فکر آخرت سے بے فکر انسان اپنے لیے غلط ترجیحات متعین کر لیتا ہے
﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۵﴾ (فاطر:5)
ترجیح انسان کی زندگی کا ایک نہایت ہی اہم عمل، روش، طرز زندگی اور اسلوب حیات ہے، جو کہ دنیوی اور اخروی زندگی کے لئے یکساں طور پر اہمیت رکھتا ہے، جیسا کہ گذشتہ خطبے میں ہم نے جانا ۔
غلط ترجیحات کے نتیجے میں دنیوی زندگی کے نقصانات تو ہے جاسکتے ہیں، مگر انسان اخروی زندگی کے خسارے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دنیوی زندگی میں غلط ترجیحات کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال یوں سمجھئے کہ کوئی کینسر کا مریض، جو کینسر کی آخری سٹیج میں ہو، اگر اسے ساتھ میں کوئی نزلہ، زکام، کھانسی جیسی معمولی بیماری بھی لاحق ہو، کہ جو قابل برداشت بھی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک بھی ہو جاتی ہے، اور وہ شخص کیفر کے علاج کو نظر انداز کر کے فلو (FLU) کے علاج کے لئے فکر مند ہو اور اسے کینسر کے علاج پر ترجیح دے، تو آپ ایسی ترجیح کو کیا نام دیں گے؟ نرم سے نرم الفاظ میں اسے غلط ترجیح کہیں گے اور سخت الفاظ میں اس شخص کو احمق اور نادان کہیں گے۔
آپ جانتے ہیں کہ آدمی جب بیمار ہوتا ہے تو عموما ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے جو اسے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، مگر وہ مصر ہوتا ہے کہ اسے وہی چاہیے، جبکہ اس کے گھر والے اس سے ہمدردی اور خیر خواہی کرتے ہوئے اسے
اس سے بچاتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے آپﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ اللهَ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ، كَمَا تَحْمُونَ مَرِيضَكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ تَخَافُونَهُ عَلَيْهِ)) (مسند احمد:23622)
’’اللہ تعالی اپنے مؤمن بندے کو دنیا سے بچاتا ہے جبکہ وہ اسے پسند کرتا اور چاو رہا ہوتا ہے، جیسا کہ تم اپنے پیار کو کھانے پینے سے بچاتے ہو اس کے نقصان سے ڈرتے ہوئے۔‘‘
یوں تو دنیوی معاملات میں غلط ترجیح کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا موازنہ آخرت کے معاملات میں غلط ترجیح سے ہونے والے نقصانات سے ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا تو جیسی تیسی گزر ہی جائے گی ، اچھی گزرے یا بری اور پھر آخرت کی نعمتوں کی ایک جھلک یا آخرت کی تکلیفوں کی ایک جھلک دیکھ لینے کے بعد دنیا کی نعمتیں یا اس کی تکلیفیں تو گویا کا فور ہو جائیں گی۔ مگر آخرت کی زندگی جیسی تیسی نہیں گزرے گی بلکہ غلط ترجیح کے نتیجے میں وہاں انجام بھگتنا ہوگا ۔ ( إلا ما رحم ربي) تو دنیا کے معاملے میں غلط ترجیح کے نقصان کا موازنہ، آخرت کے معاملے میں غلط ترجیح کے نقصان سے ہرگز نہیں کیا جاسکتا، یہ صرف بات سمجھانے کے لئے ہے کہ آخرت کے معاملات میں غلط ترجیح آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ ترجیح کا تعین کیسے ہوتا ہے، ترجیح متعین کرنے کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے اسباب و عوامل کیا ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اپنی ترجیح متعین کرنے کا ذمہ دار انسان خود آپ ہے، چاہے اس کے اسباب و عوامل کچھ بھی ہوں اور یہ کہ اس ضمن میں اس کا کوئی بھی عذر ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ قیامت کے دن منکرین حق جب جہنم میں اپنا عذر پیش کرتے ہوئے کہیں گے:
﴿وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا۶۷رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠۶۸﴾ (الاحزاب:67۔ 68 ) ’’اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی بات مانی اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی ، انہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا اور گمراہ کر دیا، اور درخواست کریں گے کہ اے ہمارے رب! انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما۔‘‘
اور ایک دوسرے مقام پر ہے۔
﴿قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۳۸وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠۳۹﴾ (الاعراف:38۔39)
’’اللہ فرمائے گا: جاؤ تم بھی اس جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروه جن وانس جاچکے ہیں ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا، تو اپنے پیش رو گردو پر لعنت کرتا ہوا داخل ہو گا حتی کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے بارے میں کہے گا، اے ہمارے رب ! یہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، لہذا انہیں آگ کا دہرا عذاب دے، ارشاد ہوگا: ہر ایک کے لئے دہرا ہی عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں ہو، اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا: تم کو ہم پر بھلا کون کی فضیلت حاصل تھی ، اب اپنی کمائی کےنتیجے میں عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘
یعنی اگر ہم پر الزام یہ ہے کہ ہم چونکہ دنیوی زندگی میں تم سے پہلے آئے تھے، لہذا تم ہمارے رہن سہن اور طور طریقوں سے متاثر ہوئے ، ہمارے عقائد و نظریات تمہاری گمراہی کا سبب بنے، تو یہ معاملہ خاص تمہارے ساتھ ہی تو نہیں ہوا اسی طرح ہماری گمراہی کا سبب ہم سے پہلے آنے والے بنے۔
اور یوں ہر گروہ کسی نہ کسی کا خلف ہے تو کسی نہ کسی کا سلف بھی ہے، چنانچہ دونوں کو دہرا عذاب ہوگا، ایک خود گمراہ ہونے کا اور دوسرا دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ اور کوئی شخص محض اس بناء پر سزا سے نہیں بچ سکے گا کہ وہ اپنی گمراہی اور بے راہ روی کا الزام دوسروں کو دے اور انہیں ذمہ دار ٹھہرائے، البتہ قرآن و حدیث میں یہ بات وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ کسی کی گمراہی کا سیب بنے والا بھی اس کی سزا پائے گا۔ تو ترجیحات کے تعین کا ذمہ دار ہر انسان خود آپ ہے، البتہ اس کے کچھ اسباب و عوامل ضرور ہیں، جن میں سے سب سے پہلا اور بنیادی سبب گھر کا ماحول اور تربیت ہے، پھر دوست و احباب کی محفلیں اور محبتیں ، نظام تعلیم ، معاشرہ اور ایک نہایت اہم سبب ہے حکومت وقت اور آج اس دور میں کچھ دیگر اسباب بھی شامل ہو چکے ہیں اور وہ یقینًا سب سے زیادہ مہلک، خطر ناک اور تباہ کن ہیں اور وہ ہیں: سوشل میڈیا اور ٹریڈیشنل میڈیا، اگر چہ وہ بھی گورنمنٹ کے انڈر ہی آتے ہیں، جو کہ بظاہر Independant لگتے ہیں
تاہم انسان کی ترجیحات کو متعین کرنے میں ان تمام عوامل کا اپنا اپنا حصہ ہے، لیکن حکومت وقت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، بشرطیکہ ملک میں اسلامی انتظام حکومت رائج ہو، نظام خلافت ہو، جمہوری حکومت میں تو اصلاح معاشرہ ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ حکومت اگر مثال کے طور پر میڈیا پر پابندیاں لگانا چاہے گی، تو کیبل آپریٹرز اور میڈیا ہاؤسز احتجاج کریں گے اور عوام مظاہرے کرے گی اور دھرنے دے گی اور سیاسی جماعتیں انہیں سپورٹ کریں گی تو نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
میڈیا کو جب تک بے حیائی پھیلانے اور لوگوں کے اخلاق تباہ کرنے کی آزادی حاصل ہے جب تک تو کلی طور پر معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں ہے۔
البتہ انفرادی طور پر اللہ تعالی کے خاص فضل کے بعد اگر کوئی شخص اپنی ذاتی کوششوں سے میڈیا سے دور رہتے ہوئے، گھر کا ماحول دینی بناتے ہوئے اور دیندار لوگوں کے ساتھ مسلک رہتے ہوئے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی اصلاح کرنا چاہے تو اس کی اصلاح کی اُمید کی جاسکتی ہے۔
میڈیا کس طرح لوگوں کی ترجیحات کے تعین اور ان کی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن حکومت اگر صالح افراد پر مشتمل ہو اور نیک نیتی سے اصلاح معاشرہ کے حوالے سے کچھ کرنا چاہے تو اس کے پاس دوسرے آپشنز بھی موجود ہوتے ہیں، شرط یہ ہے کہ قیادت صالح ہو، صالح قیادت کا اپنا بھی ایک رنگ ہوتا ہے جو کہ عوام پر مثبت اثر چھوڑتا ہے، اسی طرح بری قیادت کا بھی ایک رنگ ہوتا ہے جو لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مقولہ مشہور ہے کہ: (النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ)
’’لوگ اپنے حکمرانوں کے طور طریقوں پر ہوتے ہیں، عوام اپنے حکمرانوں کے کر اور سے متاثر ہوتے ہیں۔‘‘
خلیفہ ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ نے اپنے دور میں جو جو کام کئے، ان میں سے ایک نمایاں کام تعمیرات کے حوالے سے تھا، ہسپتال بنائے، سڑکیں بنائیں اور مسجدیں بنائیں ، ان کے دور میں جو لوگ آپس میں باتیں کرتے تو اُن کی گفتگو میں تعمیرات کی طرف رجحان زیادہ ہوتا اور ایک دوسرے سے پوچھتے کہ تم نے کون سی عمارت بنائی اور کیا تعمیر کیا۔
ان کے بھائی سلیمان بن عبد الملک عورتوں کی طرف رجحان رکھتے تھے، چنانچہ ان کے دور میں لوگ گفتگو کرتے ہوئے عورتوں کا ذکر کرتے ، کہ تم نے کتنی شادیاں کیں اور تمہارے پاس کتنی لونڈیاں ہیں وغیرہ۔
ان کے بعد ان کے کزن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور آیا، جو کہ عادل ، متقی و پرہیز گار اور زاہد و عابد خلیفہ تھے، ان کے دور میں لوگ باتیں کرتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھتے کہ آج تم نے کتنا قرآن پڑھا ہے، کتنی عبادت کی اور کیا کیا وظائف کئے اور آج ہمارے دور کے حکمرانوں کی ترجیحات کھیل کود، ناچ گانا، ہلا گلا، موج مستی ، جزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف سب ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں۔
چنانچہ عوام کا دین و مذہب وہی ہوتا ہے جو حکومتوں کا ہوتا ہے، آپ نے دیکھا کہ پورے کا پورا ملک کھیل تماشے کے پیچھے پڑا ہوا ہے، حتی کہ دین دار، نمازی اور پرہیز گار لوگ بھی کھیل پر ہی گفتگو کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ نوجوان جو کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، تخت اقتدار کے جانشین ہوتے ہیں، انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے، ان کی تربیت کیا ہورہی ہے، پوری قوم کی ترجیحات بدل کے رکھ دی گئی ہیں۔ کسی قوم کا مستقبل دیکھنا ہو تو اس کے نوجوان طبقے کے کردار کو دیکھیں، ان کی خواہشات کو دیکھیں ، ان کی ترجیحات کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس قوم کا مستقبل کیسا ہوگا۔
دنیا کی تاریخ کو بدلنے کا سہرا ہمیشہ نو جوانوں کے سر رہا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا شَابًّا، وَلَا أُوتِي الْعِلْمَ عَالِمٌ إِلَّا وَهُوَ شاب)) (تفسير ابن كثير / سورة الانبياء ، المعجم الأوسط للطبراني: 6421)
’’اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے جوانی کے عالم میں مبعوث فرمایا ہے اور جس عالم کو بھی علم حاصل ہوا ہے جوانی کے عالم میں ہی ہوا ہے۔‘‘
اللہ تعالی قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ۵۸
قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ۵۹
قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ۶۰﴾ (الانبياء:58- 60)
’’چنانچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تا که شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں ، انھوں نے آکر بتوں کا یہ حال دیکھا تو کہنے لگے: ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا ؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ بعض لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا جس کا نام ابراہیم(علیہ السلام) ہے‘‘
تو دین کا کام ہو یا دنیا کا نوجوان ہی سب سے آگے آگے ہوتے ہیں، نو جوانوں کو ترجیحات کے تعین میں مدد نہ دینا کسی بھی حکومت کی غفلت اور کوتاہی ہوتی ہے۔ کسی بھی شخص کے لئے صرف تعلیم کافی نہیں ہوتی ، جب تک اس کی تربیت کا اہتمام نہ کیا جائے اگر تربیت نہ کی جائے تو اس کا علم نہ صرف یہ کہ اس کو فائدہ نہیں دیتا بلکہ نقصان پہنچاتا ہے۔ چنانچہ اسلام نے نوجوانوں کی تربیت کا خصوصی اہتمام فرمایا: اور انہیں تو جیہات اور ہدایات دیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
((كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا))
’’ہم نو جوان لوگ آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور مفلوک الحال تھے ۔‘‘
(( فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: يا معشر الشباب من استطاع مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوْجُ ، فَإِنَّهُ أَعْضُ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ)) (بخاري:5066)
’’آپﷺ نے فرمایا: اے نو جوانوں کی جماعت! ” جو تم میں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہو تو وہ ضرور نکاح کرے کیوں کہ یہ نظروں کو نیچی کرنے اور شرم گاہ کی حفاظت کیلئے زیادہ مؤثر ہے اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کہ وہ ہیجان کو توڑ دیتا ہے۔‘‘
اور آپ جانتے ہیں کہ اگر اس حوالے سے تو جوانوں کی تربیت نہ کی جائے، انہیں ہدایات نہ دی جائیں تو معاشرہ جس رخ پر چل نکلے گا آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں، بلکہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ قوم کسی راستے پر جارہی ہے۔
اور جب کسی قوم کے رہنما خود برائی میں ملوث ہوں گے اور دنیا میں ان کی بدکاریوں کے چرچے ہوں گے، تو اس قوم کی نوجوان نسل تباہی کی طرف نہیں جائے گی تو کیا ہوگا۔ اور جب کسی قوم کے رہنما کو پوچھا جائے کہ شادی کب کریں گے تو وہ اس کا اوٹ پٹانگ جواب دے، تو آپ یقینًا سمجھ سکتے ہیں کہ وہ نو جوانوں کو کیا پیغام دے رہا ہے۔ خلاصہ اس گفتگو کا یہ ہے کہ لوگوں کی مثبت ترجیحات کے تعین میں حکومت اور قوم کے دیگر رہنماؤں کا ایک بہت بڑا کردار ہو سکتا ہے، بشرطیکہ خودان کی اپنی ترجیحات صحیح اور سیدھی ہوں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں، اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے والوں کی اکثریت نوجوان ہی تھے۔
حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ 37سال کے تھے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ 27 سال کے ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ 34سال کے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تقریبا دس سے بارہ سال کے، اسی طرح دیگر متعدد صحابہ کرام 15 سال سے تیس سال کی عمر کے نوجوان تھے اور انہوں نے کیا کیا کارنامے سرانجام دیئے، وہ واقعات آج تاریخ وسیر کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔
تونو جوان جو کسی بھی قوم کا سرمایہ اور اس کا مستقبل ہوا کرتے ہیں ، ان کے خیالات ، ان کے افکار و نظریات ، ان کا رنگ ڈهنگ ، ان کا چال چلن اور ان کا طرز زندگی دیکھ کر اُس قوم کے مستقبل میں جھانکا جا سکتا ہے، تو آج اُمت مسلمہ کے بالعموم اور پاکستان کے نوجوان طبقے کے بالخصوص خیالات و نظریات ، رجحانات و ترجیحات ، طور طریقے اور ناز و انداز دیکھ کر ذرا ان کے مستقبل میں جھانک کر بتلا ئیے تو سہی کہ ان کا مستقبل کیسا ہوگا۔
اللہ ان پر ترس کھائیے اور رحم کیجیے، اور درست سمت ترجیحات متعین کرنے میں ان کی مدد کیجیے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
……………