1
زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے جو صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔ یہ صرف مالی عبادت نہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور ہمدردی کا عملی اظہار بھی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال پاک ہوتا ہے، دل میں بخل کم ہوتا ہے اور معاشرے کے غریب و مستحق افراد کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے مال کا درست حساب لگائیں، سال مکمل ہونے پر شرعی طریقے سے زکوٰۃ ادا کریں اور اسے مستحق لوگوں تک دیانت داری کے ساتھ پہنچائیں۔ اگر ہر صاحبِ حیثیت مسلمان باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرے تو غربت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور معاشرہ توازن اور بھائی چارے کی خوبصورت مثال بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیںزکوۃ کی ادائیگی اور ہماری ذمہ داری
2
3
4
5
6
7
8
9
زکاۃ خوش دلی اور ثواب کی نیت سے ادا کرنی چاہیے 349۔سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، لَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ، فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ)) (أخرجه ابن خزيمة:2336،…
مزید پڑھیںزکاۃ خوش دلی اور ثواب کی نیت سے ادا کرنی چاہیے
10
شرائط قبولیت برائے صدقات إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَ نَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ﴿ اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا…
مزید پڑھیںشرائط قبولیت برائے صدقات