عيد الأضحى

عيد الأضحى

الله اكبر، الله اكبر، الله أكبر، الله اکبر، الله اكبر، الله اكبر، الله أكبر، الله اكبر، الله اکبر، الله اكبر، الله اكبر . لا اله الا الله والله اكبر، الله اكبر ولله الحمد، الله اكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة واصيلا. ان الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيات اعمالنا. ﴿وَ الْفَجْرِۙ۝۱
وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ۝۲ وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ۝۳ وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ۝۴﴾ (الفجر:1۔4)
آج کا دن جو کہ عیدالاضحی کا دن ہے، ان دس ایام میں سے ایک ہے جو سال بھر کے دنوں میں سے سب سے افضل ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((مَا مِنْ أَيَّامِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الأيام، يعني أَيَّامَ العَشْرِ))
’’ فرمایا: کوئی دن ایسے نہیں ہیں جن میں کیا ہوا عمل صالح ان دنوں میں کئے ہوئے عمل سے اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہو، یعنی ان دس دنوں میں ۔‘‘
((قَالُوا يَا رَسُولَ الله وَلَا الْجِهَادُ فِي سبيل الله!))
’’صحابہ رضی اللہ تعالی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟‘‘
((قال: وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ))
’’فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ۔‘‘
((إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بنفسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعُ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْ)) استن ابی داود:2438)
’’البتہ وہ شخص جواپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کے لئے نکلا ، مگر ان میں سے کچھ بھی واپس لے کر نہ لوٹا ہو۔‘‘
ان ایام کی فضیلت کو آپ سے نے ایک دوسری حدیث میں ایک دوسرے انداز میں یوں بیان فرمایا:
((أَفْضَلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامُ العَشْرِ)) (صحيح الجامع:1133)
’’پوری دنیا کے تمام ایام میں سے یہ دس دن سب سے افضل ہیں ۔‘‘
یعنی دنیا کی زندگی میں جو جو ایام جس جس نسبت سے بھی ہوں ذوالحجہ کے پہلے دس روز ان تمام ایام سے افضل ہیں ۔ اب یہاں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت میں تھوڑی سی تفصیل ہے، مناسب ہوگا کہ وہ بھی معلوم کرتے چلیں اور وہ یہ کہ جب ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیات کا ذکر ہوتا ہے تو اُس سے مراد ان کی راتیں بھی ہوتی ہیں، یعنی راتوں سمیت دی دن، لیکن علماء کرام نے قرآن وحدیث میں ذکر ہونے والے تمام شب و روز کی فضیلت کو سامنے رکھ کر ان کے اسباب و وجوہات پر غور کرنے کے بعد جو مسائل ذکر کئے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے دس دن اور دس راتیں باقی تمام دنوں اور راتوں سے افضل ہیں ، سوائے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی دس راتوں کے۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں میں تمام بڑے بڑے اور فضیلت والے کام دن کے اوقات میں ادا ہوتے ہیں جیسا کہ وقوف عرفہ دن کے وقت ہوتا ہے، یوم اخر یعنی قربانی کا دن بھی دن کی نسبت سے کہلاتا ہے، یوں الترویہ بھی دن کے وقت میں ہوتا ہے، جبکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی فضیلت اس کی راتوں میں کئے جانے والے عمل کی وجہ سے ہوتی ہے اور وہ ہے راتوں کو جاگ کر لیلۃ القدر کی تلاش کرنا۔
لہٰذا اگر افضل دنوں کی بات ہو تو وہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں اور اگر افضل راتوں کی بات ہو تو وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتیں سب سے افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر ہے۔ تو عشرہ ذوالحجہ کے دس دن سال نجر کے دنوں سے افضل ہیں اور ان کی فضیلت کی متعدد وجوہات میں سے چند بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ ایک تو ان میں فضا اللہ تعالی کی عظمت و توحید اور تسبیح و تحمید سے گونج اٹھتی ہے اور دوسرے یہ کہ ان میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے قربانیوں کے ایمان پرور مناظر عروج پر ہوتے ہیں اور یہ دو عمل حج کی فضیلت کو چار چاند لگا دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپﷺ سے دریافت کیا گیا:
((أَيُّ الْحَج أَفْضَلُ)) ’’کون ساحج سب سے افضل ہے؟‘‘
تو آپﷺ نے فرمایا: ((العَجُّ والثَّجُّ)) (صحيح الترمذي ، للألباني:827)
’’بآواز بلند تلبیہ کہنا اور قربانی کا خون بہانا‘‘
تو عشرہ ذوالحجہ کے دن اس لئے افضل ہیں کہ ان میں ایک یوم عرفہ بھی ہے کہ جس میں غیر حاجی کے روزہ رکھنے سے دو سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور حاجیوں کے لئے باعث خیر و برکت اور باعث مغفرت ہوں ہوتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
((مَا مِنْ يَوْمَ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُّعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْداً مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عرفة))
’’ عرفہ کے دن سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں سب سے زیادہ اللہ تعالی بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔‘‘
((وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هُولاء)) (سنن ابن ماجه: ‎3014)
’’ پھر وہ اپنے فضل و رحمت سے ان کے قریب ہوتا ہے اور ان پر فخر کرتے ہوئے فرشتوں سے کہتا ہے کہ (ما أراد هؤلاء) یہ لوگ بھلا کیا چاہتے ہیں؟‘‘
یعنی یہ لوگ جو اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر آئے ہیں، اپنے گھر بار کو چھوڑ کر آئے ہیں اپنے مال خرچ کیے ہیں اور سفر کی صعوبتوں سے دوچار اور تھکن سے چور چور ہوئے جاتے ہیں یہ سب کچھ بھلا کس لئے ہے صرف اس لئے کہ یہ اللہ تعالی سے اپنے گنا ہوں کی بخشش اور مغفرت کے طلبگار ہیں ، اس کی رضا اور اس کا قرب چاہتے ہیں؟
تو ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن نہایت ہی فضیلت والے دن میں ان میں کثرت سے تسبیح تقلیل اور تکبیر و حمید کہنے کی ترغیب ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام کی تمام تر تعلیمات سراسر معتدلانہ ہیں، حتی کہ خوشی کے تہوار بھی مکمل طور پر پر اعتدال ہیں چنانچہ عید الفطر ہو یا عیدالاضحی جہاں ان دنوں میں سنجیدگی اور متانت ہے۔ عبادت ہے، ذکر وفکر ہے تسبیح و تہلیل ہے، وہاں کھیل کو د اور ہنسی مذاق بھی ہے، خوش گپیاں بھی ہیں اور خوردونوش بھی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے آپﷺ نے فرمایا:
((يَومُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النحر وَأَيَّام التَّشْرِيْق، عِيدُنَا أَهْلَ الإسلام وَهِيَ أَيَّامُ أَكلٍ وشربٍ)) (سنن ابی داود: 2419)
’’عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایام تشریق ( یعنی ذوالحجہ کی11۔12 اور13 تاریخ ) ہم مسلمانوں کی عید ہے اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘
اسی طرح اسلام کے مقرر کردہ خوشی کے تہوار غریبوں، مسکینوں اور معاشرے کے کمزور افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی اور خیر خواہی کے دن ہیں۔ چنانچہ عید الفطر کے موقع پر اسلام نے فطرانے کی صورت میں غریبوں کا ایک حصہ مقرر کر دیا ہے اور عید الاضحی کے موقعے پر قربانی کے گوشت کی صورت میں ان کے ساتھ تعاون کی ترغیب دے رکھی ہے، تاکہ وہ بھی خوشی میں شریک ہوسکیں۔ اس موضوع پر مزید گفتگو کی ضرورت ہے مگر چونکہ آج جمعہ بھی ہے اس لئے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں