلام جو ایک ظاہر معمولی سی بات ہے، کیونکہ آپ زبان سے کسی کے لئے سلامتی رحمت اور برکت کی دعا کرتے ہیں، اُس کو اسلام اتنی اہمیت دیتا ہے کہ کسی کے سلام کا بھی اس کو بہتر جواب دو یا کم از کم انہی الفاظ کو لوٹا دو۔ جیسے کوئی آدمی السلام علیکم کہتا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ کہو۔ یعنی زیادہ کہنا مستحب ہے لیکن اگر اتنا بھی کہہ دے کہ جتنا اس نے کہا ہے تو بھی ٹھیک ہے۔
اسلام میں سلام محض خیر مقدمی کلمات نہیں ہیں کہ آپس میں ملاقات کرتے وقت ایک دوسرے کو رسی سے الفاظ کہہ دیئے جائیں بلکہ ان کلمات میں اسلامی عقیدہ بھی ہے، ان میں ایک دوسرے کی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات بھی ہیں اور ان کا شکر بھی ہے اور ان کے ذریعے اجر و ثواب کے مواقع بھی دیئے گئے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے، حضرت عمران بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
((جَاءَ رَجلٌ إِلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثمَّ جَلَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ عَشْرٌ))
’’ایک شخص آپ ﷺکے پاس حاضر ہوا، السلام علیکم کہا، آپ سے ہم نے اس کا جواب دیا اور وہ آدمی بیٹھ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: دس‘‘
((ثمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ : فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ: عِشْرُونَ))
’’پھر ایک اور شخص آیا، اس نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ اس کا بھی جواب دیا، وہ بیٹھ گیا تو آپﷺ نے فرمایا:بیس۔‘‘
((ثمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرحمة الله وبركاته ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، فَقَالَ: ثَلاثُونَ)) (سنن ابی دائود:5195 ، ترمذي:2989)
’’پھر ایک اور شخص آیا اور کہا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکات، اس کا جواب دیا، وہ بیٹھ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: تیس ۔‘‘
یعنی سلام اگر السلام علیکم تک ہو تو دس نیکیاں اور اگر السلام علیکم ورحمتہ اللہ تک ہو تو بیس اور اگر السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکا تہ تک ہو تو تیس نیکیاں ملتی ہیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ اسلام جسے ہمارے معاشرے میں کوئی نیکی اور احسان نہیں سمجھا جاتا بلکہ صرف خیر مقدمی کلمات سمجھا جاتا ہے، جس طرح ہر معاشرے میں ہوتے ہیں اور یہ معاشرتی آداب میں سے ہے، جیسے معاشرے میں ہر کام کے کچھ نہ کچھ آداب ہوتے ہیں، گفتگو کے آداب ہیں، اٹھنے بیٹھنے کے آداب ہیں، رہنے سہنے کے آداب ہیں ، کھانے پینے کے آداب ہیں، کاروبار کے آداب ہیں، حتی کہ قضائے حاجت کے آداب ہیں۔ اسی طرح میل جول کے آداب ہیں کہ ایک انسان کا کسی دوسرے انسان سے آمنا سامنا ہو جائے یا ارادتًا اس سے ملاقات کے لئے جائے تو سب سے پہلے اسے سلام کرے اور اگر سلام نہ کرے تو یہ بے تہذیبی، اجڈپن اور گنوار پن شمار ہوگا ، یعنی ایسا شخص ہر قسم کی تہذیب و آداب سے نا آشنا سمجھا جائے گا۔
اور یقینًا ہر دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو شہروں سے اور سوسائٹی سے دور اور الگ تھلگ رہتے ہیں جن کے پاس تہذیب اور آداب نہیں پہنچے ہوتے تو ان کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔
جیسا کہ بدو لوگ، بادیہ نشین ، صحرا کے رہنے والے جب آپ ﷺکے پاس آتے تو ان کے رویوں میں آداب سے ناواقفی واضح طور پر دیکھی جاتی ۔ جیسے نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی موجودگی میں مسجد میں پیشاب کر دینا، آپﷺ کو نام لے کر پکارنا اور صدقہ خیرات مانگتے ہوئے آپ ﷺ کی چادر کھینچنا اور ایک بار تو ایک شخص نے چادر اتنی زور سے کھینچی کہ اس کے کھینچنے سے آپ ﷺکی گردن میں نشان پڑ گئے، مگر آپ ﷺنے اس پر مسکراتے ہوئے انہیں مال دینے کا حکم صادر فرمایا۔
تو اگر آداب نہ ہوں تو آدمی غیر مہذب اور گنوار سمجھا جاتا ہے لہذا معاشرتی آداب پر معاشرے میں ہوتے ہیں، مگر اسلام نے جو آداب سکھائے ہیں وہ محض آداب نہیں ہیں، بلکہ متعدد پہلوؤں سے دیگر اقوام عالم سے مختلف ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ان میں عقیدہ بھی ہوتا ہے اور انسانی ہمدردی اور خیر خواہی بھی ہوتی ہے اور جہاں ہمدردی اور خیر خواہی، نیکی اور احسان ہوگا وہاں شکر بھی لازمی ہوگا۔
اور اگر کوئی کہے کہ دوسری قوموں کے ہاں بھی خیر خواہی ، نیکی اور حسن سلوک انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کی بنیاد پر بھی ہوتا ہے، تو ایک حد تک تو یہ بات ٹھیک ہے، مگر حقیقت میں ان کی انسانی ہمدردی اور اسلام کی بتائی ہوئی انسانی ہمدردی کے معیار میں بہت بڑا فرق ہے۔
اور وہ یوں کہ ان کے ہاں انسانی ہمدردی کا معنی و مفہوم اور معیار بڑا محد ود ہے، وہ صرف ایک انسان اور جاندار مخلوق ہونے کے ناطے ہمدردی کرتے ہیں اور انسانی ہمدردی کرتے ہوئے شہرت اور نام و نمود کی خواہش کو معیوب نہیں سمجھتے، جبکہ اسلام میں یہ جذبہ ہمدردی ایک انسان ہونے کے ناطے کیساتھ ساتھ خالص اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے، چنانچہ قرآن پاک میں ان کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے:
﴿وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا۝﴾ (الدهر:8)
’’ اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘
اور وہ دل میں یا زبان سے ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ:
﴿اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا۝﴾ (الدهر:9)
’’ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔‘‘
اسی طرح غیر مسلموں میں غریبوں کی ہمدردی، خیر خواہی اور معاونت کے حوالے سے کچھ لوگ ایسے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ:
﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ۙ﴾(یس:47)
’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو۔ ‘‘
﴿قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ۖۗ﴾ (يس:47)
’’تو کافر لوگ اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان کو کھلا ئیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔‘‘
یعنی جب اللہ ہی انہیں فقراء و مساکین رکھنا چاہتا ہے تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں۔ تو ان میں غریبوں کی مدد کے حوالے سے ایسی سوچ رکھنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں جبکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو غریبوں، مسکینوں محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی اس قدر تاکید شدید کرتا اور ترغیب دیتا ہے کہ دنیا کے کسی اور دین و مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دہ مشہور حدیث تو آپ نے ضرور سنی ہوگی، جس میں آپ ﷺنے پڑوی کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
((مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُورِّثُهُ))‘‘(سنن ابی داؤد:5152)
’’جبریل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے حقوق اور اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو مال میں حصہ داری بنادیا جائے گا۔‘‘
پڑوسی حالانکہ ضروری نہیں کہ غریب ہو، امیر بھی ہو سکتا ہے، صرف پڑوی ہونے کی حیثیت سے اس کے اتنے زیادہ حقوق ہیں۔ غریب، مسکین، ضرورت مند اور محتاج ہونے کی حیثیت سے اس کے کیا حقوق اور کیا مقام ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ کہ اسلام فقراء و مساکین کو بے حیثیت ، بے سرو سامان ، بے سہارا اور کمزور ہونے کے باوجود معاشرے کا حسن اور اہم ترین فرد قرار دیتا ہے۔
حدیث میں ہے، حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آپﷺ سے دریافت کیا:
((يا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا حَامِيَةَ الْقَوْمِ وَيَدْفَعُ عَنْ أَصْحَابِهِ أَيَكُونُ نَصِيبُهُ كَنَصِيبِ غَيْرِهِ))
’’اے اللہ کے رسول !کیا ایک ایسا شخص کہ جو قوم کی حفاظت کرتا ہے اور ان کا دفاع کرتا ہے کیا اُس کا حصہ دوسرے کے حصے جیسا ہوگا؟‘‘
حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا سوال یہ تھا کہ ایک ایسا شخص جو بہت بہادر اور شجاع ہے، جو بہت قومی، دلیر اور طاقتور ہے اور میدان جنگ میں اپنی شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے اپنے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں دشمن سے بچاتا ہے، کیا مال غنیمت میں سے اُس کا حصہ اور ایک عام آدمی کا حصہ کہ جو کمزور ہو اور ایسی خوبیاں نہ رکھتا ہو ایک جیسا ہو گا؟
سوال معقول معلوم ہوتا ہے اور سوال کرنے والے کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں اور السابقون الاولون میں سے ہیں، یعنی اسلام لانے والوں میں سے تیسرے یا ساتویں نمبر پر ہیں۔ وہ آپﷺ کے ننھیال میں سے تھے اس لئے آپﷺ کے ماموں لگتے تھے ایک بار آئے تو آپ ﷺنے انہیں دیکھ کر فرمایا:
((هَذَا خَالِي، فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ)) (سنن ترمذی:3752)
’’یہ میرے ماموں ہیں، کسی کا ان جیسا ماموں ہو تو دکھائے۔‘‘
حضرت سعد رضی اللہ عنہ زبردست تیر انداز تھے، معرکہ احد میں انہوں نے مشرکین پر ایک ہزار تیر برسائے۔ وہ تیر چلاتے تو آپ ﷺانہیں فرماتے:
((اِرْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي)) (صحيح البخاري:2905)
’’تیر چلاؤ میرے ماں باپ تم پر قربان‘‘
ان کے مناقب میں اور بہت سی باتیں ہیں مگر اس آخری بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ وہ ان چھ آدمیوں میں سے ایک تھے کہ جن کی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مجلس شوری بنائی کہ وہ اُن کے بعد کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں۔
تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے سوال کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ تو جواب میں آپ ﷺنے فرمایا:
((هل تُنصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ)) (صحيح البخاري:2896)
’’ تمہاری مدد و نصرت اور تمہیں رزق صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔‘‘
دنیا میں مسائل کے حل کے حوالے سے، بالخصوص نصرت و کامیابی اور حصول رزق کے معاملے میں لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ میدان جنگ میں یا دوسرے معاملات میں کامیابی علم عقل، طاقت، شجاعت اور بہادری اور اسلحے کے زور پر حاصل ہوتی ہے، اسی طرح رزق بھی علم ، عقل، ہنر اور محنت کے بل بوتے پر حاصل ہوتا ہے۔
اور ایک حد تک یہ بات صیح بھی ہے، کیونکہ یہ اسباب ہیں: نصرت و کامیابی کے اور حصول رزق کے۔ مگر یہ اس کے مادی اسباب ہیں۔ جبکہ مردہ حصول رزق یا کوئی اور کام ہو، اس کے دو طرح کے اسباب ہوتے ہیں، مادی اسباب اور معنوی اسباب ۔
اور اسباب کی اس قسم پر یعنی مادی اسباب پر لوگوں کی سوچ اٹک کر رہ گئی ہے، اس سے آگے نہیں جاتی اور اس کی وجہ کوتاہ نظری اور ایمان کی کمزوری ہے۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ:
﴿وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ﴾ (الانفال:60)
’’ اور تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو‘‘
اور یہاں ہر قسم کی قوت مراد ہے علمی، عقلی ، بدنی اور عددی قوت بھی مراد ہے اور آلات و اسلحے کی قوت بھی مراد ہے، یعنی دشمن سے مقابلے کے لئے تمام قسم کی تو تہیں جمع کر رکھو۔ مگر دوسری جانب یہ بھی فرما دیا کہ:
﴿وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ۝۱۲۶﴾ (آل عمران:128)
’’اور فتح و نصرت صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہے، جو بڑی قوت والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ مادی اسباب ضرور اختیار کرو مگر حقیقی اعتماد اور توکل صرف اللہ پر رہے۔ بصورت دیگر فتح و نصرت اور کامیابی حاصل نہ ہوگی بلکہ نا کامی کا سامنا کرنا پڑے گا اور شکست و ہزیمت سے دوچار ہونا پڑے گا اور تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ جب اپنی قوت پر تو کل کا عصر غالب ہوا تو تربیت سے دوچار ہونا پڑا۔ تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے سوال کا ذکر ہو رہا تھا، حضرت معصب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ ، اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بتا رہے تھے کہ:
((رَأَى سَعْدُ بن أبي وقاص أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ))
کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے سمجھا کہ انہیں دوسرے لوگوں پر ایک لحاظ سے فضیلت حاصل ہے یعنی وہ بہترین جنگجو اور تیر انداز ہیں، شجاع اور بہادر ہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی قوت اور بہادری سے دوسروں کا دفاع کرتے ہیں۔ لہذا اس حساب سے مال غقیمت میں بھی ان کا حصہ زیادہ بنتا ہوگا۔ مگر آپﷺ نے فرمایا:
((هل تُنصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ)) (صحيح البخاري:2896)
’’تم لوگ صرف اپنے کمزوروں اور ضعیفوں کی وجہ سے مدد و نصرت اور رزق دیے جاتے ہو۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ تمہاری شجاعت، بہادری، تمہاری کار کردگی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، مگر فتح و نصرت اور حصول رزق کا ایک دوسرا لازمی پہلو اور عنصر تم نے نظر انداز کر دیا ہے اور وہ ہے غریبوں اور کمزوروں کا وجود کہ ان کا وجود معاشرے کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
فتح و نصرت کا انحصار صرف اور صرف تمہاری قوت، تمہاری جاں نثاری اور تمہارے مال و دولت پر نہیں ہے بلکہ اس میں غریبوں ، کمزوروں اور ضعیفوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے سوال کے جواب میں آپ ﷺنے فرمایا: ((إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذه الأمة بضعيفها، بدعوتهم، وصلاتهم، واخلاصهم)) (سنن نسائی: 3178)
’’اللہ تعالی اس امت کو فتح و نصرت اور کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے اس امت کے کمزوروں کی وجہ سے ان کی دعاؤں ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دینا ہے جو مسکینوں، یتیموں ، کمزوروں، ناداروں اور بے سہاروں کے ساتھ حسن سلوک، مدد و اعانت اور احسان کی تاکید کرتا اور ترغیب دیتا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے، غریب ہونے کے سبب، پڑوسی ہونے کی وجہ سے، ان کے امت کے لئے مدد و نصرت کا باعث ہونے کے سبب اور اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے۔ اور آخر میں ایک اور سبب کا اضافہ کرتے چلیے اور وہ ہے: ان کی آخرت سنوارنے اور انہیں جہنم سے بچانے کے لئے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عامر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ:
((انَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللهِ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ))
’’کہ آپﷺ نے کچھ لوگوں کو مال دیا، اور میں ان میں بیٹھا ہوا تھا۔‘‘
((قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ مِنْهُمْ رَجُلاً، لَمْ يَعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إلَىَّ))
’’ آپ ﷺنے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اُسے کچھ نہ دیا اور وہ اُن میں سے مجھے سب زیادہ پسند تھا،‘‘ یعنی نیکی اور تقوی کی وجہ سے۔
((فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَالَكَ عَنْ فُلان وَاللهِ إِنِّي لَا رَاهُ مُؤْمِنًا ، قَالَ أَوْ مُسْلِماً))
’’ تو میں اٹھا اور جاکر آپ سے کام سے سرگوشی کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ آپ فلاں شخص کو کیوں نہیں دے رہے۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مؤمن آدمی ہے‘‘
تو آپ ﷺنے فرمایا: مومن یا مسلمان ؟‘‘ (صحیح مسلم:150)
اسی طرح آپﷺ نے دوسری بار لوگوں کو دینا شروع کیا اور اسے پھر کچھ نہ دیا، تو حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سمجھے کہ شاید آپﷺ بھول گئے، چنانچہ انہوں نے یاد دہانی کے لئے پھر ویسے ہی سرگوشی کی ۔ اسی طرح تیسری بار آپ نے دینا شروع کیا پھر اسے چھوڑ دیا، حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے پھر سر گوشی کی، تو جب آپ ﷺنے فرمایا:
((إني لا عطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَى مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِه))
’’ فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس ڈر سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ دھکیل دیا جائے ۔ ‘‘
یعنی کوئی آدمی کمزور ایمان کا ہوتا ہے تو اسے تالیف قلب کے لئے دیتا ہوں کہ کہیں وہ اسلام سے نکل نہ جائے اور کوئی اور دین نہ اختیار کرلے جس کے نتیجے میں وہ جہنم میں پھینک دیا جائے۔ اس دور میں خرچ کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ بہت سے اسلامی ملکوں میں عیسائی مشنریز کام کرتی ہیں اور وہ لوگوں کو کافر بناتے ہیں۔ تا ہم وجہ جو بھی ہو، جس وجہ سے بھی کسی کی مدد و اعانت کی جاتی ہو اس پر شکر ادا کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۝﴾ (آل عمران:8)
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
…………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں