1
آیت "وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ہدایت اور بعثت کو تمام انسانیت اور مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق، اور سیرت ہر دل میں رحمت، ہدایت اور سکون لانے کا ذریعہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی شفقت، انصاف، صبر اور محبت کا مظہر ہے، اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی اتباع اور تعلیمات پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں برکت اور ہدایت کا باعث ہے۔
مزید پڑھیںوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
2
آیت "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان و مرتبہ کو بلند فرمایا ہے اور دنیا و آخرت میں آپ کا ذکر بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی عظمت اور مقام نہ صرف مخلوق میں بلند ہے بلکہ اللہ کی ذات کے نزدیک بھی آپ کی یاد اور شان ہمیشہ بلند رہے گی۔ ہمیں اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات، اخلاق اور سیرت کو اپنانا ہر مومن کے لیے باعث عزت اور برکت ہے، کیونکہ آپ کا ذکر اور مقام صرف عبادت، اتباع اور محبت کے ذریعے ہی ہمارے دلوں میں بھی بلند ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںورفعنا لك ذكرك
3
اسلام میں نبی کریم ﷺ کے معجزات اور نشانیوں کا بڑا مقام ہے، جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور حقانیت کا یقین دلانے کے لیے ظاہر کیے۔ ان میں چاند کے دو ٹکڑوں کا واقعہ بھی شامل ہے، جو ایک عظیم نبوی کرامت کے طور پر مشہور ہے۔ یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر محیط ہے اور نبی ﷺ کی صداقت کی علامت ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان معجزات کو ایمان کی بنیاد کے طور پر سمجھے، ان میں شک نہ کرے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرے، کیونکہ یہ کرامات اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی رسالت کی نشانی ہیں۔
مزید پڑھیںمعجزات نشانیاں اور چاند کے دو ٹکڑے
4
رسول رحمت ﷺ کی زندگی رحمت، حسن اور جمال کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کا چہرہ نورانی، اخلاق مہربان اور ہر عمل میں حسن سلوک نمایاں تھا۔ آپ ﷺ کی بشارتیں ایمان والوں کے دلوں میں امید اور خوشی پیدا کرتی تھیں، اور آپ ﷺ کی شخصیت ہر انسان کے لیے محبت، شفقت اور رحمت کا درس تھی۔ حضور ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حسن و جمال صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہونا چاہیے، اور حقیقی خوشی اللہ کی رضا اور پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔
مزید پڑھیںرسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم بشارتیں اور حسن و جمال
5
نبی کریم ﷺ کے آخری ایام نہایت درد، وصیت اور امت کی خیر خواہی سے بھرپور تھے۔ بیماری کے باوجود آپ ﷺ کی سب سے بڑی فکر امت کی ہدایت اور وحدت تھی۔ آخری لمحات میں بھی آپ ﷺ بار بار نماز کی اہمیت اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرماتے رہے۔ جب وقتِ وصال قریب آیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: "اللهم الرفیق الأعلى” — یعنی "اے اللہ! مجھے اعلیٰ رفیق کے پاس لے جا۔” یہی آپ ﷺ کا آخری کلمہ اور آخری خواہش تھی، اور اسی عظیم جملے کے ساتھ آپ ﷺ کی زندگی ختم ہوئی۔ یہ لمحہ پوری امت کے لیے عشق، درد اور سیرت کا روشن ترین سبق ہے۔
مزید پڑھیںوفات النبی، آخری ایام ، آخری لمحات اور آخری کلمہ
6
ساری فطری محبتوں اور چاہتوں سے بڑھ کر ایک مسلمان کو جناب رسول اللہ علیم سے محبت کرنا جزو ایمان ہے، یہ محبت رسول کی علامت بھی ہے اور کامل ایمان کی نشانی بھی۔ دنیا میں تمام حقوق کی ادائیگی سے زیادہ رسول اللہ سے ہم کا حق ادا کرنا سب سے مقدم ہے، آپ کی وساطت سے انسانیت کو…
مزید پڑھیںمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات اور واقعات
7
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے الأحزاب : 06 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود لوگوں کے لیے ڈھال* فرمایا : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ…
مزید پڑھیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا غم
8
نبی کریم صلی ال سلیم کا حلیہ مبارک سیدنا انس بن مالک بنی اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی ا ہم نہ تو بہت زیادہ دراز قامت تھے اور نہ ہی بہت پست قامت، رنگ بہت زیادہ سفید تھا نہ ہی زیادہ گندمی ، بال نہ زیادہ گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی الم…
مزید پڑھیںنبی کریم کےجسمانی اوصاف وبرکات
9
معجزے کا معنی و مفہوم : جہاں تک معزے کے لغوی مفہوم کا تعلق ہے تو وہ ہے مد مقابل کو مقابلے میں ہرا دینا اور عاجز کردینا۔ یہ ایک خارق عادت امر ہے، جو لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اس جیسا کام کرنے سے عاجز کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معجزے کو اس شخص کے ہاتھوں…
مزید پڑھیںمعجزاتِ مصطفی
10
سیدنا انس بھی اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا : میرے پاس براق لایا گیا، وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا ، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا ، وہ اپنا قدم اپنی حد نظر تک رکھتا تھا۔ آپ صلی الہ ہم نے فرمایا : میں اس پر سوار ہو گیا،…
مزید پڑھیںمعجزاتِ مصطفی(حصہ دوم)