1
غزوہ بدر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچا ایمان، صبر اور اللہ پر کامل بھروسا کامیابی کی کنجی ہے۔ اس معرکے میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی مگر ان کے حوصلے بلند اور ایمان مضبوط تھا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ غزوہ بدر ہمیں اتحاد، قربانی اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد پیدا کریں، صبر و حکمت سے کام لیں اور اللہ پر بھروسا رکھتے ہوئے حق اور انصاف کے راستے پر قائم رہیں۔
مزید پڑھیںغزوہ بدر سے اسباق اور موجودہ حالات
2
سيد و فاطمۃ الزھر اورضی اللہ عنہا کے باغ فدک کی وراثت طلب کرنے کا ذکر صحیح بخاری 6725 عن عائشة أن فاطمة والعباس عليهما السَّلَامُ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَحِسَانِ مِيرًا فَهُمَا مِن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِن فَدَكَ وَسَهْمَهُما مِن خَيْبَرَ ، فَقَالَ لهما أبو بَكْرٍ : سَمِعْتُ رسول اللهِ صَلَّى الله عليه وسلم يقول: لا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُل ال مُحَمَّدٍ مِن هذا المَالِ قَالَ أَبو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ فاطمہ اور عباس علیہما السلام ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی می نام کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی علیم سے سنا ہے آپ صلی الہ ہم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں دوب صدقہ ہے ، بلا شبہ آل محمد اس مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی علم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔
مزید پڑھیںباغ فدک کا قصہ
3
اسلامی تاریخ کسی فرد، جماعت یا قوم کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور فکری تاریخ کا نام ہے، اسی لیے علامہ محمد اقبال ہم اللہ نے مسلم اجتماعیت کے لیے امت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اجتماعیت سے ہٹ کر جب بھی اسلامی اصولوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں کمزوری کا مظاہرہ ہوا تو مسلم مفکرین، اہل علم و…
مزید پڑھیںمسلم فاتحین کی شجاعت کے اسباب اور واقعات
4
مسجد اقصیٰ اسلام کا ایک مرکز ﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۝﴾(الاسراء:1) یہ دنیا مسائل کا گھر ہے، یقینًا کسی کو اس سے اختلاف نہ ہوگا، ہر انسان کو زندگی میں بے شمار مسائل سے گزرنا پڑتا ہے، وہ مسائل ذاتی اور انفرادی بھی…
مزید پڑھیںمسجد اقصیٰ اسلام کا ایک مرکز
5
آج مسلمان بے توقیر کیوں ہیں؟ ﴿وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران:139) ہر باشعور مسلمان کو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، یہ دور امت مسلمہ کے زوال اور انحطاط کا دور ہے، پستی اور گراوٹ اور ذلت و رسوائی کا دور ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ امت مسلمہ کا ماضی نہایت…
مزید پڑھیںآج مسلمان بے توقیر کیوں ہیں؟
6
7
8
9
سن ہجری کے سن عیسوی سے چند امتیازات   اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ‌ ؕ وَقَاتِلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ كَآفَّةً‌  ؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ (توبہ 36) بیشک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ…
مزید پڑھیںسن ہجری کے سن عیسوی سے چند امتیازات