فکر آخرت ضروری کیوں؟

فکر آخرت ضروری کیوں؟

﴿﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۝۵﴾ (فاطر:5)
یوم آخرت پر ایمان، ارکان ایمان میں سے ایک ہے، اور صحت ایمان کے لئے شرط لازم ہے، یوم آخرت کا انکار کفر اور سراسر گمراہی ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر کو متعدد مقامات پر ایک ساتھ ذکر کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ ہے۔ ﴿وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا۝۱۳﴾ (النساء: 136)
’’جس نے اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا، وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔‘‘
یوم آخرت پر ایمان کا مطلب ہے کہ دل میں اس بات کا پختہ یقین کہ اللہ تعالی نے موت سے متعلق، اس سے پہلے اور اُس کے بعد واقع ہونے والے احوال و واقعات کے بارے میں قرآن پاک میں ، یا رسول کریم نے ہم نے احادیث مبارکہ جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ حق اور بچی ہے اور اس پر ایمان ہے اور اس میں علامات قیامت، نزع کے وقت پیش آنے والے احوال ، موت، فتنه القبر ، عذاب قبر نعیم القبر ، صور پھونکا جانا ، بحث بعد الموت ، قیامت کے دن پیش آنے والے واقعات: حشر اور حساب کی تفصیلات، جنت اور اس کی نعمتیں اور ان میں سے سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار، جہنم اور اس کا عذاب اور اس کی سزاؤں میں سے سب سے بڑی سزا اللہ تعالی کے دیدار سے محرومی، یہ سب باتیں ایمان بالیوم الآخر میں شامل ہیں اور اس یقین ، ایمان اور اعتقاد کے مطابق عمل کرنا آخرت پر ایمان کہلاتا ہے۔
اور یوم آخرت پر یقین اور ایمان جب کسی کے دل میں پختہ اور راسخ ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ثمرات ظاہر ہوتے ہیں:
ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ اور متوازن ہو جاتا ہے اور نہایت احتیاط سے اور پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے، اعمال صالحہ میں التزام، احتیاط ، مداومت، مواظبت اور پابندی کرنے لگتا ہے۔
﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ۝۹۲﴾ (الانعام:92)
’’جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔‘‘
یوم آخرت پر ایمان اور یقین کے فوائد و ثمرات میں سے ایک فائدہ اور ثمرہ یہ ہے کہ آخرت کی فکر انہیں دامن گیر رہتی ہے اور وہ انہیں خواب غفلت میں کھونے نہیں دیتی ، دنیا کی کشش انہیں اپنی طرف مائل نہیں کر پاتی ، کیونکہ وہ آخرت کے ذکر اور فکر میں مشغول رہتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کا ذکر اور ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:
﴿اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَی الدَّارِۚ۝۴۶ ﴾ ( ص:46)
’’ہم نے انھیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا۔‘‘
یعنی ان کی بزرگی اور ان کے امتیازی اعمال صالحہ کا سبب یہ تھا کہ فکر آخرت انہیں ان اعمال پر ابھارتی ، جوش پیدا کرتی اور مائل کرتی تھی۔ تو فکر آخرت انسان کو بے راہ روی سے بچاتی ہے، اُس کی گفتگو، اس کے چال چلن ، اس کے رہن سہن ، اس کے لین دین اور اس کے تمام معاملات کو متوازن اور متناسق بنادیتی ہے۔ اور فکر آخرت سے غفلت کو دنیا کی رعنائیوں میں کھو جانے کا سبب قرار دیا، چنانچہ
سرزنش کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ۝۳۸﴾( التوبة:38)
’’کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سر و سامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔‘‘
دنیا کی زندگی میں بار بار انسان کے سامنے ایسے حالات و واقعات پیش آتے ہیں جہاں انسان کو دنیا اور آخرت کے درمیان موازنہ کرنا پڑتا ہے، دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا پڑتا ہے، تو جن کے دل فکر آخرت سے خالی ہوتے ہیں وہ دنیا کی طرف لپکتے اور اسے آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔
اور جن کے دل فکر آخرت سے معمور ہوتے ہیں، تو ان کے نزدیک دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت آخرت کے مقابلے میں ہیچ اور بے حیثیت ہوتی ہے۔
گذشتہ خطبات میں فکر آخرت کی ضرورت واہمیت پر بات ہو رہی تھی ، قرآن وحدیث کی روشنی میں ہم نے اس کی ضرورت و اہمیت کو جانا اور سمجھا، اور بنیادی طور پر ہر مسلمان اس کی ضرورت کو سمجھتا ہے، کیونکہ یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کی طرف کیوں کھچا چلا جاتا ہے، اس کے بھی بعض اسباب کا ذکر ہوا، جس کا خلاصہ ہے کشش دنیا۔
دنیا کی کشش کتنی شدید ہے یہ بھی گذشتہ جمعے ہم نے جاننے کی کوشش کی ، اب جاننا یہ ہے کہ اس کشش سے کسی طرح بچا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک حل اور سب سے بڑا حل تو یہ ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کیا جائے، جیسا کہ گذشتہ جمعے ذکر ہوا۔ اور اس ضمن میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دنیا کی اور شیطان کی چالوں کو سمجھا جائے، کیونکہ یہی دو چیزیں فکر آخرت کی راہ میں حائل ہوتی ہیں، جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں:
﴿ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۥ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۝۵﴾ (فاطر:5)
’’لوگو! اللہ کا وعد و یقینًا برحق ہے، (یعنی وعدہ آخرت ) لہذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھو کے باز (یعنی شیطان ) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے ۔‘‘
دنیا کی کشش محسوس نہ کرنا مطلوب ہے اور نہ یہ ممکن ہے اور نہ یہ نیکی ہے اور نہ یہ خوبی ہے۔ بلکہ دنیا کی کشش کے حوالے سے مطلوب یہ ہے کہ جائز حد تک اس سے ضرور لطف اندوز ہوں، مگر حد سے تجاوز نہ کریں، دنیا میں سرتا پا کھو نہ جائیں۔ چنانچہ اس کے لئے دنیا کی حقیقت اور اس کی حیثیت کو سامنے رکھنا ہوگا، اسے سمجھنا ہوگا۔ قرآن و حدیث میں خوب دنیا کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے اور مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔ دنیا کی زندگی کو متاع الغرور کہا گیا ہے، یعنی دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے، کیوں کہ انسان اس سے دھوکہ کھا جاتا ہے۔ دنیا کی حقیقت اور اس کی حیثیت کو مثال کے ذریعے کس طرح واضح کیا ہے، فرمایا:
﴿ اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝﴾ (الحديد (20)
’’ خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل تماشا اور زیب و زینت اور رونق ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتاتا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی ہو تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہو گئے ۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ، پھر وہ بھی بن کر رہ جاتی ہے اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بڑی بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھو کے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
یعنی بس اتنی سی دنیا کی حقیقت ہے، گویا کہ سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ یہاں یوں تو دل کے بہلانے کے سامان بہت ہیں، مگر یہاں کی ہر چیز عارضی ہے، یہاں لہلہاتی کھیتی ہے، یہاں بہار ہے، خزاں ہے اور دل کو خوش کرنے کے سامان بہت ہیں مگر عارضی اور ادھورے اور حقیر اور آخرت کے مقابلے بہت ہی کم ۔
جو اس دنیا کو اپنی منزل سمجھ بیٹھتا ہے، جو اس دنیا کی زینت کو اس کی حیثیت سے زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ دھوکے میں مبتلا ہے۔ دنیا کی حقیقت اور حیثیت بیان کرنے کے بعد فرمایا:
﴿ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ ؕ﴾(الحديد:20)
’’ جبکہ آخرت دو جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔‘‘
اب فیصلہ قلمند انسان نے کرتا ہے، کہ اس چند روزہ زندگی کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں اور قوتیں صرف کرتی ہیں یا آخرت کے روز عذاب شدید سے بچنے اور اللہ تعالی کی مغفرت حاصل کرنے کی فکر کرنی ہے۔
حدیث میں اس دنیا کی رونق اور زینت کو ایک دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے، حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ الدُّنْيَا حُلوةٌ خضرةٌ ))
’’ دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔‘‘
دنیا کی زینت اور کشش کو دو چیزوں سے تشبیہ دی، میٹھی اور سرسبز ، چکھنے میں میٹھی ، مزے دار، اور دیکھنے میں سرسبز و شاداب۔ اور انسانی فطرت یہ ہے کہ اگر کوئی چیز دیکھنے میں بھلی اور پرکشش لگے تو انسان اس کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ اور جب کوئی چیز کھانے میں لذید ہور دیکھنے میں پرکشش ہو، تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کی خواہش کس قدر شدید ہوگی ۔ پھر آپ جانتے ہیں کہ آدمی مقدور بھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور کچھ لوگ اس کے حصول کے لئے حدیں پار کر جاتے ہیں اور دو جائز اور ناجائز کی پرواہ نہیں کرتے ، یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسان کو ٹھہرنا ہے، یہی مقام غور ہے، اس کے حصول کی کوشش کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے۔
﴿وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ﴾
’’ اللہ تعالی تمہیں یکے بعد دیگرے اس میں آزماتا چلا جائے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو!‘‘
لہذا فرمایا:
((فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاء)) (صحيح مسلم:2742)
’’دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو۔‘‘
عورتیں بھی دنیا میں شامل ہیں، مگر ان کا بالخصوص الگ سے ذکر فرمایا، اس کی اہمیت کے دنیا کی کشش کے حوالے سے ایک اور حدیث ملاحظہ کرتے ہیں: (( قَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ))
’’فرمایا: میں تمھارے متعلق جس چیز سے زیادہ ڈرتا ہوں جو زمین کی برکتیں اللہ تعالی تمھارے لیے نکال دے گا ۔‘‘
(( قِيلَ وَمَا بَرَكَاتُ الْأَرْضِ))
’’عرض کیا گیا: زمین کی برکتیں کیا ہیں؟‘‘
((قَالَ: زَهْرَةُ الدُّنْيَا))
’’فرمایا: دنیا کی چمک دمک اور زینت ۔‘‘
((فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ))
’’تو ایک شخص نے عرض کیا: کیا خیر سے شر بر آمد ہوتا ہے؟‘‘
(( فَصَمَتَ النَّبِيُّ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْزَلُ عَلَيْهِ))
’’تو نبی کریمﷺ خاموش ہو گئے ، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔‘‘
ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟))
’’پھر اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے ، پھر فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟‘‘
((قَالَ: أنا))
’’تو اس نے کہا: میں ہوں ۔‘‘
(( قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ ذَلِكَ))
’’ابو سعید کہتے ہیں: جب یہ بات نکلی تو ہم نے اس شخص کی تعریف کی۔‘‘
یعنی پہلے تو ہم سمجھے کہ اس شخص نے اپنے اس سوال سے آپ سے ہم کو گویا کہ ناراض کر دیا ہے، مگر آپ ﷺ کا جواب سن کر ہمیں خوشی ہوئی‘‘اور وہ جواب یہ تھا:
(( قَالَ: لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ))
’’فرمایا: خیر سے خیر ہی پیدا ہوتا ہے۔‘‘
البتہ دنیا کے حصول میں جس احتیاط کی ضرورت ہے اس کی وضاحت یوں فرمائی:
((إِنَّ هٰذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ))
’’فرمایا: یہ مال ، سرسبز و شاداب اور شیریں ہے۔‘‘
((وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرَةِ أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمس فَاجْتَرَّتْ وَ ثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ))
’’بہار جو کچھ اُگاتی ہے وہ ہلاک کر دیتی ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے۔ سوائے اس جانور کے جو اس طرح کھاتا ہے کہ جب اس کی کوکھ بھر جاتی ہے تو سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کرتا ہے ، لید اور بول کرتا ہے ، پھر اس کے بعد آتا ہے اور کھاتا ہے، یعنی پہلے کھایا ہوا ہضم کرتا ہے اور پھر اس کے بعد کھاتا ہے۔‘‘
((وَإِنَّ هٰذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهُ يَحقَّهِ وَوَضَعَهُ بِحَقِّهِ فَنِعْمَ المَعُوْنَةُ هُوَ))
’’اور یہ مال بڑا میٹھا ہے ، جس کسی نے اسے جائز اور حلال طریقے سے حاصل کیا اور جائز اور حلال جگہوں پر خرچ کیا، تو وہ تو بہترین امداد اور اعانت ہے۔‘‘
((وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقَّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ)) (صحیح بخاری:6427)
’’اور جس نے اسے نا جائز طریقے سے حاصل کیا، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ۔‘‘
اور جو آدمی کھاتا چلا جائے اور سیر نہ ہو، اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے، وہ آپ کو انداز ہ ہی ہوگا، اور وہ اس حدیث میں بیان کر دیا گیا ہے کہ:
((إِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ))
’’کہ بہار جو کچھ اُگاتی ہے یا تو پیٹ پھلا کر بلاک کر دیتی ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے،‘‘
اور ایسے واقعات تو تاریخ میں موجود ہیں کہ زیادہ کھانے سے کسی کی موت واقع ہو گئی ہو چاہے بے خیالی سے اور غیر ارادی طور پر ہو۔ اور ویسے بھی اگر غور کریں تو آدمی کا معدہ اصل میں تو اس کی مٹھی کے برابر ہوتا ہے، اور اس کے پھیلاؤ کی بھی ۔ یقینًا ایک حد ہوتی ہے اس کے بعد وہ پھٹ جائے گا۔
لہٰذا جس طرح کھانے کی ہوس کو معدے کے پھیلاؤ کی حد تک کم از کم محدود کرج ضروری ہے ، اسی طرح دنیا کے حصول کی حرص کو جائز طریقے سے کمانے اور جائز کاموں میں خرچ کرنے کی دوعدوں میں محدود کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ نقصان یقینی ہے ۔ ان حدود کو تجاوز کرنے سے اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
………………

مزید دیکھیں
مزید دیکھیں