08. تاریخ وسیرت

کل خطبات: 13
اس کیٹگری سے متعلق تمام دستیاب خطبات نیچے ملاحظہ فرمائیں۔
31
غدیر خم کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی ولایت اور اہلِ بیت کی عظمت سے آگاہ فرمایا۔ اس دن آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ "من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ”، یعنی جو میرا دوست اور رہنما ہے، وہ علیؓ کا بھی دوست اور رہنما ہے۔ اہلِ بیت کی فضیلت قرآن و حدیث میں بار بار بیان ہوئی ہے، اور انہیں پیغمبر ﷺ کی شفاعت، قرب اور امت کی رہنمائی کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت کے احترام اور محبت میں ایمان کی تکمیل مضمر ہے، اور ان کے فضل اور قرب سے دنیا و آخرت میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیںغدیر خم کی تفصیل اور اہل بیت کے فضائل
32
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
رسول رحمت ﷺ کی زندگی رحمت، حسن اور جمال کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کا چہرہ نورانی، اخلاق مہربان اور ہر عمل میں حسن سلوک نمایاں تھا۔ آپ ﷺ کی بشارتیں ایمان والوں کے دلوں میں امید اور خوشی پیدا کرتی تھیں، اور آپ ﷺ کی شخصیت ہر انسان کے لیے محبت، شفقت اور رحمت کا درس تھی۔ حضور ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حسن و جمال صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہونا چاہیے، اور حقیقی خوشی اللہ کی رضا اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔
مزید پڑھیںرسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم بشارتیں اور حسن و جمال
33
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
نبی کریم ﷺ کے آخری ایام نہایت درد، وصیت اور امت کی خیر خواہی سے بھرپور تھے۔ بیماری کے باوجود آپ ﷺ کی سب سے بڑی فکر امت کی ہدایت اور وحدت تھی۔ آخری لمحات میں بھی آپ ﷺ بار بار نماز کی اہمیت اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرماتے رہے۔ جب وقتِ وصال قریب آیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: "اللهم الرفیق الأعلى” — یعنی "اے اللہ! مجھے اعلیٰ رفیق کے پاس لے جا۔” یہی آپ ﷺ کا آخری کلمہ اور آخری خواہش تھی، اور اسی عظیم جملے کے ساتھ آپ ﷺ کی زندگی ختم ہوئی۔ یہ لمحہ پوری امت کے لیے عشق، درد اور سیرت کا روشن ترین سبق ہے۔
مزید پڑھیںوفات النبی، آخری ایام ، آخری لمحات اور آخری کلمہ
34
عشرۂ مبشرہ کے علاوہ بھی کئی عظیم صحابہ کرام ایسے ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر جنت کی خوشخبری سنائی۔ ان میں سیدنا حسان بن ثابتؓ، سیدنا بلالؓ، سیدنا عکاشہ بن محصنؓ، سیدنا عبداللہ بن سلامؓ، اور سیدنا فاطمہؓ کے گھر والوں سمیت کئی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔ ان صحابہ نے ایمان، قربانی، خدمتِ دین اور نبی ﷺ کی اطاعت میں ایسے مقام حاصل کیے کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں ان کے لیے جنت کی بشارت بیان فرمائی۔ یہ خوشخبری ان کے اعلیٰ کردار، اخلاص اور اللہ کے دین کے لیے بے مثال جدوجہد کا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیںعشرہ مبشرہ کے علاوہ جنت کی بشارت پانے والے صحابہ کرام
35
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ﷺ، عظیم مدبر، عادل حکمران اور اعلیٰ منتظم تھے۔آپ نے اپنی دور اندیشی، عدل و انصاف اور علم و حکمت سے امت کو استحکام عطا کیا۔ان کی قیادت میں اسلامی سلطنت نے ترقی و وسعت کے نئے دور میں قدم رکھا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں حکمت، صبر اور عدل کا سبق دیتی ہے — آپ کی خدمات اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
مزید پڑھیںامیرالمؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
36
سيد و فاطمۃ الزھر اورضی اللہ عنہا کے باغ فدک کی وراثت طلب کرنے کا ذکر صحیح بخاری 6725 عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السَّلَامُ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَحِسَانِ مِيرًا فَهُمَا مِن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِن فَدَكَ وَسَهْمَهُما مِن خَيْبَرَ ، فَقَالَ لهما أبو بَكْرٍ : سَمِعْتُ رسول اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم يقول: لا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُل ال مُحَمَّدٍ مِن هذا المَالِ قَالَ أَبو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ فاطمہ اور عباس علیہما السلام ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی می نام کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی علیم سے سنا ہے آپ صلی الہ ہم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں دوب صدقہ ہے ، بلا شبہ آل محمد اس مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی علم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔
مزید پڑھیںباغ فدک کا قصہ
37
احد پہاڑ پر سید نا ابو بکر صدیق اور سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا ذکر صحیح بخاری 3675 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ صَعِدَ أَحَدًا، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ : اثْبُتْ أُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِي وَصِدِيقٌ وشَهِيدَانِ. انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
مزید پڑھیںابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما
38
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
ساری فطری محبتوں اور چاہتوں سے بڑھ کر ایک مسلمان کو جناب رسول اللہ علیم سے محبت کرنا جزو ایمان ہے، یہ محبت رسول کی علامت بھی ہے اور کامل ایمان کی نشانی بھی۔ دنیا میں تمام حقوق کی ادائیگی سے زیادہ رسول اللہ سے ہم کا حق ادا کرنا سب سے مقدم ہے، آپ کی وساطت سے انسانیت کو…
مزید پڑھیںمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات اور واقعات
39
40
  • Post category: 08. تاریخ وسیرت > سیرت رسول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے الأحزاب : 06 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود لوگوں کے لیے ڈھال* فرمایا : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ…
مزید پڑھیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم