41
تزکیۂ نفس کا مطلب ہے اپنے دل، روح اور کردار کو برائیوں سے پاک کر کے نیکی اور تقویٰ سے سنوارنا۔اسلام میں انسان کی کامیابی صرف عبادتوں سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور اخلاقی اصلاح سے بھی وابستہ ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ کامیاب ہوا” — (سورۃ الشمس: 9)تزکیۂ نفس ہمیں غرور، حسد، غیبت، اور نفرت جیسے امراضِ قلب سے بچاتا ہے اور دل میں ایمان، صبر، شکر اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔یہی تزکیہ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں سکون و کامیابی عطا کرتا ہے۔
مزید پڑھیںتزکیہ نفس کیا ہے کیوں ضروری ہے؟
42
43
44
45
46
47
48
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ مجاہد ، عالم دین، قاری قرآن اور سخی میں ریا کاری اور فخر آجائے تو اعمال برباد ہو جاتے ہیں 1089 / 1905 صحیح مسلم
مزید پڑھیںتکبر ! عبادات میں بھی برا دنیا داری میں بھی برا
49
50