فکر آخرت ، عقلمندی، دوراندیشی اور سنجیدگی کی علامت

فکر آخرت ، عقلمندی، دوراندیشی اور سنجیدگی کی علامت

﴿﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۝۵﴾ (فاطر:5)
گذشتہ چند جمعوں سے آخرت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور سمجھنے سے مراد ایسی سمجھ ہے جو دل میں اتر جائے، جو دل میں گھر کر جائے، جس کے مطابق عمل کئے بغیر چارہ نہ رہے، ایسی سمجھ جو دو اور دو چار کی طرح واضح اور روشن ہو، کہ جہاں ہم اپنے آپ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔
جو شخص دو اور دو چار کی حقیقت کو سمجھتا ہے کیا اُس نے کبھی دو اور دو تین یا دو اور دو پانچ کا حساب لگا کر اپنے آپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ غلط حساب لگا کر وہ اپنے آپ کو دھو کہ تو دے سکتا ہے مگر حقیقت نہیں بدل سکتا۔ تو آخرت کی حقیقت کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اللہ کرے کہ ہمیں سمجھ میں آجائے۔
دور کی حقیقت کو دور اندیش ہی سمجھتا ہے، جبکہ کوتاہ بین کی نظر نزدیک کے مفادات پر ہوتی ہے۔ دنیا کا مطلب قریب والی زندگی اور اُخروی یا آخرت کا معنی: بعد والی یا دوسری زندگی کوتا و نظری اور دور اندیشی کے فرق کو آپ یقینًا سمجھتے ہوں گے اور جانتے ہوں گے کہ دور اندیش کے مقابلے میں کوتاہ نظر ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے اصلی حقیقی اور دائمی مفادات کو نظر انداز کر کے ادنی سطحی، حقیر، ادھورے اور عارضی مفادات کو اختیار کرتا ہو اور عاقبت نا اندیش ہو۔
ہم میں سے کون کتنا دور اندیش ہے اور کون کتنا کوتاہ نظر اور عاقبت نا اندیش ہے اللہ کے بعد انسان خود بھی اپنے بارے میں جان سکتا ہے کیونکہ انسان اپنے آپ کو خوب سمجھتا ہے﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ۝۱۴
وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ۝۱۵﴾ ’’انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذر تیں پیش کرے۔‘‘
کوتاہ نظری انسان کی ایک فطری کمزوری ہے، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں،
﴿كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ۝۲۰
وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ۝۲۱﴾ (القيامه:20۔21)
’’اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز ( یعنی دنیا ) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘
اس فطری کمزوری پر کیا ہم نے بھی قابو پانے کی کوشش کی اور پھر کیا ہمیں اس میں کچھ کامیابی ہوئی ؟ مجموعی طور پر تو اس کا جواب نفی میں ہی نظر آتا ہے البتہ انفرادی طور پر یقینًا بہت سے لوگ اس فطری کمزوری پر قابو پانے میں کامیاب ہوتے ہوں گے یعنی دنیا کے بجائے آخرت سے محبت رکھتے ہوں گے۔
تاہم دنیا سے محبت ہی فکر آخرت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(( مَنِ ادَّعَى أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ حُبِّ الدُّنْيَا وَحُبِّ خَالِقِهَا فِي قَلْبِهِ فَقَدْ كَذَبَ)) (فيض القدير:4269)
’’جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے دل میں دنیا کی اور اس کے خالق کی محبت دونوں پائی جاتی ہیں تو اس نے جھوٹ بولا ۔‘‘
یعنی جس دل میں دنیا کی محبت ہو اس میں آخرت کی محبت ہو نہیں ہو سکتی اور جس دل میں آخرت کی محبت اس میں دنیا کی محبت نہیں رہ سکتی، اور دنیا کی محبت بھی ایک فطری کمزوری ہے، جیسا کہ متعدد آیات و احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں ہے۔
﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْر لَشَدِيدٌ﴾ (العاديات:8)
’’وہ مال کی محبت میں بہت ہی سخت ہے۔‘‘
اور﴿جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ۝﴾ (الهمزة:2)
’’وہ مال جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے۔‘‘
اور یہ شدت محبت کا ہی نتیجہ ہے۔
اور حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الأمل)) (صحيح بخاري:6420)
’’بوڑھے انسان کا دل دو چیزوں میں ہمیشہ جوان رہتا ہے: دنیا کی محبت اور لمبی امیدوں میں ۔‘‘
دنیا کی محبت ان معنوں میں یقینًا بری نہیں ہے اور نہ منع ہے کہ دنیا کی جائز اور مباح چیزوں سے جائز حد تک استفادہ کیا جائے اور شوق سے کیا جائے ، بلکہ دنیا کی نعمتیں اصل میں میں ہی مسلمان کے لئے جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ﴾(الاعراف:32)
’’ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا ہے ، اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں ، کہو! یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتا انھی کے لیے ہوں گی ۔‘‘
تو دنیا کی نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں، پھر دوسروں کے لیے بالتبع ہیں۔ تو دنیا کی محبت بری اس وقت قرار پاتی ہے جب حد سے تجاوز کر جائے جب دنیا کی محبت میں جائز اور نا جائز کا فرق ختم ہو جائے، جائز اور حلال طریقے سے کمائی ہوئی دولت کو جائز طریقے سے استعمال کریں گے تو اس کے نقصانات سے بچ سکیں گے ورنہ وہ سراسر وبال جان ہوگی۔
اسلام میں دولت حاصل کرنے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، جتنی چاہیں دولت جمع کر لیں مگر اسلام کے مقرر کردہ اصولوں کے تابع ہو کر۔ قارون کا ذکر تو آپ نے قرآن پاک میں پڑھا ہوگا، اس کے پاس دولت کی کتنی بڑی مقدار ہو سکتی ہے اس کا اندازہ آپ اللہ تعالی کے اس فرمان سے لگا سکتے ہیں:
﴿وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ ۗ ﴾ (القصص:76)
’’اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اُن کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔‘‘
اللہ تعالی نے دولت جمع کرنے کی اُس پر کوئی پابندی نہیں لگائی کوئی سرزنش نہیں کی بلکہ اس کے استعمال کا طریقہ بتلایا ہے، چنانچہ ان نصیحتوں کا ذکر فرمایا جو اس ضمن میں اُس کی قوم نے اسے کیں۔
اُس کی قوم نے اسے پانچ نصیحتیں کیں، ہر دولت مند شخص کے لئے ان کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
اس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا:
٭ ﴿ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ۝۷۶﴾ (القصص:76)
’’پھول نہ جاء اللہ تعالی پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘
خوشی سے ایسا پھولنا کہ وہ خوشی اسے فخر و مباہات پر آمادہ کر دے اور آخرت سے غافل کر دے۔
٭ ﴿وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ﴾ (القصص:77)
’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اُس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر یعنی صدقہ خیرات کر اللہ کی راہ میں خرچ کر۔‘‘
٭ ﴿وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا ﴾(القصص:77)
’’اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔‘‘
یعنی یہ نہیں کہتے کہ سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، بلکہ دنیا میں بھی اس سے مستفید ہو، اور اس سے آخرت بھی بنا۔
٭ ﴿وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ ﴾ (القصص:77)
’’اور احسان کر جس طرح اللہ تعالی نے تیرے ساتھ احسان کیا ۔‘‘
یعنی لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت یہ مت بھول کہ اللہ تعالی کا تجھ پر احسان ہے، دولت حاصل کرنا اور پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تیرا اپنا کمال نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا تجھ پر احسان ہے۔
٭ ﴿وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ﴾ (القصص:77)
’’اور زمین میں فساد بر پا کرنے کی کوشش نہ کر۔‘‘
دولت کے طبعی نتائج و نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دولت آنے پر عموماً انسان کے خیالات، اس کی زبان اور اس کے طرز عمل میں منفی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ وہ خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے کسی قسم کی اخلاقی ، قانونی اور شرعی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی پرواہ بھی نہیں کرتا اور یہ تمام چیزیں فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہیں، کوئی بالواسطہ فساد فی الارض کا سبب بنتی ہیں اور کوئی بلا واسطہ۔ اگر کوئی شخص قرآن پاک کی بیان کردہ ان نصیحتوں کے مطابق مال و دولت کو استعمال نہیں کرتا تو مال کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں ہے۔
اب جیسے مال کی محبت جب اس درجہ ہو جائے کہ انسان کو بخل اور کنجوسی پر آمادہ کر دے تو اس کے نقصانات یقینی ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((وَاتَّقُوا الشَّحْ: فَإِنَّ الشَّحْ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَ هُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ))
(صحیح مسلم:2578)
’’بخل سے بچو کہ بخیلی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا۔ بخل نے انہیں خون بہانے اور حرمتوں کو پامال کرنے پر آمادہ کیا ۔‘‘
انسان کو دولت سمیٹنے کا شوق ہو، مگر اسے دولت حاصل کرنے کی شروط، حدود اور پابندیوں کا علم نہ ہو، استعمال کا طریقہ معلوم نہ ہو اور اس کے نقصانات سے آگاہی نہ ہو، یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنی تباہی و بربادی کو دعوت دینے اور خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔
مال دولت کا شوق، حرص، لالچ اور شدت محبت انسان کے لئے کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے، غور فرمائیے ، آپ سے ہم نے اسے ایک تشبیہ کے ذریعے یوں بیان فرمایا ہے، فرمایا:
((مَاذِئْبَان جَائِعَانِ أُرْسِلَافِي غَنَمِ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدينه)) (سنن ترمذی: 2376)
’’ دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور گلے میں چھوڑا گیا ہو وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے ، جتنا مال و دولت اور چودھراہٹ کا حرص، لالچ اور شوق آدمی کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے ۔‘‘
کوئی ایک بھیڑ یا بکریوں کے ریوڑ میں گھس جائے تو وہ کیا تباہی مچائے گا آپ بھیڑیے کی سرشت سے اس کا اندازہ کر سکتے ہیں، چہ جائیکہ دو بھیڑیئے ہوں اور وہ بھی بھوکے، بے چاری کمزور اور معصوم بکریوں کا کتنا نقصان ہوگا آپ انداز و کر سکتے ہیں۔
مگر مال و دولت کی حرص اور لالچ اور شہرت اور نمود و نمائش کی خواہش آدمی کے دین کو کتنا نقصان پہنچاتی ہے، اس کے مقابلے میں ان بھیڑیوں کا کیا ہوا نقصان کچھ بھی نہیں۔
دنیا کی ضرورت سے زیادہ اور شدید محبت کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے. حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَ فَرَّقَ عَلَيْهِ شمله ، ولمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قَدْرَ لَهُ))(صحيح الترمذي:2465)
’’جس کی زندگی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد دنیا حاصل کرنا ہو، اللہ تعالی اس کی آنکھوں میں فقر و افلاس ڈال دیتے ہیں اور اس کے معاملات منتشر اور تتر بتر کر دیتے ہیں اور دنیا اس کو صرف اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے لئے تقدیر میں لکھ دی گئی ہے۔‘‘
فقر و افلاس آنکھوں میں کر دینے کا مطلب ہے کہ دولت تو اس کے پاس ہوتی ہے مگر آنکھیں نہیں بھرتیں اور چونکہ وہ قناعت سے محروم ہوتا ہے، اس لئے وہ دوسروں کے ساتھ اپنے آپ کا موازنہ کرتے ہوئے ہر وقت غربت و افلاس کا رونا روتا رہتا ہے۔ اور دولت کا اور دنیا کے حرص و لانچ اور شدت محبت کا ایک نقصان جو کہ شاید سب سے بڑا نقصان ہو، یہ ہے، حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: ((قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ))
’’میں نے جنت کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ جنت میں داخل ہونے والے عام لوگ ( یعنی اکثر لوگ ) غرباء ومساکین ہیں۔‘‘
(( وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسون)) (صحیح بخاری:5196)
’’اور خوشحال اور مالدار لوگوں کو روک لیا گیا ہے۔ ‘‘
یعنی انہیں حساب کتاب کے لئے روک لیا گیا ہے کہ کیسے کمایا اور خرچ کہاں کیا۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ:
((يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يوم)) (ترمذی:2353)
’’ کہ غریب اور فقیر لوگ جنت میں امیروں سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں جو کہ آدھا دن ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امیر لوگ اگر نیک بھی ہوں تو بھی غریب لوگ ان سے پہلے جنت میں جائیں گے، بلکہ امیر لوگ اگر نیکیوں میں بھی غریب لوگوں سے بڑھ کر ہوں گے اور دولت کو بھی آخرت کے لئے استعمال کرتے ہوں گے تو وہ غریبوں سے پہلے جنت میں جائیں گے مگر عموماً ایسے بہت کم ہوتا ہے، کیونکہ جب دولت آتی ہے تو اس کے نقصانات بھی ساتھ آتے ہیں۔
آپ تازہ ہوا کے لئے کھڑ کی کھولتے ہیں اور تازہ ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مگر جب کھڑ کی کھلی ہوتی ہے تو گرد غبار بھی اس کے ساتھ آتا ہے، اگر آپ ساتھ ساتھ صفائی کرتے رہیں تو گھر صاف ستھرا رہتا ہے، ورنہ آہستہ آہستہ گرد جم جاتی ہے۔ بہت سے غریب لوگ، بلکہ تقریبا تقریبا تمام ہی غریب لوگ امیر ہونے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں اور شدید خواہش رکھتے ہیں مگر وہ امیر لوگوں کے مسائل کو نہیں سمجھتے اور اگر سمجھتے ہوں تو پھر یہ خواہش کرتے ہوں گے کہ وہ امیر بھی ہو جا ئیں اور انہیں دو مسائل بھی پیش نہ آئیں مگر ایسا نہیں ہوتا، بلکہ کچھ غریبی کے مسائل ہیں اور کچھ امیری کے مسائل ہیں، اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے ، خوشحالی اور اس کے مسائل ، یا غربت اور اس کے مسائل ، اس میں پک اینڈ پوز کا آپشن نہیں ہے، یہ چیزیں پیکیج میں آتی ہیں، آپ کو جو سوال نامہ دیا گیا ہے آپ نے اس کو حل کرن ا ہے اور سوال آپ کی مرضی کے نہیں ہو سکتے۔
جائز طریقے سے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ضرور کریں اور ناجائز طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آپ امتحان میں فیل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح امیر لوگوں کو اگر اللہ تعالی نے دولت کی فراوانی اور خوشحالی سے نوازا ہے تو اس حساب سے ان کے سامنے مسائل بھی رکھ دیے ہیں۔ اگر کوئی شخص ہر قیمت پر امیر ہونا چاہے تو اس کو بہت مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالی اگر اسے دنیا کا امیر ترین انسان بنا دے مگر نعمت ایمان اس سے چھین لے تو کیا اسے قبول ہوگا یا اگر مسلمان ہی رہے مگر نماز روزے کی توفیق چھین لے تو کیا وہ پسند کرے گا۔
اللہ تعالی غریبوں اور مسکینوں کی پریشانیوں کو خوب سمجھتا ہے مگر بندہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالی نے اس کے لئے اس میں کیا خیر رکھ رکھی ہے۔
حدیث میں ہے: آپﷺ نے فرمایا: (( إِنَّ اللهَ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ ، كَمَا تَحْمُونَ مَرِيضَكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ تَخَافُونَهُ عَلَيْهِ)) (مسند احمد:23622)
’’اللہ تعالی اپنے مسلمان بندے کو دنیا سے بچاتا ہے، جبکہ وہ دنیا کو پسند کرتا ہے، جیسے تم اپنے بیمار کو کھانے پینے سے روکتے اور منع کرتے ہو ، تمہیں اس کے نقصان کا ڈر ہوتا ہے۔‘‘
کثرت مال چین اک آزمائش اور امتحان ہے ، ایک دلدل اور بھنور ہے ، بھول بھلیاں ہیں اس سے با سلامت بیچ نکلنا آسان کام نہیں ہے، لہذا عقلمندی یہی ہے کہ اس کے ساتھ ضرورت کے مطابق معاملہ کیا جائے ، چنانچہ آپ سے عوام نے اہل ایمان کے لیے ہمدردی اور
خیر خواہی کرتے ہوئے دعا فرمائی ، فرمایا: (( اللهم من آمن بك وشهد أني رَسُولُكَ فَحَبِبْ إِلَيْهِ لِقَاءَ كَ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَ كَ وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا ))
’’اے اللہ ! جو تجھ پر ایمان لایا اور گواہی دے کہ میں تیرا رسول ( م ) ہوں ، تو اپنی ملاقات اسے محبوب بنا دے ، اپنے فیصلے اس کے لیے آسان بنا دے اور دنیا میں سے اسے کم کم دے۔‘‘
(( وَمَنْ لَمْ يُؤْمِن بك و لم يشهد أني رسولُكَ فَلا تُحبب إليه لِقَاءَ كَ وَلَا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَكْثَرُ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا)) (مجمع الزوائد:101289 ، صحيح الترغيب:3209)
’’اور جو تجھ پر ایمان نہیں لایا، اور اس بات کی گواہی نہیں دی کہ میں تیرا رسول(ﷺ) ہوں ، اسے اپنی ملاقات محبوب نہ بنا، اس کے لیے اپنے فیصلے آسان نہ بنا، اور اسے دنیا بہت زیادہ دے ۔‘‘
لہذا دنیا کے حصول کے حوالے سے اللہ کی تقسیم اور اس کے فیصلوں پر راضی رہنا مسلمان کے لیے آسان ہونا چاہیے چنانچہ تقدیر پر راضی رہیں اور امتحان اور آزمائش میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔ دوسروں کے حالات ، رہن سہن ، عہدہ و منصب، عزت و توقیر دیکھ کر منہ میں پانی بھر آتا ہے، مگر آپ نہیں جانتے کہ وہ لوگ کتنی بڑی آزمائش اور امتحان میں ہیں۔ دنیا کی ہر نعمت انسان کے لیے امتحان ہے ، چاہے اس کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، مثال کے طور پر دعوت دین کا کام کتنا اچھا ہے کہ اس کے اچھا ہونے میں یقینًا کوئی شک نہیں ہے، ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَی اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۝﴾ (فصلت:33)
’’اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں ۔‘‘
اور اس لیے بھی کہ یہ کام کرنے والوں کو انبیاء (علیہم السلام ) کا وارث قرار دیا گیا ہے، مگر یہ بھی امتحان ہے کہ آدمی اس کام کو نیک نیتی سے کرتا ہے یا شہرت کے لیے کرتا ہے۔ لہذا اللہ تعالی کی تقدیر پر، اس کی تقسیم پر اور اس کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے ، یہ مسلمان کے لائق اور سزاوار ہے اور یہی اس کی شان ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں