1
غزوہ بدر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچا ایمان، صبر اور اللہ پر کامل بھروسا کامیابی کی کنجی ہے۔ اس معرکے میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی مگر ان کے حوصلے بلند اور ایمان مضبوط تھا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ غزوہ بدر ہمیں اتحاد، قربانی اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد پیدا کریں، صبر و حکمت سے کام لیں اور اللہ پر بھروسا رکھتے ہوئے حق اور انصاف کے راستے پر قائم رہیں۔
مزید پڑھیںغزوہ بدر سے اسباق اور موجودہ حالات
2
ایک مسلمان کی سب سے قیمتی متاع ایمان ہے۔ اگر ایک جگہ رہتے ہوئے اسلام پر عمل پیرا ہونا مشکل اور زندگی گزارنا ناممکن ہو تو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم ہے۔ ایسے ہی ایمان کے منافی فتنوں اور برے اعمال سے پناہ طلب کرنے کا حکم ہے۔ حدیث میں دجال کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے،…
مزید پڑھیںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دفاعی اور عسکری پالیسی
3
اسلامی تاریخ کسی فرد، جماعت یا قوم کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور فکری تاریخ کا نام ہے، اسی لیے علامہ محمد اقبال ہم اللہ نے مسلم اجتماعیت کے لیے امت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اجتماعیت سے ہٹ کر جب بھی اسلامی اصولوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمزوری کا مظاہرہ ہوا تو مسلم مفکرین، اہل علم و…
مزید پڑھیںمسلم فاتحین کی شجاعت کے اسباب اور واقعات
4
5
6
7
غزوہ بدر (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ) [Surat Aal-E-Imran 123] قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ واپس لوٹ رہا تھا اس قافلے میں اہل مکہ کی بڑی دولت تھی ، یعنی ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم ازکم پچاس ہزار دینار (دوسو ساڑھے باسٹھ کلو سونے ) مالیت کا سازوسامان بار…
مزید پڑھیںغزوہ بدر